🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. بَابُ مَنْ لَمْ يَرَ بَأْسًا أَنْ يَقُولَ سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَسُورَةُ كَذَا وَكَذَا:
باب: جن کے نزدیک سورۃ البقرہ یا فلاں فلاں سورت (نام کے ساتھ) کہنے میں کوئی حرج نہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5041
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ حَدِيثِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، أَنَّهُمَا سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَمَعْتُ لِقِرَاءَتِهِ، فَإِذَا هُوَ يَقْرَؤُهَا عَلَى حُرُوفٍ كَثِيرَةٍ لَمْ يُقْرِئْنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكِدْتُ أُسَاوِرُهُ فِي الصَّلَاةِ، فَانْتَظَرْتُهُ حَتَّى سَلَّمَ فَلَبَبْتُهُ، فَقُلْتُ: مَنْ أَقْرَأَكَ هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ؟ قَالَ: أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: كَذَبْتَ، فَوَاللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُوَ أَقْرَأَنِي هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي سَمِعْتُكَ، فَانْطَلَقْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقُودُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى حُرُوفٍ لَمْ تُقْرِئْنِيهَا، وَإِنَّكَ أَقْرَأْتَنِي سُورَةَ الْفُرْقَانِ، فَقَالَ:" يَا هِشَامُ، اقْرَأْهَا؟" فَقَرَأَهَا الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَكَذَا أُنْزِلَتْ"، ثُمَّ قَالَ:" اقْرَأْ يَا عُمَرُ"، فَقَرَأْتُهَا الَّتِي أَقْرَأَنِيهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَكَذَا أُنْزِلَتْ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ کو عروہ بن زبیر نے مسعود بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن عبدالقاری سے خبر دی کہ ان دونوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورۃ الفرقان پڑھتے سنا۔ میں ان کی قرآت کو غور سے سننے لگا تو معلوم ہوا کہ وہ ایسے بہت سے طریقوں میں تلاوت کر رہے تھے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نہیں سکھایا تھا۔ ممکن تھا کہ میں نماز ہی میں ان کا سر پکڑ لیتا لیکن میں نے انتظار کیا اور جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کے گلے میں چادر لپیٹ دی اور پوچھا یہ سورتیں جنہیں ابھی ابھی تمہیں پڑھتے ہوئے میں نے سنا ہے تمہیں کس نے سکھائی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ مجھے اس طرح ان سورتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا ہے۔ میں نے کہا کہ تم جھوٹ بول رہے ہو۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی یہ سورتیں پڑھائی ہیں جو میں نے تم سے سنیں۔ میں انہیں کھینچتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے خود سنا کہ یہ شخص سورۃ الفرقان ایسی قرآت سے پڑھ رہا تھا۔ جس کی تعلیم آپ نے ہمیں نہیں دی ہے آپ مجھے بھی سورۃ الفرقان پڑھا چکے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہشام! پڑھ کر سناؤ۔ انہوں نے اسی طرح اس کی قرآت کی جس طرح میں ان سے سن چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی طرح یہ سورت نازل ہوئی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمر! اب تم پڑھو۔ میں نے بھی اسی طرح قرآت کی جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی طرح یہ سورت نازل ہوئی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن مجید سات قسم کی قراتوں پر نازل ہوا ہے بس تمہارے لیے جو آسان ہو اس کے مطابق پڑھو۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5041]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں سورہ فرقان پڑھتے ہوئے سنا۔ میں نے ان کی قرأت و تلاوت غور سے سنی تو (معلوم ہوا کہ) وہ اسے بہت سے ایسے طریقوں سے پڑھ رہے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نہیں پڑھائے تھے۔ قریب تھا کہ میں نماز ہی میں انہیں پکڑ لیتا، تاہم میں نے انتظار کیا۔ جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کے گلے میں چادر ڈال دی اور انہیں کھینچتے ہوئے کہا: تجھے یہ سورت کس نے پڑھائی جو میں نے تجھے پڑھتے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا ہے۔ میں نے انہیں کہا: تم غلط بیانی کرتے ہو۔ اللہ کی قسم! خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی یہ سورت پڑھائی ہے جو میں نے تجھ سے سنی ہے۔ چنانچہ میں انہیں کھینچتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا اور عرض کی: اللہ کے رسول! میں نے خود سنا ہے کہ یہ شخص سورۃ الفرقان کو ایسی قرأت میں پڑھ رہا تھا جس کی تعلیم آپ نے مجھے نہیں دی، حالانکہ خود آپ نے مجھے سورۃ الفرقان پڑھائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ہشام! تم یہ سورت پڑھ کر سناؤ۔ انہوں نے یہ (سورت) اس طرح سے پڑھی جس طرح میں سن چکا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اسی طرح نازل ہوئی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے عمر! اب تم پڑھ کر سناؤ۔ چنانچہ میں نے اسے اس طرح سے پڑھا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پڑھایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اسی طرح نازل ہوئی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ قرآن کریم سات حروف پر نازل ہوا ہے، اس لیے تمہیں جو آسان ہو اس کے مطابق پڑھو۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5041]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5042
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَارِئًا يَقْرَأُ مِنَ اللَّيْلِ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَرْحَمُهُ اللَّهُ لَقَدْ أَذْكَرَنِي كَذَا وَكَذَا آيَةً أَسْقَطْتُهَا مِنْ سُورَةِ كَذَا وَكَذَا".
ہم سے بشر بن آدم نے بیان کیا، کہا ہم کو علی بن مسہر نے خبر دی، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قاری کو رات کے وقت مسجد میں قرآن مجید پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ اللہ اس آدمی پر رحم کرے اس نے مجھے فلاں فلاں آیتیں یاد دلا دیں جنہیں میں نے فلاں فلاں سورتوں میں سے چھوڑ رکھا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5042]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قاری سے سنا جبکہ وہ رات کے وقت مسجد میں قرآن پڑھ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے! اس نے مجھے فلاں فلاں آیت یاد دلا دی جو میں فلاں فلاں سورت سے چھوڑ گیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5042]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. بَابُ التَّرْتِيلِ فِي الْقِرَاءَةِ:
باب: قرآن مجید کی تلاوت صاف صاف اور ٹھہر ٹھہر کر کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q5043
وَقَوْلِهِ تَعَالَى: وَرَتِّلِ الْقُرْءَانَ تَرْتِيلا سورة المزمل آية 4، وَقَوْلِهِ: وَقُرْءَانًا فَرَقْنَاهُ لِتَقْرَأَهُ عَلَى النَّاسِ عَلَى مُكْثٍ سورة الإسراء آية 106 وَمَا يُكْرَهُ أَنْ يُهَذَّ كَهَذِّ الشِّعْرِ فِيهَا يُفْرَقُ سورة الدخان آية 4 يُفَصَّلُ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَرَقْنَاهُ سورة الإسراء آية 106: فَصَّلْنَاهُ.
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ مزمل میں فرمایا «ورتل القرآن ترتيلا‏» اور قرآن مجید کو ترتیل سے پڑھ۔ (یعنی ہر ایک حرف اچھی طرح نکال کر اطمینان کے ساتھ) اور سورۃ بنی اسرائیل میں فرمایا «وقرآنا فرقناه لتقرأه على الناس على مكث‏» اور ہم نے قرآن مجید کو تھوڑا تھوڑا کر کے اس لیے بھیجا کہ تو ٹھہر ٹھہر کر لوگوں کو پڑھ کر سنائے اور شعر و سخن کی طرح اس کا جلدی جلدی پڑھنا مکروہ ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا اس سورت میں جو لفظ «فرقناه‏» کا لفظ ہے اس کا معنی یہ ہے کہ ہم نے اسے کئی حصے کر کے اتارا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: Q5043]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5043
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: غَدَوْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ رَجُلٌ:" قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ الْبَارِحَةَ، فَقَالَ: هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ، إِنَّا قَدْ سَمِعْنَا الْقِرَاءَةَ، وَإِنِّي لَأَحْفَظُ الْقُرَنَاءَ الَّتِي كَانَ يَقْرَأُ بِهِنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ وَسُورَتَيْنِ مِنْ آلِ حم".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے مہدی بن میمون نے، کہا ہم سے واصل احدب نے، ان سے ابووائل نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ ہم ان کی خدمت میں صبح سویرے حاضر ہوئے۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا کہ رات میں نے (تمام) مفصل سورتیں پڑھ ڈالیں۔ اس پر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بولے جیسے اشعار جلدی جلدی پڑھتے ہیں تم نے ویسے ہی پڑھ لی ہو گی۔ ہم سے قرآت سنی ہے اور مجھے وہ جوڑ والی سورتیں بھی یاد ہیں جن کو ملا کر نمازوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے۔ یہ اٹھارہ سورتیں مفصل کی ہیں اور وہ دو سورتیں جن کے شروع میں «حم‏.‏» ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5043]
حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم صبح صبح عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، ایک آدمی نے کہا کہ: میں نے گزشتہ رات مفصل کی تمام سورتیں پڑھی ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: شعروں کی طرح تیز تیز پڑھی ہیں؟ بلاشبہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت سنی ہے اور مجھے وہ سورتوں کے جوڑے بھی یاد ہیں جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم (نمازوں میں) ملا کر پڑھا کرتے تھے۔ وہ مفصل کی اٹھارہ سورتیں ہیں اور وہ دو سورتیں جن کے شروع میں «حٰمٓ» ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5043]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5044
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ:"لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ سورة القيامة آية 16، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ جِبْرِيلُ بِالْوَحْيِ وَكَانَ مِمَّا يُحَرِّكُ بِهِ لِسَانَهُ وَشَفَتَيْهِ فَيَشْتَدُّ عَلَيْهِ، وَكَانَ يُعْرَفُ مِنْهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ الْآيَةَ الَّتِي فِي لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ سورة القيامة آية 1، لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ {16} إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْءَانَهُ {17} فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْءَانَهُ {18} سورة القيامة آية 16-18 فَإِذَا أَنْزَلْنَاهُ فَاسْتَمِعْ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ سورة القيامة آية 19، قَالَ: إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ نُبَيِّنَهُ بِلِسَانِكَ، قَالَ: وَكَانَ إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ أَطْرَقَ، فَإِذَا ذَهَبَ قَرَأَهُ كَمَا وَعَدَهُ اللَّهُ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن ابی عائشہ نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے فرمان «لا تحرك به لسانك لتعجل به‏» آپ قرآن کو جلدی جلدی لینے کے لیے اس پر زبان کو نہ ہلایا کریں۔ بیان کیا کہ جب جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر نازل ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبان اور ہونٹ ہلایا کرتے تھے۔ اس کی وجہ سے آپ کے لیے وحی یاد کرنے میں بہت بار پڑتا تھا اور یہ آپ کے چہرے سے بھی ظاہر ہو جاتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت جو سورۃ «لا أقسم بيوم القيامة‏» میں ہے، نازل کی کہ آپ قرآن کو جلدی جلدی لینے کے لیے اس پر زبان کو نہ ہلایا کریں یہ تو ہمارے ذمہ ہے اس کا جمع کرنا اور اس کا پڑھوانا تو جب ہم اسے پڑھنے لگیں تو آپ اس کے پیچھے پیچھے پڑھا کریں پھر آپ کی زبان سے اس کی تفسیر بیان کرا دینا بھی ہمارے ذمہ ہے۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر جب جبرائیل علیہ السلام آتے تو آپ سر جھکا لیتے اور جب واپس جاتے تو پڑھتے جیسا کہ اللہ نے آپ سے یاد کروانے کا وعدہ کیا تھا کہ تیرے دل میں جما دینا اس کو پڑھا دینا ہمارا کام ہے پھر آپ اس کے موافق پڑھتے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5044]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد: ﴿لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ﴾ [سورة القيامة: 16] اس وحی کو جلدی جلدی یاد کرنے کی خاطر اپنی زبان کو حرکت نہ دیں کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ جب جبریل علیہ السلام وحی لے کر آتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ اپنی زبان اور ہونٹوں کو حرکت دیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ معاملہ گراں تھا اور یہ گرانی واضح طور پر معلوم ہوتی تھی، تو اللہ تعالیٰ نے (سورہ قیامہ والی) مذکورہ آیت نازل فرمائی کہ آپ یاد کرنے کی جلدی میں قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دیں، بیشک ﴿إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ﴾ [سورة القيامة: 17] اس قرآن کو (آپ کے دل میں) جمع کر دینا اور پڑھا دینا ہمارے ذمے ہے، ﴿فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ﴾ [سورة القيامة: 18] جب ہم اسے پڑھ چکیں تو اس وقت پڑھے ہوئے کی اتباع کریں یعنی جب ہم قرآن نازل کریں تو آپ خاموشی سے سنیں، ﴿ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ﴾ [سورة القيامة: 19] پھر ہمارے ذمے اس کا بیان کرنا بھی ہے یعنی یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ آپ کی زبان مبارک سے اس کی وضاحت کرائیں، اس کے بعد جب جبریل علیہ السلام آتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم گردن جھکا کر اسے سنتے، جب وہ چلے جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن اسی طرح پڑھتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ فرمایا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5044]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. بَابُ مَدِّ الْقِرَاءَةِ:
باب: قرآن مجید پڑھنے میں مد کرنا یعنی جہاں مد ہو اس حرف کو کھینچ کر ادا کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5045
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ:" سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: كَانَ يَمُدُّ مَدًّا".
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم ازدی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت قرآن مجید کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان الفاظ کو کھینچ کر پڑھتے تھے جن میں مد ہوتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5045]
حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت یونس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کے متعلق سوال کیا، تو انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوب کھینچ کر پڑھا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5045]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5046
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ:" كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: كَانَتْ مَدًّا، ثُمَّ قَرَأَ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، يَمُدُّ بِبِسْمِ اللَّهِ، وَيَمُدُّ بِالرَّحْمَنِ، وَيَمُدُّ بِالرَّحِيمِ".
ہم سے عمرو بن عاصم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے کہ انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت کیسی تھی؟ انہوں نے بیان کیا کہ مد کے ساتھ۔ پھر آپ نے «بسم الله الرحمن الرحيم» پڑھا اور کہا کہ «بسم الله» (میں اللہ کی لام) کو مد کے ساتھ پڑھتے «الرحمن» (میں میم) کو مد کے ساتھ پڑھتے اور «الرحيم‏.» (میں حاء کو) مد کے ساتھ پڑھتے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5046]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ان سے سوال کیا گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کیسے تھی؟ تو انہوں نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھینچ کر پڑھتے تھے۔ پھر انہوں نے «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» کو پڑھا، یعنی بسم اللہ کو کھینچ کر پڑھتے، الرحمن کو مد کے ساتھ پڑھتے اور الرحیم کو بھی کھینچ کر تلاوت کرتے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5046]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. بَابُ التَّرْجِيعِ:
باب: قرآن شریف پڑھتے وقت حلق میں آواز کو گھمانا اور خوش آوازی سے قرآن شریف پڑھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5047
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو إِيَاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ أَوْ جَمَلِهِ وَهِيَ تَسِيرُ بِهِ وَهُوَ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفَتْحِ، أَوْ مِنْ سُورَةِ الْفَتْحِ قِرَاءَةً لَيِّنَةً يَقْرَأُ وَهُوَ يُرَجِّعُ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوایاس نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی یا اونٹ پر سوار ہو کر تلاوت کر رہے تھے سواری چل رہی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الفتح پڑھ رہے تھے یا (راوی نے یہ بیان کیا کہ) سورۃ الفتح میں سے پڑھ رہے تھے نرمی اور آہستگی کے ساتھ قرآت کر رہے تھے اور آواز کو حلق میں دہراتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5047]
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ اپنی اونٹنی یا اونٹ پر سوار ہو کر تلاوت کر رہے تھے۔ سواری چل رہی تھی اور آپ نہایت نرمی اور آہستگی کے ساتھ سورہ فتح کی تلاوت میں مصروف تھے۔ تلاوت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آواز کو حلق میں پھیرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5047]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. بَابُ حُسْنِ الصَّوْتِ بِالْقِرَاءَةِ:
باب: خوش الحانی کے ساتھ تلاوت کرنا مستحب ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5048
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ:" يَا أَبَا مُوسَى، لَقَدْ أُوتِيتَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ".
ہم سے محمد بن خلف ابوبکر عسقلانی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابویحییٰ حمانی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے برید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے بیان کیا، ان سے ان کے دادا ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوموسیٰ! تجھے داؤد علیہ السلام جیسی بہترین آواز عطا کی گئی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5048]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: اے موسیٰ! بلاشبہ تجھے حضرت داود علیہ السلام جیسی خوش الحانی اور خوبصورت آواز دی گئی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5048]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. بَابُ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَسْمَعَ الْقُرْآنَ مِنْ غَيْرِهِ:
باب: اس شخص کے بارے میں جس نے قرآن مجید کو دوسرے سے سننا پسند کیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5049
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَأْ عَلَيَّ الْقُرْآنَ، قُلْتُ: أَأَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ، قَالَ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي".
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے عبیدہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے قرآن مجید پڑھ کر سناؤ۔ میں نے عرض کیا میں آپ کو قرآن سناؤں آپ پر تو قرآن نازل ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں قرآن مجید دوسرے سے سننا محبوب رکھتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5049]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے قرآن مجید پڑھ کر سناؤ۔ میں نے عرض کی: میں آپ کے حضور قرآن پڑھوں، حالانکہ آپ پر قرآن نازل کیا گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک میں دوسرے سے قرآن سننا پسند کرتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5049]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں