بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب الأذان
اذان کا بیان
حدیث نمبر: 159
عَنْ جَابِرٍ- رَضِيَ اَللَّهُ عَنْهُ- أَنَّ رَسُولَ اَللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -قَالَ: مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ اَلنِّدَاءَ: اَللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ اَلدَّعْوَةِ اَلتَّامَّةِ , وَالصَّلَاةِ اَلْقَائِمَةِ , آتِ مُحَمَّدًا اَلْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ , وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا اَلَّذِي وَعَدْتَهُ , حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ اَلْقِيَامَةِ أَخْرَجَهُ اَلْأَرْبَعَةُ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس آدمی نے اذان سن کر یہ دعا کی تو اس کے لیے قیامت کے دن میری شفاعت حلال ہو گئی۔ «اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة والفضيلة وأبعثه مقاما محمودا الذي وعدته حلت له شفاعتي يوم القيامة» ”اے اللہ! اے اس کامل دعا اور قائم ہونے والی نماز کے مالک! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ (مقام محمود) اور فضیلت عطا فرما اور مقام محمود پر جس کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے پہنچا دے (بھیج دے) تو اس کے لیے قیامت کے روز میری شفاعت حلال ہو گئی۔ “ اسے ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ چاروں نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 159]
«عَنْ» سے – «جَابِرٍ» جابر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ بے شک – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور سلامتی – «قَالَ» نے فرمایا: – «مَنْ قَالَ» جس نے کہا – «حِينَ يَسْمَعُ» جس وقت وہ سنتا ہے – «النِّدَاءَ» اذان: – «اللَّهُمَّ» اے اللہ! – «رَبَّ» رب – «هَذِهِ الدَّعْوَةِ» اس پکار کے – «التَّامَّةِ» مکمل – «وَالصَّلَاةِ» اور نماز کے – «الْقَائِمَةِ» قائم ہونے والی – «آتِ» عطا فرما – «مُحَمَّدًا» محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو – «الْوَسِيلَةَ» وسیلہ (جنت کا بلند درجہ) – «وَالْفَضِيلَةَ» اور فضیلت – «وَابْعَثْهُ» اور انہیں کھڑا کر – «مَقَامًا مَحْمُودًا» مقام محمود پر – «الَّذِي» جس کا – «وَعَدْتَهُ» تو نے ان سے وعدہ کیا ہے – «حَلَّتْ» واجب (حلال) ہو گئی – «لَهُ» اس کے لیے – «شَفَاعَتِي» میری شفاعت – «يَوْمَ الْقِيَامَةِ» قیامت کے دن۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «الْأَرْبَعَةُ» چاروں (ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ) نے۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اذان سن کر یہ کہے: اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ (اے اللہ! اس مکمل پکار اور قائم ہونے والی نماز کے رب! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور انہیں اس مقام محمود پر کھڑا فرما جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے) تو قیامت کے دن اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو گئی۔“ اسے چاروں (ابو داود، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ) نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 159]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اذان سن کر یہ کہے: اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ (اے اللہ! اس مکمل پکار اور قائم ہونے والی نماز کے رب! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور انہیں اس مقام محمود پر کھڑا فرما جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے) تو قیامت کے دن اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو گئی۔“ اسے چاروں (ابو داود، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ) نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 159]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب الدعاء عند النداء، حديث:614، وأبوداود، الصلاة، حديث:529، والترمذي، الصلاة، حديث:211، والنسائي، الصلاة، حديث: 681، وابن ماجه، الصلاة، حديث:722.»
الحكم على الحديث:
صحيح
3. باب شــروط الصلاة
شرائط نماز کا بیان
حدیث نمبر: 160
عن علي بن طلق رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «إذا فسا أحدكم في الصلاة فلينصرف وليتوضأ وليعد الصلاة» . رواه الخمسة وصححه ابن حبان.
سیدنا علی بن طلق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دوران نماز جب تم میں سے کسی کی ہوا خارج ہو جائے تو وہ واپس جائے، ازسرنو (دوبارہ سے) وضو کرے اور نماز دوبارہ پڑھے۔ “
اسے احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ پانچوں نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 160]
اسے احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ پانچوں نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 160]
«عَنْ» سے – «عَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ» علی بن طلق – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِذَا فَسَا» جب (بے آواز) ہوا خارج کرے – «أَحَدُكُمْ» تم میں سے کوئی – «فِي الصَّلَاةِ» نماز میں – «فَلْيَنْصَرِفْ» تو وہ (نماز چھوڑ کر) لوٹ جائے – «وَلْيَتَوَضَّأْ» اور وضو کرے – «وَلْيُعِدِ» اور دوبارہ پڑھے – «الصَّلَاةَ» نماز۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْخَمْسَةُ» پانچوں نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے۔
سیدنا علی بن طلق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کی نماز میں (بے آواز) ہوا خارج ہو جائے تو وہ (نماز چھوڑ کر) چلا جائے، وضو کرے اور نماز دوبارہ پڑھے۔“ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 160]
سیدنا علی بن طلق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کی نماز میں (بے آواز) ہوا خارج ہو جائے تو وہ (نماز چھوڑ کر) چلا جائے، وضو کرے اور نماز دوبارہ پڑھے۔“ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 160]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب من يحدث في الصلاة، حديث: 205، والترمذي، الرضاع، حديث:1164، وأحمد:1 /86، والنسائي في الكبرٰي، حديث:9024-9026، وابن ماجه: لم أجده، وابن حبان(الموارد)، حديث:204.»
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 161
وعن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «لا يقبل الله صلاة حائض إلا بخمار» . رواه الخمسة إلا النسائي وصححه ابن خزيمة.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جسے حیض آتا ہے (یعنی وہ عورت جو بالغہ ہے) اللہ تعالیٰ اس کی نماز دوپٹہ (اوڑھنی) کے بغیر قبول نہیں کرتا۔“
اسے بجز نسائی کے پانچوں نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 161]
اسے بجز نسائی کے پانچوں نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 161]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ بے شک – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «لَا يَقْبَلُ» قبول نہیں کرتا – «اللَّهُ» اللہ – «صَلَاةَ» نماز – «حَائِضٍ» بالغہ عورت کی – «إِلَّا» مگر – «بِخِمَارٍ» اوڑھنی کے ساتھ۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْخَمْسَةُ» پانچوں نے – «إِلَّا النَّسَائِيَّ» سوائے نسائی کے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ خُزَيْمَةَ» ابن خزیمہ نے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ بالغہ عورت کی نماز اوڑھنی کے بغیر قبول نہیں کرتا۔“ اسے نسائی کے سوا پانچوں نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 161]
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ بالغہ عورت کی نماز اوڑھنی کے بغیر قبول نہیں کرتا۔“ اسے نسائی کے سوا پانچوں نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 161]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب المرأة تصلي بغير خمار، حديث:641، والترمذي، الصلاة، وابن ماجه، الطهارة، حديث:655، وأحمد:6 /218، وابن خزيمة:1 /380، حديث:775.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 162
وعن جابر رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال له:«إذا كان الثوب واسعا فالتحف به في الصلاة» . ولمسلم: «فخالف بين طرفيه وإن كان ضيقا فاتزر به» .متفق عليه. ولهما من حديث أبي هريرة رضي الله عنه: «لا يصلي أحدكم في الثوب الواحد ليس على عاتقه منه شيء» .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا ”جب کپڑا بڑا اور فراخ ہو تو (نماز میں) کپڑا خوب (جسم پر) لپیٹ لو۔ “ اور مسلم کی روایت میں ہے کہ کپڑا کشادہ ہو تو کپڑے کے دونوں کناروں کو کندھوں پر دونوں طرف ڈال لو اور اگر کپڑا تنگ اور چھوٹا ہو تو اسے تہبند کی صورت میں باندھ لو۔ (بخاری و مسلم)
اور بخاری و مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”تم میں سے کوئی ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے جب تک کہ اس کپڑے کا کوئی حصہ اس کے کندھوں پر نہ ہو۔ “ [بلوغ المرام/حدیث: 162]
اور بخاری و مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”تم میں سے کوئی ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے جب تک کہ اس کپڑے کا کوئی حصہ اس کے کندھوں پر نہ ہو۔ “ [بلوغ المرام/حدیث: 162]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرٍ» جابر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ بے شک – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ لَهُ» نے ان سے فرمایا: – «إِذَا كَانَ» جب ہو – «الثَّوْبُ» کپڑا – «وَاسِعًا» کشادہ – «فَالْتَحِفْ بِهِ» تو اسے لپیٹ لو – «فِي الصَّلَاةِ» نماز میں۔ – «وَلِمُسْلِمٍ» اور مسلم کی روایت میں ہے: – «فَخَالِفْ» تو الٹ کر ڈالو – «بَيْنَ طَرَفَيْهِ» اس کے دونوں کناروں کو – «وَإِنْ كَانَ» اور اگر ہو – «ضَيِّقًا» تنگ – «فَاتَّزِرْ بِهِ» تو اسے تہبند بنا لو۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَلَهُمَا» اور ان دونوں کی روایت ہے – «مِنْ حَدِيثِ» کی حدیث سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو: – «لَا يُصَلِّي» نماز نہ پڑھے – «أَحَدُكُمْ» تم میں سے کوئی – «فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ» ایک کپڑے میں – «لَيْسَ» (اس حال میں کہ) نہ ہو – «عَلَى عَاتِقِهِ» اس کے کندھے پر – «مِنْهُ» اس میں سے – «شَيْءٌ» کچھ بھی۔
اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جب کپڑا کشادہ ہو تو نماز میں اسے (اپنے جسم پر) لپیٹ لو۔“ اور مسلم کی روایت میں ہے: ”تو اس کے دونوں کناروں کو الٹ کر (کندھوں پر) ڈال لو، اور اگر وہ تنگ ہو تو اسے تہبند بنا لو۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور بخاری و مسلم میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہے: ”تم میں سے کوئی ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھے پر اس (کپڑے) میں سے کچھ بھی نہ ہو۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 162]
اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جب کپڑا کشادہ ہو تو نماز میں اسے (اپنے جسم پر) لپیٹ لو۔“ اور مسلم کی روایت میں ہے: ”تو اس کے دونوں کناروں کو الٹ کر (کندھوں پر) ڈال لو، اور اگر وہ تنگ ہو تو اسے تہبند بنا لو۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور بخاری و مسلم میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہے: ”تم میں سے کوئی ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھے پر اس (کپڑے) میں سے کچھ بھی نہ ہو۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 162]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الصلاة، باب إذا كان الصوب ضيقًا، حديث:361، ومسلم، صلاة المسافرين، باب صلاة النبي صلي الله عليه وسلم ودعائه بالليل، حديث:766، 3010، وحديث أبي هريرة أخرجه البخاري، الصلاة، حديث:359، ومسلم، الصلاة، حديث:516.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 163
وعن أم سلمة رضي الله عنها أنها سألت النبي صلى الله عليه وآله وسلم: أتصلي المرأة في درع وخمار بغير إزار؟ قال: «إذا كان الدرع سابغا يغطي ظهور قدميها» . أخرجه أبو داود. وصحح الأئمة وقفه.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ (کیا) کوئی عورت تہبند کے بغیر محض کرتے اور اوڑھنی میں نماز پڑھ سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”کرتا اگر اتنا لمبا ہو کہ قدم کی پشت تک پہنچ جاتا ہے تو جائز ہے۔ “ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور ائمہ نے اس کے موقوف ہونے کو صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 163]
«وَعَنْ» اور سے – «أُمِّ سَلَمَةَ» ام سلمہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّهَا» کہ انہوں نے – «سَأَلَتِ» پوچھا – «النَّبِيَّ» نبی سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَتُصَلِّي» کیا نماز پڑھ سکتی ہے – «الْمَرْأَةُ» عورت – «فِي دِرْعٍ» قمیص (لمبے کرتے) میں – «وَخِمَارٍ» اور اوڑھنی میں – «بِغَيْرِ إِزَارٍ» تہبند (زیر جامہ) کے بغیر؟ – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «إِذَا كَانَ» جب ہو – «الدِّرْعُ» قمیص – «سَابِغًا» لمبی (پوری) – «يُغَطِّي» (کہ) ڈھانپ لے – «ظُهُورَ» پشتوں (اوپر والے حصے) کو – «قَدَمَيْهَا» اس کے دونوں قدموں کی۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَصَحَّحَ» اور صحیح قرار دیا – «الْأَئِمَّةُ» ائمہ نے – «وَقْفَهُ» اس کے موقوف ہونے کو۔
اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: کیا عورت تہبند (زیر جامہ) کے بغیر (صرف) قمیص اور اوڑھنی میں نماز پڑھ سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جب قمیص اتنی لمبی ہو کہ اس کے قدموں کی پشت کو ڈھانپ لے (تو پڑھ سکتی ہے)۔“ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے اور ائمہ (محدثین) نے اس کے موقوف (ام سلمہ کا قول) ہونے کو صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 163]
اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: کیا عورت تہبند (زیر جامہ) کے بغیر (صرف) قمیص اور اوڑھنی میں نماز پڑھ سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جب قمیص اتنی لمبی ہو کہ اس کے قدموں کی پشت کو ڈھانپ لے (تو پڑھ سکتی ہے)۔“ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے اور ائمہ (محدثین) نے اس کے موقوف (ام سلمہ کا قول) ہونے کو صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 163]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب في كم تصلي المرأة، حديث:639(موقوفًا)، و:640(مرفوعًا)وسنده ضعيف أيضًا.»
الحكم على الحديث:
ضعيف
حدیث نمبر: 164
وعن عامر بن ربيعة رضي الله عنه قال: كنا مع النبي صلى الله عليه وآله وسلم في ليلة مظلمة فأشكلت علينا القبلة فصلينا. فلما طلعت الشمس إذا نحن صلينا إلى غير القبلة فنزلت «فأينما تولوا فثم وجه الله» . أخرجه الترمذي ضعفه.
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک تاریک و اندھیری رات میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، قبلہ کا رخ شناخت کرنا ہم پر دشوار و مشکل ہو گیا۔ ہم نے (اندازاً قبلہ کا رخ متعین کر کے) نماز پڑھ لی۔ جب آفتاب طلوع ہوا تو معلوم ہوا کہ ہم نے غیر قبلہ کی جانب رخ کر کے نماز پڑھی تھی۔ پس پھر یہ آیت نازل ہوئی «فأينما تولوا فثم وجه الله» پس جدھر تم رخ کرو گے اسی طرف اللہ کی ذات موجود ہے۔“ اس کو ترمذی نے روایت کیا ہے اور ضعیف قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 164]
«وَعَنْ» اور سے – «عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ» عامر بن ربیعہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «كُنَّا» ہم تھے – «مَعَ النَّبِيِّ» نبی کے ساتھ – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فِي لَيْلَةٍ» ایک رات میں – «مُظْلِمَةٍ» اندھیری – «فَأَشْكَلَتْ عَلَيْنَا» تو ہم پر مشتبہ ہو گیا – «الْقِبْلَةُ» قبلہ – «فَصَلَّيْنَا» پس ہم نے نماز پڑھ لی – «فَلَمَّا طَلَعَتِ» پھر جب طلوع ہوا – «الشَّمْسُ» سورج – «إِذَا نَحْنُ» تو اچانک (معلوم ہوا کہ) ہم نے – «صَلَّيْنَا» نماز پڑھی تھی – «إِلَى غَيْرِ الْقِبْلَةِ» قبلہ کے علاوہ (رخ) کی طرف – «فَنَزَلَتْ» تو (یہ آیت) نازل ہوئی: – «فَأَيْنَمَا» پس جدھر بھی – «تُوَلُّوا» تم رخ کرو – «فَثَمَّ» تو وہیں – «وَجْهُ اللَّهِ» اللہ کا چہرہ ہے۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی نے – «ضَعَّفَهُ» (اور) اسے ضعیف کہا۔
اور سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم ایک اندھیری رات میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم پر قبلہ (کی سمت) مشتبہ ہو گئی، تو ہم نے (اندازے سے) نماز پڑھ لی۔ جب سورج طلوع ہوا تو (معلوم ہوا کہ) ہم نے قبلہ کے علاوہ کسی اور طرف نماز پڑھی تھی، تو (یہ آیت) نازل ہوئی: ”پس تم جدھر بھی رخ کرو ادھر ہی اللہ کا چہرہ ہے۔“ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور اسے ضعیف کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 164]
اور سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم ایک اندھیری رات میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم پر قبلہ (کی سمت) مشتبہ ہو گئی، تو ہم نے (اندازے سے) نماز پڑھ لی۔ جب سورج طلوع ہوا تو (معلوم ہوا کہ) ہم نے قبلہ کے علاوہ کسی اور طرف نماز پڑھی تھی، تو (یہ آیت) نازل ہوئی: ”پس تم جدھر بھی رخ کرو ادھر ہی اللہ کا چہرہ ہے۔“ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور اسے ضعیف کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 164]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، تفسير القرآن، باب ومن سورة البقرة، حديث:2957، وابن ماجه، الصلاة، حديث:1020* عاصم بن عبيدالله ضعيف(تقريب)، وللحديث شاهد ضعيف عند البيهقي:2 /11.»
الحكم على الحديث:
ضعيف
حدیث نمبر: 165
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «ما بين المشرق والمغرب قبلة» رواه الترمذي وقواه البخاري.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”مشرق اور مغرب کے مابین قبلہ ہے۔“ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور بخاری نے قوی قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 165]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مَا» جو کچھ – «بَيْنَ» درمیان ہے – «الْمَشْرِقِ» مشرق – «وَالْمَغْرِبِ» اور مغرب کے – «قِبْلَةٌ» قبلہ ہے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی نے – «وَقَوَّاهُ» اور اسے قوی قرار دیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مشرق اور مغرب کے درمیان (کی ساری سمت) قبلہ ہے۔“ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور بخاری نے اسے قوی قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 165]
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مشرق اور مغرب کے درمیان (کی ساری سمت) قبلہ ہے۔“ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور بخاری نے اسے قوی قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 165]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، أبواب الصلاة، باب ما جاء أن ما بين المشرق والمغرب قبلة، حديث:342-344، وقال:حسن صحيح.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 166
وعن عامر بن ربيعة رضي الله عنه قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يصلي على راحلته حيث توجهت به.متفق عليه، زاد البخاري: يومىء برأسه ولم يكن يصنعه في المكتوبة. ولأبي داود من حديث أنس رضي لله عنه: وكان إذا سافر فأراد أن يتطوع استقبل بناقته القبلة فكبر، ثم صلى حيث كان وجه ركابه. وإسناده حسن.
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی اونٹنی پر نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ اونٹنی جس طرف بھی رخ کرتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے رہتے۔ (بخاری و مسلم)
اور بخاری نے اتنا اضافہ بھی نقل کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر مبارک سے اشارہ کے ساتھ (نماز ادا) فرما رہے تھے۔ فرض نماز میں ایسا نہ کرتے تھے۔ اور ابوداؤد میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر کرتے اور نماز نفل ادا کرنا چاہتے تو (ایک مرتبہ) اپنی اونٹنی کا رخ قبلہ کی طرف موڑ دیتے اس کے بعد پھر سواری کا رخ جس جانب بھی ہو جاتا نماز پڑھتے رہتے۔ اس حدیث کی سند حسن ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 166]
اور بخاری نے اتنا اضافہ بھی نقل کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر مبارک سے اشارہ کے ساتھ (نماز ادا) فرما رہے تھے۔ فرض نماز میں ایسا نہ کرتے تھے۔ اور ابوداؤد میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر کرتے اور نماز نفل ادا کرنا چاہتے تو (ایک مرتبہ) اپنی اونٹنی کا رخ قبلہ کی طرف موڑ دیتے اس کے بعد پھر سواری کا رخ جس جانب بھی ہو جاتا نماز پڑھتے رہتے۔ اس حدیث کی سند حسن ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 166]
«وَعَنْ» اور سے – «عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ» عامر بن ربیعہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «رَأَيْتُ» میں نے دیکھا – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول کو – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يُصَلِّي» (کہ آپ) نماز پڑھ رہے تھے – «عَلَى رَاحِلَتِهِ» اپنی سواری پر – «حَيْثُ» جدھر بھی – «تَوَجَّهَتْ بِهِ» وہ آپ کو لے کر متوجہ ہوتی۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «زَادَ» اضافہ کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے: – «يُومِئُ» آپ اشارہ کرتے تھے – «بِرَأْسِهِ» اپنے سر سے – «وَلَمْ يَكُنْ يَصْنَعُهُ» اور آپ ایسا نہیں کرتے تھے – «فِي الْمَكْتُوبَةِ» فرض نماز میں۔ – «وَلِأَبِي دَاوُدَ» اور ابو داود کی روایت میں ہے – «مِنْ حَدِيثِ» حدیث سے – «أَنَسٍ» انس کی – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو: – «وَكَانَ» اور آپ (کا معمول) تھا – «إِذَا سَافَرَ» جب سفر کرتے – «فَأَرَادَ» پھر ارادہ کرتے – «أَنْ يَتَطَوَّعَ» کہ نفل پڑھیں – «اسْتَقْبَلَ» تو رخ کرتے – «بِنَاقَتِهِ» اپنی اونٹنی کے ساتھ – «الْقِبْلَةَ» قبلہ کی طرف – «فَكَبَّرَ» پھر تکبیر کہتے – «ثُمَّ صَلَّى» پھر نماز پڑھتے – «حَيْثُ كَانَ» جدھر بھی ہوتا – «وَجْهُ رِكَابِهِ» آپ کی سواری کا رخ۔ – «وَإِسْنَادُهُ» اور اس کی سند – «حَسَنٌ» حسن ہے۔
اور سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی سواری پر نماز پڑھتے دیکھا، سواری جدھر بھی آپ کو لے کر رخ کرتی۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ بخاری نے یہ اضافہ کیا ہے: آپ اپنے سر سے اشارہ کرتے تھے اور فرض نماز میں ایسا نہیں کرتے تھے۔ اور ابو داود میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہے: جب آپ سفر کرتے اور نفل پڑھنا چاہتے تو اپنی اونٹنی کا رخ قبلہ کی طرف کر کے تکبیر (تحریمہ) کہتے، پھر جدھر بھی سواری کا رخ ہوتا نماز پڑھتے رہتے۔ اور اس کی سند حسن ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 166]
اور سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی سواری پر نماز پڑھتے دیکھا، سواری جدھر بھی آپ کو لے کر رخ کرتی۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ بخاری نے یہ اضافہ کیا ہے: آپ اپنے سر سے اشارہ کرتے تھے اور فرض نماز میں ایسا نہیں کرتے تھے۔ اور ابو داود میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہے: جب آپ سفر کرتے اور نفل پڑھنا چاہتے تو اپنی اونٹنی کا رخ قبلہ کی طرف کر کے تکبیر (تحریمہ) کہتے، پھر جدھر بھی سواری کا رخ ہوتا نماز پڑھتے رہتے۔ اور اس کی سند حسن ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 166]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، تقصير الصلاة، باب صلاة التطوع علي الدواب وحيثما توجهت، حديث:1093-1097، ومسلم، صلاة المسافرين، باب جواز صلاة النافلة علي الدابة في السفر حيث توجهت، حديث:701، وحديث أنس أخرجه أبوداود، الصلاة، حديث:1225، وإسناده حسن كما قال الحافظ رحمه الله .»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 167
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «الأرض كلها مسجد إلا المقبرة والحمام» . رواه الترمذي وله علة.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قبرستان اور حمام کے ماسوا ساری زمین مسجد ہے (جہاں چاہے نماز پڑھ لے)۔ “ (ترمذی) [بلوغ المرام/حدیث: 167]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ» ابو سعید خدری – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «الْأَرْضُ» زمین – «كُلُّهَا» ساری کی ساری – «مَسْجِدٌ» مسجد (سجدہ گاہ) ہے – «إِلَّا» سوائے – «الْمَقْبَرَةَ» قبرستان – «وَالْحَمَّامَ» اور غسل خانے (حمام) کے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی نے – «وَلَهُ» اور اس کی – «عِلَّةٌ» ایک علت (خفی خرابی) ہے۔
اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ساری زمین مسجد (نماز کی جگہ) ہے سوائے قبرستان اور حمام کے۔“ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور اس میں ایک علت ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 167]
اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ساری زمین مسجد (نماز کی جگہ) ہے سوائے قبرستان اور حمام کے۔“ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور اس میں ایک علت ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 167]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، أبواب الصلاة، باب ما جاء أن الأرض كلها مسجد إلا المقبرة والحمام، حديث:317، وللحديث علة وهي مردودة.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 168
وعن ابن عمر رضي الله عنهما: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم نهى أن يصلى في سبع مواطن: المزبلة والمجزرة والمقبرة وقارعة الطريق والحمام ومعاطن الإبل وفوق ظهر بيت الله تعالى. رواه الترمذي وضعفه.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات مقامات پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے کوڑا کرکٹ (ڈالنے) کی جگہ، ذبح خانہ، قبرستان، شارع عام، حمام، اونٹ باندھنے کی جگہ (باڑا) اور بیت اللہ کی چھت پر۔
ترمذی نے اسے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 168]
ترمذی نے اسے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 168]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «نَهَى» نے منع فرمایا – «أَنْ يُصَلَّى» کہ نماز پڑھی جائے – «فِي سَبْعِ مَوَاطِنَ» سات جگہوں میں: – «الْمَزْبَلَةِ» کوڑا کرکٹ کی جگہ – «وَالْمَجْزَرَةِ» اور ذبح خانہ – «وَالْمَقْبَرَةِ» اور قبرستان – «وَقَارِعَةِ الطَّرِيقِ» اور راستے کا درمیان (گزرگاہ) – «وَالْحَمَّامِ» اور حمام – «وَمَعَاطِنِ الْإِبِلِ» اور اونٹوں کے باڑے – «وَفَوْقَ» اور اوپر – «ظَهْرِ» چھت کے – «بَيْتِ اللَّهِ» اللہ کے گھر کی – «تَعَالَى» جو بلند و برتر ہے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی نے – «وَضَعَّفَهُ» اور اسے ضعیف قرار دیا۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سات جگہوں پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا: کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ، ذبح خانہ، قبرستان، عام گزرگاہ کے درمیان، حمام، اونٹوں کے باڑے اور بیت اللہ (کعبہ) کی چھت کے اوپر۔ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 168]
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سات جگہوں پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا: کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ، ذبح خانہ، قبرستان، عام گزرگاہ کے درمیان، حمام، اونٹوں کے باڑے اور بیت اللہ (کعبہ) کی چھت کے اوپر۔ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 168]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، أبواب الصلاة، باب ما جاء في كراهية ما يصلي إليه وفيه، حديث:346 وسنده ضعيف، وله شاهد ضعيف عند ابن ماجه، الصلاة، حديث:747.»
الحكم على الحديث:
ضعيف