🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب فضله وبيان من فرض عليه
حج کی فضیلت و فرضیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 589
وعنه رضي الله عنه قال: خطبنا رسول صلى الله عليه وآله وسلم فقال: «‏‏‏‏إن الله كتب عليكم الحج» ‏‏‏‏ فقام الأقرع بن حابس فقال: أفي كل عام يا رسول الله؟ قال: «‏‏‏‏لو قلتها لوجبت الحج مرة فما زاد فهو تطوع» .‏‏‏‏ رواه الخمسة غير الترمذي وأصله في مسلم من حديث أبي هريرة.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بیشک اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کیا ہے۔“ اس پر اقرع بن حابس کھڑے ہوئے اور انہوں نے عرض کیا ”کیا ہر سال، اے اللہ کے رسول!؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر میں ہاں کہ دیتا تو یہ (ہر سال کے لیے) فرض ہو جاتا۔ حج ایک بار ہے اور اس سے جو زائد ہے وہ نفل ہے۔“ اسے ترمذی کے علاوہ پانچوں نے روایت کیا ہے اور اس کی اصل مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 589]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «خَطَبَنَا» ہمیں خطبہ دیا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَقَالَ» تو فرمایا: – «إِنَّ اللَّهَ» بے شک اللہ نے – «كَتَبَ» فرض کیا ہے – «عَلَيْكُمُ» تم پر – «الْحَجَّ» حج – «فَقَامَ» تو کھڑے ہوئے – «الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ» اقرع بن حابس – «فَقَالَ» اور کہا: – «أَفِي كُلِّ عَامٍ» کیا ہر سال؟ – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول! – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «لَوْ قُلْتُهَا» اگر میں یہ (ہاں) کہہ دیتا – «لَوَجَبَتْ» تو واجب ہو جاتا – «الْحَجُّ» حج – «مَرَّةً» ایک بار ہے – «فَمَا زَادَ» پس جو زیادہ ہو – «فَهُوَ تَطَوُّعٌ» تو وہ نفل ہے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْخَمْسَةُ» پانچوں نے – «غَيْرَ التِّرْمِذِيِّ» سوائے ترمذی کے – «وَأَصْلُهُ» اور اس کی اصل – «فِي مُسْلِمٍ» مسلم میں ہے – «مِنْ حَدِيثِ» کی حدیث سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ۔
اور انہی (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: ”بے شک اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے۔“ تو سیدنا اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہر سال؟ آپ نے فرمایا: ”اگر میں ہاں کہہ دیتا تو (ہر سال) واجب ہو جاتا۔ حج ایک بار (فرض) ہے، اور جو اس سے زیادہ کرے تو وہ نفل ہے۔“ اسے ترمذی کے سوا پانچوں نے روایت کیا ہے، اور اس کی اصل مسلم میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 589]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، المناسك، باب فرض الحج، حديث:1721، والنسائي، مناسك الحج، حديث:2621، وابن ماجه، المناسك، حديث:2886، وأحمد:1 /371، وأصله في مسلم، الحج، حديث:1337 من حديث أبي هريرة.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. باب لمواقيت
(احرام کے) میقات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 590
عن ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم وقت لأهل المدينة ذا الحليفة ولأهل الشام الجحفة ولأهل نجد قرن المنازل ولأهل اليمن يلملم هن لهم ولمن أتى عليهن من غيرهن ممن أراد الحج والعمرة ومن كان دون ذلك فمن حيث أنشأ حتى أهل مكة من مكة. متفق عليه
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ، شام والوں کے لیے جحفہ، نجد والوں کے لیے قرن منازل اور یمن والوں کے لیے یلملم کو احرام باندھ کر نیت کرنے کی جگہیں مقرر کیا ہے اور یہ میقاتیں ان کے لیے ہیں (جن کا ذکر ہوا) اور ان لوگوں کے لیے بھی، جو دوسرے شہروں سے ان کے پاس سے حج یا عمرہ کے ارادہ سے گزریں اور جو کوئی ان میقاتوں کے ورے (اندر) ہو وہ جہاں سے چلے وہیں سے (احرام باندھے) یہاں تک کہ مکہ والے مکہ سے احرام باندھیں۔ (بخاری ومسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 590]
«عَنِ» سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «وَقَّتَ» نے میقات مقرر کی – «لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ» اہل مدینہ کے لیے – «ذَا الْحُلَيْفَةِ» ذو الحلیفہ – «وَلِأَهْلِ الشَّامِ» اور اہل شام کے لیے – «الْجُحْفَةَ» جحفہ – «وَلِأَهْلِ نَجْدٍ» اور اہل نجد کے لیے – «قَرْنَ الْمَنَازِلِ» قرن المنازل – «وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ» اور اہل یمن کے لیے – «يَلَمْلَمَ» یلملم – «هُنَّ لَهُمْ» یہ (میقات) ان کے لیے ہیں – «وَلِمَنْ أَتَى» اور ان کے لیے جو آئیں – «عَلَيْهِنَّ» ان پر سے – «مِنْ غَيْرِهِنَّ» ان کے علاوہ (علاقوں) سے – «مِمَّنْ أَرَادَ» ان میں سے جو ارادہ کریں – «الْحَجَّ» حج کا – «وَالْعُمْرَةَ» اور عمرہ کا – «وَمَنْ كَانَ» اور جو ہو – «دُونَ ذَلِكَ» اس کے اندر – «فَمِنْ حَيْثُ» تو جہاں سے – «أَنْشَأَ» اس نے (سفر) شروع کیا – «حَتَّى» یہاں تک کہ – «أَهْلُ مَكَّةَ» اہل مکہ – «مِنْ مَكَّةَ» مکہ سے (احرام باندھیں گے)۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مدینہ کے لیے ذو الحلیفہ، اہل شام کے لیے جحفہ، اہل نجد کے لیے قرن المنازل اور اہل یمن کے لیے یلملم کو میقات مقرر فرمایا۔ یہ (میقات) ان (علاقوں کے رہنے والوں) کے لیے ہیں اور ان کے لیے بھی جو دوسرے علاقوں سے ان پر سے گزریں اور حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں۔ اور جو ان (میقاتوں) کے اندر رہتا ہو تو وہ وہیں سے (احرام باندھے) جہاں سے سفر شروع کرے، یہاں تک کہ اہل مکہ، مکہ ہی سے (احرام باندھیں گے)۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 590]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحج، باب مهل أهل مكة اللحج والعمرة، حديث:1524، ومسلم، الحج، باب مواقيت الحج والعمرة، حديث:1181.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 591
وعن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم وقت لأهل العراق ذات عرق. رواه أبو داود والنسائي وأصله عند مسلم من حديث جابر،‏‏‏‏ إلا أن راويه شك في رفعه. وفي صحيح البخاري: أن عمر هو الذي وقت ذات عرق. وعند أحمد وأبي داود والترمذي عن ابن عباس: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم وقت لأهل المشرق العقيق.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل عراق کے لیے ذات عرق کو میقات مقرر کیا۔ اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور اس کی اصل مسلم میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے ہے، مگر اس کے راوی نے اس کے مرفوع ہونے میں شک کیا ہے۔ اور صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ذات عرق کو میقات کیا تھا۔ احمد، ابوداؤد اور ترمذی میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے (مروی) ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق والوں کے لیے عقیق کو میقات مقرر فرمایا تھا۔ [بلوغ المرام/حدیث: 591]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «وَقَّتَ» نے میقات مقرر کی – «لِأَهْلِ الْعِرَاقِ» اہل عراق کے لیے – «ذَاتَ عِرْقٍ» ذات عرق۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَالنَّسَائِيُّ» اور نسائی نے – «وَأَصْلُهُ» اور اس کی اصل – «عِنْدَ مُسْلِمٍ» مسلم کے ہاں ہے – «مِنْ حَدِيثِ» کی حدیث سے – «جَابِرٍ» جابر – «إِلَّا أَنَّ» مگر یہ کہ – «رَاوِيَهُ» اس کے راوی نے – «شَكَّ» شک کیا – «فِي رَفْعِهِ» اس کے مرفوع ہونے میں۔ – «وَفِي صَحِيحِ الْبُخَارِيِّ» اور صحیح بخاری میں ہے: – «أَنَّ عُمَرَ» کہ عمر – «هُوَ الَّذِي» وہی ہیں جنہوں نے – «وَقَّتَ» مقرر کیا – «ذَاتَ عِرْقٍ» ذات عرق کو۔ – «وَعِنْدَ أَحْمَدَ» اور احمد کے ہاں – «وَأَبِي دَاوُدَ» اور ابو داود – «وَالتِّرْمِذِيِّ» اور ترمذی کے ہاں – «عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس سے ہے – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «وَقَّتَ» نے میقات مقرر کی – «لِأَهْلِ الْمَشْرِقِ» اہل مشرق کے لیے – «الْعَقِيقَ» عقیق۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل عراق کے لیے ذات عرق کو میقات مقرر فرمایا۔ اسے ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے، اور اس کی اصل مسلم میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہے، مگر اس کے راوی نے اس کے مرفوع ہونے میں شک کیا ہے۔ اور صحیح بخاری میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہی نے ذات عرق کو (میقات) مقرر کیا تھا۔ اور احمد، ابو داود اور ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مشرق کے لیے عقیق کو میقات مقرر فرمایا۔ [بلوغ المرام/حدیث: 591]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، المناسك، باب في المواقيت، حديث:1739، والنسائي، مناسك الحج، حديث:2657، وأصله من حديث جابر عند مسلم، الحج، حديث:1183، وأثر عمر أخرجه البخاري، الحج، حديث:1531، وحديث ابن عباس أخرجه أبوداود، المناسك، حديث:1740، والترمذي، الحج، حديث:832، وأحمد:1 /344، تفردبه يزيد بن أبي زياد وهو ضعيف ملدس مختلط.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. باب وجوه الإحرام وصفته
احرام کی اقسام اور صفت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 592
عن عائشة رضي الله عنها قالت: خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عام حجة الوداع فمنا من أهل بعمرة ومنا من أهل بحج وعمرة ومنا من أهل بحج وأهل رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم بالحج فأما من أهل بعمرة فحل عند قدومه وأما من أهل بحج أو جمع الحج والعمرة فلم يحلوا حتى كان يوم النحر. متفق عليه.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے سال نکلے۔ ہم میں سے بعض وہ تھے جنہوں نے عمرہ کے لیے تلبیہ کہا اور ہم میں سے کچھ وہ تھے جنہوں نے حج اور عمرہ کے لیے تلبیہ کہا اور ہم میں سے بعض وہ تھے جنہوں حج کے لیے لبیک پکارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کے لیے تلبیہ پکارا۔ پھر جنہوں عمرہ کے لیے لبیک کہا تھا وہ حلال ہو گئے اور جنہوں نے حج کے لیے لبیک کہا تھا یا حج اور عمرہ کو جمع کیا تھا وہ حلال نہ ہوئے یہاں تک کہ قربانی کا دن آیا۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 592]
«عَنْ» سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «خَرَجْنَا» ہم نکلے – «مَعَ رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے ساتھ – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ» حجۃ الوداع کے سال – «فَمِنَّا مَنْ» تو ہم میں سے کوئی وہ تھا جس نے – «أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ» عمرہ کا احرام باندھا – «وَمِنَّا مَنْ» اور ہم میں سے کوئی وہ تھا جس نے – «أَهَلَّ» احرام باندھا – «بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ» حج اور عمرہ کا – «وَمِنَّا مَنْ» اور ہم میں سے کوئی وہ تھا جس نے – «أَهَلَّ بِحَجٍّ» حج کا احرام باندھا – «وَأَهَلَّ» اور احرام باندھا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «بِالْحَجِّ» حج کا – «فَأَمَّا مَنْ» پس رہا وہ جس نے – «أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ» عمرہ کا احرام باندھا – «فَحَلَّ» تو وہ حلال ہو گیا – «عِنْدَ قُدُومِهِ» اپنے (مکہ) پہنچنے پر – «وَأَمَّا مَنْ» اور رہا وہ جس نے – «أَهَلَّ بِحَجٍّ» حج کا احرام باندھا – «أَوْ جَمَعَ» یا جمع کیا – «الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ» حج اور عمرہ کو – «فَلَمْ يَحِلُّوا» تو وہ حلال نہیں ہوئے – «حَتَّى كَانَ» یہاں تک کہ ہو گیا – «يَوْمُ النَّحْرِ» قربانی کا دن۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے، تو ہم میں سے کسی نے عمرہ کا احرام باندھا، کسی نے حج اور عمرہ (دونوں) کا اور کسی نے صرف حج کا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کا احرام باندھا۔ پس جس نے عمرہ کا احرام باندھا تھا وہ (مکہ) پہنچتے ہی (عمرہ کر کے) حلال ہو گیا، اور جنہوں نے حج کا یا حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا وہ قربانی کے دن تک حلال نہیں ہوئے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 592]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحيض، باب كيف تهل الحائض بالحج والعمرة، حديث:319، ومسلم، الحج، باب بيان وجوه الإحرام...، حديث:1211.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. باب الإحرام وما يتعلق به
احرام اور اس کے متعلقہ امور کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 593
عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: ما أهل رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إلا من عند المسجد. متفق عليه.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف مسجد کے پاس لبیک پکارا۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 593]
«عَنِ» سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «مَا أَهَلَّ» احرام (تلبیہ) نہیں باندھا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِلَّا مِنْ عِنْدِ» مگر پاس سے – «الْمَسْجِدِ» مسجد (ذو الحلیفہ) کے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (ذو الحلیفہ کی) مسجد ہی کے پاس سے احرام باندھ کر تلبیہ شروع کیا۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 593]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحج، باب الإهلال عند مسجد ذي الحليفة، حديث:1541، ومسلم، الحج، باب أمر أهل المدينة بالإحرام، حديث:1186.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 594
وعن خلاد بن السائب عن أبيه رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «أتاني جبريل فأمرني أن آمر أصحابي أن يرفعوا أصواتهم بالإهلال» .‏‏‏‏ رواه الخمسة وصححه الترمذي وابن حبان.
خلاد بن سائب اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” جبرائیل امین میرے پاس آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ کو حکم دوں کہ لبیک کہتے ہوئے اپنی آوازوں کو بلند کریں۔ “ اسے پانچوں نے روایت کیا۔ امام ترمذی اور امام ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 594]
«وَعَنْ» اور سے – «خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ» خلاد بن سائب – «عَنْ أَبِيهِ» اپنے والد سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «أَتَانِي» میرے پاس آئے – «جِبْرِيلُ» جبریل – «فَأَمَرَنِي» تو مجھے حکم دیا – «أَنْ آمُرَ» کہ میں حکم دوں – «أَصْحَابِي» اپنے صحابہ کو – «أَنْ يَرْفَعُوا» کہ وہ بلند کریں – «أَصْوَاتَهُمْ» اپنی آوازیں – «بِالْإِهْلَالِ» تلبیہ کے ساتھ۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْخَمْسَةُ» پانچوں نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی نے – «وَابْنُ حِبَّانَ» اور ابن حبان نے۔
اور خلاد بن سائب اپنے والد (سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبریل (علیہ السلام) آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ کو حکم دوں کہ وہ تلبیہ کہتے ہوئے اپنی آوازیں بلند کریں۔“ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 594]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، المناسك، باب كيف التلبية، حديث:1814، والترمذي، الحج، حديث:829، والنسائي، مناسك الحج، حديث:2854، وابن ماجه، المناسك، حديث:2922، 2923، وأحمد:4 /55، وابن حبان(الإحسان):6 /42.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 595
وعن زيد بن ثابت رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم تجرد لإهلاله واغتسل. رواه الترمذي وحسنه.
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھنے کے وقت کپڑے اتارے اور غسل کیا۔ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور اسے حسن کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 595]
«وَعَنْ» اور سے – «زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ» زید بن ثابت – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «تَجَرَّدَ» نے (سلے ہوئے) کپڑے اتارے – «لِإِهْلَالِهِ» اپنے احرام کے لیے – «وَاغْتَسَلَ» اور غسل کیا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی نے – «وَحَسَّنَهُ» اور اسے حسن کہا۔
اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام باندھنے کے لیے (سلے ہوئے) کپڑے اتارے اور غسل کیا۔ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور حسن کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 595]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، الحج، باب ما جاء في الاغتسال عند الإحرام، حديث:830.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 596
وعن ابن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم سئل ما يلبس المحرم من الثياب؟ فقال: «‏‏‏‏لا يلبس القميص ولا العمائم ولا السراويلات ولا البرانس ولا الخفاف إلا أحد لا يجد النعلين فليلبس الخفين وليقطعهما أسفل من الكعبين ولا تلبسوا من الثياب شيئا مسه الزعفران ولا الورس» . متفق عليه واللفظ لمسلم.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا احرام باندھنے والا کیا لباس پہنے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”وہ قمیص، پگڑی، شلوار و پاجامہ، کٹ ٹوپ اور موزے نہ پہنے۔ لیکن اگر کسی شخص کے پاس جوتے نہیں تو وہ موزے پہن لے اور اسے چاہیئے کہ دونوں کو ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ لے اور ایسا کوئی کپڑا نہ پہنے جسے زعفران اور کیسو (ایک زرد رنگ کی خوشبودار بوٹی) لگا ہوا ہو۔“ (بخاری و مسلم) اور یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 596]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «سُئِلَ» سے پوچھا گیا – «مَا يَلْبَسُ» کیا پہنے – «الْمُحْرِمُ» احرام والا – «مِنَ الثِّيَابِ» کپڑوں میں سے؟ – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «لَا يَلْبَسُ» نہ پہنے – «الْقَمِيصَ» قمیص – «وَلَا الْعَمَائِمَ» اور نہ پگڑیاں – «وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ» اور نہ شلواریں – «وَلَا الْبَرَانِسَ» اور نہ ٹوپی والے چغے – «وَلَا الْخِفَافَ» اور نہ موزے – «إِلَّا أَحَدٌ» مگر کوئی ایسا شخص جو – «لَا يَجِدُ» نہ پائے – «النَّعْلَيْنِ» جوتے – «فَلْيَلْبَسِ» تو وہ پہن لے – «الْخُفَّيْنِ» موزے – «وَلْيَقْطَعْهُمَا» اور انہیں کاٹ دے – «أَسْفَلَ» نیچے سے – «مِنَ الْكَعْبَيْنِ» ٹخنوں کے – «وَلَا تَلْبَسُوا» اور نہ پہنو – «مِنَ الثِّيَابِ» کپڑوں میں سے – «شَيْئًا» کوئی چیز – «مَسَّهُ» جسے لگا ہو – «الزَّعْفَرَانُ» زعفران – «وَلَا الْوَرْسُ» اور نہ ورس (زرد خوشبودار گھاس)۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے – «وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ» اور الفاظ مسلم کے ہیں۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ احرام والا کون سے کپڑے پہنے؟ آپ نے فرمایا: ”نہ قمیص پہنے، نہ پگڑی، نہ شلوار، نہ ٹوپی والا چغہ اور نہ موزے، سوائے اس شخص کے جو جوتے نہ پائے، تو وہ موزے پہن لے اور انہیں ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ دے۔ اور کوئی ایسا کپڑا نہ پہنو جسے زعفران یا ورس لگا ہو۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ مسلم کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 596]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحج، باب مالا يلبس المحرم من الثياب، حديث:1542، ومسلم، الحج، باب ما يباح للمحرم بحج أو عمرة لبسه، حديث:1177.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 597
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: كنت أطيب رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم لإحرامه قبل أن يحرم ولحله قبل أن يطوف بالبيت. متفق عليه.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ احرام باندھنے سے پہلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام کے وقت اور احرام کھولنے کے وقت خوشبو لگاتی تھی۔ اس سے پہلے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کا طواف کریں۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 597]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «كُنْتُ أُطَيِّبُ» میں خوشبو لگایا کرتی تھی – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول کو – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لِإِحْرَامِهِ» آپ کے احرام کے لیے – «قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ» اس سے پہلے کہ آپ احرام باندھیں – «وَلِحِلِّهِ» اور آپ کے حلال ہونے کے لیے – «قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ» اس سے پہلے کہ آپ طواف کریں – «بِالْبَيْتِ» بیت اللہ کا۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو احرام باندھنے سے پہلے احرام کے لیے، اور (دس ذوالحجہ کو) بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے حلال ہونے کے لیے خوشبو لگایا کرتی تھی۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 597]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحج، باب الطيب عند الإحرام، حديث:1539، ومسلم، الحج، باب الطيب للمحرم عند الإحرام، حديث:1189.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 598
وعن عثمان بن عفان رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏لا ينكح المحرم ولا ينكح ولا يخطب» .‏‏‏‏ رواه مسلم.
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”احرام والا نکاح نہ کرے اور نہ نکاح کرائے اور نہ منگنی کرے۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 598]
«وَعَنْ» اور سے – «عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ» عثمان بن عفان – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «لَا يَنْكِحُ» نکاح نہ کرے – «الْمُحْرِمُ» احرام والا – «وَلَا يُنْكِحُ» اور نہ (کسی کا) نکاح کرائے – «وَلَا يَخْطُبُ» اور نہ منگنی (نکاح کا پیغام) کرے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”احرام والا نہ خود نکاح کرے، نہ کسی کا نکاح کرائے اور نہ نکاح کا پیغام دے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 598]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، النكاح، باب تحريم نكاح المحرم، حديث:1409.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں