🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب الحث على الخشوع في الصلاة
نماز میں خشوع و خضوع کی ترغیب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 189
وعن أبي ذر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إذا قام أحدكم في الصلاة فلا يمسح الحصى،‏‏‏‏ فإن الرحمة تواجهه» . رواه الخمسة بإسناد صحيح،‏‏‏‏ وزاد أحمد:«‏‏‏‏واحدة أو دع» .‏‏‏‏ وفي الصحيح عن معيقيب نحوه بغير تعليل.
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” جب تم میں سے کوئی شخص نماز ادا کر رہا ہو تو (سجدہ گاہ) سے سنگریزوں (کنکریوں) کو اپنے ہاتھ سے نہ ہٹائے۔ کیونکہ (اس وقت) رحمت خداوندی نمازی کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔“
اسے پانچوں یعنی احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ مسند احمد میں اتنا اضافہ ہے کہ (اگر کنکریاں ہٹانا ہی ہیں تو) ” ایک مرتبہ ہٹا دو یا چھوڑ دو۔ “ اور صحیح بخاری میں یہی روایت معیقیب سے مروی ہے اس میں سبب کا بیان نہیں ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 189]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي ذَرٍّ» ابو ذر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِذَا قَامَ» جب کھڑا ہو – «أَحَدُكُمْ» تم میں سے کوئی – «فِي الصَّلَاةِ» نماز میں – «فَلَا يَمْسَحِ» تو نہ ہٹائے (برابر کرے) – «الْحَصَى» کنکریوں کو – «فَإِنَّ الرَّحْمَةَ» کیونکہ رحمت – «تُوَاجِهُهُ» اس کے سامنے ہوتی ہے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْخَمْسَةُ» پانچوں (ائمہ) نے – «بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ» صحیح سند کے ساتھ – «وَزَادَ» اور اضافہ کیا – «أَحْمَدُ» احمد نے: – «وَاحِدَةً» ایک بار – «أَوْ دَعْ» یا چھوڑ دے۔ – «وَفِي الصَّحِيحِ» اور صحیح (بخاری و مسلم) میں ہے – «عَنْ مُعَيْقِيبٍ» معیقیب سے – «نَحْوُهُ» اسی طرح – «بِغَيْرِ تَعْلِيلٍ» وجہ بیان کیے بغیر۔
اور سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز میں کھڑا ہو تو کنکریوں کو نہ ہٹائے، کیونکہ رحمت اس کے سامنے ہوتی ہے۔“ اسے پانچوں (احمد، ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ) نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے، اور احمد نے یہ اضافہ کیا ہے: ”ایک بار (ہٹا لے) یا (بالکل) چھوڑ دے۔“ اور صحیح میں سیدنا معیقیب رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت ہے مگر وجہ بیان کیے بغیر۔ [بلوغ المرام/حدیث: 189]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب في مسح الحصي في الصلاة، حديث:945، والترمذي، الصلاة، حديث:379، والنسائي، الصلاة، حديث:1192، وابن ماجه، الصلاة، حديث:1027، وأحمد:5 /150، وحديث معيقيب أخرجه البخاري، العمل في الصلاة، حديث: 1207، ومسلم، الصلاة، حديث:546.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 190
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: سألت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن الالتفات في الصلاة؟ فقال:«هو اختلاس يختلسه الشيطان من صلاة العبد» .‏‏‏‏ رواه البخاري. وللترمذي وصححه: «‏‏‏‏إياك والالتفات في الصلاة،‏‏‏‏ فإنه هلكة،‏‏‏‏ فإن كان لا بد ففي التطوع» .‏‏‏‏
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آنکھوں کے گوشوں سے نماز کے دوران ادھر ادھر دیکھنے کے بارے میں دریافت کیا۔ ارشاد فرمایا ” یہ تو شیطان کا جھپٹا ہے جس کے ذریعہ شیطان انسان کی نماز کو جھپٹ لیتا ہے۔“ (بخاری) ترمذی کی حدیث، جسے انہوں نے صحیح قرار دیا ہے میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” نماز میں التفات (ادھر ادھر نظر دوڑانے) سے بچنے کی کوشش کرو یہ موجب ہلاکت ہے۔ اگر شدید اور ناگزیر مجبوری لاحق ہو تو نوافل میں ایسا کیا جا سکتا ہے۔ “ [بلوغ المرام/حدیث: 190]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «سَأَلْتُ» میں نے پوچھا – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «عَنِ الِالْتِفَاتِ» ادھر ادھر دیکھنے کے بارے میں – «فِي الصَّلَاةِ» نماز میں – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «هُوَ اخْتِلَاسٌ» یہ ایک جھپٹ (اچک لینا) ہے – «يَخْتَلِسُهُ» جسے اچک لیتا ہے – «الشَّيْطَانُ» شیطان – «مِنْ صَلَاةِ الْعَبْدِ» بندے کی نماز سے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔ – «وَلِلتِّرْمِذِيِّ» اور ترمذی کی روایت ہے – «وَصَحَّحَهُ» اور انہوں نے اسے صحیح قرار دیا: – «إِيَّاكَ» بچو – «وَالِالْتِفَاتَ» ادھر ادھر دیکھنے سے – «فِي الصَّلَاةِ» نماز میں – «فَإِنَّهُ هَلَكَةٌ» کیونکہ یہ ہلاکت ہے – «فَإِنْ كَانَ» پس اگر ہو – «لَا بُدَّ» ضروری ہی – «فَفِي التَّطَوُّعِ» تو نفل (نماز) میں۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”یہ ایک جھپٹ ہے جس کے ذریعے شیطان بندے کی نماز میں سے (کچھ) اچک لیتا ہے۔“ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ اور ترمذی کی روایت میں ہے اور انہوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے: ”نماز میں ادھر ادھر دیکھنے سے بچو، کیونکہ یہ ہلاکت ہے، اگر ضروری ہی ہو تو نفل (نماز) میں۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 190]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، با الا لتفات في الصلاة، حديث: 751، وحديث أنس أخرجه الترمذي، الجمعة، حديث:589.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 191
وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إذا كان أحدكم في الصلاة فإنه يناجي ربه فلا يبصقن بين يديه ولا عن يمينه،‏‏‏‏ ولكن عن شماله تحت قدمه» .‏‏‏‏ متفق عليه. وفي رواية: «‏‏‏‏أو تحت قدمه» .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب تم میں سے کوئی نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے پروردگار سے باتیں کر رہا ہوتا ہے (لہذا ایسی حالت میں) اپنے سامنے کی طرف اور دائیں جانب نہ تھوکے بلکہ اپنی بائیں جانب پاؤں کے نیچے (تھوکے)۔ “ (بخاری و مسلم) اور ایک روایت میں ہے کہ بائیں طرف یا اپنے پاؤں کے نیچے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 191]
«وَعَنْ» اور سے – «أَنَسٍ» انس – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِذَا كَانَ» جب ہو – «أَحَدُكُمْ» تم میں سے کوئی – «فِي الصَّلَاةِ» نماز میں – «فَإِنَّهُ» تو بے شک وہ – «يُنَاجِي» سرگوشی کرتا ہے – «رَبَّهُ» اپنے رب سے – «فَلَا يَبْصُقَنَّ» پس ہرگز نہ تھوکے – «بَيْنَ يَدَيْهِ» اپنے سامنے – «وَلَا عَنْ يَمِينِهِ» اور نہ اپنی دائیں جانب – «وَلَكِنْ» لیکن – «عَنْ شِمَالِهِ» اپنی بائیں جانب – «تَحْتَ قَدَمِهِ» اپنے قدم کے نیچے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَفِي رِوَايَةٍ» اور ایک روایت میں ہے: – «أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ» یا اپنے قدم کے نیچے۔
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کر رہا ہوتا ہے، لہٰذا وہ ہرگز نہ اپنے سامنے تھوکے اور نہ اپنی دائیں جانب، بلکہ اپنی بائیں جانب اپنے قدم کے نیچے (تھوکے)۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور ایک روایت میں ہے: ”یا اپنے قدم کے نیچے۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 191]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الصلاة، باب ليبصق عن يساره أو تحت قدمه اليسرٰي، حديث:413، ومسلم، المساجد، باب النهي عن البصاق في المسجد...، حديث:551.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 192
وعنه قال: كان قرام لعائشة رضي الله عنها،‏‏‏‏ سترت به جانب بيتها،‏‏‏‏ فقال لها النبي صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏أميطي عنا قرامك هذا،‏‏‏‏ فإنه لا تزال تصاويره تعرض لي في صلاتي» .‏‏‏‏ رواه البخاري. واتفقا على حديثها في قصة أنبجانية أبي جهم وفيه: «‏‏‏‏فإنها ألهتني عن صلاتي» .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک زیبائشی چادر (برائے پردہ) تھی جو انہوں نے اپنے حجرے کے ایک طرف لٹکا رکھی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ” زیبائشی چادر کو میرے سامنے سے ہٹا دو کیونکہ اس کی تصویریں میری نماز میں میرے سامنے آتی ہیں (نماز میں خلل اندازی کا باعث بنتی ہیں)۔ “ بخاری اور مسلم دونوں ابوجہم کی چادر انبجانیہ کے قصہ پر متفق ہیں اس میں ہے کہ ” اس چادر نے مجھے میری نماز سے غافل کر دیا۔ “ [بلوغ المرام/حدیث: 192]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «كَانَ» تھا – «قِرَامٌ» ایک باریک نقش دار پردہ – «لِعَائِشَةَ» عائشہ کا – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «سَتَرَتْ بِهِ» انہوں نے اس سے ڈھانپ رکھا تھا – «جَانِبَ بَيْتِهَا» اپنے گھر کا ایک کونا – «فَقَالَ لَهَا» تو ان سے فرمایا – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَمِيطِي» ہٹا دو – «عَنَّا» ہم سے – «قِرَامَكِ هَذَا» اپنا یہ پردہ – «فَإِنَّهُ» کیونکہ بے شک – «لَا تَزَالُ» مسلسل – «تَصَاوِيرُهُ» اس کی تصویریں – «تَعْرِضُ لِي» میرے سامنے آتی رہتی ہیں – «فِي صَلَاتِي» میری نماز میں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔ – «وَاتَّفَقَا» اور دونوں (بخاری و مسلم) نے اتفاق کیا – «عَلَى حَدِيثِهَا» ان (عائشہ) کی حدیث پر – «فِي قِصَّةِ» واقعے میں – «أَنْبِجَانِيَّةِ» انبجانی چادر کے – «أَبِي جَهْمٍ» ابو جہم کی – «وَفِيهِ» اور اس میں ہے: – «فَإِنَّهَا» کیونکہ اس (چادر) نے – «أَلْهَتْنِي» مجھے غافل کر دیا – «عَنْ صَلَاتِي» میری نماز سے۔
اور انہی (سیدنا انس رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ایک باریک نقش دار پردہ تھا جس سے انہوں نے اپنے گھر کا ایک حصہ ڈھانپ رکھا تھا، تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اپنا یہ پردہ ہمارے سامنے سے ہٹا دو، کیونکہ اس کی تصویریں نماز میں مسلسل میرے سامنے آتی رہتی ہیں۔“ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ اور بخاری و مسلم دونوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ابو جہم کی انبجانی چادر کے قصے والی حدیث پر اتفاق کیا ہے، اور اس میں ہے: ”کیونکہ اس (چادر) نے مجھے میری نماز سے غافل کر دیا۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 192]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الصلاة، باب إذا صلي في ثوب مصلب أو تصاوير...، حديث:374، وحديث أنبجانية أبي جهم أخرجه البخاري، الصلاة، حديث: 373، ومسلم، المساجد، حديث:556.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 193
وعن جابر بن سمرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لينتهين أقوام يرفعون أبصارهم إلى السماء في الصلاة،‏‏‏‏ أو لا ترجع إليهم» .‏‏‏‏ رواه مسلم. وله عن عائشة رضي الله عنها قالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول: «‏‏‏‏لا صلاة بحضرة طعام ولا هو يدافعه الأخبثان» .‏‏‏‏
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مسلمان قوم نماز میں اپنی نظریں آسمان کی جانب اٹھانے سے باز آ جائے ورنہ ایسا نہ ہو کہ پھر ان کی نظریں واپس ہی نہ آئیں (یعنی نابینا ہو جائیں)۔ “ (مسلم) اور مسلم ہی میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ” جب کھانا حاضر ہو اور قضائے حاجت پیش ہو تو نماز نہیں ہوتی۔ “ [بلوغ المرام/حدیث: 193]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ» جابر بن سمرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَيَنْتَهِيَنَّ» ضرور باز آ جائیں – «أَقْوَامٌ» کچھ لوگ – «يَرْفَعُونَ» جو اٹھاتے ہیں – «أَبْصَارَهُمْ» اپنی نگاہیں – «إِلَى السَّمَاءِ» آسمان کی طرف – «فِي الصَّلَاةِ» نماز میں – «أَوْ لَا تَرْجِعُ» یا نہیں لوٹیں گی – «إِلَيْهِمْ» ان کی طرف۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔ – «وَلَهُ» اور ان (مسلم) کی روایت ہے – «عَنْ عَائِشَةَ» عائشہ سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «سَمِعْتُ» میں نے سنا – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول کو – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَقُولُ» فرماتے ہوئے: – «لَا صَلَاةَ» کوئی نماز نہیں – «بِحَضْرَةِ طَعَامٍ» کھانا حاضر ہونے کی حالت میں – «وَلَا هُوَ» اور نہ (اس حالت میں کہ) وہ – «يُدَافِعُهُ» اسے دبا رہے ہوں – «الْأَخْبَثَانِ» دو ناپاک چیزیں (پیشاب و پاخانہ)۔
اور سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگ نماز میں اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں وہ ضرور باز آ جائیں، ورنہ ان کی نگاہیں ان کی طرف واپس نہیں لوٹیں گی۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور مسلم ہی میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”کھانا حاضر ہو تو نماز نہیں، اور نہ اس حالت میں (نماز ہے) جب پیشاب اور پاخانہ اسے دبا رہے ہوں۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 193]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الصلاة، باب النهي عن رفع البصر إلي السماء في الصلاة، حديث:428، وحديث عائشة أخرجه مسلم، المساجد، حديث:560.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 194
وعن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «التثاؤب من الشيطان،‏‏‏‏ فإذا تثاءب أحدكم فليكظم ما استطاع» .‏‏‏‏ رواه مسلم والترمذي،‏‏‏‏ وزاد: «‏‏‏‏في الصلاة» .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جمائی کا آنا شیطانی حرکت ہے۔ تم سے اگر کسی کو جمائی آ جائے تو حتیٰ الوسع اسے روکنے کی کوشش کرے۔ “ (مسلم و ترمذی) ترمذی نے اپنی روایت میں، نماز میں، کا اضافہ نقل کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 194]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «التَّثَاؤُبُ» جمائی – «مِنَ الشَّيْطَانِ» شیطان کی طرف سے ہے – «فَإِذَا تَثَاءَبَ» پس جب جمائی لے – «أَحَدُكُمْ» تم میں سے کوئی – «فَلْيَكْظِمْ» تو اسے روکے – «مَا اسْتَطَاعَ» جتنا ہو سکے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم – «وَالتِّرْمِذِيُّ» اور ترمذی نے – «وَزَادَ» اور (ترمذی نے) اضافہ کیا: – «فِي الصَّلَاةِ» نماز میں۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جمائی شیطان کی طرف سے ہے، لہٰذا جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو جہاں تک ہو سکے اسے روکے۔“ اسے مسلم اور ترمذی نے روایت کیا ہے، اور ترمذی نے ”نماز میں“ کا اضافہ کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 194]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الزهد، باب تشميت العاطس، وكراهة التثاؤب، حديث:2954 والترمذي، الصلاة، حديث:370.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. باب المساجد
مساجد کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 195
عن عائشة رضي الله عنها قالت: أمر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ببناء المساجد في الدور،‏‏‏‏ وأن تنظف وتطيب. رواه أحمد وأبو داود والترمذي،‏‏‏‏ وصحح إرساله.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں جائے نماز متعین کرنے اور ان کو صاف ستھرا رکھنے کا حکم دیا تھا۔
اسے احمد، ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اس کے مرسل ہونے کو صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 195]
«عَنْ» سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «أَمَرَ» حکم دیا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «بِبِنَاءِ» بنانے کا – «الْمَسَاجِدِ» مسجدوں کو – «فِي الدُّورِ» محلوں میں – «وَأَنْ تُنَظَّفَ» اور یہ کہ انہیں صاف رکھا جائے – «وَتُطَيَّبَ» اور خوشبو دار رکھا جائے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود – «وَالتِّرْمِذِيُّ» اور ترمذی نے – «وَصَحَّحَ» اور (ترمذی نے) صحیح قرار دیا – «إِرْسَالَهُ» اس کے مرسل ہونے کو۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محلوں میں مسجدیں بنانے اور انہیں صاف ستھرا اور خوشبو دار رکھنے کا حکم دیا۔ اسے احمد، ابو داود اور ترمذی نے روایت کیا ہے، اور ترمذی نے اس کے مرسل ہونے کو صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 195]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب اتخاذ المساجد في الدور، حديث:455، والترمذي، الجمعة، حديث:594، 595، وأحمد:5 /17، 371، 6 /269.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 196
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏قاتل الله اليهود اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد» .‏‏‏‏ متفق عليه،‏‏‏‏ وزاد مسلم: «‏‏‏‏والنصارى» .‏‏‏‏ولهما من حديث عائشة رضي الله عنها: «‏‏‏‏كانوا إذا مات فيهم الرجل الصالح بنوا على قبره مسجدا» .‏‏‏‏ وفيه: «‏‏‏‏أولئك شرار الخلق» .‏‏‏‏
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ یہودیوں کو غارت و برباد کرے انہوں نے انبیاء کرام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا۔ “
اسے بخاری و مسلم دونوں نے روایت کیا ہے اور مسلم نے نصاریٰ کے لفظ کا اضافہ بھی نقل کیا ہے۔ بخاری و مسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ” جب ان میں صالح آدمی فوت ہو جاتا ہے تو یہ اس کی قبر کو سجدہ گاہ بنا لیتے۔ “ اس حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ” یہ بدترین مخلوق ہیں۔ “ [بلوغ المرام/حدیث: 196]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَاتَلَ اللَّهُ» اللہ ہلاک کرے – «الْيَهُودَ» یہودیوں کو – «اتَّخَذُوا» انہوں نے بنا لیا – «قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ» اپنے انبیاء کی قبروں کو – «مَسَاجِدَ» سجدہ گاہیں۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے – «وَزَادَ» اور اضافہ کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے: – «وَالنَّصَارَى» اور عیسائیوں کو۔ – «وَلَهُمَا» اور ان دونوں کی روایت ہے – «مِنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ» عائشہ کی حدیث سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو: – «كَانُوا» وہ (ایسے) تھے کہ – «إِذَا مَاتَ» جب فوت ہو جاتا – «فِيهِمُ» ان میں – «الرَّجُلُ الصَّالِحُ» کوئی نیک آدمی – «بَنَوْا» تو وہ بنا لیتے – «عَلَى قَبْرِهِ» اس کی قبر پر – «مَسْجِدًا» مسجد۔ – «وَفِيهِ» اور اس میں ہے: – «أُولَئِكَ» وہ لوگ – «شِرَارُ الْخَلْقِ» مخلوق میں سب سے بدترین ہیں۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ یہودیوں کو ہلاک کرے، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور مسلم نے ”اور عیسائیوں کو“ کا اضافہ کیا ہے۔ اور بخاری و مسلم دونوں میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے ہے: ”ان کا حال یہ تھا کہ جب ان میں کوئی نیک آدمی فوت ہو جاتا تو وہ اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے۔“ اور اس میں ہے: ”یہ لوگ مخلوق میں سب سے بدترین ہیں۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 196]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الصلاة، باب (55)، حديث:437، ومسلم، المساجد، باب النهي عن بناء المساجد علي القبور...، حديث: 530، وحديث عائشة أخرجه البخاري، الصلاة، حديث:427، ومسلم، المساجد، حديث:528.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 197
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: بعث النبي صلى الله عليه وآله وسلم خيلا فجاءت برجل،‏‏‏‏ فربطوه بسارية من سواري المسجد. الحديث. متفق عليه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مختصر سا دستہ کسی طرف روانہ کیا۔ یہ لوگ ایک (مشرک) مرد کو (گرفتار کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں) لائے اور اس کو مسجد (نبوی) کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا (قید کر دیا)۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 197]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «بَعَثَ» بھیجا – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «خَيْلًا» کچھ سوار دستہ – «فَجَاءَتْ» تو وہ لے آئے – «بِرَجُلٍ» ایک آدمی کو – «فَرَبَطُوهُ» تو انہوں نے اسے باندھ دیا – «بِسَارِيَةٍ» ایک ستون سے – «مِنْ سَوَارِي» ستونوں میں سے – «الْمَسْجِدِ» مسجد کے۔ – «الْحَدِيثَ» (آگے) پوری حدیث۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ سوار (نجد کی طرف) بھیجے، وہ ایک آدمی (ثمامہ بن اثال) کو پکڑ لائے اور انہوں نے اسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا۔ (آگے) پوری حدیث ہے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 197]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الصلاة، باب الاغتسال إذا أسلم، وربط الأسير...، حديث:462، ومسلم، الجهاد والسير، باب ربط الأسير وحبسه وجواز المن عليه، حديث:1764.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 198
وعنه أن عمر رضي الله عنه مر بحسان ينشد في المسجد،‏‏‏‏ فلحظ إليه،‏‏‏‏ فقال: قد كنت أنشد فيه،‏‏‏‏ وفيه من هو خير منك. متفق عليه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی یہ حدیث بھی مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا گزر سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا، وہ مسجد میں اشعار پڑھ رہے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف گھور کر دیکھا (اس پر) سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے کہا (گھورتے کیوں ہیں؟) میں تو اس وقت مسجد میں شعر پڑھا کرتا تھا جب مسجد میں وہ ذات گرامی موجود ہوتی تھی جو آپ سے افضل تھی (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم )۔ (بخاری ومسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 198]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «أَنَّ عُمَرَ» کہ عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «مَرَّ» گزرے – «بِحَسَّانَ» حسان کے پاس سے – «يُنْشِدُ» (جبکہ وہ) شعر پڑھ رہے تھے – «فِي الْمَسْجِدِ» مسجد میں – «فَلَحَظَ إِلَيْهِ» تو (عمر نے) ان کی طرف (ناگواری سے) دیکھا – «فَقَالَ» تو (حسان نے) کہا: – «قَدْ كُنْتُ» یقیناً میں – «أُنْشِدُ فِيهِ» اس میں شعر پڑھا کرتا تھا – «وَفِيهِ» درحالیکہ اس میں – «مَنْ هُوَ» وہ ہستی ہوتی تھی جو – «خَيْرٌ مِنْكَ» تم سے بہتر ہے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور انہی (سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا حسان (بن ثابت) رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے جبکہ وہ مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے، تو سیدنا عمر نے ان کی طرف (ناگواری سے) دیکھا، اس پر انہوں نے کہا: میں اس (مسجد) میں اس وقت بھی شعر پڑھا کرتا تھا جب اس میں وہ ہستی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موجود ہوتی تھی جو آپ سے بہتر ہے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 198]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، بدء الخلق، باب ذكر الملائكة صلوات الله عليهم، حديث:3212، ومسلم، فضائل الصحابة، باب فضائل حسان بن ثابت، حديث:2485.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں