بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب المواقيت
اوقات نماز کا بیان
حدیث نمبر: 139
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «الفجر فجران: فجر يحرم الطعام وتحل فيه الصلاة وفجر تحرم فيه الصلاة أي صلاة الصبح ويحل فيه الطعام» . رواه ابن خزيمة والحاكم وصححاه. وللحاكم من حديث جابر نحوه وزاد في الذي يحرم الطعام: «أنه يذهب مستطيلا في الأفق» . وفي الآخر: «إنه كذنب السرحان» .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”فجر کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ فجر جس میں کھانا حرام ہے اور نماز ادا کرنا جائز و حلال اور ایک وہ فجر ہے جس میں نماز پڑھنا حرام ہے اور کھانا جائز و حلال ہے۔“
اسے ابن خزیمہ اور حاکم نے روایت کیا ہے اور دونوں نے اسے صحیح بھی قرار دیا ہے۔ اور مستدرک حاکم میں جابر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ ”جس صبح میں کھانا حرام ہے وہ آسمان کے کناروں اور اطراف میں پھیل جاتی ہے اور دوسری بھیڑیئے کی دم کی طرح اونچی چلی جاتی ہے۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 139]
اسے ابن خزیمہ اور حاکم نے روایت کیا ہے اور دونوں نے اسے صحیح بھی قرار دیا ہے۔ اور مستدرک حاکم میں جابر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ ”جس صبح میں کھانا حرام ہے وہ آسمان کے کناروں اور اطراف میں پھیل جاتی ہے اور دوسری بھیڑیئے کی دم کی طرح اونچی چلی جاتی ہے۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 139]
«وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ» اور ابن عباس سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «الْفَجْرُ» فجر – «فَجْرَانِ» دو فجریں ہیں: – «فَجْرٌ» (ایک) فجر – «يُحَرِّمُ الطَّعَامَ» (جو) کھانا حرام کر دیتی ہے – «وَتَحِلُّ فِيهِ» اور حلال ہو جاتی ہے اس میں – «الصَّلَاةُ» نماز – «وَفَجْرٌ» اور (دوسری) فجر – «تَحْرُمُ فِيهِ» حرام ہوتی ہے اس میں – «الصَّلَاةُ» نماز – «أَيْ» یعنی – «صَلَاةُ الصُّبْحِ» صبح کی نماز – «وَيَحِلُّ فِيهِ» اور حلال ہوتا ہے اس میں – «الطَّعَامُ» کھانا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «ابْنُ خُزَيْمَةَ» ابن خزیمہ – «وَالْحَاكِمُ» اور حاکم نے – «وَصَحَّحَاهُ» اور ان دونوں نے اسے صحیح کہا۔ – «وَلِلْحَاكِمِ» اور حاکم کی روایت ہے – «مِنْ حَدِيثِ جَابِرٍ» جابر کی حدیث سے – «نَحْوُهُ» اسی جیسی – «وَزَادَ» اور زیادہ کیا – «فِي الَّذِي» اس (فجر) کے بارے میں جو – «يُحَرِّمُ الطَّعَامَ» کھانا حرام کرتی ہے: – «أَنَّهُ» کہ وہ – «يَذْهَبُ» جاتی ہے (پھیلتی ہے) – «مُسْتَطِيلًا» چوڑائی میں پھیلی ہوئی – «فِي الْأُفُقِ» افق میں۔ – «وَفِي الْآخَرِ» اور دوسری (فجر) کے بارے میں: – «إِنَّهُ» بے شک وہ – «كَذَنَبِ السِّرْحَانِ» بھیڑیے کی دُم کی طرح ہے۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”فجر دو ہیں: ایک فجر وہ ہے جو (روزہ دار پر) کھانا حرام کر دیتی ہے اور اس میں نماز حلال ہو جاتی ہے، اور دوسری فجر وہ ہے جس میں نماز یعنی صبح کی نماز (پڑھنا) حرام ہے اور اس میں کھانا حلال ہے۔“ اسے ابن خزیمہ اور حاکم نے روایت کیا ہے اور دونوں نے اسے صحیح کہا ہے۔ اور حاکم میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے اسی طرح کی روایت ہے اور اس میں کھانا حرام کرنے والی فجر کے بارے میں یہ اضافہ ہے: ”کہ وہ افق میں چوڑائی میں پھیلتی ہے۔“ اور دوسری کے بارے میں: ”وہ بھیڑیے کی دُم کی طرح (لمبی اوپر کو) ہوتی ہے۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 139]
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”فجر دو ہیں: ایک فجر وہ ہے جو (روزہ دار پر) کھانا حرام کر دیتی ہے اور اس میں نماز حلال ہو جاتی ہے، اور دوسری فجر وہ ہے جس میں نماز یعنی صبح کی نماز (پڑھنا) حرام ہے اور اس میں کھانا حلال ہے۔“ اسے ابن خزیمہ اور حاکم نے روایت کیا ہے اور دونوں نے اسے صحیح کہا ہے۔ اور حاکم میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے اسی طرح کی روایت ہے اور اس میں کھانا حرام کرنے والی فجر کے بارے میں یہ اضافہ ہے: ”کہ وہ افق میں چوڑائی میں پھیلتی ہے۔“ اور دوسری کے بارے میں: ”وہ بھیڑیے کی دُم کی طرح (لمبی اوپر کو) ہوتی ہے۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 139]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة:1 /184 و3 /210، حديث:356، 1927، والحاكم:1 /191، 425 وصححاه، وللحديث شاهد عند الحاكم من حديث جابر رضي الله تعاليٰ عنه:1 /191، حديث:688 وسنده حسن.»
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 140
وعن ابن مسعود رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «أفضل الأعمال الصلاة في أول وقتها» . رواه الترمذي والحاكم وصححاه وأصله في الصحيحين.
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اول وقت میں نماز پڑھنا سب اعمال سے افضل ہے۔“
اسے ترمذی اور حاکم نے روایت کیا ہے اور دونوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ اس حدیث کی اصل بخاری و مسلم میں موجود ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 140]
اسے ترمذی اور حاکم نے روایت کیا ہے اور دونوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ اس حدیث کی اصل بخاری و مسلم میں موجود ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 140]
«وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ» اور ابن مسعود سے – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَفْضَلُ» سب سے افضل – «الْأَعْمَالِ» اعمال میں – «الصَّلَاةُ» نماز ہے – «فِي أَوَّلِ» شروع میں – «وَقْتِهَا» اس کے وقت کے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی – «وَالْحَاكِمُ» اور حاکم نے – «وَصَحَّحَاهُ» اور ان دونوں نے اسے صحیح کہا – «وَأَصْلُهُ» اور اس کی اصل – «فِي الصَّحِيحَيْنِ» صحیحین (بخاری و مسلم) میں ہے۔
اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے افضل عمل نماز کو اس کے اول وقت میں پڑھنا ہے۔“ اسے ترمذی اور حاکم نے روایت کیا ہے اور دونوں نے اسے صحیح کہا ہے، اور اس کی اصل صحیحین (بخاری و مسلم) میں ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 140]
اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے افضل عمل نماز کو اس کے اول وقت میں پڑھنا ہے۔“ اسے ترمذی اور حاکم نے روایت کیا ہے اور دونوں نے اسے صحیح کہا ہے، اور اس کی اصل صحیحین (بخاری و مسلم) میں ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 140]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، أبواب الصلاة، باب ما جاء في الوقت الأول من الفضل، حديث:173، والحاكم:1 /188، 189 واللفظ له وصححاه علي شرط الشيخين، وابن خزيمة، حديث:327، وابن حبان (الموارد)، حديث:28 وسنده صحيح* والبخاري، مواقيت الصلاة، حديث:527، ومسلم، الإيمان، حديث:85 بأصله.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 141
وعن أبي محذورة أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «أول الوقت رضوان الله وأوسطه رحمة الله وآخره عفو الله» . أخرجه الدارقطني بسند ضعيف جدا. وللترمذي من حديث ابن عمر نحوه دون الأوسط وهو ضعيف أيضا.
سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اول وقت (میں نماز پڑھنا) رضائے الٰہی کا موجب ہے اور درمیانی وقت (میں ادائیگی نماز) رحمت الٰہی کا سبب ہے اور آخر وقت (میں ادا کرنا) اللہ تعالیٰ سے معافی کا موجب ہے۔“
دارقطنی نے اسے نہایت ہی ضعیف سند سے روایت کیا ہے اور ترمذی میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث بھی اسی طرح ہے لیکن اس میں لفظ «وسط» مذکور نہیں اور وہ ضعیف بھی ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 141]
دارقطنی نے اسے نہایت ہی ضعیف سند سے روایت کیا ہے اور ترمذی میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث بھی اسی طرح ہے لیکن اس میں لفظ «وسط» مذکور نہیں اور وہ ضعیف بھی ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 141]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي مَحْذُورَةَ» ابو محذورہ – «أَنَّ» کہ بے شک – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «أَوَّلُ الْوَقْتِ» اول وقت – «رِضْوَانُ اللَّهِ» اللہ کی رضا ہے – «وَأَوْسَطُهُ» اور اس کا درمیانی (حصہ) – «رَحْمَةُ اللَّهِ» اللہ کی رحمت ہے – «وَآخِرُهُ» اور اس کا آخری (حصہ) – «عَفْوُ اللَّهِ» اللہ کی معافی ہے۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «الدَّارَقُطْنِيُّ» دارقطنی نے – «بِسَنَدٍ» سند کے ساتھ – «ضَعِيفٍ جِدًّا» سخت ضعیف۔ – «وَلِلتِّرْمِذِيِّ» اور ترمذی کی روایت ہے – «مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر کی حدیث سے – «نَحْوُهُ» اسی جیسی – «دُونَ الْأَوْسَطِ» درمیانی (حصے کے ذکر) کے بغیر – «وَهُوَ» اور وہ (بھی) – «ضَعِيفٌ أَيْضًا» ضعیف ہی ہے۔
اور سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”(نماز کا) اول وقت اللہ کی رضا ہے، درمیانی وقت اللہ کی رحمت ہے اور آخری وقت اللہ کی معافی ہے۔“ اسے دارقطنی نے سخت ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اور ترمذی میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے اسی طرح کی روایت ہے، مگر اس میں درمیانی وقت کا ذکر نہیں، اور وہ بھی ضعیف ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 141]
اور سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”(نماز کا) اول وقت اللہ کی رضا ہے، درمیانی وقت اللہ کی رحمت ہے اور آخری وقت اللہ کی معافی ہے۔“ اسے دارقطنی نے سخت ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اور ترمذی میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے اسی طرح کی روایت ہے، مگر اس میں درمیانی وقت کا ذکر نہیں، اور وہ بھی ضعیف ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 141]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدار قطني: 1 /250* إبراهيم بن زكريا ضعيف وحديثه منكر، وقال ابن عدي: "حدث بالبواطيل"، وحديث ابن عمر أخرجه الترمذي، حديث:172 وفيه يعقوب بن الوليد، كذبه أحمدوغيره.»
الحكم على الحديث:
ضعيف
حدیث نمبر: 142
وعن ابن عمر رضي الله تعالى عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «لا صلاة بعد الفجر إلا سجدتين» أخرجه الخمسة إلا النسائي. وفي رواية عبد الرزاق: «لا صلاة بعد طلوع الفجر إلا ركعتي الفجر» . ومثله للدارقطني عن ابن عمرو بن العاص رضي الله عنه.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ”فجر (کی فرض نماز) کے بعد صرف دو سنتوں کے علاوہ اور کوئی (نفل) نماز نہیں۔
اسے نسائی کے سوا پانچوں نے روایت کیا ہے۔ اور عبدالرزاق کی روایت میں ہے کہ ”طلوع فجر کے بعد صرف فجر کی دو رکعات ہیں“ اور دارقطنی میں ابن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 142]
اسے نسائی کے سوا پانچوں نے روایت کیا ہے۔ اور عبدالرزاق کی روایت میں ہے کہ ”طلوع فجر کے بعد صرف فجر کی دو رکعات ہیں“ اور دارقطنی میں ابن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 142]
«وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ» اور ابن عمر سے – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا» اللہ تعالیٰ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ بے شک – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «لَا صَلَاةَ» کوئی نماز نہیں – «بَعْدَ الْفَجْرِ» فجر کے بعد – «إِلَّا» سوائے – «سَجْدَتَيْنِ» دو سجدوں (دو رکعتوں) کے۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «الْخَمْسَةُ» پانچوں نے – «إِلَّا النَّسَائِيَّ» سوائے نسائی کے۔ – «وَفِي رِوَايَةِ» اور روایت میں – «عَبْدِ الرَّزَّاقِ» عبدالرزاق کی: – «لَا صَلَاةَ» کوئی نماز نہیں – «بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ» طلوع فجر کے بعد – «إِلَّا» سوائے – «رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ» فجر کی دو رکعتوں کے۔ – «وَمِثْلُهُ» اور اسی کی مثل (روایت) – «لِلدَّارَقُطْنِيِّ» دارقطنی کی ہے – «عَنِ ابْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ» ابن عمرو بن العاص سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”فجر (طلوع ہونے) کے بعد دو رکعتوں کے سوا کوئی نماز نہیں۔“ اسے نسائی کے سوا پانچوں نے روایت کیا ہے۔ اور عبدالرزاق کی روایت میں ہے: ”طلوع فجر کے بعد فجر کی دو رکعتوں (سنتوں) کے سوا کوئی نماز نہیں۔“ اور اسی جیسی روایت دارقطنی نے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے بیان کی ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 142]
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”فجر (طلوع ہونے) کے بعد دو رکعتوں کے سوا کوئی نماز نہیں۔“ اسے نسائی کے سوا پانچوں نے روایت کیا ہے۔ اور عبدالرزاق کی روایت میں ہے: ”طلوع فجر کے بعد فجر کی دو رکعتوں (سنتوں) کے سوا کوئی نماز نہیں۔“ اور اسی جیسی روایت دارقطنی نے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے بیان کی ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 142]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، التطوع، باب من رخص فيهما إذا كانت الشمس مرتفعة، حديث:1278، والترمذي، الصلاة، حديث:419، وابن ماجه، السنة، حديث:235 مختصرًا، وأحمد:2 /104، وعبدالرزاق: 3 /53، حديث:4757، ابن الحصين: مجهول، وحديث ابن عمرو أخرجه الدار قطني: 1 /419 وسنده ضعيف.»
الحكم على الحديث:
ضعيف
حدیث نمبر: 143
وعن أم سلمة رضي الله تعالى عنها قالت: صلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم العصر. ثم دخل بيتي فصلى ركعتين. فسألته فقال: «شغلت عن ركعتين بعد الظهر فصليتهما الآن» فقلت: أفنقضيهما إذا فاتتا؟ قال: «لا» . أخرجه أحمد. ولأبي داود عن عائشة رضي الله تعالى عنها بمعناه.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عصر پڑھ کر میرے حجرے میں تشریف لائے اور دو رکعت نماز ادا فرمائی۔ میں نے عرض کیا یہ دو رکعت کیسی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں ارشاد فرمایا ”ظہر کے فرائض کے بعد کی دو سنتیں پڑھ نہیں سکا تھا وہ اب میں نے پڑھی ہیں۔“ میں نے پھر عرض کیا کہ اگر یہ دو سنتیں قضاء ہو جائیں تو کیا ہم بھی ان کی قضاء دیا کریں۔ فرمایا ”نہیں“
اسے احمد نے روایت کیا ہے اور ابوداؤد میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی طرح کی روایت ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 143]
اسے احمد نے روایت کیا ہے اور ابوداؤد میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی طرح کی روایت ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 143]
«وَعَنْ» اور سے – «أُمِّ سَلَمَةَ» ام سلمہ – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «صَلَّى» پڑھی – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «الْعَصْرَ» عصر (کی نماز) – «ثُمَّ» پھر – «دَخَلَ» داخل ہوئے – «بَيْتِي» میرے گھر میں – «فَصَلَّى» پس پڑھیں – «رَكْعَتَيْنِ» دو رکعتیں – «فَسَأَلْتُهُ» تو میں نے آپ سے پوچھا – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «شُغِلْتُ» میں مشغول کر دیا گیا – «عَنْ رَكْعَتَيْنِ» دو رکعتوں سے – «بَعْدَ الظُّهْرِ» ظہر کے بعد (والی) – «فَصَلَّيْتُهُمَا» تو میں نے ان دونوں کو پڑھا – «الْآنَ» اب – «فَقُلْتُ» تو میں نے کہا: – «أَفَنَقْضِيهِمَا» کیا ہم (بھی) ان دونوں کی قضا کریں – «إِذَا فَاتَتَا» جب وہ دونوں فوت ہو جائیں؟ – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «لَا» نہیں۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد نے۔ – «وَلِأَبِي دَاوُدَ» اور ابو داود کی روایت ہے – «عَنْ عَائِشَةَ» عائشہ سے – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «بِمَعْنَاهُ» اسی کے ہم معنی۔
اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی، پھر میرے گھر تشریف لائے اور دو رکعتیں پڑھیں۔ میں نے آپ سے (اس کے بارے میں) پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”میں (کسی کام میں) مشغول ہو کر ظہر کے بعد والی دو رکعتیں نہ پڑھ سکا تھا، تو میں نے انہیں اب پڑھ لیا ہے۔“ میں نے عرض کیا: جب یہ دونوں (رکعتیں) ہم سے فوت ہو جائیں تو کیا ہم بھی ان کی قضا کریں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے۔ اور ابو داود میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی مفہوم کی روایت ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 143]
اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی، پھر میرے گھر تشریف لائے اور دو رکعتیں پڑھیں۔ میں نے آپ سے (اس کے بارے میں) پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”میں (کسی کام میں) مشغول ہو کر ظہر کے بعد والی دو رکعتیں نہ پڑھ سکا تھا، تو میں نے انہیں اب پڑھ لیا ہے۔“ میں نے عرض کیا: جب یہ دونوں (رکعتیں) ہم سے فوت ہو جائیں تو کیا ہم بھی ان کی قضا کریں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے۔ اور ابو داود میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی مفہوم کی روایت ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 143]
تخریج الحدیث: «أخرجه أحمد:6 /315 وفيه ذكوان أبو عمرو، فالسند صحيح، وحديث عائشة أخرجه أبوداود، الصلاة، حديث:1273، والبخاري، السهو، حديث:1233، ومسلم، الصلاة، حديث:834.»
الحكم على الحديث:
صحيح
2. باب الأذان
اذان کا بیان
حدیث نمبر: 144
عن عبد الله بن زيد بن عبد ربه قال: طاف بي وأنا نائم رجل فقال: تقول: الله أكبر الله أكبر فذكر الأذان بتربيع التكبير بغير ترجيع والإقامة فرادى إلا قد قامت الصلاة قال: فلما أصبحت أتيت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فقال:«إنها لرؤيا حق» الحديث. أخرجه أحمد وأبو داود. وصححه الترمذي وابن خزيمة.وزاد أحمد في آخره، قصة قول بلال في أذان الفجر: الصلاة خير من النوم. ولابن خزيمة عن أنس رضي الله عنه قال: من السنة إذا قال المؤذن في الفجر: حي على الفلاح قال: الصلاة خير من النوم.
سیدنا عبداللہ بن زید بن عبدربہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ خواب میں مجھے ایک آدمی ملا جس نے مجھے کہا کہ کہو «الله أكبر الله أكبر» پھر اس نے ساری اذان کہی، چار مرتبہ «الله أكبر» کہا۔ بغیر ترجیع کے اور اقامت میں صرف ایک ایک مرتبہ کہا، مگر «قد قامت الصلاة» کو دو مرتبہ کہا۔ صبح جب میں بیدار ہوا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا (اور اپنا خواب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یقیناً یہ خواب سچا ہے۔“
اس حدیث کو احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ ترمذی اور ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ احمد نے اس روایت کے آخر میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی فجر کی اذان میں «الصلاة خير من النوم» کا قصہ بھی مزید بیان کیا ہے اور ابن خزیمہ میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہے کہ انہوں نے فرمایا سنت ہے کہ جب مؤذن صبح کی اذان میں «حي على الفلاح» کہے تو وہ کہے «الصلاة خير من النوم» ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 144]
اس حدیث کو احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ ترمذی اور ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ احمد نے اس روایت کے آخر میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی فجر کی اذان میں «الصلاة خير من النوم» کا قصہ بھی مزید بیان کیا ہے اور ابن خزیمہ میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہے کہ انہوں نے فرمایا سنت ہے کہ جب مؤذن صبح کی اذان میں «حي على الفلاح» کہے تو وہ کہے «الصلاة خير من النوم» ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 144]
«عَنْ» سے – «عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ» عبداللہ بن زید بن عبد ربہ – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «طَافَ بِي» میرے پاس چکر لگایا (خواب میں آیا) – «وَأَنَا نَائِمٌ» اس حال میں کہ میں سویا ہوا تھا – «رَجُلٌ» ایک آدمی نے – «فَقَالَ» پس اس نے کہا: – «تَقُولُ» تم کہو: – «اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے – «فَذَكَرَ» پھر (انہوں نے) ذکر کیا – «الْأَذَانَ» اذان کو – «بِتَرْبِيعِ التَّكْبِيرِ» تکبیر کو چار بار کہنے کے ساتھ – «بِغَيْرِ تَرْجِيعٍ» ترجیع کے بغیر – «وَالْإِقَامَةَ» اور اقامت کو – «فُرَادَى» اکہری اکہری – «إِلَّا» سوائے – «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» قد قامت الصلاۃ (نماز کھڑی ہو گئی) کے – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «فَلَمَّا أَصْبَحْتُ» پس جب میں نے صبح کی – «أَتَيْتُ» میں آیا – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے پاس – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «إِنَّهَا» بے شک یہ – «لَرُؤْيَا حَقٍّ» یقیناً سچا خواب ہے – «الْحَدِيثَ» (پوری) حدیث۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی – «وَابْنُ خُزَيْمَةَ» اور ابن خزیمہ نے۔ – «وَزَادَ» اور زیادہ کیا – «أَحْمَدُ» احمد نے – «فِي آخِرِهِ» اس کے آخر میں – «قِصَّةَ» واقعہ – «قَوْلِ بِلَالٍ» بلال کے کہنے کا – «فِي أَذَانِ الْفَجْرِ» فجر کی اذان میں: – «الصَّلَاةُ» نماز – «خَيْرٌ» بہتر ہے – «مِنَ النَّوْمِ» نیند سے۔ – «وَلِابْنِ خُزَيْمَةَ» اور ابن خزیمہ کی روایت ہے – «عَنْ أَنَسٍ» انس سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «مِنَ السُّنَّةِ» سنت میں سے ہے – «إِذَا قَالَ» کہ جب کہے – «الْمُؤَذِّنُ» مؤذن – «فِي الْفَجْرِ» فجر میں – «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» آؤ کامیابی کی طرف – «قَالَ» (تو) کہے: – «الصَّلَاةُ» نماز – «خَيْرٌ» بہتر ہے – «مِنَ النَّوْمِ» نیند سے۔
سیدنا عبداللہ بن زید بن عبد ربہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں سویا ہوا تھا کہ (خواب میں) ایک آدمی میرے پاس آیا اور کہا: تم کہو: اللہ اکبر، اللہ اکبر، پھر انہوں نے پوری اذان ذکر کی جس میں تکبیر چار مرتبہ ہے اور ترجیع نہیں ہے، اور اقامت اکہری ذکر کی سوائے ”قد قامت الصلاۃ“ کے (کہ وہ دو بار ہے)۔ انہوں نے کہا: جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے فرمایا: ”یقیناً یہ سچا خواب ہے۔“ (آخر تک پوری) حدیث۔ اسے احمد اور ابو داود نے روایت کیا ہے اور ترمذی اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ اور احمد نے اس کے آخر میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے فجر کی اذان میں ”الصلاۃ خیر من النوم“ (نماز نیند سے بہتر ہے) کہنے کا واقعہ زیادہ بیان کیا ہے۔ اور ابن خزیمہ میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سنت یہ ہے کہ جب مؤذن فجر (کی اذان) میں ”حی علی الفلاح“ کہے تو (اس کے بعد) ”الصلاۃ خیر من النوم“ کہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 144]
سیدنا عبداللہ بن زید بن عبد ربہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں سویا ہوا تھا کہ (خواب میں) ایک آدمی میرے پاس آیا اور کہا: تم کہو: اللہ اکبر، اللہ اکبر، پھر انہوں نے پوری اذان ذکر کی جس میں تکبیر چار مرتبہ ہے اور ترجیع نہیں ہے، اور اقامت اکہری ذکر کی سوائے ”قد قامت الصلاۃ“ کے (کہ وہ دو بار ہے)۔ انہوں نے کہا: جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے فرمایا: ”یقیناً یہ سچا خواب ہے۔“ (آخر تک پوری) حدیث۔ اسے احمد اور ابو داود نے روایت کیا ہے اور ترمذی اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ اور احمد نے اس کے آخر میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے فجر کی اذان میں ”الصلاۃ خیر من النوم“ (نماز نیند سے بہتر ہے) کہنے کا واقعہ زیادہ بیان کیا ہے۔ اور ابن خزیمہ میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سنت یہ ہے کہ جب مؤذن فجر (کی اذان) میں ”حی علی الفلاح“ کہے تو (اس کے بعد) ”الصلاۃ خیر من النوم“ کہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 144]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب كيف الأذان، حديث:499، وأحمد:4 /43، والترمذيٰ، الصلاة، حديث:189، وابن خزيمة: 1 /198، بالأسانيد، وحديث بلال أخرجه أحمد:4 /43 وهو حديث حسن، ابن إسحاق والزهري عنعنا، وللحديث شواهد صحيحة، وحديث أنس أخرجه ابن خزيمة:1 /202، حديث:386.»
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 145
وعن أبي محذورة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم علمه الأذان فذكر فيه الترجيع. أخرجه مسلم. ولكن ذكر التكبير في أوله مرتين فقط. ورواه الخمسة فذكروه مربعا.
سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اذان سکھائی۔ اس میں انہوں نے ترجیع کا ذکر کیا ہے۔ مسلم نے روایت کیا ہے لیکن اس میں پہلی دفعہ «الله أكبر» کو صرف دو مرتبہ کہنے کا ذکر ہے۔ ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کو پانچوں نے روایت کیا ہے اور انہوں نے «الله أكبر» کو پہلی دفعہ چار مرتبہ کہنے کا ذکر کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 145]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي مَحْذُورَةَ» ابو محذورہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ بے شک – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «عَلَّمَهُ» نے انہیں سکھائی – «الْأَذَانَ» اذان – «فَذَكَرَ» پس (انہوں نے) ذکر کیا – «فِيهِ» اس میں – «التَّرْجِيعَ» ترجیع کو۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے – «وَلَكِنْ» لیکن – «ذَكَرَ» (انہوں نے) ذکر کیا – «التَّكْبِيرَ» تکبیر کو – «فِي أَوَّلِهِ» اس کے شروع میں – «مَرَّتَيْنِ» دو مرتبہ – «فَقَطْ» صرف۔ – «وَرَوَاهُ» اور اسے روایت کیا – «الْخَمْسَةُ» پانچوں نے – «فَذَكَرُوهُ» تو انہوں نے اسے ذکر کیا – «مُرَبَّعًا» چار بار۔
اور سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اذان سکھائی اور انہوں نے اس میں ترجیع کا ذکر کیا۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے، لیکن (مسلم کی روایت میں) اذان کے شروع میں تکبیر صرف دو مرتبہ ذکر کی ہے۔ اور اسے پانچوں (احمد، ابو داود، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ) نے روایت کیا ہے اور انہوں نے (تکبیر) چار مرتبہ ذکر کی ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 145]
اور سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اذان سکھائی اور انہوں نے اس میں ترجیع کا ذکر کیا۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے، لیکن (مسلم کی روایت میں) اذان کے شروع میں تکبیر صرف دو مرتبہ ذکر کی ہے۔ اور اسے پانچوں (احمد، ابو داود، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ) نے روایت کیا ہے اور انہوں نے (تکبیر) چار مرتبہ ذکر کی ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 145]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الصلاة، باب صفة الأذان، حديث:379، وأبوداود، الصلاة، حديث:500، 505، والترمذي، الصلاة، حديث:191، والسنائي، الصلاة، حديث:630، وابن ماجه، الصلاة، حديث:708، وأحمد:3 /409.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 146
وعن أنس رضي الله عنه قال: أمر بلال: أن يشفع الأذان شفعا ويوتر الإقامة إلا الإقامة يعني: إلا قد قامت الصلاة. متفق عليه، ولم يذكر مسلم الاستثناء. وللنسائي: أمر النبي صلى الله عليه وآله وسلم بلالا.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کے کلمات دو، دو مرتبہ اور تکبیر «قد قامت الصلاة» کے علاوہ باقی جملہ کلمات کو ایک، ایک مرتبہ کہنے کا حکم دیا گیا (بخاری و مسلم)
البتہ مسلم نے «قد قامت الصلاة» کے استثناء کا ذکر نہیں کیا اور نسائی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا۔ [بلوغ المرام/حدیث: 146]
البتہ مسلم نے «قد قامت الصلاة» کے استثناء کا ذکر نہیں کیا اور نسائی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا۔ [بلوغ المرام/حدیث: 146]
«وَعَنْ» اور سے – «أَنَسٍ» انس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «أُمِرَ» حکم دیا گیا – «بِلَالٌ» بلال کو – «أَنْ يَشْفَعَ» کہ وہ جفت (دوہرا) کہیں – «الْأَذَانَ» اذان کو – «شَفْعًا» دوہرا دوہرا – «وَيُوتِرَ» اور طاق (اکہری) کہیں – «الْإِقَامَةَ» اقامت کو – «إِلَّا الْإِقَامَةَ» سوائے اقامت (کے کلمے) کے – «يَعْنِي» یعنی – «إِلَّا» سوائے – «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» قد قامت الصلاۃ کے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے – «وَلَمْ يَذْكُرْ» اور ذکر نہیں کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے – «الِاسْتِثْنَاءَ» استثناء کو۔ – «وَلِلنَّسَائِيِّ» اور نسائی کی روایت میں ہے: – «أَمَرَ» حکم دیا – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «بِلَالًا» بلال کو۔
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ اذان کے کلمات دو دو بار اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار کہیں، سوائے اقامت کے، یعنی سوائے ”قد قامت الصلاۃ“ کے (کہ وہ دو بار کہیں)۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور مسلم نے استثناء (سوائے قد قامت الصلاۃ) کا ذکر نہیں کیا۔ اور نسائی کی روایت میں ہے: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلال کو حکم دیا۔ [بلوغ المرام/حدیث: 146]
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ اذان کے کلمات دو دو بار اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار کہیں، سوائے اقامت کے، یعنی سوائے ”قد قامت الصلاۃ“ کے (کہ وہ دو بار کہیں)۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور مسلم نے استثناء (سوائے قد قامت الصلاۃ) کا ذکر نہیں کیا۔ اور نسائی کی روایت میں ہے: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلال کو حکم دیا۔ [بلوغ المرام/حدیث: 146]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب الأذان مثني مثني، حديث:605، ومسلم، الصلاة، با الأمر بشفع الأذان وإيتار الإقامة...، حديث:378، والنسائي، الأذان، حديث:628 وسنده صحيح.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 147
وعن أبي جحيفة رضي الله عنه قال: رأيت بلالا يؤذن وأتتبع فاه ههنا وههنا وإصبعاه في أذنيه. رواه أحمد والترمذي وصححه. ولابن ماجه: وجعل إصبعيه في أذنيه. ولأبي داود: لوى عنقه لما بلغ حي على الصلاة يمينا وشمالا ولم يستدر. وأصله في الصحيحين.
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دیتے دیکھا کہ وہ اپنا چہرہ، ادھر ادھر پھیرتے تھے۔ اس وقت ان کی دونوں انگلیاں (انگشت ہائے شہادت) ان کے کانوں میں تھیں۔
احمد اور ترمذی نے اسے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ ابن ماجہ کی روایت میں ہے کہ انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں داخل کر لیں اور ابوداؤد میں ہے کہ جب «حي على الصلاة» کہتے تو اپنے دائیں بائیں ذرا رخ موڑ لیتے بالکل گھومتے نہیں تھے۔ اس کی اصل صحیحین میں ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 147]
احمد اور ترمذی نے اسے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ ابن ماجہ کی روایت میں ہے کہ انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں داخل کر لیں اور ابوداؤد میں ہے کہ جب «حي على الصلاة» کہتے تو اپنے دائیں بائیں ذرا رخ موڑ لیتے بالکل گھومتے نہیں تھے۔ اس کی اصل صحیحین میں ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 147]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي جُحَيْفَةَ» ابو جحیفہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «رَأَيْتُ» میں نے دیکھا – «بِلَالًا» بلال کو – «يُؤَذِّنُ» اذان دیتے ہوئے – «وَأَتَتَبَّعُ» اور میں پیچھا کر رہا تھا (دیکھ رہا تھا) – «فَاهُ» ان کے منہ کا – «هَاهُنَا وَهَاهُنَا» اِدھر اور اُدھر – «وَإِصْبَعَاهُ» اور ان کی دونوں انگلیاں – «فِي أُذُنَيْهِ» ان کے دونوں کانوں میں تھیں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَالتِّرْمِذِيُّ» اور ترمذی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور (ترمذی نے) اسے صحیح کہا۔ – «وَلِابْنِ مَاجَهْ» اور ابن ماجہ کی روایت میں ہے: – «وَجَعَلَ» اور (انہوں نے) رکھیں – «إِصْبَعَيْهِ» اپنی دونوں انگلیاں – «فِي أُذُنَيْهِ» اپنے دونوں کانوں میں۔ – «وَلِأَبِي دَاوُدَ» اور ابو داود کی روایت میں ہے: – «لَوَى» (انہوں نے) موڑی – «عُنُقَهُ» اپنی گردن – «لَمَّا بَلَغَ» جب پہنچے – «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» حی علی الصلاۃ (آؤ نماز کی طرف) پر – «يَمِينًا» دائیں – «وَشِمَالًا» اور بائیں – «وَلَمْ يَسْتَدِرْ» اور (پورے) نہیں گھومے۔ – «وَأَصْلُهُ» اور اس کی اصل – «فِي الصَّحِيحَيْنِ» صحیحین میں ہے۔
اور سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دیتے ہوئے دیکھا، میں ان کے منہ کو اِدھر اُدھر (پھرتے ہوئے) دیکھ رہا تھا اور ان کی دونوں انگلیاں ان کے دونوں کانوں میں تھیں۔ اسے احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے۔ اور ابن ماجہ کی روایت میں ہے: اور انہوں نے اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں رکھیں۔ اور ابو داود کی روایت میں ہے: جب وہ ”حی علی الصلاۃ“ پر پہنچے تو انہوں نے اپنی گردن دائیں اور بائیں موڑی اور (پورے جسم سے) نہیں گھومے۔ اور اس کی اصل صحیحین (بخاری و مسلم) میں ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 147]
اور سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دیتے ہوئے دیکھا، میں ان کے منہ کو اِدھر اُدھر (پھرتے ہوئے) دیکھ رہا تھا اور ان کی دونوں انگلیاں ان کے دونوں کانوں میں تھیں۔ اسے احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے۔ اور ابن ماجہ کی روایت میں ہے: اور انہوں نے اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں رکھیں۔ اور ابو داود کی روایت میں ہے: جب وہ ”حی علی الصلاۃ“ پر پہنچے تو انہوں نے اپنی گردن دائیں اور بائیں موڑی اور (پورے جسم سے) نہیں گھومے۔ اور اس کی اصل صحیحین (بخاری و مسلم) میں ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 147]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، أبواب الصلاة، باب ماجاء في إدخال الإصبع في الأذن عند الأذان، حديث:197، وأحمد:4 /308، 309، وأصله في الصحيحين، البخاري، الأذان، حديث:634، ومسلم، الصلاة، حديث:503، وابن ماجه، الصلاة، حديث:711، وأبوداود، الصلاة، حديث:520.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 148
وعن أبي محذورة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم أعجبه صوته فعلمه الأذان. رواه ابن خزيمة.
سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی آواز بہت پسند آئی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کو) اذان کی تعلیم خود دی (اذان سکھائی)۔ (ابن خزیمہ) [بلوغ المرام/حدیث: 148]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي مَحْذُورَةَ» ابو محذورہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ بے شک – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَعْجَبَهُ» کو پسند آئی – «صَوْتُهُ» ان کی آواز – «فَعَلَّمَهُ» تو آپ نے انہیں سکھائی – «الْأَذَانَ» اذان۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «ابْنُ خُزَيْمَةَ» ابن خزیمہ نے۔
اور سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی آواز پسند آئی تو آپ نے انہیں اذان سکھائی۔ اسے ابن خزیمہ نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 148]
اور سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی آواز پسند آئی تو آپ نے انہیں اذان سکھائی۔ اسے ابن خزیمہ نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 148]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة: 1 /195، حديث:377.»
الحكم على الحديث:
صحيح