بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب صفة الحج ودخول مكة
حج کا طریقہ اور دخول مکہ کا بیان
حدیث نمبر: 639
وعن عائشة رضي الله عنها: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال لها: «طوافك بالبيت وسعيك بين الصفا والمروة يكفيك لحجك وعمرتك» . رواه مسلم.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ”تیرا بیت اللہ کا طواف کر لینا صفا اور مروہ کے مابین سعی کر لینا حج اور عمرے کے لئے کافی ہے۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 639]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ النَّبِيَّ» کہ نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ لَهَا» ان سے فرمایا: – «طَوَافُكِ بِالْبَيْتِ» تمہارا بیت اللہ کا طواف – «وَسَعْيُكِ» اور تمہاری سعی – «بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ» صفا اور مروہ کے درمیان – «يَكْفِيكِ» تمہیں کافی ہے – «لِحَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ» تمہارے حج اور عمرہ کے لیے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تمہارا بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کے درمیان سعی تمہارے حج اور عمرہ (دونوں) کے لیے کافی ہے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 639]
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تمہارا بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کے درمیان سعی تمہارے حج اور عمرہ (دونوں) کے لیے کافی ہے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 639]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الحج، باب بيان وجوه الإحرام....، حديث:132، 133-(1211).»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 640
وعن ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم لم يرمل في السبع الذي أفاض فيه. رواه الخمسة إلا الترمذي وصححه الحاكم.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف افاضہ میں طواف کے سات چکروں (پھیروں) میں کسی چکر میں بھی رمل نہیں فرمایا۔ اسے ترمذی کے علاوہ پانچوں نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 640]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ النَّبِيَّ» کہ نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَمْ يَرْمُلْ» رمل نہیں کیا – «فِي السَّبْعِ» ان سات (چکروں) میں – «الَّذِي أَفَاضَ فِيهِ» جن میں آپ نے طواف افاضہ کیا۔ – «رَوَاهُ الْخَمْسَةُ» اسے پانچوں نے روایت کیا – «إِلَّا التِّرْمِذِيَّ» سوائے ترمذی کے – «وَصَحَّحَهُ الْحَاكِمُ» اور حاکم نے اسے صحیح کہا۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طواف افاضہ کے سات چکروں میں رمل نہیں کیا۔ اسے ترمذی کے سوا پانچوں نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 640]
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طواف افاضہ کے سات چکروں میں رمل نہیں کیا۔ اسے ترمذی کے سوا پانچوں نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 640]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، المناسك، باب الإفاضة في الحج، حديث:2001، وابن ماجه، المناسك، حديث:3060، أحمد: لم أجده، والنسائي في الكبرٰي:2 /461، حديث:4170، والحاكم:1 /475 وصححه علي شرط الشيخين، ووافقه الذهبي.»
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 641
وعن أنس رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم صلى الظهر والعصر والمغرب والعشاء، ثم رقد رقدة بالمحصب، ثم ركب إلى البيت، فطاف به. رواه البخاري.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (بالترتیب اپنے اپنے وقت میں) ظہر اور عصر ‘ مغرب اور عشاء کی نمازیں پڑھیں اور پھر مقام محصب پر تھوڑا سو گئے پھر سوار ہو کر بیت اللہ کی جانب تشریف لے گئے اور طواف کیا۔ (بخاری) [بلوغ المرام/حدیث: 641]
«وَعَنْ» اور سے – «أَنَسٍ» انس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ النَّبِيَّ» کہ نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «صَلَّى الظُّهْرَ» ظہر پڑھی – «وَالْعَصْرَ» اور عصر – «وَالْمَغْرِبَ» اور مغرب – «وَالْعِشَاءَ» اور عشاء – «ثُمَّ رَقَدَ رَقْدَةً» پھر تھوڑی دیر سوئے – «بِالْمُحَصَّبِ» محصب میں – «ثُمَّ رَكِبَ» پھر سوار ہوئے – «إِلَى الْبَيْتِ» بیت اللہ کی طرف – «فَطَافَ بِهِ» پس اس کا طواف کیا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں پڑھیں، پھر محصب میں تھوڑی دیر سوئے، پھر سوار ہو کر بیت اللہ کی طرف گئے اور اس کا طواف (وداع) کیا۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 641]
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں پڑھیں، پھر محصب میں تھوڑی دیر سوئے، پھر سوار ہو کر بیت اللہ کی طرف گئے اور اس کا طواف (وداع) کیا۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 641]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحج، باب من صلي العصريوم النفر بالأبطح، حديث:1763.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 642
وعن عائشة رضي الله عنها أنها لم تكن تفعل ذلك: - أي النزول بالأبطح- وتقول: إنما نزله رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم لأنه كان منزلا أسمح لخروجه. رواه مسلم.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ ابطح (محصب) میں فروکش ہونے کا عمل نہیں کرتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقام پر اس لئے قیام فرمایا تھا کہ یہاں سے واپسی میں آسانی و سہولت زیادہ تھی۔ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 642]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُ ذَلِكَ» کہ وہ ایسا نہیں کرتی تھیں – «أَيِ النُّزُولَ بِالْأَبْطَحِ» یعنی ابطح میں اترنا – «وَتَقُولُ» اور کہتی تھیں: – «إِنَّمَا نَزَلَهُ» وہاں صرف اترے تھے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لِأَنَّهُ كَانَ مَنْزِلًا» کیونکہ وہ ایسی جگہ تھی – «أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ» جو آپ کے نکلنے کے لیے زیادہ آسان تھی۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ ایسا یعنی ابطح میں پڑاؤ نہیں کرتی تھیں اور فرماتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں صرف اس لیے اترے تھے کہ وہ جگہ آپ کے (مدینہ کی طرف) نکلنے کے لیے زیادہ آسان تھی۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 642]
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ ایسا یعنی ابطح میں پڑاؤ نہیں کرتی تھیں اور فرماتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں صرف اس لیے اترے تھے کہ وہ جگہ آپ کے (مدینہ کی طرف) نکلنے کے لیے زیادہ آسان تھی۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 642]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الحج، باب استحباب النزول بالمحصب، حديث: 340- (1311).»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 643
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: أمر الناس أن يكون آخرعهدهم بالبيت إلا أنه خفف عن الحائض. متفق عليه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ سب سے آخر میں تمہارا عمل بیت اللہ کا طواف ہو مگر ایام ماہواری والی عورتوں کے لئے تخفیف کر دی گئی ہے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 643]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «أُمِرَ النَّاسُ» لوگوں کو حکم دیا گیا – «أَنْ يَكُونَ» کہ ہو – «آخِرُ عَهْدِهِمْ» ان کا آخری وقت – «بِالْبَيْتِ» بیت اللہ کے ساتھ – «إِلَّا أَنَّهُ خُفِّفَ» مگر یہ کہ تخفیف کی گئی – «عَنِ الْحَائِضِ» حائضہ عورت سے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: لوگوں کو حکم دیا گیا کہ ان کا آخری وقت بیت اللہ کے ساتھ ہو (یعنی آخری کام طواف وداع ہو)، البتہ حائضہ عورت سے تخفیف کر دی گئی۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 643]
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: لوگوں کو حکم دیا گیا کہ ان کا آخری وقت بیت اللہ کے ساتھ ہو (یعنی آخری کام طواف وداع ہو)، البتہ حائضہ عورت سے تخفیف کر دی گئی۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 643]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحج، باب طواف الوداع، حديث:1755، ومسلم، الحج، باب وجوب طواف الوداع وسقوطه عن الحائض، حديث:1328.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 644
وعن ابن الزبير رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «صلاة في مسجدي هذا، أفضل من ألف صلاة فيما سواه، إلا المسجد الحرام، وصلاة في المسجد الحرام، أفضل من صلاة في مسجدي هذا بمائة صلاة» . رواه أحمد وصححه ابن حبان.
سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”میری اس مسجد (مسجدنبوی) میں ایک نماز ادا کرنے کا ثواب دوسری مساجد میں نماز ادا کرنے کے مقابلہ میں ہزار گنا زیادہ ہے۔ بجز مسجد الحرام کے اور مسجد الحرام میں ایک نماز کی ادائیگی میری اس مسجد میں سو نماز پڑھنے سے افضل ہے۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 644]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ الزُّبَيْرِ» ابن زبیر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے فرمایا – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «صَلَاةٌ» ایک نماز – «فِي مَسْجِدِي هَذَا» میری اس مسجد میں – «أَفْضَلُ» افضل ہے – «مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ» ہزار نمازوں سے – «فِيمَا سِوَاهُ» اس کے علاوہ (مساجد) میں – «إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ» سوائے مسجد حرام کے – «وَصَلَاةٌ» اور ایک نماز – «فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ» مسجد حرام میں – «أَفْضَلُ» افضل ہے – «مِنْ صَلَاةٍ» نماز سے – «فِي مَسْجِدِي هَذَا» میری اس مسجد میں – «بِمِائَةِ صَلَاةٍ» سو نمازوں کے برابر۔ – «رَوَاهُ أَحْمَدُ» اسے احمد نے روایت کیا – «وَصَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ» اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا۔
اور سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میری اس مسجد میں ایک نماز دوسری (مساجد) کی ہزار نمازوں سے افضل ہے سوائے مسجد حرام کے، اور مسجد حرام میں ایک نماز میری اس مسجد کی نماز سے سو نمازوں کے برابر افضل ہے۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 644]
اور سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میری اس مسجد میں ایک نماز دوسری (مساجد) کی ہزار نمازوں سے افضل ہے سوائے مسجد حرام کے، اور مسجد حرام میں ایک نماز میری اس مسجد کی نماز سے سو نمازوں کے برابر افضل ہے۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 644]
تخریج الحدیث: «أخرجه أحمد:4 /5، وابن حبان(موارد)، حديث:1027.»
الحكم على الحديث:
صحيح
6. باب الفوات والإحصار
حج سے محروم رہ جانے اور روکے جانے کا بیان
حدیث نمبر: 645
عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قد أحصر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم، فحلق رأسه، وجامع نساءه، ونحرهديه، حتى اعتمر عاما قابلا. رواه البخاري.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ تک پہنچنے سے روک دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر منڈوایا اور قربانی کی اور اپنی ازدواج سے تعلق زن و شو قائم کیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آئندہ سال عمرہ کیا۔ (بخاری) [بلوغ المرام/حدیث: 645]
«عَنِ» سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَدْ أُحْصِرَ» یقیناً روک دیے گئے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَحَلَقَ رَأْسَهُ» تو آپ نے اپنا سر منڈایا – «وَجَامَعَ نِسَاءَهُ» اور اپنی بیویوں سے ہم بستری کی – «وَنَحَرَ هَدْيَهُ» اور اپنی قربانی کا جانور نحر کیا – «حَتَّى اعْتَمَرَ» یہاں تک کہ عمرہ کیا – «عَامًا قَابِلًا» اگلے سال۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (حدیبیہ میں بیت اللہ سے) روک دیے گئے تو آپ نے اپنا سر منڈایا، اپنی بیویوں سے ہم بستری کی اور اپنی قربانی کا جانور نحر کیا، یہاں تک کہ اگلے سال عمرہ کیا۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 645]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (حدیبیہ میں بیت اللہ سے) روک دیے گئے تو آپ نے اپنا سر منڈایا، اپنی بیویوں سے ہم بستری کی اور اپنی قربانی کا جانور نحر کیا، یہاں تک کہ اگلے سال عمرہ کیا۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 645]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، المحصر، با إذا أحصر المعتمر، حديث:1809.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 646
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: دخل النبي صلى الله عليه وآله وسلم على ضباعة بنت الزبير بن عبد المطلب رضي الله عنها، فقالت: يا رسول الله! إني أريد الحج، وأنا شاكية؟ فقال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: «حجي واشترطي أن محلي حيث حبستني» . متفق عليه.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے۔ اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں حج کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں مگر میں بیمار ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا کہ ”حج کر مگر یہ شرط کر لے کہ میرے احرام کھولنے کی جگہ وہی ہو گی جہاں اے اللہ! تو نے مجھے روکا۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 646]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «دَخَلَ النَّبِيُّ» نبی داخل ہوئے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ» ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب کے پاس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «فَقَالَتْ» تو انہوں نے کہا: – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول! – «إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ» بے شک میں حج کا ارادہ رکھتی ہوں – «وَأَنَا شَاكِيَةٌ» اور میں بیمار ہوں؟ – «فَقَالَ النَّبِيُّ» تو نبی نے فرمایا – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «حُجِّي» حج کرو – «وَاشْتَرِطِي» اور شرط لگا لو – «أَنَّ مَحِلِّي» کہ میرے احرام کھولنے کی جگہ – «حَيْثُ حَبَسْتَنِي» وہیں ہے جہاں تو مجھے روک دے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں حج کا ارادہ رکھتی ہوں اور میں بیمار ہوں؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”حج کرو اور یہ شرط لگا لو کہ (اے اللہ!) میرے احرام کھولنے کی جگہ وہی ہے جہاں تو مجھے روک دے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 646]
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں حج کا ارادہ رکھتی ہوں اور میں بیمار ہوں؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”حج کرو اور یہ شرط لگا لو کہ (اے اللہ!) میرے احرام کھولنے کی جگہ وہی ہے جہاں تو مجھے روک دے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 646]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، النكاح، باب الأكفاء في الدين، حديث:5089، ومسلم، الحج، باب جواز اشتراط المحرم التحلل بعذر المرض، حديث:1207.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 647
وعن عكرمة عن الحجاج بن عمرو الأنصاري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «من كسر أو عرج فقد حل، وعليه الحج من قابل» قال عكرمة: فسألت ابن عباس وأبا هريرة عن ذلك فقالا: صدق. رواه الخمسة وحسنة الترمذي.
سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ نے حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کا پاؤں توڑا جائے یا لنگڑا ہو جائے وہ احرام سے باہر آ گیا اب اس پر آئندہ سال حج کرنا لازمی و ضروری ہے۔“ عکرمہ کا بیان ہے کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق دریافت کیا تو ان دونوں نے جواب دیا کہ حجاج بن عمرو نے ٹھیک اور سچ کہا ہے۔ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 647]
«وَعَنْ» اور سے – «عِكْرِمَةَ» عکرمہ – «عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ» حجاج بن عمرو انصاری سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے فرمایا – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مَنْ كُسِرَ» جس (کی ہڈی) ٹوٹ گئی – «أَوْ عَرِجَ» یا لنگڑا ہو گیا – «فَقَدْ حَلَّ» تو وہ حلال ہو گیا – «وَعَلَيْهِ الْحَجُّ» اور اس پر حج ہے – «مِنْ قَابِلٍ» آئندہ (سال) – «قَالَ عِكْرِمَةُ» عکرمہ نے کہا: – «فَسَأَلْتُ» تو میں نے پوچھا – «ابْنَ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «وَأَبَا هُرَيْرَةَ» اور ابو ہریرہ سے – «عَنْ ذَلِكَ» اس بارے میں – «فَقَالَا» تو ان دونوں نے کہا: – «صَدَقَ» انہوں نے سچ کہا۔ – «رَوَاهُ الْخَمْسَةُ» اسے پانچوں نے روایت کیا – «وَحَسَّنَهُ التِّرْمِذِيُّ» اور ترمذی نے اسے حسن کہا۔
اور عکرمہ، سیدنا حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس (محرم) کی ہڈی ٹوٹ جائے یا وہ لنگڑا ہو جائے تو وہ حلال ہو گیا، اور اس پر آئندہ سال حج (کی قضا) ہے۔“ عکرمہ نے کہا: میں نے اس بارے میں سیدنا ابن عباس اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا تو ان دونوں نے کہا: انہوں نے سچ کہا۔ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 647]
اور عکرمہ، سیدنا حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس (محرم) کی ہڈی ٹوٹ جائے یا وہ لنگڑا ہو جائے تو وہ حلال ہو گیا، اور اس پر آئندہ سال حج (کی قضا) ہے۔“ عکرمہ نے کہا: میں نے اس بارے میں سیدنا ابن عباس اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا تو ان دونوں نے کہا: انہوں نے سچ کہا۔ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 647]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، المناسك، باب الإحصار، حديث:1862، والترمذي، الحج، حديث:940، والنسائي، مناسك الحج، حديث:2864، وابن ماجه، المناسك، حديث:3077، وأحمد:3 /450.»
الحكم على الحديث:
صحيح