🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب الإحرام وما يتعلق به
احرام اور اس کے متعلقہ امور کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 599
وعن أبي قتادة الأنصاري رضي الله عنه في قصة صيده الحمار الوحشي وهو غير محرم قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم لأصحابه وكانوا محرمين: «‏‏‏‏هل منكم أحد أمره أو أشار إليه بشيء؟» ‏‏‏‏ قالوا: لا قال: «‏‏‏‏فكلوا ما بقي من لحمه» .‏‏‏‏ متفق عليه.
سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے ان کے جنگلی گدھے کو شکار کرنے کے قصے میں جبکہ انہوں نے احرام نہیں باندھا تھا، مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا اور وہ احرام والے تھے ”کیا تم میں سے کسی نے اسے حکم دیا تھا یا اس کی طرف کسی چیز سے اشارہ کیا تھا؟“ انہوں نے کہا نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پس کھاؤ اس کے گوشت سے جو بچ گیا ہے۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 599]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ» ابو قتادہ انصاری – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «فِي قِصَّةِ» واقعے میں – «صَيْدِهِ» ان کے شکار کرنے کے – «الْحِمَارَ الْوَحْشِيَّ» جنگلی گدھے کو – «وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ» درحالیکہ وہ احرام میں نہیں تھے – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لِأَصْحَابِهِ» اپنے صحابہ سے – «وَكَانُوا مُحْرِمِينَ» اور وہ احرام میں تھے: – «هَلْ مِنْكُمْ أَحَدٌ» کیا تم میں سے کسی نے – «أَمَرَهُ» اسے حکم دیا – «أَوْ أَشَارَ» یا اشارہ کیا – «إِلَيْهِ» اس کی طرف – «بِشَيْءٍ» کسی چیز کا؟ – «قَالُوا» انہوں نے کہا: – «لَا» نہیں – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «فَكُلُوا» تو کھاؤ – «مَا بَقِيَ» جو باقی ہے – «مِنْ لَحْمِهِ» اس کے گوشت میں سے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے، ان کے جنگلی گدھے کا شکار کرنے کے واقعے میں جبکہ وہ احرام میں نہیں تھے، روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے، جو احرام میں تھے، فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی نے اسے (شکار کا) حکم دیا تھا یا اس کی طرف کسی چیز سے اشارہ کیا تھا؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”تو اس کا باقی گوشت کھا لو۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 599]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، جزاء الصيد، باب لا يشير المحرم إلي الصيد، حديث:1824، ومسلم، الحج، باب تحريم الصيد للمحرم، حديث:1196.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 600
وعن الصعب بن جثامة الليثي رضي الله عنه أنه أهدى لرسول الله صلى الله عليه وآله وسلم حمارا وحشيا وهو بالأبواء أو بودان فرده عليه وقال: «‏‏‏‏إنا لم نرده عليك إلا أنا حرم» . متفق عليه.
سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک وحشی گدھا بطور تحفہ بھیجا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ”ابواء“ یا ”ودان“ مقام پر تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ انہیں واپس کر دیا اور فرمایا کہ ”ہم نے یہ اس لئے واپس کیا کہ ہم احرام والے ہیں۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 600]
«وَعَنِ» اور سے – «الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيِّ» صعب بن جثامہ لیثی – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّهُ أَهْدَى» کہ انہوں نے ہدیہ کیا – «لِرَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کو – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «حِمَارًا وَحْشِيًّا» ایک جنگلی گدھا – «وَهُوَ بِالْأَبْوَاءِ» درحالیکہ آپ ابواء میں تھے – «أَوْ بِوَدَّانَ» یا ودان میں – «فَرَدَّهُ عَلَيْهِ» تو آپ نے اسے انہیں واپس کر دیا – «وَقَالَ» اور فرمایا: – «إِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ» بے شک ہم نے اسے واپس نہیں کیا – «عَلَيْكَ» تم پر – «إِلَّا أَنَّا» مگر اس لیے کہ ہم – «حُرُمٌ» احرام میں ہیں۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا صعب بن جثامہ لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک جنگلی گدھا ہدیہ کیا جبکہ آپ ابواء یا ودان کے مقام پر تھے، تو آپ نے اسے انہیں واپس کر دیا اور فرمایا: ”ہم نے اسے تمہیں صرف اس لیے واپس کیا ہے کہ ہم احرام میں ہیں۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 600]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، جزاء الصيد، باب إذا أهدي للمحرم حمارًا وحشيًا، حديث:1825، ومسلم، الحج، باب تحريم الصيد للمحرم، حديث:1193.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 601
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏خمس من الدواب كلهن فواسق يقتلن في الحل والحرم: العقرب والحدأة والغراب والفأرة والكلب العقور» .‏‏‏‏ متفق عليه.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جانوروں میں سے پانچ سب کے سب شریر ہیں۔ حل اور حرم (سب جگہوں پر) مار دیئے جائیں اور وہ ہیں بچھو، چیل، کوا، چوہا اور کاٹ کھانے والا کتا۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 601]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «خَمْسٌ» پانچ – «مِنَ الدَّوَابِّ» جانوروں میں سے – «كُلُّهُنَّ» سب کے سب – «فَوَاسِقُ» فاسق (موذی) ہیں – «يُقْتَلْنَ» انہیں قتل کیا جائے – «فِي الْحِلِّ» حل (حرم سے باہر) میں – «وَالْحَرَمِ» اور حرم میں – «الْعَقْرَبُ» بچھو – «وَالْحِدَأَةُ» اور چیل – «وَالْغُرَابُ» اور کوا – «وَالْفَأْرَةُ» اور چوہا – «وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ» اور کاٹنے والا کتا۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ جانور سب کے سب موذی ہیں، انہیں حرم کے اندر اور باہر (ہر جگہ) قتل کیا جائے: بچھو، چیل، کوا، چوہا اور کاٹنے والا کتا۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 601]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، جزاء الصيد، باب ما يقتل المحرم من الدواب، حديث:1829، ومسلم، الحج، باب ما يندب للمحرم وغيره قتله، حديث:1198.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 602
وعن ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم احتجم وهو محرم. متفق عليه
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام کی حالت میں تھے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 602]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «احْتَجَمَ» نے پچھنے لگوائے – «وَهُوَ مُحْرِمٌ» درحالیکہ آپ احرام میں تھے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام کی حالت میں پچھنے لگوائے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 602]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، جزاء الصيد، باب الحجامة للمحرم، حديث:1835، ومسلم، الحج، باب جواز الحجامة للمحرم، حديث:1202.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 603
وعن كعب بن عجرة رضي الله عنه قال: حملت إلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم والقمل يتناثر على وجهي فقال:«‏‏‏‏ما كنت أرى الوجع بلغ بك ما أرى أتجد شاة؟» ‏‏‏‏ قلت: لا،‏‏‏‏ قال: «‏‏‏‏فصم ثلاثة أيام،‏‏‏‏ أو أطعم ستة مساكين،‏‏‏‏ لكل مسكين نصف صاع» . متفق عليه
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھا کر لایا گیا اور جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرا یہ خیال نہ تھا کہ تم کو بیماری نے اس حالت کو پہنچا دیا ہو گا جو میں دیکھ رہا ہوں، کیا تیرے پاس بکری ہے؟“ میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تین دن روزہ رکھ یا چھ مسکینوں کو آدھا صاع ہر مسکین کے حساب سے کھانا دے۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 603]
«وَعَنْ» اور سے – «كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ» کعب بن عجرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «حُمِلْتُ» مجھے اٹھا کر لایا گیا – «إِلَى رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے پاس – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «وَالْقَمْلُ» اور جوئیں – «يَتَنَاثَرُ» جھڑ رہی تھیں – «عَلَى وَجْهِي» میرے چہرے پر – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «مَا كُنْتُ أُرَى» میں نہیں سمجھتا تھا – «الْوَجَعَ» کہ تکلیف – «بَلَغَ بِكَ» تمہیں پہنچ گئی ہے – «مَا أَرَى» جتنی میں دیکھ رہا ہوں – «أَتَجِدُ» کیا تم پاتے ہو – «شَاةً» ایک بکری؟ – «قُلْتُ» میں نے کہا: – «لَا» نہیں – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «فَصُمْ» تو روزے رکھو – «ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ» تین دن – «أَوْ أَطْعِمْ» یا کھانا کھلاؤ – «سِتَّةَ مَسَاكِينَ» چھ مسکینوں کو – «لِكُلِّ مِسْكِينٍ» ہر مسکین کے لیے – «نِصْفُ صَاعٍ» آدھا صاع۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اٹھا کر لایا گیا اور (میرے سر کی) جوئیں میرے چہرے پر جھڑ رہی تھیں، تو آپ نے فرمایا: ”میں نہیں سمجھتا تھا کہ تمہاری تکلیف اس حد تک پہنچ چکی ہے جو میں دیکھ رہا ہوں۔ کیا تمہارے پاس ایک بکری ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”تو (سر منڈوا کر) تین دن کے روزے رکھو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ، ہر مسکین کو آدھا صاع۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 603]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، المحصر، باب الإطعام في الفدية نصف صاع، حديث:1816، ومسلم، الحج، باب جواز حلق الرأس للمحرم، حديث:1201.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 604
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: لما فتح الله على رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم مكة قام رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في الناس فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: «‏‏‏‏إن الله حبس عن مكة الفيل وسلط عليها رسوله والمؤمنين وإنها لم تحل لأحد كان قبلي وإنما أحلت لي ساعة من نهار وإنها لم تحل لأحد بعدي فلا ينفر صيدها ولا يختلى شوكها ولا تحل ساقطتها إلا لمنشد ومن قتل له قتيل فهو بخير النظرين إما أن يفدي وإما أن يقيد» ‏‏‏‏. فقال العباس: إلا الإذخر يا رسول الله فإنا نجعله في قبورنا وبيوتنا فقال: «إلا الإذخر» .‏‏‏‏ متفق عليه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ کی فتح دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے پھر اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا ”بیشک اللہ تعالیٰ نے ہاتھیوں کو مکہ سے روک دیا مگر رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کو اس پر غلبہ عطا فرمایا اور تحقیق مجھ سے پہلے مکہ کسی پر حلال نہ تھا مگر میرے لئے دن کی ایک گھڑی حلال کر دیا گیا ہے اور یقیناً میرے بعد یہ کسی کیلئے حلال نہیں ہو گا یعنی نہ اس کا شکار بھگایا جائے، نہ اس کا کوئی کانٹے دار درخت کاٹا جائے اور نہ ہی اس کی گری ہوئی چیز سوائے شناخت کرنے والے کے کسی پر حلال ہے اور جس کا کوئی آدمی مارا جائے وہ دو بہتر سوچے ہوئے کاموں میں سے ایک کام میں اختیار رکھتا ہے۔“ تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! اذخر (ایک قسم کی گھاس) کے سوا، کیونکہ اسے ہم اپنی قبروں اور چھتوں میں رکھتے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سوائے اذخر کے، (یعنی اسے کاٹنے کی اجازت ہے۔)“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 604]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «لَمَّا» جب – «فَتَحَ اللَّهُ» اللہ نے فتح دی – «عَلَى رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کو – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مَكَّةَ» مکہ کی – «قَامَ» کھڑے ہوئے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فِي النَّاسِ» لوگوں میں – «فَحَمِدَ اللَّهَ» پس اللہ کی حمد کی – «وَأَثْنَى عَلَيْهِ» اور اس کی ثنا بیان کی – «ثُمَّ قَالَ» پھر فرمایا: – «إِنَّ اللَّهَ» بے شک اللہ نے – «حَبَسَ» روک دیا – «عَنْ مَكَّةَ» مکہ سے – «الْفِيلَ» ہاتھی کو – «وَسَلَّطَ عَلَيْهَا» اور اس پر غلبہ دیا – «رَسُولَهُ» اپنے رسول کو – «وَالْمُؤْمِنِينَ» اور مومنوں کو – «وَإِنَّهَا» اور بے شک یہ – «لَمْ تَحِلَّ» حلال نہیں ہوا – «لِأَحَدٍ» کسی کے لیے – «كَانَ قَبْلِي» جو مجھ سے پہلے تھا – «وَإِنَّمَا» اور صرف – «أُحِلَّتْ لِي» میرے لیے حلال کیا گیا – «سَاعَةً» ایک گھڑی – «مِنْ نَهَارٍ» دن کی – «وَإِنَّهَا» اور بے شک یہ – «لَمْ تَحِلَّ» حلال نہیں ہو گا – «لِأَحَدٍ بَعْدِي» میرے بعد کسی کے لیے – «فَلَا يُنَفَّرُ» پس نہ بھگایا جائے – «صَيْدُهَا» اس کا شکار – «وَلَا يُخْتَلَى» اور نہ کاٹا جائے – «شَوْكُهَا» اس کا کانٹا – «وَلَا تَحِلُّ» اور حلال نہیں – «سَاقِطَتُهَا» اس کی گری پڑی چیز – «إِلَّا لِمُنْشِدٍ» مگر اعلان کرنے والے کے لیے – «وَمَنْ» اور جس کا – «قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ» کوئی قتل کر دیا جائے – «فَهُوَ» تو اسے – «بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ» دو باتوں میں سے بہتر کا اختیار ہے – «إِمَّا أَنْ يُفْدَى» یا تو دیت لی جائے – «وَإِمَّا أَنْ يُقِيدَ» اور یا قصاص لے – «فَقَالَ الْعَبَّاسُ» تو عباس نے کہا: – «إِلَّا الْإِذْخِرَ» سوائے اذخر (گھاس) کے – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول – «فَإِنَّا نَجْعَلُهُ» کیونکہ ہم اسے ڈالتے ہیں – «فِي قُبُورِنَا» اپنی قبروں میں – «وَبُيُوتِنَا» اور اپنے گھروں میں – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «إِلَّا الْإِذْخِرَ» سوائے اذخر کے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مکہ فتح کرا دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”بے شک اللہ نے مکہ سے ہاتھی (والوں) کو روک دیا اور اس پر اپنے رسول اور مومنوں کو غلبہ عطا فرمایا، اور یہ (مکہ) مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں ہوا، اور میرے لیے بھی دن کی صرف ایک گھڑی حلال کیا گیا، اور یہ میرے بعد کسی کے لیے حلال نہیں ہو گا، لہٰذا نہ اس کا شکار بھگایا جائے، نہ اس کا کانٹا کاٹا جائے، اور اس کی گری پڑی چیز اٹھانا حلال نہیں سوائے اس کے جو اس کا اعلان کرے، اور جس کا کوئی آدمی قتل کر دیا جائے اسے دو باتوں میں سے بہتر کا اختیار ہے: یا تو دیت لے لے یا قصاص لے۔“ اس پر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! سوائے اذخر کے، کیونکہ ہم اسے اپنی قبروں اور گھروں میں استعمال کرتے ہیں۔ تو آپ نے فرمایا: ”سوائے اذخر کے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 604]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، العلم، باب كتابه العلم، حديث:112، ومسلم، الحج، باب تحريم مكة وصيدها، حديث:1355.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 605
وعن عبد الله بن زيد بن عاصم رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏إن إبراهيم حرم مكة ودعا لأهلها وإني حرمت المدينة كما حرم إبراهيم مكة وإني دعوت في صاعها ومدها بمثلي ما دعا به إبراهيم لأهل مكة» . متفق عليه.
سیدنا عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تحقیق ابراھیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت دی اور اس کے بسنے والوں کیلئے دعا کی اور بیشک میں نے مدینہ کو حرمت دی۔ جس طرح ابراھیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام قرار دیا اور یقیناً میں نے مدینہ کے ”صاع“ اور اس کے ”مد“ کے متعلق ابراھیم علیہ السلام کی طرح دعا کی جو مکہ میں بسنے والوں کے متعلق تھی۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 605]
«وَعَنْ» اور سے – «عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ» عبداللہ بن زید بن عاصم – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ» کہ اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «إِنَّ إِبْرَاهِيمَ» بے شک ابراہیم نے – «حَرَّمَ مَكَّةَ» مکہ کو حرم قرار دیا – «وَدَعَا لِأَهْلِهَا» اور اس کے رہنے والوں کے لیے دعا کی – «وَإِنِّي حَرَّمْتُ» اور بے شک میں نے حرم قرار دیا – «الْمَدِينَةَ» مدینہ کو – «كَمَا حَرَّمَ» جیسے حرم قرار دیا – «إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ» ابراہیم نے مکہ کو – «وَإِنِّي دَعَوْتُ» اور بے شک میں نے دعا کی – «فِي صَاعِهَا» اس کے صاع میں – «وَمُدِّهَا» اور اس کے مد میں – «بِمِثْلَيْ» دوگنی – «مَا دَعَا بِهِ» اس کے جو دعا کی – «إِبْرَاهِيمُ» ابراہیم نے – «لِأَهْلِ مَكَّةَ» مکہ والوں کے لیے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا اور اس کے رہنے والوں کے لیے دعا کی، اور میں نے مدینہ کو حرم قرار دیا ہے جیسے ابراہیم نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا، اور میں نے اس کے صاع اور مد (پیمانوں) میں اس سے دوگنی (برکت کی) دعا کی ہے جو ابراہیم نے مکہ والوں کے لیے کی تھی۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 605]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، البيوع، باب بركة صاح النبي صلي الله عليه وسلم ومده، حديث:2129، ومسلم، الحج، باب فضل المدينة، حديث:1360.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 606
وعن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏المدينة حرم ما بين عير إلى ثور» ‏‏‏‏. رواه مسلم.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مدینہ حرم ہے عیر سے ثور کے درمیان۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 606]
«وَعَنْ» اور سے – «عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ» علی بن ابی طالب – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ النَّبِيُّ» نبی نے فرمایا – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «الْمَدِينَةُ» مدینہ – «حَرَمٌ» حرم ہے – «مَا بَيْنَ» جو درمیان ہے – «عَيْرٍ» عیر (پہاڑ) – «إِلَى ثَوْرٍ» ثور (پہاڑ) تک۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ عیر (پہاڑ) سے ثور (پہاڑ) تک حرم ہے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 606]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الحج، باب فضل المدينة حديث:1370.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. باب صفة الحج ودخول مكة
حج کا طریقہ اور دخول مکہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 607
عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم حج فخرجنا معه حتى إذا أتينا ذا الحليفة فولدت أسماء بنت عميس فقال: «اغتسلي واستثفري بثوب وأحرمي» ‏‏‏‏ وصلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في المسجد ثم ركب القصواء حتى إذا استوت به على البيداء أهل بالتوحيد «‏‏‏‏لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ‏‏‏‏ حتى إذا أتينا البيت استلم الركن فرمل ثلاثا ومشى أربعا ثم نفر إلى مقام إبراهيم فصلى ثم رجع إلى الركن فاستلمه ثم خرج من الباب إلى الصفا فلما دنا من الصفا قرأ «‏‏‏‏أبدأ بما بدأ الله به» ‏‏‏‏ فرقى الصفا حتى رأى البيت فاستقبل القبلة فوحد الله وكبره وقال: «‏‏‏‏لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير لا إله إلا الله وحده أنجز وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده» ‏‏‏‏ ثم دعا بين ذلك ثلاث مرات ثم نزل إلى المروة حتى إذا انصبت قدماه في بطن الوادي سعى حتى إذا صعدتا مشى حتى أتى المروة ففعل على المروة كما فعل على الصفا فذكر الحديث وفيه: فلما كان يوم التروية توجهوا إلى منى فأهلوا بالحج وركب رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فصلى بها الظهر والعصر والمغرب والعشاء والفجر ثم مكث قليلا حتى طلعت الشمس فأجاز حتى أتى عرفة فوجد القبة قد ضربت له بنمرة فنزل بها حتى إذا زاغت الشمس أمر بالقصواء فرحلت له فأتى بطن الوادي فخطب الناس ثم أذن ثم أقام فصلى الظهر ثم أقام فصلى العصر ولم يصل بينهما شيئا ثم ركب حتى أتى الموقف فجعل بطن ناقته القصواء إلى الصخرات وجعل حبل المشاة بين يديه واستقبل القبلة فلم يزل واقفا حتى غربت الشمس وذهبت الصفرة قليلا حتى غاب القرص ودفع وقد شنق للقصواء الزمام حتى إن رأسها ليصيب مورك رحله ويقول بيده اليمنى: «‏‏‏‏أيها الناس السكينة السكينة» ‏‏‏‏ كلما أتى حبلا من الحبال أرخى لها قليلا حتى تصعد حتى أتى المزدلفة فصلى بها المغرب والعشاء بأذان واحد وإقامتين ولم يسبح بينهما شيئا ثم اضطجع حتى طلع الفجر فصلى الفجر حين تبين له الصبح بأذان وإقامة ثم ركب القصواء حتى أتى المشعر الحرام فاستقبل القبلة فدعا وكبر وهلل فلم يزل واقفا حتى أسفر جدا فدفع قبل أن تطلع الشمس حتى أتى بطن محسر فحرك قليلا ثم سلك الطريق الوسطى التي تخرج على الجمرة الكبرى حتى أتى الجمرة التي عند الشجرة فرماها بسبع حصيات يكبر مع كل حصاة منها مثل حصى الخذف رمى من بطن الوادي ثم انصرف إلى المنحر فنحر ثم ركب رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فأفاض إلى البيت فصلى بمكة الظهر. رواه مسلم مطولا.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے بچہ جنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”غسل کر اور کسی کپڑے سے لنگوٹ باندھ لے اور احرام باندھ لے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں نماز پڑھی اور قصواء (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کا نام) پر سوار ہو گئے یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیداء کے برابر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے توحیدی تلبیہ پکارا «لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ”حاضر ہوں، اے میرے اللہ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، بلا شک سب تعریفیں اور انعامات تیرے ہیں۔ بادشاہت بھی تیری ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔“ یہاں تک کہ ہم بیت اللہ میں داخل ہوئے۔ رکن (اسود) کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بوسہ دیا، تین بار رمل کیا اور چار بار معمول کے مطابق چلے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم پر آئے اور نماز پڑھی پھر رکن (حجر اسود) کی طرف واپس آئے اور اس کو بوسہ دیا۔ پھر مسجد الحرام کے دروازہ سے صفا کی طرف نکلے جب صفا کے نزدیک پہنچے تو یہ آیت پڑھی۔ ”تحقیق صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں۔“ (پھر فرمایا) ”میں شروع کرتا ہوں (سعی کو) اس مقام سے کہ جہاں سے اللہ نے شروع کیا ہے۔“ پھر صفا پر چڑھے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کو دیکھا۔ پھر قبلہ رخ ہوئے اور اللہ کی وحدانیت اور کبریائی بیان کی اور کہا ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے کوئی اس کا شریک نہیں۔ بادشاہی اور سب خوبیاں اسی کی ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور اپنے بندے کی مدد کی اور کفار کی جماعت کو اکیلے اسی نے شکست دی۔“ پھر اس کے درمیان تین بار دعا کی۔ پھر صفا سے اترے اور مروہ کی طرف گئے۔ یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں پاؤں وادی کے نشیب میں پڑے تو دوڑے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نشیب سے اوپر چڑھے اور مروہ کی طرف چلے۔ مروہ پر وہی کچھ کیا جو صفا پر کیا تھا۔ پھر جابر رضی اللہ عنہ نے ساری حدیث بیان کی جس میں یہ ہے کہ جب ترویہ کا دن (8 ذی الحج) ہوا تو لوگ منیٰ کی طرف متوجہ ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار تھے پھر وہاں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور صبح کی نماز پڑھی۔ پھر تھوڑی دیر ٹھہرے یہاں تک کہ سورج نکل آیا تو وہاں سے روانہ ہوئے اور مزدلفہ سے گزرتے ہوئے عرفات میں پہنچے تو خیمہ میں اترے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے نمرہ میں لگایا گیا تھا۔ پھر جب سورج ڈھلنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصواء پر پالان رکھنے کا حکم دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر وادی کے درمیان میں آئے اور لوگوں کو خطبہ دیا پھر اذان دلوائی پھر اقامت کہلوائی تو نماز ظہر ادا کی پھر اقامت کہلوائی تو عصر کی نماز پڑھی اور ان دونوں کے درمیان کوئی نماز نہ پڑھی۔ پھر سوار ہو کر ٹھہرنے کی جگہ پر پہنچے تو اپنی اونٹنی قصواء کا پیٹ پتھروں کی طرف کر دیا اور راہ چلنے والوں کو اپنے سامنے کر لیا اور اپنا رخ قبلہ کی جانب کر لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک ٹھہرے رہے کہ سورج غروب ہونے لگا اور تھوڑی سی زردی ختم ہو گئی حتیٰ کہ سورج مکمل طور پر غروب ہو گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں واپس ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصواء کی باگ اتنی تنگ کر رکھی تھی کہ اس کا سر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پالان کے اگلے ابھرے ہوئے حصے کو پہنچتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے داہنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرماتے تھے ”اے لوگو! تسکین و اطمینان اختیار کرو“ اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ٹیلے پر آتے تو باگ تھوڑی سی ڈھیلی کر دیتے کہ وہ اوپر چڑھ جاتی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ تشریف لائے اور وہاں ایک اذان اور دو اقامت کے ساتھ مغرب اور عشاء کی نماز پڑھی اور دونوں کے درمیان کوئی نفلی نماز نہیں پڑھی۔ پھر لیٹ گئے۔ یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ جب صبح کا وقت ظاہر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان اور اقامت سے فجر کی نماز پڑھی۔ پھر سوار ہو کر مشعر حرام پر آئے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رو ہوئے دعا کی اور تکبیر و تہلیل کہتے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اچھی طرح سفیدی ظاہر ہونے تک ٹھہرے رہے پھر سورج نکلنے سے پہلے واپس ہو کر وادی محسر کے نشیب میں آ گئے تو سواری کو کچھ تیز کر دیا۔ پھر درمیانی راستہ پر چلے جو جمرہ کبریٰ (بڑا شیطان) پر پہنچتا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس جمرہ پر آئے جو درخت کے پاس ہے تو اسے سات کنکریاں وادی کے نشیب سے ماریں، ہر کنکری کے ساتھ «الله اكبر» کہتے تھے، ان میں سے ہر کنکری خذف (لوبیے کے دانے) کے برابر تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قربان گاہ کی طرف گئے اور وہاں قربانی کی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور بیت اللہ کی طرف روانہ ہوئے۔ پھر مکہ میں ظہر کی نماز پڑھی۔ اسے مسلم نے تفصیل سے بیان کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 607]
«عَنْ» سے – «جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ» جابر بن عبداللہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ» کہ اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «حَجَّ» نے حج کیا – «فَخَرَجْنَا مَعَهُ» تو ہم آپ کے ساتھ نکلے – «حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا» یہاں تک کہ جب ہم پہنچے – «ذَا الْحُلَيْفَةِ» ذوالحلیفہ – «فَوَلَدَتْ» تو بچہ جنا – «أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ» اسماء بنت عمیس نے – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «اغْتَسِلِي» غسل کر لو – «وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ» اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ لو – «وَأَحْرِمِي» اور احرام باندھ لو – «وَصَلَّى» اور نماز پڑھی – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فِي الْمَسْجِدِ» مسجد میں – «ثُمَّ رَكِبَ» پھر سوار ہوئے – «الْقَصْوَاءَ» قصواء (اونٹنی) پر – «حَتَّى إِذَا» یہاں تک کہ جب – «اسْتَوَتْ بِهِ» وہ آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی – «عَلَى الْبَيْدَاءِ» بیداء پر – «أَهَلَّ» آپ نے آواز بلند کی – «بِالتَّوْحِيدِ» توحید کے ساتھ: – «لَبَّيْكَ» میں حاضر ہوں – «اللَّهُمَّ» اے اللہ – «لَبَّيْكَ» میں حاضر ہوں – «لَبَّيْكَ» میں حاضر ہوں – «لَا شَرِيكَ لَكَ» تیرا کوئی شریک نہیں – «لَبَّيْكَ» میں حاضر ہوں – «إِنَّ الْحَمْدَ» بے شک تعریف – «وَالنِّعْمَةَ» اور نعمت – «لَكَ» تیرے ہی لیے ہے – «وَالْمُلْكَ» اور بادشاہی (بھی) – «لَا شَرِيكَ لَكَ» تیرا کوئی شریک نہیں – «حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا» یہاں تک کہ جب ہم پہنچے – «الْبَيْتَ» بیت اللہ – «اسْتَلَمَ الرُّكْنَ» آپ نے رکن (حجر اسود) کا استلام کیا – «فَرَمَلَ» پھر رمل کیا – «ثَلَاثًا» تین (چکروں) میں – «وَمَشَى أَرْبَعًا» اور چار میں (عام) چلے – «ثُمَّ نَفَرَ» پھر آگے بڑھے – «إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ» مقام ابراہیم کی طرف – «فَصَلَّى» پس نماز پڑھی – «ثُمَّ رَجَعَ» پھر لوٹے – «إِلَى الرُّكْنِ» رکن کی طرف – «فَاسْتَلَمَهُ» پس اس کا استلام کیا – «ثُمَّ خَرَجَ» پھر نکلے – «مِنَ الْبَابِ» دروازے سے – «إِلَى الصَّفَا» صفا کی طرف – «فَلَمَّا دَنَا» پس جب قریب ہوئے – «مِنَ الصَّفَا» صفا کے – «قَرَأَ» پڑھا (اور فرمایا): – «أَبْدَأُ» میں شروع کرتا ہوں – «بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ» اس سے جس سے اللہ نے شروع کیا – «فَرَقِيَ الصَّفَا» پھر صفا پر چڑھے – «حَتَّى رَأَى الْبَيْتَ» یہاں تک کہ بیت اللہ کو دیکھا – «فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ» پس قبلہ رخ ہوئے – «فَوَحَّدَ اللَّهَ» پس اللہ کی توحید بیان کی – «وَكَبَّرَهُ» اور اس کی بڑائی بیان کی – «وَقَالَ» اور فرمایا: – «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» اللہ کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں – «وَحْدَهُ» وہ اکیلا ہے – «لَا شَرِيكَ لَهُ» اس کا کوئی شریک نہیں – «لَهُ الْمُلْكُ» اسی کی بادشاہی ہے – «وَلَهُ الْحَمْدُ» اور اسی کی تعریف ہے – «وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ» اور وہ ہر چیز پر – «قَدِيرٌ» قادر ہے – «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» اللہ کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں – «وَحْدَهُ» وہ اکیلا ہے – «أَنْجَزَ وَعْدَهُ» اس نے اپنا وعدہ پورا کیا – «وَنَصَرَ عَبْدَهُ» اور اپنے بندے کی مدد کی – «وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ» اور لشکروں کو شکست دی – «وَحْدَهُ» اکیلے – «ثُمَّ دَعَا» پھر دعا کی – «بَيْنَ ذَلِكَ» اس کے درمیان – «ثَلَاثَ مَرَّاتٍ» تین مرتبہ – «ثُمَّ نَزَلَ» پھر اترے – «إِلَى الْمَرْوَةِ» مروہ کی طرف – «حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ» یہاں تک کہ جب اتر گئے – «قَدَمَاهُ» آپ کے دونوں قدم – «فِي بَطْنِ الْوَادِي» وادی کے نشیب میں – «سَعَى» تو دوڑے – «حَتَّى إِذَا صَعِدَتَا» یہاں تک کہ جب وہ (قدم) چڑھنے لگے – «مَشَى» تو (عام رفتار سے) چلے – «حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ» یہاں تک کہ مروہ پر آئے – «فَفَعَلَ عَلَى الْمَرْوَةِ» پس مروہ پر کیا – «كَمَا فَعَلَ عَلَى الصَّفَا» جیسے صفا پر کیا تھا – «فَذَكَرَ الْحَدِيثَ» پھر (راوی نے) حدیث ذکر کی – «وَفِيهِ» اور اس میں ہے: – «فَلَمَّا كَانَ» پس جب ہوا – «يَوْمُ التَّرْوِيَةِ» ترویہ کا دن (آٹھ ذوالحجہ) – «تَوَجَّهُوا» وہ متوجہ ہوئے – «إِلَى مِنًى» منیٰ کی طرف – «فَأَهَلُّوا بِالْحَجِّ» اور حج کا تلبیہ پکارا – «وَرَكِبَ» اور سوار ہوئے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَصَلَّى بِهَا» پس وہاں پڑھیں – «الظُّهْرَ» ظہر – «وَالْعَصْرَ» اور عصر – «وَالْمَغْرِبَ» اور مغرب – «وَالْعِشَاءَ» اور عشاء – «وَالْفَجْرَ» اور فجر – «ثُمَّ مَكَثَ» پھر ٹھہرے – «قَلِيلًا» تھوڑی دیر – «حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ» یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا – «فَأَجَازَ» پھر (مزدلفہ سے) آگے گزر گئے – «حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ» یہاں تک کہ عرفہ آئے – «فَوَجَدَ الْقُبَّةَ» تو خیمہ پایا – «قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ» جو آپ کے لیے لگا دیا گیا تھا – «بِنَمِرَةَ» نمرہ میں – «فَنَزَلَ بِهَا» پس وہاں اترے – «حَتَّى إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ» یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا – «أَمَرَ بِالْقَصْوَاءِ» قصواء کا حکم دیا – «فَرُحِلَتْ لَهُ» تو آپ کے لیے اس پر پالان کسا گیا – «فَأَتَى بَطْنَ الْوَادِي» پھر وادی کے نشیب میں آئے – «فَخَطَبَ النَّاسَ» پس لوگوں کو خطبہ دیا – «ثُمَّ أَذَّنَ» پھر اذان کہی گئی – «ثُمَّ أَقَامَ» پھر اقامت کہی گئی – «فَصَلَّى الظُّهْرَ» پس ظہر پڑھی – «ثُمَّ أَقَامَ» پھر اقامت کہی گئی – «فَصَلَّى الْعَصْرَ» پس عصر پڑھی – «وَلَمْ يُصَلِّ» اور نہیں پڑھی – «بَيْنَهُمَا» ان دونوں کے درمیان – «شَيْئًا» کوئی (نماز) – «ثُمَّ رَكِبَ» پھر سوار ہوئے – «حَتَّى أَتَى الْمَوْقِفَ» یہاں تک کہ وقوف کی جگہ آئے – «فَجَعَلَ» پس کیا – «بَطْنَ نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ» اپنی اونٹنی قصواء کا پیٹ – «إِلَى الصَّخَرَاتِ» چٹانوں کی طرف – «وَجَعَلَ» اور کیا – «حَبْلَ الْمُشَاةِ» پیدل چلنے والوں کے راستے (ریت کے ٹیلے) کو – «بَيْنَ يَدَيْهِ» اپنے سامنے – «وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ» اور قبلہ رخ ہوئے – «فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا» پس مسلسل ٹھہرے رہے – «حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ» یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا – «وَذَهَبَتِ الصُّفْرَةُ» اور زردی چلی گئی – «قَلِيلًا» کچھ – «حَتَّى غَابَ الْقُرْصُ» یہاں تک کہ ٹکیہ غائب ہو گئی – «وَدَفَعَ» اور (عرفہ سے) روانہ ہوئے – «وَقَدْ شَنَقَ» اور تحقیق کھینچ رکھی تھی – «لِلْقَصْوَاءِ الزِّمَامَ» قصواء کی مہار – «حَتَّى إِنَّ رَأْسَهَا» یہاں تک کہ اس کا سر – «لَيُصِيبُ» ضرور لگ رہا تھا – «مَوْرِكَ رَحْلِهِ» آپ کے پالان کے اگلے حصے (پاؤں رکھنے کی جگہ) سے – «وَيَقُولُ» اور فرما رہے تھے – «بِيَدِهِ الْيُمْنَى» اپنے دائیں ہاتھ سے (اشارہ کرتے ہوئے): – «أَيُّهَا النَّاسُ» اے لوگو – «السَّكِينَةَ السَّكِينَةَ» اطمینان (اختیار کرو)، اطمینان – «كُلَّمَا أَتَى» جب بھی آتے – «حَبْلًا مِنَ الْحِبَالِ» ریت کے ٹیلوں میں سے کسی ٹیلے پر – «أَرْخَى لَهَا» اس (کی مہار) کو ڈھیلا کر دیتے – «قَلِيلًا» تھوڑا سا – «حَتَّى تَصْعَدَ» تاکہ وہ چڑھ جائے – «حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ» یہاں تک کہ مزدلفہ آئے – «فَصَلَّى بِهَا» پس وہاں پڑھیں – «الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ» مغرب اور عشاء – «بِأَذَانٍ وَاحِدٍ» ایک اذان – «وَإِقَامَتَيْنِ» اور دو اقامتوں کے ساتھ – «وَلَمْ يُسَبِّحْ» اور نفل نہیں پڑھے – «بَيْنَهُمَا شَيْئًا» ان دونوں کے درمیان کچھ بھی – «ثُمَّ اضْطَجَعَ» پھر لیٹ گئے – «حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ» یہاں تک کہ فجر طلوع ہو گئی – «فَصَلَّى الْفَجْرَ» پس فجر پڑھی – «حِينَ تَبَيَّنَ لَهُ» جب آپ کے لیے واضح ہو گئی – «الصُّبْحُ» صبح – «بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ» اذان اور اقامت کے ساتھ – «ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ» پھر قصواء پر سوار ہوئے – «حَتَّى أَتَى» یہاں تک کہ آئے – «الْمَشْعَرَ الْحَرَامَ» مشعر حرام پر – «فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ» پس قبلہ رخ ہوئے – «فَدَعَا» پس دعا کی – «وَكَبَّرَ» اور اللہ اکبر کہا – «وَهَلَّلَ» اور لا الہ الا اللہ کہا – «فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا» پس مسلسل ٹھہرے رہے – «حَتَّى أَسْفَرَ جِدًّا» یہاں تک کہ خوب روشنی ہو گئی – «فَدَفَعَ» پھر روانہ ہوئے – «قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ» سورج طلوع ہونے سے پہلے – «حَتَّى أَتَى» یہاں تک کہ آئے – «بَطْنَ مُحَسِّرٍ» وادی محسر میں – «فَحَرَّكَ قَلِيلًا» تو (سواری کو) کچھ تیز کیا – «ثُمَّ سَلَكَ» پھر چلے – «الطَّرِيقَ الْوُسْطَى» درمیانے راستے پر – «الَّتِي تَخْرُجُ» جو نکلتا ہے – «عَلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى» بڑے جمرہ پر – «حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ» یہاں تک کہ اس جمرہ پر آئے – «الَّتِي عِنْدَ الشَّجَرَةِ» جو درخت کے پاس ہے – «فَرَمَاهَا» پس اسے مارا – «بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ» سات کنکریوں سے – «يُكَبِّرُ» اللہ اکبر کہتے تھے – «مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا» ان میں سے ہر کنکری کے ساتھ – «مِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ» ٹھیکری (انگلیوں سے پھینکی جانے والی) کنکریوں جیسی – «رَمَى» آپ نے رمی کی – «مِنْ بَطْنِ الْوَادِي» وادی کے نشیب سے – «ثُمَّ انْصَرَفَ» پھر لوٹے – «إِلَى الْمَنْحَرِ» قربان گاہ کی طرف – «فَنَحَرَ» پس قربانی کی – «ثُمَّ رَكِبَ» پھر سوار ہوئے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَأَفَاضَ» پس (طواف افاضہ کے لیے) روانہ ہوئے – «إِلَى الْبَيْتِ» بیت اللہ کی طرف – «فَصَلَّى بِمَكَّةَ» پس مکہ میں پڑھی – «الظُّهْرَ» ظہر۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے – «مُطَوَّلًا» تفصیل کے ساتھ۔
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کیا تو ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ جب ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے ہاں بچہ پیدا ہوا۔ آپ نے فرمایا: ”غسل کر لو، کپڑے کا لنگوٹ باندھ لو اور احرام باندھ لو۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں نماز پڑھی، پھر قصواء (اونٹنی) پر سوار ہوئے، یہاں تک کہ جب وہ آپ کو لے کر بیداء پر سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ نے توحید والا تلبیہ بلند آواز سے پکارا: ”لبیک اللّٰہم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک، ان الحمد والنعمۃ لک والملک، لا شریک لک“ (میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں، بے شک تعریف، نعمت اور بادشاہی تیری ہی ہے، تیرا کوئی شریک نہیں)۔ یہاں تک کہ جب ہم بیت اللہ پہنچے تو آپ نے رکن (حجر اسود) کا استلام کیا، پھر تین چکروں میں رمل کیا اور چار میں عام رفتار سے چلے، پھر مقام ابراہیم کی طرف بڑھے اور نماز پڑھی، پھر رکن کی طرف لوٹ کر اس کا استلام کیا، پھر دروازے سے صفا کی طرف نکلے، جب صفا کے قریب ہوئے تو (آیت) پڑھی اور فرمایا: ”میں اسی سے شروع کرتا ہوں جس سے اللہ نے شروع کیا ہے۔“ پھر صفا پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ کو دیکھ لیا، قبلہ رخ ہوئے، اللہ کی توحید اور بڑائی بیان کی اور فرمایا: ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلے ہی (کافروں کے) لشکروں کو شکست دی۔“ پھر اس کے درمیان دعا کی، تین مرتبہ (ایسا کیا)، پھر مروہ کی طرف اترے، یہاں تک کہ جب آپ کے قدم وادی کے نشیب میں پہنچے تو دوڑے، اور جب (قدم) چڑھائی پر آئے تو عام رفتار سے چلے یہاں تک کہ مروہ پر آئے، اور مروہ پر بھی ویسے ہی کیا جیسے صفا پر کیا تھا۔ پھر (راوی نے) پوری حدیث ذکر کی، اور اس میں ہے: جب ترویہ کا دن (آٹھ ذوالحجہ) ہوا تو لوگ منیٰ کی طرف متوجہ ہوئے اور حج کا تلبیہ پکارا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہوئے اور وہاں (منیٰ میں) ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں پڑھیں، پھر تھوڑی دیر ٹھہرے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا، پھر آگے چلے یہاں تک کہ عرفہ آئے، تو دیکھا کہ نمرہ میں آپ کے لیے خیمہ لگا دیا گیا ہے، آپ اس میں اترے، یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا تو قصواء کے بارے میں حکم دیا، اس پر پالان کسا گیا، پھر آپ وادی کے نشیب میں آئے اور لوگوں کو خطبہ دیا، پھر اذان کہی گئی، پھر اقامت کہی گئی تو آپ نے ظہر پڑھائی، پھر اقامت کہی گئی تو عصر پڑھائی، اور ان دونوں کے درمیان کوئی (نفل) نماز نہیں پڑھی۔ پھر سوار ہو کر وقوف کی جگہ آئے، اپنی اونٹنی قصواء کا پیٹ چٹانوں کی طرف کیا اور پیدل چلنے والوں کے راستے (ریت کے ٹیلے) کو اپنے سامنے رکھا اور قبلہ رخ ہو گئے، پھر مسلسل ٹھہرے رہے یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا اور کچھ زردی بھی جاتی رہی اور سورج کی ٹکیہ پوری طرح غائب ہو گئی، تب آپ روانہ ہوئے، اور آپ نے قصواء کی مہار اس قدر کھینچ رکھی تھی کہ اس کا سر آپ کے پالان کے اگلے حصے سے لگ رہا تھا، اور آپ اپنے دائیں ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرما رہے تھے: ”اے لوگو! اطمینان سے، اطمینان سے۔“ جب بھی ریت کے کسی ٹیلے پر آتے تو اس کی مہار تھوڑی ڈھیلی کر دیتے تاکہ وہ چڑھ جائے، یہاں تک کہ مزدلفہ آئے اور وہاں ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ مغرب اور عشاء پڑھیں اور ان کے درمیان کوئی نفل نہیں پڑھے، پھر لیٹ گئے یہاں تک کہ فجر طلوع ہو گئی، اور جب صبح واضح ہو گئی تو اذان اور اقامت کے ساتھ فجر پڑھی، پھر قصواء پر سوار ہو کر مشعر حرام آئے، قبلہ رخ ہوئے، دعا کی، اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ کہا، اور مسلسل ٹھہرے رہے یہاں تک کہ خوب روشنی ہو گئی، پھر سورج طلوع ہونے سے پہلے روانہ ہوئے یہاں تک کہ وادی محسر میں آئے تو (سواری کو) کچھ تیز کیا، پھر درمیانے راستے پر چلے جو بڑے جمرہ پر نکلتا ہے، یہاں تک کہ اس جمرہ پر آئے جو درخت کے پاس ہے اور اسے سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے، (کنکریاں) ٹھیکری کی کنکریوں جیسی (چھوٹی) تھیں، آپ نے وادی کے نشیب سے رمی کی، پھر قربان گاہ کی طرف لوٹے اور قربانی کی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہوئے اور بیت اللہ کی طرف (طواف افاضہ کے لیے) روانہ ہوئے اور ظہر کی نماز مکہ میں پڑھی۔ اسے مسلم نے تفصیل کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 607]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الحج، باب حجة النبي صلي الله عليه وسلم، حديث:1218.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 608
وعن خزيمة بن ثابت رضي الله عنه: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان إذا فرغ من تلبيته في حج أو عمرة سأل الله رضوانه والجنة واستعاذ برحمته من النار. رواه الشافعي بإسناد ضعيف.
سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب حج یا عمرہ میں تلبیہ (یعنی لبیک) کہنے سے فارغ ہوتے تو اللہ تعالیٰ سے اس کی رضامندی اور جنت طلب کرتے اور اس کی رحمت کے ساتھ آگ سے پناہ مانگتے۔ اسے امام شافعی رحمہ اللہ نے ضعیف سند سے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 608]
«وَعَنْ» اور سے – «خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ» خزیمہ بن ثابت – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ النَّبِيَّ» کہ نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «كَانَ» تھے (کہ) – «إِذَا فَرَغَ» جب فارغ ہوتے – «مِنْ تَلْبِيَتِهِ» اپنے تلبیہ سے – «فِي حَجٍّ» حج میں – «أَوْ عُمْرَةٍ» یا عمرہ میں – «سَأَلَ اللَّهَ» اللہ سے مانگتے – «رِضْوَانَهُ» اس کی رضا مندی – «وَالْجَنَّةَ» اور جنت – «وَاسْتَعَاذَ» اور پناہ مانگتے – «بِرَحْمَتِهِ» اس کی رحمت کے ذریعے – «مِنَ النَّارِ» آگ سے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الشَّافِعِيُّ» شافعی نے – «بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ» ضعیف سند کے ساتھ۔
اور سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب حج یا عمرہ میں اپنے تلبیہ سے فارغ ہوتے تو اللہ تعالیٰ سے اس کی رضا مندی اور جنت کا سوال کرتے اور اس کی رحمت کے ذریعے آگ سے پناہ مانگتے۔ اسے شافعی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 608]
تخریج الحدیث: «أخرجه الشافعي في الأم:2 /157 عن إبراهيم بن محمد الأسلمي عن صالح بن محمد بن زائدة عن عمارة بن خزيمة عن أبيه به. * إبراهيم متروك وشيخه منكر الحديث كما قال البخاري رحمه الله.»

الحكم على الحديث:
ضعيف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں