بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب صفة الحج ودخول مكة
حج کا طریقہ اور دخول مکہ کا بیان
حدیث نمبر: 629
وعن ابن عمر رضي الله عنهما: أنه كان يرمي الجمرة الدنيا بسبع حصيات يكبر على إثر كل حصاة ثم يتقدم حتى يسهل فيقوم مستقبل القبلة ثم يدعو ويرفع يديه ويقوم طويلا ثم يرمي الوسطى ثم يأخذ ذات الشمال فيسهل ويقوم مستقبل القبلة ثم يدعو فيرفع يديه ويقوم طويلا ثم يرمي جمرة ذات العقبة من بطن الوادي ولا يقف عندها ثم ينصرف فيقول: هكذا رأيت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يفعله. رواه البخاري.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ سب سے قریبی جمرہ کو سات سنگریزے مارتے اور ہر کنکری مارتے وقت تکبیر کہتے۔ پھر آگے تشریف لے جاتے اور میدان میں آ کر کھڑے ہو جاتے اور قبلہ رخ ہو کر طویل قیام فرماتے اور اپنے ہاتھ اوپر اٹھا کر دعا کرتے۔ پھر جمرہ وسطی (درمیانہ شیطان) کو کنکریاں مارتے۔ پھر بائیں جانب ہو جاتے اور میدان میں آ کر قبلہ رخ کھڑے ہو جاتے۔ پھر اپنے ہاتھ اوپر اٹھاتے اور دعا فرماتے اور طویل قیام فرماتے۔ اس کے بعد جمرہ عقبہ کو کنکریاں وادی کی نچلی جگہ سے مارتے مگر وہاں قیام نہ فرماتے۔ پھر واپس تشریف لے آتے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح عمل کرتے دیکھا ہے۔ (بخاری) [بلوغ المرام/حدیث: 629]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّهُ كَانَ يَرْمِي» کہ وہ کنکریاں مارتے تھے – «الْجَمْرَةَ الدُّنْيَا» قریب والے جمرہ کو – «بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ» سات کنکریوں سے – «يُكَبِّرُ» اللہ اکبر کہتے – «عَلَى إِثْرِ كُلِّ حَصَاةٍ» ہر کنکری کے بعد – «ثُمَّ يَتَقَدَّمُ» پھر آگے بڑھتے – «حَتَّى يُسْهِلَ» یہاں تک کہ ہموار زمین میں آ جاتے – «فَيَقُومُ» پس کھڑے ہوتے – «مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ» قبلہ رخ ہو کر – «ثُمَّ يَدْعُو» پھر دعا کرتے – «وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ» اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے – «وَيَقُومُ طَوِيلًا» اور دیر تک کھڑے رہتے – «ثُمَّ يَرْمِي الْوُسْطَى» پھر درمیانے (جمرہ) کو مارتے – «ثُمَّ يَأْخُذُ ذَاتَ الشِّمَالِ» پھر بائیں جانب کو اختیار کرتے – «فَيُسْهِلُ» پس ہموار زمین میں آ جاتے – «وَيَقُومُ» اور کھڑے ہوتے – «مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ» قبلہ رخ ہو کر – «ثُمَّ يَدْعُو» پھر دعا کرتے – «فَيَرْفَعُ يَدَيْهِ» پس اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے – «وَيَقُومُ طَوِيلًا» اور دیر تک کھڑے رہتے – «ثُمَّ يَرْمِي» پھر مارتے – «جَمْرَةَ ذَاتِ الْعَقَبَةِ» جمرہ عقبہ کو – «مِنْ بَطْنِ الْوَادِي» وادی کے نشیب سے – «وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا» اور اس کے پاس نہیں ٹھہرتے – «ثُمَّ يَنْصَرِفُ» پھر لوٹ جاتے – «فَيَقُولُ» پس کہتے: – «هَكَذَا» اسی طرح – «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ» میں نے اللہ کے رسول کو دیکھا – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَفْعَلُهُ» اسے کرتے ہوئے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ قریب والے جمرہ کو سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے بعد اللہ اکبر کہتے، پھر آگے بڑھ کر ہموار زمین میں آ جاتے اور قبلہ رخ کھڑے ہو کر ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے اور دیر تک کھڑے رہتے، پھر درمیانے جمرہ کو کنکریاں مارتے، پھر بائیں جانب ہو کر ہموار زمین میں آتے اور قبلہ رخ کھڑے ہو کر ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے اور دیر تک کھڑے رہتے، پھر وادی کے نشیب سے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے اور اس کے پاس نہ ٹھہرتے، پھر لوٹ جاتے اور کہتے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 629]
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ قریب والے جمرہ کو سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے بعد اللہ اکبر کہتے، پھر آگے بڑھ کر ہموار زمین میں آ جاتے اور قبلہ رخ کھڑے ہو کر ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے اور دیر تک کھڑے رہتے، پھر درمیانے جمرہ کو کنکریاں مارتے، پھر بائیں جانب ہو کر ہموار زمین میں آتے اور قبلہ رخ کھڑے ہو کر ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے اور دیر تک کھڑے رہتے، پھر وادی کے نشیب سے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے اور اس کے پاس نہ ٹھہرتے، پھر لوٹ جاتے اور کہتے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 629]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحج، باب إذا رمي الجمرتين يقوم مستقبل القبلة ويسهل، حديث:1751.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 630
وعنه رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «اللهم ارحم المحلقين» قالوا:والمقصرين يا رسول الله؟قال في الثالثة:«والمقصرين» . متفق عليه.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ہی یہ حدیث بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”الٰہی سر منڈانے والے حاجیوں پر رحم فرما“ صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! بال ترشوانے والے پر بھی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا ”بال ترشوانے والوں پر بھی۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 630]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ» کہ اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» فرمایا: – «اللَّهُمَّ» اے اللہ – «ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ» سر منڈانے والوں پر رحم فرما – «قَالُوا» انہوں نے عرض کیا: – «وَالْمُقَصِّرِينَ» اور بال کتروانے والوں پر (بھی) – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول؟ – «قَالَ فِي الثَّالِثَةِ» آپ نے تیسری بار فرمایا: – «وَالْمُقَصِّرِينَ» اور بال کتروانے والوں پر (بھی)۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور انہی (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈانے والوں پر رحم فرما۔“ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اور بال کتروانے والوں پر؟ تو آپ نے تیسری مرتبہ فرمایا: ”اور بال کتروانے والوں پر (بھی)۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 630]
اور انہی (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈانے والوں پر رحم فرما۔“ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اور بال کتروانے والوں پر؟ تو آپ نے تیسری مرتبہ فرمایا: ”اور بال کتروانے والوں پر (بھی)۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 630]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحج، باب الحلق والتقصير عند الإحلال، حديث:1728، ومسلم، الحج، باب تفضيل الحلق علي التقصير...، حديث:1301.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 631
وعن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وقف في حجة الوداع فجعلوا يسألونه فقال رجل: لم أشعر فحلقت قبل أن أذبح؟ قال: «اذبح ولا حرج» فجاء آخر فقال: لم أشعر فنحرت قبل أن أرمي؟ قال: «ارم ولا حرج» فما سئل يومئذ عن شيء قدم ولا أخر إلا قال: «افعل ولا حرج» . متفق عليه.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں ایک مقام پر کھڑے ہو گئے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کرنے شروع کیے۔ کسی نے کہا کہ مجھے علم نہیں تھا اور میں نے قربانی سے پہلے حجامت بنوا لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا ”قربانی کرو، کوئی حرج نہیں“ اور ایک آدمی نے عرض کیا ”مجھے معلوم نہیں تھا اور میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کر لی“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا ”اب کنکریاں مار لے، کوئی حرج نہیں“ اس روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی عمل کے مقدم و مؤخر کرنے کے متعلق استفسار پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جاؤ اب کر لو، کوئی حرج نہیں۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 631]
«وَعَنْ» اور سے – «عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ» عبداللہ بن عمرو بن العاص – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ» کہ اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «وَقَفَ» ٹھہرے – «فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ» حجۃ الوداع میں – «فَجَعَلُوا يَسْأَلُونَهُ» تو لوگ آپ سے پوچھنے لگے – «فَقَالَ رَجُلٌ» پس ایک آدمی نے کہا: – «لَمْ أَشْعُرْ» مجھے خیال نہ رہا – «فَحَلَقْتُ» تو میں نے سر منڈا لیا – «قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ» ذبح کرنے سے پہلے؟ – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «اذْبَحْ» ذبح کر لو – «وَلَا حَرَجَ» اور کوئی حرج نہیں – «فَجَاءَ آخَرُ» پھر دوسرا آیا – «فَقَالَ» اور کہا: – «لَمْ أَشْعُرْ» مجھے خیال نہ رہا – «فَنَحَرْتُ» تو میں نے قربانی کر لی – «قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ» کنکریاں مارنے سے پہلے؟ – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «ارْمِ» کنکریاں مار لو – «وَلَا حَرَجَ» اور کوئی حرج نہیں – «فَمَا سُئِلَ» پس آپ سے نہیں پوچھا گیا – «يَوْمَئِذٍ» اس دن – «عَنْ شَيْءٍ» کسی چیز کے بارے میں – «قُدِّمَ وَلَا أُخِّرَ» جو مقدم کی گئی یا مؤخر کی گئی – «إِلَّا قَالَ» مگر آپ نے فرمایا: – «افْعَلْ» کر لو – «وَلَا حَرَجَ» اور کوئی حرج نہیں۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجۃ الوداع میں (منیٰ میں) ٹھہرے تو لوگ آپ سے مسائل پوچھنے لگے۔ ایک آدمی نے کہا: مجھے خیال نہ رہا اور میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈا لیا؟ آپ نے فرمایا: ”اب ذبح کر لو، کوئی حرج نہیں۔“ پھر دوسرا آیا اور کہا: مجھے خیال نہ رہا اور میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کر لی؟ آپ نے فرمایا: ”اب کنکریاں مار لو، کوئی حرج نہیں۔“ پس اس دن آپ سے جس کام کے بھی آگے پیچھے ہو جانے کے بارے میں پوچھا گیا، آپ نے یہی فرمایا: ”کر لو، کوئی حرج نہیں۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 631]
اور سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجۃ الوداع میں (منیٰ میں) ٹھہرے تو لوگ آپ سے مسائل پوچھنے لگے۔ ایک آدمی نے کہا: مجھے خیال نہ رہا اور میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈا لیا؟ آپ نے فرمایا: ”اب ذبح کر لو، کوئی حرج نہیں۔“ پھر دوسرا آیا اور کہا: مجھے خیال نہ رہا اور میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کر لی؟ آپ نے فرمایا: ”اب کنکریاں مار لو، کوئی حرج نہیں۔“ پس اس دن آپ سے جس کام کے بھی آگے پیچھے ہو جانے کے بارے میں پوچھا گیا، آپ نے یہی فرمایا: ”کر لو، کوئی حرج نہیں۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 631]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحج، باب الفتيا علي الدابة عند الجمرة، حديث:1738، ومسلم، الحج، باب جواز تقديم الذبح علي الرمي....، حديث:1306.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 632
وعن المسور بن مخرمة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم نحر قبل أن يحلق وأمر أصحابه بذلك. رواه البخاري.
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود قربانی حجامت کرانے سے پہلے کی اور اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اس کا حکم دیا۔ (بخاری) [بلوغ المرام/حدیث: 632]
«وَعَنِ» اور سے – «الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ» مسور بن مخرمہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ» کہ اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «نَحَرَ» قربانی کی – «قَبْلَ أَنْ يَحْلِقَ» سر منڈانے سے پہلے – «وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ» اور اپنے صحابہ کو حکم دیا – «بِذَلِكَ» اسی کا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
اور سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر منڈانے سے پہلے قربانی کی اور اپنے صحابہ کو بھی اسی کا حکم دیا۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 632]
اور سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر منڈانے سے پہلے قربانی کی اور اپنے صحابہ کو بھی اسی کا حکم دیا۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 632]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، المحصر، باب النحر قبل الحلق في الحصر، حديث:1812.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 633
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «إذا رميتم وحلقتم فقد حل لكم الطيب وكل شيء إلا النساء» . رواه أحمد وأبو داود وفي إسناده ضعف.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب کنکریاں مار چکو اور سر کے بال منڈوا لو تو تمہارے لیے خوشبو اور بیویوں کے علاوہ ہر چیز حلال ہو گئی۔“ اسے احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا اور اس کی سند میں ضعف ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 633]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے فرمایا – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِذَا رَمَيْتُمْ» جب تم کنکریاں مار لو – «وَحَلَقْتُمْ» اور سر منڈا لو – «فَقَدْ حَلَّ لَكُمُ» تو تمہارے لیے حلال ہو گئی – «الطِّيبُ» خوشبو – «وَكُلُّ شَيْءٍ» اور ہر چیز – «إِلَّا النِّسَاءَ» سوائے عورتوں کے۔ – «رَوَاهُ أَحْمَدُ» اسے احمد نے روایت کیا – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود نے – «وَفِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ» اور اس کی سند میں کمزوری ہے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کنکریاں مار لو اور سر منڈا لو تو تمہارے لیے خوشبو اور ہر چیز حلال ہو گئی سوائے عورتوں (بیویوں) کے۔“ اسے احمد اور ابو داود نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں کمزوری ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 633]
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کنکریاں مار لو اور سر منڈا لو تو تمہارے لیے خوشبو اور ہر چیز حلال ہو گئی سوائے عورتوں (بیویوں) کے۔“ اسے احمد اور ابو داود نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں کمزوری ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 633]
تخریج الحدیث: «أخرجه أحمد:6 /143، وأبوداود، المناسك، حديث:1978، وابن خزيمة، حديث:2937، حجاج بن أرطاه ضعيف مدلس، وللحديث شواهد ضعيفة.»
الحكم على الحديث:
ضعيف
حدیث نمبر: 634
وعن ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «ليس على النساء حلق وإنما يقصرن» . رواه أبو داود بإسناد حسن.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عورتوں کے لیے منڈوانا نہیں بلکہ ان کے لیے صرف بال ترشوانا ہے۔“ اسے ابوداؤد نے حسن سند سے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 634]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ النَّبِيَّ» کہ نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» فرمایا: – «لَيْسَ عَلَى النِّسَاءِ» عورتوں پر نہیں ہے – «حَلْقٌ» سر منڈانا – «وَإِنَّمَا يُقَصِّرْنَ» وہ صرف بال کتروائیں گی۔ – «رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ» اسے ابو داود نے روایت کیا – «بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ» حسن سند کے ساتھ۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں پر سر منڈانا نہیں، وہ صرف بال کتروائیں گی۔“ اسے ابو داود نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 634]
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں پر سر منڈانا نہیں، وہ صرف بال کتروائیں گی۔“ اسے ابو داود نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 634]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، المناسك، باب الحلق والتقصير، حديث:1985.»
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 635
وعن ابن عمر رضي الله عنهما أن العباس بن عبد المطلب رضي الله عنه استأذن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أن يبيت بمكة ليالي منى من أجل سقايته فأذن له.متفق عليه.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ وہ منٰی والی راتیں مکہ میں کاٹیں تاکہ وہ آب زمزم پلا سکیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دیدے دی۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 635]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ» کہ عباس بن عبدالمطلب – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ» نے اللہ کے رسول سے اجازت مانگی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ» کہ وہ مکہ میں رات گزاریں – «لَيَالِيَ مِنًى» منیٰ کی راتیں – «مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ» اپنے (حاجیوں کو) پانی پلانے کی وجہ سے – «فَأَذِنَ لَهُ» تو آپ نے انہیں اجازت دے دی۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت مانگی کہ وہ (حاجیوں کو زمزم) پلانے کی خدمت کی وجہ سے منیٰ کی راتیں مکہ میں گزاریں، تو آپ نے انہیں اجازت دے دی۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 635]
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت مانگی کہ وہ (حاجیوں کو زمزم) پلانے کی خدمت کی وجہ سے منیٰ کی راتیں مکہ میں گزاریں، تو آپ نے انہیں اجازت دے دی۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 635]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحج، باب سقاية الحاج، حديث:1634، ومسلم، الحج، باب وجوب المبيت بمني ليالي أيام التشريق، حديث:1315.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 636
وعن عاصم بن عدي رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أرخص لرعاة الإبل في البيتوته عن منى يرمون يوم النحر، ثم يرمون الغد ومن بعد الغد ليومين، ثم يرمون يوم النفر.رواه الخمسة وصححه الترمذي وابن حبان.
سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے چرواہوں کو منی سے باہر رات گزارنے کی اجازت دے دی کہ قربانی کے دن کنکریاں ماریں پھر دوسرے اور تیسرے دو روز بھی کنکریاں ماریں پھر کوچ کے سنگریزے ماریں۔ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے ترمذی اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 636]
«وَعَنْ» اور سے – «عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ» عاصم بن عدی – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ» کہ اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَرْخَصَ» رخصت دی – «لِرُعَاةِ الْإِبِلِ» اونٹوں کے چرواہوں کو – «فِي الْبَيْتُوتَةِ عَنْ مِنًى» منیٰ سے باہر رات گزارنے میں – «يَرْمُونَ يَوْمَ النَّحْرِ» وہ قربانی کے دن کنکریاں ماریں – «ثُمَّ يَرْمُونَ الْغَدَ» پھر اگلے دن ماریں – «وَمِنْ بَعْدِ الْغَدِ» اور اس کے بعد والے دن – «لِيَوْمَيْنِ» دو دنوں کی – «ثُمَّ يَرْمُونَ» پھر ماریں – «يَوْمَ النَّفْرِ» روانگی کے دن۔ – «رَوَاهُ الْخَمْسَةُ» اسے پانچوں نے روایت کیا – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی – «وَابْنُ حِبَّانَ» اور ابن حبان نے۔
اور سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹوں کے چرواہوں کو منیٰ سے باہر رات گزارنے کی رخصت دی کہ وہ قربانی کے دن کنکریاں ماریں، پھر اگلے دن اور اس کے بعد والے دن کی، دو دنوں کی (اکٹھی) کنکریاں ماریں، پھر روانگی کے دن کنکریاں ماریں۔ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 636]
اور سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹوں کے چرواہوں کو منیٰ سے باہر رات گزارنے کی رخصت دی کہ وہ قربانی کے دن کنکریاں ماریں، پھر اگلے دن اور اس کے بعد والے دن کی، دو دنوں کی (اکٹھی) کنکریاں ماریں، پھر روانگی کے دن کنکریاں ماریں۔ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 636]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، المناسك، باب في رمي الجمار، حديث:1975، والترمذي، الحج، حديث:955، والنسائي، مناسك الحج، حديث:3071، وابن ماجه، المناسك، حديث:3037، وأحمد:5 /450، وابن حبان (موارد):1015.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 637
وعن أبي بكرة رضي الله عنه قال: خطبنا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يوم النحر، الحديث. متفق عليه.
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے روز خطبہ دیا اور ساری حدیث ذکر کی۔ (بخاری ومسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 637]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي بَكْرَةَ» ابو بکرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے ہمیں خطبہ دیا – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَوْمَ النَّحْرِ» قربانی کے دن – «الْحَدِيثَ» (پھر پوری) حدیث (ذکر کی)۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کے دن ہمیں خطبہ دیا۔ (پھر پوری) حدیث (ذکر کی)۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 637]
اور سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کے دن ہمیں خطبہ دیا۔ (پھر پوری) حدیث (ذکر کی)۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 637]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحج، باب الخطبة أيام مني، حديث:1741، ومسلم، القسامة، باب تغليظ تحريم الدماء والأعراض والأموال، حديث:1679.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 638
وعن سراء بنت نبهان رضي الله عنها قالت: خطبنا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يوم الرؤوس فقال: «أليس هذا أوسط أيام التشريق؟» الحديث. رواه أبو داود بإسناد حسن.
سیدہ سراء بنت نبھان رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سروں والے دن خطاب فرمایا اور فرمایا ”کیا یہ دن ایام تشریق کا درمیانہ دن نہیں ہے؟“ اور ساری حدیث ذکر کی۔ اسے ابوداؤد نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 638]
«وَعَنْ» اور سے – «سَرَّاءَ بِنْتِ نَبْهَانَ» سراء بنت نبہان – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے ہمیں خطبہ دیا – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَوْمَ الرُّءُوسِ» سروں والے دن (قربانی کے دوسرے دن) – «فَقَالَ» پس فرمایا: – «أَلَيْسَ هَذَا» کیا یہ نہیں ہے – «أَوْسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ» ایام تشریق کا درمیانی دن؟ – «الْحَدِيثَ» (پھر پوری) حدیث (ذکر کی)۔ – «رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ» اسے ابو داود نے روایت کیا – «بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ» حسن سند کے ساتھ۔
اور سیدہ سراء بنت نبہان رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم الرءوس (قربانی کے دوسرے دن) ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: ”کیا یہ ایام تشریق کا درمیانی دن نہیں ہے؟“ (پھر پوری) حدیث (ذکر کی)۔ اسے ابو داود نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 638]
اور سیدہ سراء بنت نبہان رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم الرءوس (قربانی کے دوسرے دن) ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: ”کیا یہ ایام تشریق کا درمیانی دن نہیں ہے؟“ (پھر پوری) حدیث (ذکر کی)۔ اسے ابو داود نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 638]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، المناسك، باب أي يوم يخطب بمني، حديث:1953.»
الحكم على الحديث:
حسن