🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. (أحاديث في النكاح)
(نکاح کے متعلق احادیث)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 824
عن عبد الله بن مسعود رضي الله تعالى عنه قال: قال لنا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏يا معشر الشباب من استطاع منكم الباءة فليتزوج،‏‏‏‏ فإنه أغض للبصر،‏‏‏‏ وأحصن للفرج ومن لم يستطع فعليه بالصوم،‏‏‏‏ فإنه له وجاء» .‏‏‏‏متفق عليه.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا ”اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جسے نکاح کرنے کی استطاعت ہو اسے نکاح کرنا چاہیئے کیونکہ نکاح نگاہ کو بچانے والا اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے والا ہے، اور جسے اس کی استطاعت نہ ہو، اس کے لیے روزے کا اہتمام و التزام ضروری ہے، اس لیے کہ روزہ اس کے لیے ڈھال ہے۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 824]
«عَنْ» سے – «عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ» عبداللہ بن مسعود – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ لَنَا» ہم سے فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَا مَعْشَرَ» اے گروہ – «الشَّبَابِ» نوجوانوں کے! – «مَنِ اسْتَطَاعَ» جو طاقت رکھے – «مِنْكُمُ» تم میں سے – «الْبَاءَةَ» نکاح (کے اخراجات) کی – «فَلْيَتَزَوَّجْ» تو وہ شادی کر لے – «فَإِنَّهُ» کیونکہ یہ – «أَغَضُّ» زیادہ نیچی رکھنے والی ہے – «لِلْبَصَرِ» نگاہ کو – «وَأَحْصَنُ» اور زیادہ حفاظت کرنے والی ہے – «لِلْفَرْجِ» شرمگاہ کی – «وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ» اور جو طاقت نہ رکھے – «فَعَلَيْهِ» تو اس پر لازم ہے – «بِالصَّوْمِ» روزہ – «فَإِنَّهُ» کیونکہ یہ – «لَهُ» اس کے لیے – «وِجَاءٌ» ڈھال (شہوت توڑنے والا) ہے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو نکاح کی طاقت رکھتا ہو وہ شادی کر لے، کیونکہ یہ نگاہ کو بہت نیچا رکھنے والی اور شرمگاہ کی خوب حفاظت کرنے والی ہے، اور جو اس کی طاقت نہ رکھے وہ روزے رکھے، کیونکہ روزہ اس کی شہوت کو توڑ دیتا ہے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 824]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الصوم، باب الصوم لمن خاف علي نفسه العزبة، حديث:1905، ومسلم، النكاح، باب استحباب النكاح لمن تاقت نفسه إليه ووجد مؤنة....، حديث:1400.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 825
وعن أنس بن مالك رضي الله عنه: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم حمد الله وأثنى عليه وقال: «‏‏‏‏لكني أنا أصلي،‏‏‏‏ وأنام،‏‏‏‏ وأصوم،‏‏‏‏ وأفطر،‏‏‏‏ وأتزوج النساء،‏‏‏‏ فمن رغب عن سنتي فليس مني» .‏‏‏‏ متفق عليه.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا ”لیکن میں نماز بھی ادا کرتا ہوں، سوتا بھی ہوں، روزے رکھتا بھی ہوں اور چھوڑ بھی دیتا ہوں اور میں عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ لہٰذا جس کسی نے میری سنت سے منہ پھیرا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 825]
«وَعَنْ» اور سے – «أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ» انس بن مالک – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «حَمِدَ اللَّهَ» اللہ کی حمد کی – «وَأَثْنَى عَلَيْهِ» اور اس کی ثنا بیان کی – «وَقَالَ» اور فرمایا: – «لَكِنِّي أَنَا» لیکن میں تو – «أُصَلِّي» نماز پڑھتا ہوں – «وَأَنَامُ» اور سوتا ہوں – «وَأَصُومُ» اور روزہ رکھتا ہوں – «وَأُفْطِرُ» اور افطار (روزہ چھوڑتا) کرتا ہوں – «وَأَتَزَوَّجُ» اور نکاح کرتا ہوں – «النِّسَاءَ» عورتوں سے – «فَمَنْ رَغِبَ» پس جس نے منہ موڑا – «عَنْ سُنَّتِي» میری سنت سے – «فَلَيْسَ مِنِّي» تو وہ مجھ سے نہیں۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ”لیکن میں تو نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، پس جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 825]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، النكاح، باب الترغيب في النكاح، حديث:5063، ومسلم، النكاح، باب استحباب النكاح لمن تاقت نفسه إليه.....، حديث:1401.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 826
وعنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يأمرنا بالباءة،‏‏‏‏ وينهى عن التبتل نهيا شديدا،‏‏‏‏ ويقول: «‏‏‏‏تزوجوا الولود الودود،‏‏‏‏ فإني مكاثر بكم الأنبياء يوم القيامة» .‏‏‏‏ رواه أحمد،‏‏‏‏ وصححه ابن حبان،‏‏‏‏ وله شاهد عند أبي داود والنسائي وابن حبان من حديث معقل بن يسار.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ نکاح کرنے کا حکم ارشاد فرماتے اور تجرد کی زندگی سے سختی سے منع فرماتے اور فرماتے تھے کہ ”بہت محبت کرنے اور چاہنے والی، بہت بچے جننے والی خواتین سے نکاح کرو۔ اس لئے کہ میں تمہاری کثرت کی بدولت قیامت کے روز دوسرے انبیاِء (علیہم السلام) پر فخر کرنے والا ہوں۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے نیز اس حدیث کا ایک شاہد ابوداؤد، نسائی اور ابن حبان میں معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 826]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «كَانَ» تھے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَأْمُرُنَا» ہمیں حکم دیتے – «بِالْبَاءَةِ» نکاح کا – «وَيَنْهَى» اور منع فرماتے – «عَنِ التَّبَتُّلِ» (نکاح چھوڑ کر) الگ تھلگ رہنے سے – «نَهْيًا شَدِيدًا» سختی سے منع کرنا – «وَيَقُولُ» اور فرماتے: – «تَزَوَّجُوا» شادی کرو – «الْوَلُودَ» زیادہ بچے جننے والی سے – «الْوَدُودَ» زیادہ محبت کرنے والی سے – «فَإِنِّي» کیونکہ میں – «مُكَاثِرٌ بِكُمُ» تمہاری کثرت پر فخر کرنے والا ہوں – «الْأَنْبِيَاءَ» انبیاء کے مقابلے میں – «يَوْمَ الْقِيَامَةِ» قیامت کے دن۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے – «وَلَهُ» اور اس کا – «شَاهِدٌ» ایک شاہد ہے – «عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ» ابو داود – «وَالنَّسَائِيِّ» اور نسائی – «وَابْنِ حِبَّانَ» اور ابن حبان کے ہاں – «مِنْ حَدِيثِ» حدیث سے – «مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ» معقل بن یسار کی۔
اور انہی (سیدنا انس رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں نکاح کا حکم دیتے اور (نکاح چھوڑ کر) الگ تھلگ رہنے سے سختی سے منع فرماتے تھے، اور فرماتے: ”زیادہ محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی عورت سے شادی کرو، کیونکہ میں قیامت کے دن تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسرے انبیاء پر فخر کروں گا۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے، اور ابو داود، نسائی اور ابن حبان کے ہاں سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی حدیث سے اس کا ایک شاہد ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 826]
تخریج الحدیث: «أخرجه أحمد:3 /158، 245، وابن حبان (موارد الظمآن)، حديث:1228، وللحديث شواهد، وحديث معقل بن يسارأخرجه أبوداود، النكاح، حديث:2050، والنسائي، النكاح، حديث:3229، وابن حبان (الموارد)، حديث:1229.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 827
وعن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏تنكح المرأة لأربع: لمالها،‏‏‏‏ ولحسبها،‏‏‏‏ ولجمالها،‏‏‏‏ ولدينها،‏‏‏‏ فاظفر بذات الدين،‏‏‏‏ تربت يداك» . متفق عليه مع بقية السبعة.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عورت سے نکاح چار اسباب و وجوہ سے کیا جاتا ہے۔ اس کے مال کی وجہ سے، اس کے خاندان کی وجہ سے، اس کے حسن و جمال کی وجہ سے اور اس کے دین کی بنا پر۔ پس تو دیندار سے ظفر مند (نکاح کر) ہو۔ تیرے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں۔“ (بخاری و مسلم) نیز باقی ساتوں نے بھی اسے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 827]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «عَنِ النَّبِيِّ» نبی سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» (آپ نے) فرمایا: – «تُنْكَحُ» نکاح کیا جاتا ہے – «الْمَرْأَةُ» عورت سے – «لِأَرْبَعٍ» چار (وجوہ) کی بنا پر – «لِمَالِهَا» اس کے مال کی وجہ سے – «وَلِحَسَبِهَا» اور اس کے حسب (خاندانی شرف) کی وجہ سے – «وَلِجَمَالِهَا» اور اس کی خوبصورتی کی وجہ سے – «وَلِدِينِهَا» اور اس کے دین کی وجہ سے – «فَاظْفَرْ» پس کامیابی حاصل کرو – «بِذَاتِ الدِّينِ» دین والی کو (پا کر) – «تَرِبَتْ يَدَاكَ» تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر اتفاق ہے – «مَعَ بَقِيَّةِ السَّبْعَةِ» باقی ساتوں (محدثین) کے ساتھ۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”عورت سے چار چیزوں کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے: اس کے مال کی وجہ سے، اس کے خاندانی شرف کی وجہ سے، اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اور اس کے دین کی وجہ سے، تو تم دین والی کو حاصل کر کے کامیاب ہو جاؤ، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں۔“ اسے بخاری و مسلم نے اور باقی ساتوں (محدثین) نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 827]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، النكاح، باب الأكفاء في الدين، حديث:5090، ومسلم، الرضاع، باب استحباب نكاح ذات الدين، حديث:1466، وأبوداود، النكاح، حديث:2047، والنسائي، النكاح، حديث:3232، وابن ماجه، النكاح، حديث:1858، والترمذي: لم أجده، وعند حديث جابر رضي الله تعالي عنه، حديث:1086، وأحمد:2 /428.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 828
وعنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان إذا رفأ إنسانا،‏‏‏‏ إذا تزوج،‏‏‏‏ قال: «‏‏‏‏بارك الله لك،‏‏‏‏ وبارك عليك،‏‏‏‏ وجمع بينكما في خير» .‏‏‏‏ رواه أحمد والأربعة،‏‏‏‏ وصححه الترمذي وابن خزيمة وابن حبان.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کو دیکھتے کہ اس نے شادی کی ہے تو فرماتے ” «بارك الله لك، ‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وبارك عليك، ‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وجمع بينكما في خير» اللہ تعالیٰ تجھے برکت عطا فرمائے اور تجھ پر برکت نازل فرمائے اور تم دونوں کو بھلائی و خیر پر جمع رکھے۔“ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے۔ ترمذی، ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 828]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «كَانَ» تھے – «إِذَا رَفَّأَ» جب مبارکباد دیتے – «إِنْسَانًا» کسی انسان کو – «إِذَا تَزَوَّجَ» جب وہ شادی کرتا – «قَالَ» (تو) فرماتے: – «بَارَكَ اللَّهُ لَكَ» اللہ تمہارے لیے برکت دے – «وَبَارَكَ عَلَيْكَ» اور تم پر برکت نازل کرے – «وَجَمَعَ» اور جمع رکھے – «بَيْنَكُمَا» تم دونوں کو – «فِي خَيْرٍ» بھلائی میں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَالْأَرْبَعَةُ» اور چاروں نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی – «وَابْنُ خُزَيْمَةَ» اور ابن خزیمہ – «وَابْنُ حِبَّانَ» اور ابن حبان نے۔
اور انہی (سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی کو شادی کی مبارکباد دیتے تو فرماتے: ”بَارَكَ اللَّهُ لَكَ وَبَارَكَ عَلَيْكَ وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِي خَيْرٍ“ (اللہ تمہارے لیے برکت دے، تم پر برکت نازل فرمائے اور تم دونوں کو بھلائی میں اکٹھا رکھے)۔ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور ترمذی، ابن خزیمہ اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 828]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، النكاح، باب ما يقال للمتزوج، حديث:2130، والترمذي، النكاح، حديث:1091، وابن ماجه، النكاح، حديث:1905، والنسائي في الكبرٰي:6 /73، حديث:10089، وأحمد:2 /381، وابن حبان (الإحسان):6 /142، حديث:4041، وابن خزيمة: لم أجده.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 829
وعن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: علمنا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم التشهد في الحاجة: «‏‏‏‏إن الحمد لله نحمده،‏‏‏‏ ونستعينه،‏‏‏‏ ونستغفره،‏‏‏‏ ونعوذ بالله من شرور أنفسنا،‏‏‏‏ من يهد الله فلا مضل له،‏‏‏‏ ومن يضلل فلا هادي له،‏‏‏‏ وأشهد أن لا إله إلا الله،‏‏‏‏ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ‏‏‏‏ ويقرأ ثلاث آيات. رواه أحمد والأربعة وحسنه الترمذي والحاكم.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حاجت و ضرورت میں یہ تشہد سکھایا کہ ” «إن الحمد لله نحمده، ‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ونستعينه، ‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ونستغفره، ‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، ‏‏‏‏ ‏‏‏‏ من يهد الله فلا مضل له، ‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ومن يضلل فلا هادي له، ‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وأشهد أن لا إله إلا الله، ‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» سب تعریفیں اللہ ہی کیلئے ہیں۔ ہم اس کی حمد کرتے ہیں اور اسی سے مدد کے طلب گار ہیں اور اسی سے مغفرت و بخشش مانگتے ہیں اور اپنے نفسوں کے شر سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت سے نوازے اسے پھر کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے اللہ ہی گمراہ کرے اسے پھر کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ پھر تین آیات تلاوت فرمائیں۔ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے۔ ترمذی اور حاکم نے اسے حسن کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 829]
«وَعَنْ» اور سے – «عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ» عبداللہ بن مسعود – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «عَلَّمَنَا» ہمیں سکھایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «التَّشَهُّدَ» تشہد (خطبہ) – «فِي الْحَاجَةِ» حاجت (کے موقع) میں: – «إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ» بے شک تمام تعریف اللہ کے لیے ہے – «نَحْمَدُهُ» ہم اس کی حمد کرتے ہیں – «وَنَسْتَعِينُهُ» اور اس سے مدد مانگتے ہیں – «وَنَسْتَغْفِرُهُ» اور اس سے بخشش مانگتے ہیں – «وَنَعُوذُ بِاللَّهِ» اور ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں – «مِنْ شُرُورِ» برائیوں سے – «أَنْفُسِنَا» اپنے نفسوں کی – «مَنْ يَهْدِ اللَّهُ» جسے اللہ ہدایت دے – «فَلَا مُضِلَّ لَهُ» تو اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں – «وَمَنْ يُضْلِلْ» اور جسے وہ گمراہ کر دے – «فَلَا هَادِيَ لَهُ» تو اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں – «وَأَشْهَدُ» اور میں گواہی دیتا ہوں – «أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کہ اللہ کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں – «وَأَشْهَدُ» اور میں گواہی دیتا ہوں – «أَنَّ مُحَمَّدًا» کہ محمد – «عَبْدُهُ» اس کے بندے – «وَرَسُولُهُ» اور اس کے رسول ہیں – «وَيَقْرَأُ» اور پڑھتے – «ثَلَاثَ آيَاتٍ» تین آیات۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَالْأَرْبَعَةُ» اور چاروں نے – «وَحَسَّنَهُ» اور اسے حسن کہا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی – «وَالْحَاكِمُ» اور حاکم نے۔
اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حاجت (نکاح وغیرہ) کے موقع کا خطبہ سکھایا: ”بے شک تمام تعریف اللہ کے لیے ہے، ہم اس کی حمد کرتے ہیں، اس سے مدد مانگتے ہیں اور اس سے بخشش طلب کرتے ہیں، اور ہم اپنے نفسوں کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ اور (پھر) آپ تین آیات پڑھتے۔ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور ترمذی اور حاکم نے حسن کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 829]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، النكاح، باب في خطبة النكاح، حديث:2118، والترمذي، النكاح، حديث:1105، والنسائي، الجمعة، حديث:1405، وابن ماجه، النكاح، حديث:1892، وأحمد:1 /393، والحاكم:2 /182.* أبو عبيدة عن أبيه منقطع، وأبو إسحاق عنعن في السند الموصول، فالسند معلل، ولم أجد طريق شعبة عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص عن ابن مسعود.....، والله أعلم.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 830
وعن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إذا خطب أحدكم المرأة فإن استطاع أن ينظر منها إلى ما يدعوه إلى نكاحها فليفعل» .‏‏‏‏ رواه أحمد وأبو داود ورجاله ثقات،‏‏‏‏ وصححه الحاكم وله شاهد عند الترمذي والنسائي عن المغيرة وعند ابن ماجه وابن حبان من حديث محمد بن مسلمة.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے جب کوئی کسی عورت کو پیغام نکاح دے اگر ممکن ہو تو اس کو کچھ دیکھ لے جو اس کیلئے نکاح کا باعث ہو۔“ اسے احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں اور حاکم نے اس کو صحیح قرار دیا ہے۔ ترمذی اور نسائی میں مغیرہ کی روایت اس کیلئے شاہد ہے۔ ابن ماجہ اور ابن حبان میں محمد بن مسلمہ کی روایت شاہد ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 830]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرٍ» جابر – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِذَا خَطَبَ» جب نکاح کا پیغام دے – «أَحَدُكُمُ» تم میں سے کوئی – «الْمَرْأَةَ» کسی عورت کو – «فَإِنِ اسْتَطَاعَ» پس اگر وہ طاقت رکھے – «أَنْ يَنْظُرَ» کہ دیکھے – «مِنْهَا» اس میں سے – «إِلَى مَا» اس (چیز) کی طرف جو – «يَدْعُوهُ» اسے رغبت دلائے – «إِلَى نِكَاحِهَا» اس سے نکاح کی طرف – «فَلْيَفْعَلْ» تو وہ ایسا کر لے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود نے – «وَرِجَالُهُ» اور اس کے راوی – «ثِقَاتٌ» ثقہ ہیں – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «الْحَاكِمُ» حاکم نے – «وَلَهُ» اور اس کا – «شَاهِدٌ» ایک شاہد ہے – «عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ» ترمذی – «وَالنَّسَائِيِّ» اور نسائی کے ہاں – «عَنِ الْمُغِيرَةِ» مغیرہ سے – «وَعِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ» اور ابن ماجہ – «وَابْنِ حِبَّانَ» اور ابن حبان کے ہاں – «مِنْ حَدِيثِ» حدیث سے – «مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ» محمد بن مسلمہ کی۔
اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کسی عورت کو نکاح کا پیغام دے تو اگر اس کے لیے ممکن ہو کہ وہ اس کی ایسی چیز دیکھ لے جو اسے اس سے نکاح کی رغبت دلائے تو ایسا کر لے۔“ اسے احمد اور ابو داود نے روایت کیا ہے، اس کے راوی ثقہ ہیں اور حاکم نے صحیح کہا ہے، اور ترمذی و نسائی کے ہاں سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے اور ابن ماجہ و ابن حبان کے ہاں سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے اس کا ایک شاہد ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 830]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، النكاح، باب في الرجل ينظر إلي المرأة وهو يريد تزويجها، حديث:2082، وأحمد:3 /334، والحاكم:2 /165 وصححه علي شرط مسلم، ووافقه الذهبي، وحديث المغيرة أخرجه الترمذي، النكاح، حديث:1087، والنسائي، النكاح، حديث:3237 وسنده صحيح، وحديث محمد بن سلمة أخرجه ابن ماجه، النكاح، حديث:1864، وابن حبان(الموارد)، حديث:1235 وهو حديث حسن.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 831
ولمسلم عن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال لرجل تزوج امرأة: «‏‏‏‏أنظرت إليها؟» قال: لا قال: «اذهب فانظر إليها» .
مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے جو شادی کرنا چاہتا تھا فرمایا کہ ”کیا تو نے اسے دیکھ لیا ہے؟“ اس نے کہا نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جاؤ اور اسے دیکھ لو۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 831]
«وَلِمُسْلِمٍ» اور مسلم کی روایت میں ہے – «عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» فرمایا – «لِرَجُلٍ» ایک آدمی سے – «تَزَوَّجَ» جس نے نکاح (کا ارادہ) کیا – «امْرَأَةً» ایک عورت سے: – «أَنَظَرْتَ إِلَيْهَا» کیا تم نے اسے دیکھا ہے؟ – «قَالَ» اس نے کہا: – «لَا» نہیں – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «اذْهَبْ» جاؤ – «فَانْظُرْ إِلَيْهَا» پس اسے دیکھ لو۔
اور مسلم میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی سے جو ایک عورت سے نکاح کر رہا تھا فرمایا: ”کیا تم نے اسے دیکھا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”جاؤ اور اسے دیکھ لو۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 831]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، النكاح، باب ندب النظر إلي وجه المرأة وكفيها لمن يريد تزويجها، حديث:1424.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 832
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا يخطب أحدكم على خطبة أخيه،‏‏‏‏ حتى يترك الخاطب قبله،‏‏‏‏ أو يأذن له» .‏‏‏‏ متفق عليه واللفظ للبخاري.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے کوئی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام نکاح نہ دے تاوقتیکہ کہ پیغام نکاح دینے والا اس سے پہلے اسے از خود چھوڑ دے یا پیغام نکاح دینے والا اجازت دیدے۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 832]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَا يَخْطُبْ» نکاح کا پیغام نہ دے – «أَحَدُكُمْ» تم میں سے کوئی – «عَلَى خِطْبَةِ» پیغام نکاح پر – «أَخِيهِ» اپنے بھائی کے – «حَتَّى» یہاں تک کہ – «يَتْرُكَ» چھوڑ دے – «الْخَاطِبُ» پیغام دینے والا – «قَبْلَهُ» اس سے پہلے (والا) – «أَوْ يَأْذَنَ لَهُ» یا وہ اسے اجازت دے دے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر اتفاق ہے – «وَاللَّفْظُ» اور الفاظ – «لِلْبُخَارِيِّ» بخاری کے ہیں۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام نہ دے، یہاں تک کہ اس سے پہلے پیغام دینے والا (ارادہ) چھوڑ دے یا اسے اجازت دے دے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ بخاری کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 832]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، النكاح، باب لا يخطب علي خطبة أخيه حتي ينكح أويدع، حديث:5142، ومسلم، النكاح، باب تحريم الخطبة علي خطبة أخيه حتي يأذن أويترك، حديث:1412.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 833
وعن سهل بن سعد الساعدي رضي الله عنه قال: جاءت امرأة إلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فقالت: يا رسول الله جئت أهب لك نفسي،‏‏‏‏ فنظر إليها رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم،‏‏‏‏ فصعد النظر فيها وصوبه،‏‏‏‏ ثم طأطأ رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم رأسه،‏‏‏‏ فلما رأت المرأة أنه لم يقض فيها شيئا جلست،‏‏‏‏ فقام رجل من أصحابه،‏‏‏‏ فقال: يا رسول الله إن لم تكن لك بها حاجة فزوجنيها،‏‏‏‏ فقال: «‏‏‏‏فهل عندك من شيء؟» ‏‏‏‏ فقال: لا،‏‏‏‏ والله يا رسول الله! فقال: «‏‏‏‏اذهب إلى أهلك،‏‏‏‏ فانظر هل تجد شيئا؟» فذهب ثم رجع،‏‏‏‏ فقال: لا والله،‏‏‏‏ ما وجدت شيئا. فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «انظر ولو خاتما من حديد» ‏‏‏‏ فذهب ثم رجع،‏‏‏‏ فقال: لا والله يا رسول الله ولا خاتما من حديد ولكن هذا إزاري (- قال سهل: ماله رداء-) فلها نصفه،‏‏‏‏ فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏ما تصنع بإزارك؟ إن لبسته لم يكن عليها منه شيء،‏‏‏‏ وإن لبسته لم يكن عليك منه شيء» ‏‏‏‏،‏‏‏‏ فجلس الرجل،‏‏‏‏ حتى إذا طال مجلسه قام،‏‏‏‏ فرآه رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم موليا فأمر به فدعي به فلما جاء قال: «‏‏‏‏ماذا معك من القرآن؟» ‏‏‏‏ قال: معي سورة كذا،‏‏‏‏ وسورة كذا،‏‏‏‏ عددها،‏‏‏‏ فقال: «‏‏‏‏تقرؤهن عن ظهر قلبك؟» قال: نعم،‏‏‏‏ قال: «‏‏‏‏اذهب فقد ملكتكها بما معك من القرآن» .‏‏‏‏ متفق عليه،‏‏‏‏ واللفظ لمسلم. وفي رواية قال له: «‏‏‏‏انطلق فقد زوجتكها فعلمها من القرآن» . وفي رواية للبخاري: «‏‏‏‏أملكناكها بما معك من القرآن» . ولأبي داود عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: «‏‏‏‏ما تحفظ؟» ‏‏‏‏ قال: سورة البقرة والتي تليها،‏‏‏‏ قال:«‏‏‏‏قم،‏‏‏‏ فعلمها عشرين آية» .
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا، اے اللہ کے رسول! میں اپنے آپ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے ہبہ کرنے آئی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک نظر دیکھا پھر نظر اوپر نیچے کر کے ذرا غور سے دیکھا اور اپنا سر نیچا کر لیا۔ جب اس عورت نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں فرمایا تو وہ نیچے بیٹھ گئی۔ اتنے میں ایک صحابی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! اگر اس عورت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرورت نہیں تو اس سے میرا نکاح کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا کہ ”تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟“ اس نے کہا، نہیں، اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم کچھ بھی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اپنے گھر جاؤ اور تلاش کرو آیا کوئی چیز تجھے ملتی ہے؟“ وہ چلا گیا اور پھر واپس آ کر کہنے لگا، اللہ کی قسم مجھے کوئی چیز نہیں ملی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ”تلاش کرو خواہ لوہے کی انگشتری ہی ہو۔“ وہ آدمی پھر گیا اور واپس آ کر عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ کی قسم لوہے کی انگوٹھی تک بھی میسر نہیں۔ لیکن میرا یہ ایک تہ بند ہے۔ (سہل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس کے اوپر چادر نہ تھی۔) آدھا حصہ میں اسے دے دوں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیشکش کو نامنظور کرتے ہوئے فرمایا ”وہ خاتون تیرے اس تہ بند کو کیا کرے گی۔ اگر تو اسے زیب تن کرے گا تو اس کیلئے کیا بچے گا اور اگر وہ اسے پہنے گی تو پھر تیرے لئے اس میں سے کچھ بھی نہیں ہو گا۔“ یہ سن کر وہ آدمی نیچے بیٹھ گیا اور کافی دیر تک بیٹھا رہا بالآخر وہ اٹھ کھڑا ہوا اور پیٹھ پھیر کر جاتے ہوئے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھ لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس بلانے کا حکم دیا۔ جب وہ واپس آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا ”تجھے کتنا قرآن یاد ہے؟“ اس نے گن کر بتایا کہ فلاں فلاں سورت یاد ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ”تم ان کو زبانی پڑھ سکتے ہو؟“ وہ بولا جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جا میں نے تجھے اس کا مالک بنا دیا۔ اس قرآن کے بدلہ جو تجھے یاد ہے۔“ (بخاری و مسلم) یہ الفاظ مسلم کے ہیں اور ایک روایت میں ہے ”جا میں نے اسے تیری زوجیت میں دے دیا۔ پس تو اسے کچھ قرآن سکھا دو۔“ اور بخاری میں ہے کہ ”ہم نے تجھے اس کا مالک بنا دیا اس قرآن کے عوض جو تجھے یاد ہے۔“ اور ابوداؤد میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ”کتنا کچھ قرآن حفظ ہے؟“ وہ بولا سورۃ البقرہ اور اس کے ساتھ والی سورۃ (آل عمران) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اٹھو اور اسے بیس آیات سکھا دو۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 833]
«وَعَنْ» اور سے – «سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ» سہل بن سعد ساعدی – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «جَاءَتِ» آئی – «امْرَأَةٌ» ایک عورت – «إِلَى رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے پاس – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَقَالَتْ» اور کہا: – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول! – «جِئْتُ» میں آئی ہوں – «أَهَبُ لَكَ» کہ آپ کو ہبہ کر دوں – «نَفْسِي» اپنا آپ – «فَنَظَرَ إِلَيْهَا» تو اس کی طرف دیکھا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَصَعَّدَ» پس اوپر کی – «النَّظَرَ» نظر – «فِيهَا» اس میں – «وَصَوَّبَهُ» اور اسے نیچے کیا – «ثُمَّ» پھر – «طَأْطَأَ» جھکا لیا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «رَأْسَهُ» اپنا سر – «فَلَمَّا رَأَتِ» پس جب دیکھا – «الْمَرْأَةُ» عورت نے – «أَنَّهُ» کہ آپ نے – «لَمْ يَقْضِ» فیصلہ نہیں کیا – «فِيهَا» اس کے بارے میں – «شَيْئًا» کچھ – «جَلَسَتْ» تو وہ بیٹھ گئی – «فَقَامَ» پھر کھڑا ہوا – «رَجُلٌ» ایک آدمی – «مِنْ أَصْحَابِهِ» آپ کے صحابہ میں سے – «فَقَالَ» اور کہا: – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول! – «إِنْ لَمْ تَكُنْ» اگر نہ ہو – «لَكَ» آپ کو – «بِهَا» اس کی – «حَاجَةٌ» ضرورت – «فَزَوِّجْنِيهَا» تو اس سے میرا نکاح کر دیجیے – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «فَهَلْ عِنْدَكَ» کیا تمہارے پاس ہے – «مِنْ شَيْءٍ» کوئی چیز؟ – «فَقَالَ» اس نے کہا: – «لَا» نہیں – «وَاللَّهِ» اللہ کی قسم – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول! – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «اذْهَبْ» جاؤ – «إِلَى أَهْلِكَ» اپنے گھر والوں کے پاس – «فَانْظُرْ» پس دیکھو – «هَلْ تَجِدُ» کیا تم پاتے ہو – «شَيْئًا» کوئی چیز؟ – «فَذَهَبَ» تو وہ گیا – «ثُمَّ رَجَعَ» پھر لوٹ آیا – «فَقَالَ» اور کہا: – «لَا وَاللَّهِ» نہیں اللہ کی قسم – «مَا وَجَدْتُ» میں نے نہیں پائی – «شَيْئًا» کوئی چیز – «فَقَالَ» تو فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «انْظُرْ» تلاش کرو – «وَلَوْ» اگرچہ ہو – «خَاتَمًا» ایک انگوٹھی – «مِنْ حَدِيدٍ» لوہے کی – «فَذَهَبَ» تو وہ گیا – «ثُمَّ رَجَعَ» پھر لوٹ آیا – «فَقَالَ» اور کہا: – «لَا وَاللَّهِ» نہیں اللہ کی قسم – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول! – «وَلَا خَاتَمًا» اور نہ کوئی انگوٹھی – «مِنْ حَدِيدٍ» لوہے کی – «وَلَكِنْ» لیکن – «هَذَا» یہ – «إِزَارِي» میرا تہبند ہے – «(قَالَ سَهْلٌ» (سہل نے کہا: – «مَا لَهُ» اس کے پاس نہیں تھی – «رِدَاءٌ)» کوئی چادر) – «فَلَهَا» تو اس کے لیے ہے – «نِصْفُهُ» اس کا آدھا – «فَقَالَ» تو فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مَا تَصْنَعُ» تم کیا کرو گے – «بِإِزَارِكَ» اپنے تہبند کے ساتھ؟ – «إِنْ لَبِسْتَهُ» اگر تم نے اسے پہنا – «لَمْ يَكُنْ» تو نہیں ہو گا – «عَلَيْهَا» اس پر – «مِنْهُ» اس میں سے – «شَيْءٌ» کچھ – «وَإِنْ لَبِسَتْهُ» اور اگر اس نے اسے پہنا – «لَمْ يَكُنْ» تو نہیں ہو گا – «عَلَيْكَ» تم پر – «مِنْهُ» اس میں سے – «شَيْءٌ» کچھ – «فَجَلَسَ» تو بیٹھ گیا – «الرَّجُلُ» وہ آدمی – «حَتَّى» یہاں تک کہ – «إِذَا طَالَ» جب لمبا ہو گیا – «مَجْلِسُهُ» اس کا بیٹھنا – «قَامَ» وہ کھڑا ہو گیا – «فَرَآهُ» تو اسے دیکھا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مُوَلِّيًا» پیٹھ پھیر کر جاتے ہوئے – «فَأَمَرَ بِهِ» تو آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا – «فَدُعِيَ بِهِ» تو اسے بلایا گیا – «فَلَمَّا جَاءَ» پس جب وہ آیا – «قَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «مَاذَا مَعَكَ» تمہارے پاس کیا ہے – «مِنَ الْقُرْآنِ» قرآن میں سے؟ – «قَالَ» اس نے کہا: – «مَعِي» میرے پاس ہے – «سُورَةُ كَذَا» فلاں سورت – «وَسُورَةُ كَذَا» اور فلاں سورت – «عَدَّدَهَا» اس نے انہیں گنوایا – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «تَقْرَؤُهُنَّ» کیا تم انہیں پڑھ سکتے ہو – «عَنْ ظَهْرِ قَلْبِكَ» زبانی (یاد سے)؟ – «قَالَ» اس نے کہا: – «نَعَمْ» جی ہاں – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «اذْهَبْ» جاؤ – «فَقَدْ مَلَّكْتُكَهَا» میں نے اسے تمہاری ملکیت (نکاح) میں دے دیا – «بِمَا مَعَكَ» اس کے بدلے جو تمہارے پاس ہے – «مِنَ الْقُرْآنِ» قرآن میں سے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر اتفاق ہے – «وَاللَّفْظُ» اور الفاظ – «لِمُسْلِمٍ» مسلم کے ہیں۔ – «وَفِي رِوَايَةٍ» اور ایک روایت میں ہے – «قَالَ لَهُ» آپ نے اس سے فرمایا: – «انْطَلِقْ» جاؤ – «فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا» میں نے اس سے تمہارا نکاح کر دیا – «فَعَلِّمْهَا» پس اسے سکھاؤ – «مِنَ الْقُرْآنِ» قرآن میں سے۔ – «وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ» اور بخاری کی ایک روایت میں ہے: – «أَمْلَكْنَاكَهَا» ہم نے اسے تمہاری ملکیت (نکاح) میں دے دیا – «بِمَا مَعَكَ» اس کے بدلے جو تمہارے پاس ہے – «مِنَ الْقُرْآنِ» قرآن میں سے۔ – «وَلِأَبِي دَاوُدَ» اور ابو داود کی روایت میں ہے – «عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «مَا تَحْفَظُ» تمہیں کیا یاد ہے؟ – «قَالَ» اس نے کہا: – «سُورَةَ الْبَقَرَةِ» سورۃ البقرہ – «وَالَّتِي تَلِيهَا» اور جو اس کے بعد ہے – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «قُمْ» اٹھو – «فَعَلِّمْهَا» پس اسے سکھاؤ – «عِشْرِينَ آيَةً» بیس آیات۔
اور سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کرنے آئی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا، اوپر سے نیچے تک نظر ڈالی، پھر اپنا سر مبارک جھکا لیا۔ جب عورت نے دیکھا کہ آپ نے اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں فرمایا تو وہ بیٹھ گئی۔ پھر آپ کے صحابہ میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ کو اس کی ضرورت نہیں تو اس سے میرا نکاح کر دیجیے۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ اور دیکھو کیا تمہیں کوئی چیز ملتی ہے؟“ وہ گیا، پھر لوٹ آیا اور کہا: نہیں، اللہ کی قسم! مجھے کچھ نہیں ملا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تلاش کرو، اگرچہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہی ہو۔“ وہ گیا، پھر لوٹ آیا اور کہا: نہیں، اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول! لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں، لیکن یہ میرا تہبند ہے — سہل کہتے ہیں: اس کے پاس چادر نہیں تھی — اس کا آدھا اس (عورت) کا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے تہبند کا کیا کرو گے؟ اگر تم اسے پہنو گے تو اس پر اس میں سے کچھ نہ ہو گا اور اگر وہ پہنے گی تو تم پر اس میں سے کچھ نہ ہو گا۔“ وہ آدمی بیٹھ گیا، یہاں تک کہ جب دیر تک بیٹھا رہا تو اٹھ کھڑا ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے پیٹھ پھیر کر جاتے دیکھا تو اسے بلانے کا حکم دیا، اسے بلایا گیا، جب وہ آیا تو آپ نے فرمایا: ”تمہیں قرآن میں سے کیا یاد ہے؟“ اس نے کہا: مجھے فلاں اور فلاں سورت یاد ہے، اس نے انہیں گنوایا۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تم انہیں زبانی پڑھ سکتے ہو؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ”جاؤ، میں نے اسے اس قرآن کے بدلے جو تمہیں یاد ہے تمہارے نکاح میں دے دیا۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ مسلم کے ہیں۔ اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے اس سے فرمایا: ”جاؤ، میں نے اس سے تمہارا نکاح کر دیا، تم اسے قرآن سکھاؤ۔“ اور بخاری کی ایک روایت میں ہے: ”ہم نے اسے اس قرآن کے بدلے جو تمہیں یاد ہے تمہارے نکاح میں دے دیا۔“ اور ابو داود میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہے کہ آپ نے فرمایا: ”تمہیں کیا یاد ہے؟“ اس نے کہا: سورۃ البقرہ اور اس کے بعد والی سورت۔ آپ نے فرمایا: ”اٹھو اور اسے بیس آیات سکھا دو۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 833]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، النكاح، باب التزوج علي القرآن وبغير صداق، حديث:5149، ومسلم، النكاح، باب الصداق وجواز كونه تعليم القرآن وخاتم حديد...، حديث:1425، وحديث أبي هريرة أخرجه أبوداود، النكاح، حديث:2112، وسنده ضعيف، فيه عسل وهو ضعيف.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں