بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب صفة الحج ودخول مكة
حج کا طریقہ اور دخول مکہ کا بیان
حدیث نمبر: 619
وعن أنس رضي الله عنه قال: كان يهل منا المهل فلا ينكر عليه ويكبر منا المكبر فلا ينكر عليه. متفق عليه.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم میں سے کچھ لوگ «لا إله إلا الله» کہتے تھے، اسے بھی برا نہیں سمجھا جاتا تھا اور بعض ہم میں سے تکبیریں کہتے تھے ان کو بھی برا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 619]
«وَعَنْ» اور سے – «أَنَسٍ» انس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «كَانَ يُهِلُّ» تلبیہ کہتا تھا – «مِنَّا الْمُهِلُّ» ہم میں سے تلبیہ کہنے والا – «فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ» تو اس پر اعتراض نہیں کیا جاتا تھا – «وَيُكَبِّرُ» اور تکبیر کہتا تھا – «مِنَّا الْمُكَبِّرُ» ہم میں سے تکبیر کہنے والا – «فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ» تو اس پر اعتراض نہیں کیا جاتا تھا۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: (عرفہ کی طرف جاتے ہوئے) ہم میں سے تلبیہ کہنے والا تلبیہ کہتا تو اس پر اعتراض نہ کیا جاتا، اور تکبیر کہنے والا تکبیر کہتا تو اس پر بھی اعتراض نہ کیا جاتا۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 619]
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: (عرفہ کی طرف جاتے ہوئے) ہم میں سے تلبیہ کہنے والا تلبیہ کہتا تو اس پر اعتراض نہ کیا جاتا، اور تکبیر کہنے والا تکبیر کہتا تو اس پر بھی اعتراض نہ کیا جاتا۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 619]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحج، باب التلبية والتكبير إذا غدا من مني إلي عرفة، حديث:1659، ومسلم، الحج، باب التلبية والتكبير في الذهاب من مني إلي عرفات في يوم عرفة، حديث:1285.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 620
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: بعثني رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في الثقل, أو قال في الضعفة من جمع () بليل. متفق عليه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافروں کے سامان کے ساتھ (یا فرمایا) کہ کمزوروں کے ساتھ رات ہی کو مزدلفہ سے (منیٰ کی جانب) بھیج دیا تھا۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 620]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے مجھے بھیجا – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فِي الثَّقَلِ» سامان (والوں) کے ساتھ – «أَوْ قَالَ» یا کہا: – «فِي الضَّعَفَةِ» کمزوروں کے ساتھ – «مِنْ جَمْعٍ» مزدلفہ سے – «بِلَيْلٍ» رات کے وقت۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سامان کے ساتھ، یا کہا: کمزوروں کے ساتھ، مزدلفہ سے رات ہی کو (منیٰ) روانہ کر دیا۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 620]
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سامان کے ساتھ، یا کہا: کمزوروں کے ساتھ، مزدلفہ سے رات ہی کو (منیٰ) روانہ کر دیا۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 620]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحج، باب من قدم ضعفة أهله بليل.....، حديث:1677، ومسلم، الحج، باب استحباب تقديم دفع الضعفة من النساء وغير هن من مزدلفة إلي مني...، حديث:1293.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 621
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: استأذنت سودة رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ليلة المزدلفة أن تدفع قبله وكانت ثبطة تعني ثقيلة فأذن لها. متفق عليه.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے مزدلفہ کی رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے واپس آ جائیں (یہ اجازت انہوں نے اس لئے طلب کی) کہ بھاری جسم والی تھیں۔ (اس وجہ سے آہستہ آہستہ اور ٹھہر ٹھہر کر چلتی تھیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 621]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَةُ» سودہ نے اجازت مانگی – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ» مزدلفہ کی رات – «أَنْ تَدْفَعَ قَبْلَهُ» کہ وہ آپ سے پہلے روانہ ہو جائیں – «وَكَانَتْ ثَبِطَةً» اور وہ ثبطہ تھیں – «تَعْنِي ثَقِيلَةً» یعنی بھاری جسم والی – «فَأَذِنَ لَهَا» تو آپ نے انہیں اجازت دے دی۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے مزدلفہ کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت مانگی کہ وہ آپ سے پہلے روانہ ہو جائیں، اور وہ ثبطہ یعنی بھاری جسم والی تھیں، تو آپ نے انہیں اجازت دے دی۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 621]
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے مزدلفہ کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت مانگی کہ وہ آپ سے پہلے روانہ ہو جائیں، اور وہ ثبطہ یعنی بھاری جسم والی تھیں، تو آپ نے انہیں اجازت دے دی۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 621]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحج، باب من قدم ضعفة أهله بليل....، حديث:1681، ومسلم، الحج، باب استحباب تقديم دفع الضعفة من النساء وغيرهن من مذدلفة إلي مني...، حديث:1290.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 622
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال لنا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «لا ترموا الجمرة حتى تطلع الشمس» . رواه الخمسة إلا النسائي وفيه انقطاع.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ”طلوع آفتاب سے پہلے کنکریاں نہ مارو۔“ اسے نسائی کے علاوہ پانچوں نے روایت کیا ہے اس کی سند میں انقطاع ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 622]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے ہم سے فرمایا – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ» جمرہ کو کنکریاں نہ مارو – «حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ» یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے۔ – «رَوَاهُ الْخَمْسَةُ» اسے پانچوں نے روایت کیا – «إِلَّا النَّسَائِيَّ» سوائے نسائی کے – «وَفِيهِ انْقِطَاعٌ» اور اس میں انقطاع ہے۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”سورج طلوع ہونے سے پہلے جمرہ کو کنکریاں نہ مارو۔“ اسے نسائی کے سوا پانچوں نے روایت کیا ہے اور اس (کی سند) میں انقطاع ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 622]
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”سورج طلوع ہونے سے پہلے جمرہ کو کنکریاں نہ مارو۔“ اسے نسائی کے سوا پانچوں نے روایت کیا ہے اور اس (کی سند) میں انقطاع ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 622]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، المناسك، باب التعجيل من جمع، حديث:1940، والترمذي، الحج، حديث:893، وابن ماجه، المناسك، حديث:3025، وأحمد:1 /234، 277 "الحسن العريني أرسل عن ابن عباس" كما في التقريب (1252)، وللحديث شواهد ضعيفة.»
الحكم على الحديث:
ضعيف
حدیث نمبر: 623
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: أرسل النبي صلى الله عليه وآله وسلم بأم سلمة ليلة النحر فرمت الجمرة قبل الفجر ثم مضت فأفاضت.رواه أبو داود وإسناده على شرط مسلم.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو قربانی والی رات پہلے بھیج دیا تھا۔ انہوں نے فجر کے طلوع ہونے سے پہلے کنکریاں ماریں پھر جا کر طواف افاضہ کیا۔ اسے ابوداؤد نے روایت کیا اس کی سند مسلم کی شرط پر ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 623]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «أَرْسَلَ النَّبِيُّ» نبی نے بھیجا – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «بِأُمِّ سَلَمَةَ» ام سلمہ کو – «لَيْلَةَ النَّحْرِ» قربانی کی رات – «فَرَمَتِ الْجَمْرَةَ» تو انہوں نے جمرہ کو کنکریاں ماریں – «قَبْلَ الْفَجْرِ» فجر سے پہلے – «ثُمَّ مَضَتْ» پھر چلی گئیں – «فَأَفَاضَتْ» پس طواف افاضہ کیا۔ – «رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ» اسے ابو داود نے روایت کیا – «وَإِسْنَادُهُ» اور اس کی سند – «عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ» مسلم کی شرط پر ہے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کی رات سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو (پہلے) بھیج دیا تو انہوں نے فجر سے پہلے جمرہ کو کنکریاں ماریں، پھر (مکہ) جا کر طواف افاضہ کیا۔ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے اور اس کی سند مسلم کی شرط پر ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 623]
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کی رات سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو (پہلے) بھیج دیا تو انہوں نے فجر سے پہلے جمرہ کو کنکریاں ماریں، پھر (مکہ) جا کر طواف افاضہ کیا۔ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے اور اس کی سند مسلم کی شرط پر ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 623]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، المناسك، باب التعجيل من جمع، حديث:1942.»
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 624
وعن عروة بن مضرس رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «من شهد صلاتنا هذه يعني بالمزدلفة فوقف معنا حتى ندفع وقد وقف بعرفة قبل ذلك ليلا أو نهارا فقد تم حجه وقضى تفثه» . رواه الخمسة وصححه الترمذي وابن خزيمة.
سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو کوئی مزدلفہ میں ہماری نماز میں شامل ہوا اور ہمارے ساتھ وقوف کیا یہاں تک کہ ہم نے کوچ کیا اور اس سے قبل عرفات میں رات یا دن میں قیام کر چکا ہو تو اس کا حج مکمل ہو گیا اور اس نے اپنی میل کچیل اتار لی۔“ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے ترمذی اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 624]
«وَعَنْ» اور سے – «عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ» عروہ بن مضرس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے فرمایا – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مَنْ شَهِدَ» جو حاضر ہوا – «صَلَاتَنَا هَذِهِ» ہماری اس نماز میں – «يَعْنِي بِالْمُزْدَلِفَةِ» یعنی مزدلفہ میں – «فَوَقَفَ مَعَنَا» اور ہمارے ساتھ ٹھہرا – «حَتَّى نَدْفَعَ» یہاں تک کہ ہم روانہ ہوں – «وَقَدْ وَقَفَ» اور وہ ٹھہر چکا ہو – «بِعَرَفَةَ» عرفہ میں – «قَبْلَ ذَلِكَ» اس سے پہلے – «لَيْلًا أَوْ نَهَارًا» رات یا دن میں – «فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ» تو یقیناً اس کا حج پورا ہو گیا – «وَقَضَى تَفَثَهُ» اور اس نے اپنا میل کچیل دور کر لیا۔ – «رَوَاهُ الْخَمْسَةُ» اسے پانچوں نے روایت کیا – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی – «وَابْنُ خُزَيْمَةَ» اور ابن خزیمہ نے۔
اور سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو ہماری اس نماز میں، یعنی مزدلفہ میں، حاضر ہوا اور ہمارے ساتھ ٹھہرا رہا یہاں تک کہ ہم روانہ ہوں، اور وہ اس سے پہلے رات یا دن میں عرفہ میں وقوف کر چکا ہو، تو اس کا حج پورا ہو گیا اور اس نے اپنا میل کچیل دور کر لیا (یعنی احرام کھولنے کا وقت آ گیا)۔“ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 624]
اور سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو ہماری اس نماز میں، یعنی مزدلفہ میں، حاضر ہوا اور ہمارے ساتھ ٹھہرا رہا یہاں تک کہ ہم روانہ ہوں، اور وہ اس سے پہلے رات یا دن میں عرفہ میں وقوف کر چکا ہو، تو اس کا حج پورا ہو گیا اور اس نے اپنا میل کچیل دور کر لیا (یعنی احرام کھولنے کا وقت آ گیا)۔“ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 624]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، المناسك، باب من لم يدرك عرفة، حديث:1950، والترمذي، الحج، حديث:891، والنسائي، مناسك الحج، حديث:3042، وابن ماجه، المناسك، حديث:3016، وأحمد:4 /261، وابن خزيمة:4 /256، وابن حبان(الإحسان):6 /61، حديث:3839، 3840، والحاكم:1 /463 وصححه، ووافقه الذهبي.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 625
وعن عمر رضي عنه قال: إن المشركين كانوا لا يفيضون حتى تطلع الشمس ويقولون: أشرق ثبير وإن النبي صلى الله عليه وآله وسلم خالفهم فأفاض قبل أن تطلع الشمس. رواه البخاري.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مشرکین طلوع آفتاب کے بعد واپس لوٹتے تھے اور کہتے تھے، ثبیر (ایک پہاڑ کا نام) روشن ہو گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت کی اور طلوع آفتاب سے پہلے تشریف لے آئے۔ (بخاری) [بلوغ المرام/حدیث: 625]
«وَعَنْ» اور سے – «عُمَرَ» عمر – «رَضِيَ عَنْهُ» (اللہ) ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «إِنَّ الْمُشْرِكِينَ» بے شک مشرکین – «كَانُوا لَا يُفِيضُونَ» روانہ نہیں ہوتے تھے – «حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ» یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے – «وَيَقُولُونَ» اور کہتے تھے: – «أَشْرِقْ ثَبِيرُ» اے ثبیر! روشن ہو جا – «وَإِنَّ النَّبِيَّ» اور بے شک نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «خَالَفَهُمْ» ان کی مخالفت کی – «فَأَفَاضَ» پس روانہ ہوئے – «قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ» سورج طلوع ہونے سے پہلے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مشرکین (مزدلفہ سے) سورج طلوع ہونے تک روانہ نہیں ہوتے تھے اور کہتے تھے: اے ثبیر (پہاڑ)! روشن ہو جا، اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی مخالفت کی اور سورج طلوع ہونے سے پہلے روانہ ہو گئے۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 625]
اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مشرکین (مزدلفہ سے) سورج طلوع ہونے تک روانہ نہیں ہوتے تھے اور کہتے تھے: اے ثبیر (پہاڑ)! روشن ہو جا، اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی مخالفت کی اور سورج طلوع ہونے سے پہلے روانہ ہو گئے۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 625]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحج، باب متي يدفع من جمع، حديث:1684.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 626
وعن ابن عباس وأسامة بن زيد رضي الله عنهم قالا: لم يزل للنبي صلى الله عليه وآله وسلم يلبي حتى رمى جمرة العقبة. رواه البخاري.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما دونوں سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ (چھوٹا شیطان) کو کنکری مارنے تک تلبیہ کہتے رہے۔ (بخاری) [بلوغ المرام/حدیث: 626]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ» اور اسامہ بن زید – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَا» ان دونوں نے کہا: – «لَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ» نبی مسلسل – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يُلَبِّي» تلبیہ کہتے رہے – «حَتَّى رَمَى» یہاں تک کہ کنکریاں ماریں – «جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ» جمرہ عقبہ کو۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
اور سیدنا ابن عباس اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم سے روایت ہے، ان دونوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلسل تلبیہ کہتے رہے یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 626]
اور سیدنا ابن عباس اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم سے روایت ہے، ان دونوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلسل تلبیہ کہتے رہے یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 626]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحج، باب التلبية والتكبير غداة النحر، حديث:1685.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 627
وعن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه: أنه جعل البيت عن يساره ومني عن يمينه ورمى الجمرة بسبع حصيات وقال: هذا مقام الذي أنزلت عليه سورة البقرة. متفق عليه.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ انہوں نے بیت اللہ کو اپنی بائیں جانب اور منٰی کو اپنی دائیں جانب رکھا اور جمرہ کو سات سنگریزے مارے اور فرمایا کہ یہ ان ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے جن پر سورۃ «البقره» کا نزول ہوا تھا۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 627]
«وَعَنْ» اور سے – «عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ» عبداللہ بن مسعود – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّهُ جَعَلَ الْبَيْتَ» کہ انہوں نے بیت اللہ کو کیا – «عَنْ يَسَارِهِ» اپنے بائیں طرف – «وَمِنًى عَنْ يَمِينِهِ» اور منیٰ کو اپنے دائیں طرف – «وَرَمَى الْجَمْرَةَ» اور جمرہ کو مارا – «بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ» سات کنکریوں سے – «وَقَالَ» اور کہا: – «هَذَا مَقَامُ» یہ کھڑے ہونے کی جگہ ہے – «الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ» اس (ہستی) کی جس پر نازل کی گئی – «سُورَةُ الْبَقَرَةِ» سورۃ البقرہ۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیت اللہ کو اپنے بائیں طرف اور منیٰ کو اپنے دائیں طرف رکھا اور جمرہ کو سات کنکریاں ماریں اور کہا: یہی اس ہستی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے جن پر سورۃ البقرہ نازل کی گئی۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 627]
اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیت اللہ کو اپنے بائیں طرف اور منیٰ کو اپنے دائیں طرف رکھا اور جمرہ کو سات کنکریاں ماریں اور کہا: یہی اس ہستی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے جن پر سورۃ البقرہ نازل کی گئی۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 627]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحج، باب رمي الجمار بسبع حصيات، حديث:1748، ومسلم، الحج، باب رمي جمرة العقبة من بطن الوادي، حديث:1296.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 628
وعن جابر رضي الله عنه قال: رمى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم الجمرة يوم النحر ضحى وأما بعد ذلك فإذا زالت الشمس. رواه مسلم.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ کو قربانی کے روز چاشت کے وقت کنکریاں ماریں اور اس روز کے بعد آفتاب ڈھلنے کے بعد۔ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 628]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرٍ» جابر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «رَمَى رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے کنکریاں ماریں – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «الْجَمْرَةَ» جمرہ کو – «يَوْمَ النَّحْرِ» قربانی کے دن – «ضُحًى» چاشت کے وقت – «وَأَمَّا بَعْدَ ذَلِكَ» اور رہا اس کے بعد – «فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ» تو جب سورج ڈھل جاتا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کے دن چاشت کے وقت جمرہ کو کنکریاں ماریں، اور اس کے بعد (کے دنوں میں) سورج ڈھلنے کے بعد۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 628]
اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کے دن چاشت کے وقت جمرہ کو کنکریاں ماریں، اور اس کے بعد (کے دنوں میں) سورج ڈھلنے کے بعد۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 628]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الحج، باب بيان وقت استحباب الرمي، حديث:1299.»
الحكم على الحديث:
صحيح