🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب شــروط الصلاة
شرائط نماز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 169
وعن أبي مرثد الغنوي قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول: «‏‏‏‏لا تصلوا إلى القبور ولا تجلسوا عليها» ‏‏‏‏ رواه مسلم.
سیدنا ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ”قبروں کو سامنے (رکھ کر، قبروں کی طرف رخ کر کے) نماز نہ پڑھو اور نہ ان پر بیٹھو۔ “ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 169]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ» ابو مرثد غنوی – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «سَمِعْتُ» میں نے سنا – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول کو – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَقُولُ» فرماتے ہوئے: – «لَا تُصَلُّوا» نماز نہ پڑھو – «إِلَى الْقُبُورِ» قبروں کی طرف (رخ کر کے) – «وَلَا تَجْلِسُوا» اور نہ بیٹھو – «عَلَيْهَا» ان پر۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا ابو مرثد غنوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”قبروں کی طرف (رخ کر کے) نماز نہ پڑھو اور نہ ان پر بیٹھو۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 169]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الجنائز، باب النهي عن الجلوس علي القبر والصلاة عليه، حديث:972.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 170
وعن أبي سعيد رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إذا جاء أحدكم المسجد فلينظر فإن رأى في نعليه أذى أو قذرا فليمسحه وليصل فيهما» .‏‏‏‏ أخرجه أبو داود. وصححه ابن خزيمة.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”تم میں سے جب کوئی مسجد میں آئے تو (مسجد میں داخل ہونے سے پہلے) اسے چائیے کہ (اپنی جوتی) دیکھ لے۔ اگر اپنی جوتی میں گندگی یا ناپاک چیز لگی ہوئی دیکھے تو اسے چائیے کہ اسے صاف کرے اور اس میں نماز پڑھ لے۔ “
ابوداؤد نے اس کی روایت کی ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 170]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي سَعِيدٍ» ابو سعید – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِذَا جَاءَ» جب آئے – «أَحَدُكُمُ» تم میں سے کوئی – «الْمَسْجِدَ» مسجد میں – «فَلْيَنْظُرْ» تو اسے چاہیے کہ دیکھ لے – «فَإِنْ رَأَى» پس اگر وہ دیکھے – «فِي نَعْلَيْهِ» اپنے دونوں جوتوں میں – «أَذًى» کوئی تکلیف دہ چیز – «أَوْ قَذَرًا» یا گندگی – «فَلْيَمْسَحْهُ» تو اسے پونچھ (رگڑ) دے – «وَلْيُصَلِّ» اور نماز پڑھے – «فِيهِمَا» ان دونوں میں۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح قرار دیا – «ابْنُ خُزَيْمَةَ» ابن خزیمہ نے۔
اور سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو (اپنے جوتے) دیکھ لے، اگر اپنے جوتوں میں کوئی تکلیف دہ چیز یا گندگی دیکھے تو اسے (زمین پر) رگڑ کر صاف کر لے اور ان میں نماز پڑھ لے۔“ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 170]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب الصلاة في النعل، حديث:650، وابن خزيمة، حديث:1017، وابن حبان(الموارد)، حديث:360، والحاكم:1 /260 وصححه علي شرط مسلم، ووافقه الذهبي.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 171
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إذا وطىء أحدكم الأذى بخفيه فطهورهما التراب» ‏‏‏‏. أخرجه أبو داود وصححه ابن حبان.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”تم میں سے کوئی ایک جب اپنے موزوں سے گندگی پر چلے تو بیشک مٹی اسے پاک و صاف کرنے والی ہے۔ “
ابوداؤد نے اسے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 171]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِذَا وَطِئَ» جب روندے – «أَحَدُكُمُ» تم میں سے کوئی – «الْأَذَى» گندگی کو – «بِخُفَّيْهِ» اپنے دونوں موزوں سے – «فَطَهُورُهُمَا» تو ان دونوں کو پاک کرنے والی – «التُّرَابُ» مٹی ہے۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح قرار دیا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے موزوں سے گندگی کو روند دے تو ان دونوں کو پاک کرنے والی مٹی ہے۔“ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 171]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب الأذي يصيب النعل، حديث:385 وسنده ضعيف، 386 وسنده ضعيف، 387 وسنده ضعيف، وابن حبان (ابن بلبان): 4 /1403، 1404، وابن خزيمة:1 /148، حديث: 292، والحاكم: 1 /166.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 172
وعن معاوية بن الحكم رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إن هذه الصلاة لا يصلح فيها شيء من كلام الناس،‏‏‏‏ إنما هو التسبيح والتكبير وقراءة القرآن» .‏‏‏‏ رواه مسلم.
سیدنا معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”نماز میں انسانی گفتگو کی کوئی گنجائش نہیں، نماز تو صرف تسبیح «سبحان الله» تکبیر «الله اكبر» اور تلاوت قرآن (پر مشتمل) ہے۔ “ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 172]
«وَعَنْ» اور سے – «مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ» معاویہ بن حکم – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِنَّ» بے شک – «هَذِهِ الصَّلَاةَ» یہ نماز – «لَا يَصْلُحُ» درست نہیں – «فِيهَا» اس میں – «شَيْءٌ» کوئی چیز – «مِنْ كَلَامِ النَّاسِ» لوگوں کی بات چیت میں سے – «إِنَّمَا هُوَ» یہ تو صرف – «التَّسْبِيحُ» تسبیح – «وَالتَّكْبِيرُ» اور تکبیر – «وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ» اور قرآن کی قراءت ہے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اس نماز میں لوگوں کی بات چیت میں سے کچھ بھی درست نہیں، یہ تو بس تسبیح، تکبیر اور قرآن کی قراءت ہے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 172]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، المساجد، باب تحريم الكلام في الصلاة ونسخ ما كان من إباحته، حديث:537.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 173
وعن زيد بن أرقم أنه قال: إن كنا لنتكلم في الصلاة على عهد رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يكلم أحدنا صاحبه بحاجته حتى نزلت (حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وقوموا لله قانتين) فأمرنا بالسكوت ونهينا عن الكلام. متفق عليه،‏‏‏‏ واللفظ لمسلم.
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ عہدرسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں دوران نماز ہم ایک دوسرے سے بات چیت کر لیا کرتے اور اپنی ضرورت و حاجت ایک دوسرے سے بیان کر دیتے تھے تاآنکہ «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وقوموا لله قانتين» آیت نازل ہوئی تو ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور نماز میں گفتگو اور کلام کرنے سے منع کر دیا گیا۔ (بخاری و مسلم) اور یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 173]
«وَعَنْ» اور سے – «زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ» زید بن ارقم – «أَنَّهُ قَالَ» کہ انہوں نے کہا: – «إِنْ كُنَّا لَنَتَكَلَّمُ» یقیناً ہم بات چیت کر لیا کرتے تھے – «فِي الصَّلَاةِ» نماز میں – «عَلَى عَهْدِ» زمانے میں – «رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يُكَلِّمُ» بات کر لیتا – «أَحَدُنَا» ہم میں سے کوئی – «صَاحِبَهُ» اپنے ساتھی سے – «بِحَاجَتِهِ» اپنی ضرورت کے بارے میں – «حَتَّى نَزَلَتْ» یہاں تک کہ (یہ آیت) نازل ہوئی: – «حَافِظُوا» حفاظت کرو – «عَلَى الصَّلَوَاتِ» نمازوں کی – «وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى» اور درمیانی نماز کی – «وَقُومُوا» اور کھڑے ہو – «لِلَّهِ» اللہ کے لیے – «قَانِتِينَ» خاموشی و عاجزی سے – «فَأُمِرْنَا» تو ہمیں حکم دیا گیا – «بِالسُّكُوتِ» خاموش رہنے کا – «وَنُهِينَا» اور ہمیں منع کر دیا گیا – «عَنِ الْكَلَامِ» بات چیت سے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے – «وَاللَّفْظُ» اور الفاظ – «لِمُسْلِمٍ» مسلم کے ہیں۔
اور سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ہم نماز میں بات چیت کر لیا کرتے تھے، ہم میں سے کوئی اپنے ساتھی سے اپنی ضرورت کی بات کر لیتا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ”نمازوں کی حفاظت کرو اور (خاص طور پر) درمیانی نماز کی، اور اللہ کے لیے خاموشی و عاجزی سے کھڑے ہو۔“ (البقرۃ: 238) تو ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور بات چیت سے روک دیا گیا۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ مسلم کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 173]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، العمل في الصلاة، باب ما ينهي من الكلام في الصلاة، حديث:1200، ومسلم، المساجد، باب تحريم الكلام في الصلاة ونسخ ما كان من إباحته، حديث:539.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 174
وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «التسبيح للرجال والتصفيق للنساء» .‏‏‏‏ متفق عليه زاد مسلم:«‏‏‏‏في الصلاة» .‏‏‏‏
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”(نماز میں ضرورت کے وقت) مردوں کیلئے تسبیح ( «سبحان الله» کہہ کر امام کو مطلع کرنا) اور عورتوں کیلئے تالی بجانا ہے۔ “ بخاری و مسلم نے اسے روایت کیا ہے اور مسلم نے «في الصلاة» یعنی نماز میں کا اضافہ کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 174]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «التَّسْبِيحُ» سبحان اللہ کہنا – «لِلرِّجَالِ» مردوں کے لیے ہے – «وَالتَّصْفِيقُ» اور ہاتھ پر ہاتھ مارنا – «لِلنِّسَاءِ» عورتوں کے لیے ہے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے – «زَادَ» اضافہ کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے: – «فِي الصَّلَاةِ» نماز میں۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”(امام کو متنبہ کرنے کے لیے) سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے اور ہاتھ پر ہاتھ مارنا عورتوں کے لیے ہے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ مسلم نے ”نماز میں“ کے الفاظ کا اضافہ کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 174]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، العمل في الصلاة، باب التصفيق للنساء، حديث:1203، ومسلم، الصلاة، باب تسبيح الرجل وتصفيق المرأة إذا نابهما شيء في الصلاة، حديث:422.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 175
وعن مطرف بن عبد الله بن الشخير عن أبيه قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يصلي وفي صدره أزيز كأزيز المرجل من البكاء. أخرجه الخمسة إلا ابن ماجه وصححه ابن حبان.
سیدنا مطرف اپنے باپ عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا ہے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک سے گریہ و زاری کی وجہ سے ایسی آواز آ رہی تھی جیسے جوش کھاتی ہوئی ہنڈیا (سے آواز آتی) ہے۔
اسے احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 175]
«وَعَنْ» اور سے – «مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ» مطرف بن عبداللہ بن شخیر – «عَنْ أَبِيهِ» اپنے والد سے – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «رَأَيْتُ» میں نے دیکھا – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول کو – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يُصَلِّي» (کہ آپ) نماز پڑھ رہے تھے – «وَفِي صَدْرِهِ» اور آپ کے سینے میں – «أَزِيزٌ» جوش کی آواز تھی – «كَأَزِيزِ» جیسے جوش کی آواز – «الْمِرْجَلِ» ہانڈی (کے ابلنے) کی – «مِنَ الْبُكَاءِ» رونے کی وجہ سے۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «الْخَمْسَةُ» پانچوں (ائمہ) نے – «إِلَّا» سوائے – «ابْنَ مَاجَهْ» ابن ماجہ کے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح قرار دیا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے۔
اور مطرف بن عبداللہ بن شخیر اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا اور رونے کی وجہ سے آپ کے سینے سے ایسی آواز آ رہی تھی جیسے ابلتی ہانڈی کی آواز ہوتی ہے۔ اسے ابن ماجہ کے سوا پانچوں (احمد، ابو داود، ترمذی، نسائی) نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 175]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب البكاء في الصلاة، حديث:904، والترمذي في الشمائل:315 والنسائي، الصلاة، حديث:1215، وأحمد:4 /25، وابن حبان (الإحسان):2 /66، حديث:750.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 176
وعن علي قال: كان لي من رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم مدخلان فكنت إذا أتيته وهو يصلي تنحنح لي.رواه النسائي وابن ماجه.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے میرے دو اوقات تھے جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا فرما رہے ہوتے تو مجھے مطلع کرنے کے لیے کھنکار دیتے۔ (نسائی، ابن ماجہ) [بلوغ المرام/حدیث: 176]
«وَعَنْ» اور سے – «عَلِيٍّ» علی – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «كَانَ لِي» میرے لیے تھے – «مِنْ رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے پاس – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مَدْخَلَانِ» حاضر ہونے کے دو اوقات – «فَكُنْتُ» پس میں (جب) – «إِذَا أَتَيْتُهُ» جب ان کے پاس آتا – «وَهُوَ يُصَلِّي» درحالیکہ آپ نماز پڑھ رہے ہوتے – «تَنَحْنَحَ لِي» تو آپ میرے لیے کھنکار دیتے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «النَّسَائِيُّ» نسائی – «وَابْنُ مَاجَهْ» اور ابن ماجہ نے۔
اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس میرے حاضر ہونے کے دو اوقات مقرر تھے، جب میں آپ کے پاس آتا اور آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تو آپ (اجازت کے اشارے کے طور پر) میرے لیے کھنکار دیتے۔ اسے نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 176]
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي، السهو، باب التنحنح في الصلاة، حديث:1212، وابن ماجه، الأدب، حديث:3708.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 177
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قلت لبلال: كيف رأيت النبي صلى الله عليه وآله وسلم يرد عليهم حين يسلمون عليه وهو يصلي؟ قال: يقول هكذا وبسط كفه. أخرجه أبو داود والترمذي وصححه.
سیدنا (عبداللہ) ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ نماز پڑھتے وقت جب لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو کیسے جواب دیتے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس طرح کرتے اور اپنا ہاتھ پھیلایا۔
اسے ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 177]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قُلْتُ» میں نے کہا – «لِبِلَالٍ» بلال سے: – «كَيْفَ رَأَيْتَ» آپ نے کیسے دیکھا – «النَّبِيَّ» نبی کو – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَرُدُّ عَلَيْهِمْ» انہیں جواب دیتے ہوئے – «حِينَ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ» جب وہ آپ کو سلام کرتے – «وَهُوَ يُصَلِّي» درحالیکہ آپ نماز پڑھ رہے ہوتے؟ – «قَالَ» انہوں نے کہا: – «يَقُولُ هَكَذَا» آپ اس طرح کرتے – «وَبَسَطَ» اور (بلال نے) پھیلا دی – «كَفَّهُ» اپنی ہتھیلی۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود – «وَالتِّرْمِذِيُّ» اور ترمذی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور (ترمذی نے) اسے صحیح قرار دیا۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: جب لوگ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کرتے اور آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تو آپ نے انہیں کس طرح جواب دیتے دیکھا؟ انہوں نے کہا: آپ اس طرح کرتے تھے، اور انہوں نے اپنی ہتھیلی پھیلا دی۔ اسے ابو داود اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 177]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب رد السلام في الصلاة، حديث:927، والترمذي، الصلاة، حديث:368.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 178
وعن أبي قتادة رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يصلي وهو حامل أمامة بنت زينب فإذا سجد وضعها،‏‏‏‏ وإذا قام حملها. متفق عليه. ولمسلم: وهو يؤم الناس في المسجد.
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھاتے ہوئے (اپنی نواسی) امامہ بنت زینب رضی اللہ عنہا کو گود میں لیے رہتے، جب سجدہ میں جاتے تو اسے گود سے نیچے اتار دیتے اور سجدہ کر کے کھڑے ہوتے تو اسے (دوبارہ) گود میں اٹھا لیتے۔ (بخاری و مسلم) مسلم میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھاتے ہوئے یہ عمل کرتے تھے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 178]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي قَتَادَةَ» ابو قتادہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يُصَلِّي» نماز پڑھ رہے تھے – «وَهُوَ حَامِلٌ» درحالیکہ آپ اٹھائے ہوئے تھے – «أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ» امامہ بنت زینب کو – «فَإِذَا سَجَدَ» پس جب سجدہ کرتے – «وَضَعَهَا» اسے (نیچے) رکھ دیتے – «وَإِذَا قَامَ» اور جب کھڑے ہوتے – «حَمَلَهَا» اسے اٹھا لیتے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَلِمُسْلِمٍ» اور مسلم کی روایت میں ہے: – «وَهُوَ يَؤُمُّ» درحالیکہ آپ امامت کرا رہے تھے – «النَّاسَ» لوگوں کی – «فِي الْمَسْجِدِ» مسجد میں۔
اور سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اپنی نواسی) امامہ بنت زینب کو اٹھائے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے، جب سجدہ کرتے تو اسے نیچے رکھ دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو اسے اٹھا لیتے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے: اور آپ مسجد میں لوگوں کی امامت کرا رہے تھے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 178]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الصلاة، باب إذا حمل جارية صغيرة علي عنقه في الصلاة، حديث:516، ومسلم، المساجد، باب جواز حمل الصبيان في الصلاة...، حديث:543.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں