🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب الكفاءة والخيار
کفو (مثل، نظیر اور ہمسری) اور اختیار کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 864
وعن زيد بن كعب بن عجرة عن أبيه قال: تزوج رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم العالية من بني غفار،‏‏‏‏ فلما دخلت عليه،‏‏‏‏ ووضعت ثيابها،‏‏‏‏ رأى بكشحها بياضا،‏‏‏‏ فقال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏البسي ثيابك والحقي بأهلك» ‏‏‏‏ وأمر لها بالصداق. رواه الحاكم وفي إسناده جميل بن زيد وهو مجهول واختلف عليه في شيخه اختلافا كثيرا.
سیدنا زید بن کعب بن عجرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو غفار کی عالیہ نامی خاتون سے نکاح کیا۔ جب وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (خلوت میں) داخل ہوئی اور اس نے اپنا لباس اتارا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پہلو میں پھلبہری (برص) کے داغ دیکھے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا ” اپنے کپڑے پہن لے اور اپنے میکے چلی جا“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے حکم ارشاد فرمایا کہ ” مہر دے دیا جائے۔“ اسے حاکم نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں جمیل بن زید ایسا راوی ہے جو مجہول ہے اس کے استاد میں بہت اختلاف کیا گیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 864]
«وَعَنْ» اور سے – «زَيْدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ» زید بن کعب بن عجرہ – «عَنْ أَبِيهِ» اپنے والد سے – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «تَزَوَّجَ» نکاح کیا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «الْعَالِيَةَ» عالیہ سے – «مِنْ بَنِي غِفَارٍ» بنو غفار میں سے – «فَلَمَّا» پس جب – «دَخَلَتْ عَلَيْهِ» وہ آپ کے پاس آئی – «وَوَضَعَتْ» اور اتارے – «ثِيَابَهَا» اپنے کپڑے – «رَأَى» آپ نے دیکھی – «بِكَشْحِهَا» اس کے پہلو میں – «بَيَاضًا» سفیدی (برص) – «فَقَالَ» تو فرمایا – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «الْبَسِي» پہن لو – «ثِيَابَكِ» اپنے کپڑے – «وَالْحَقِي» اور جا ملو – «بِأَهْلِكِ» اپنے گھر والوں سے – «وَأَمَرَ لَهَا» اور اس کے لیے حکم دیا – «بِالصَّدَاقِ» مہر کا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْحَاكِمُ» حاکم نے – «وَفِي إِسْنَادِهِ» اور اس کی سند میں – «جَمِيلُ بْنُ زَيْدٍ» جمیل بن زید ہے – «وَهُوَ» اور وہ – «مَجْهُولٌ» مجہول ہے – «وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ» اور اس پر اختلاف کیا گیا ہے – «فِي شَيْخِهِ» اس کے شیخ (استاد) کے بارے میں – «اخْتِلَافًا كَثِيرًا» بہت زیادہ اختلاف۔
اور زید بن کعب بن عجرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو غفار کی عالیہ سے نکاح کیا، جب وہ آپ کے پاس آئیں اور اپنے کپڑے اتارے تو آپ نے ان کے پہلو میں سفیدی (برص کا داغ) دیکھی، تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے کپڑے پہن لو اور اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ۔“ اور آپ نے ان کے لیے مہر (ادا کرنے) کا حکم دیا۔ اسے حاکم نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں جمیل بن زید ہے جو مجہول ہے اور اس کے شیخ کے بارے میں اس پر بہت زیادہ اختلاف کیا گیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 864]
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم:4 /34، وفيه علل أخري مع العلة التي ذكرها المؤلف رحمه الله.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 865
وعن سعيد بن المسيب أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: أيما رجل تزوج امرأة،‏‏‏‏ فدخل بها،‏‏‏‏ فوجدها برصاء،‏‏‏‏ أو مجنونة،‏‏‏‏ أو مجذومة،‏‏‏‏ فلها الصداق بمسيسه إياها،‏‏‏‏ وهو له على من غره منها. أخرجه سعيد بن منصور ومالك وابن أبي شيبة ورجاله ثقات. وروى سعيد أيضا عن علي نحوه وزاد: أو بها قرن،‏‏‏‏ فزوجها بالخيار،‏‏‏‏ فإن مسها فلها المهر بما استحل من فرجها.
سیدنا سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جو شخص کسی عورت سے نکاح کرے پھر اس سے ہمبستری کرے اور اسے معلوم ہو کہ وہ مرض برص میں مبتلا ہے یا دیوانی ہے یا کوڑھ کے مرض میں مبتلا ہے تو خاوند کے اسے چھونے کی بنا پر حق مہر کی وہ مستحق ہے اور اس مہر کی رقم اس سے وصول کی جائے گی جس نے اسے دھوکہ دیا۔ اسے سعید بن منصور، مالک اور ابن ابی شیبہ نے نکالا ہے۔ اس کے راوی ثقہ ہیں۔ اور سعید نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح روایت کیا ہے اور اس میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ اس عورت کو مرض قرن ہو تو اس کا شوہر خود مختار ہو گا۔ اگر مرد نے اس عورت سے مباشرت کی ہو تو عورت کی شرمگاہ کو حلال کرنے کے بدلہ میں مہر دینا ہو گا۔ [بلوغ المرام/حدیث: 865]
«وَعَنْ» اور سے – «سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ» سعید بن مسیب – «أَنَّ» کہ – «عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ» عمر بن خطاب – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» نے کہا: – «أَيُّمَا رَجُلٍ» جو بھی آدمی – «تَزَوَّجَ» نکاح کرے – «امْرَأَةً» کسی عورت سے – «فَدَخَلَ بِهَا» پھر اس سے ہم بستر ہو – «فَوَجَدَهَا» پھر اسے پائے – «بَرْصَاءَ» برص والی – «أَوْ مَجْنُونَةً» یا دیوانی – «أَوْ مَجْذُومَةً» یا کوڑھ والی – «فَلَهَا» تو اس کے لیے ہے – «الصَّدَاقُ» مہر – «بِمَسِيسِهِ إِيَّاهَا» اس کے اسے چھونے (ہم بستر ہونے) کی وجہ سے – «وَهُوَ لَهُ» اور وہ (مہر) اس (شوہر) کے لیے ہے – «عَلَى مَنْ» اس شخص پر جس نے – «غَرَّهُ» اسے دھوکا دیا – «مِنْهَا» اس (عورت کے معاملے) میں۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ» سعید بن منصور – «وَمَالِكٌ» اور مالک – «وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ» اور ابن ابی شیبہ نے – «وَرِجَالُهُ» اور اس کے راوی – «ثِقَاتٌ» ثقہ ہیں۔ – «وَرَوَى» اور روایت کیا – «سَعِيدٌ» سعید نے – «أَيْضًا» بھی – «عَنْ عَلِيٍّ» علی سے – «نَحْوَهُ» اسی طرح – «وَزَادَ» اور اضافہ کیا: – «أَوْ بِهَا» یا اس میں ہو – «قَرَنٌ» قرن (شرمگاہ میں رکاوٹ) – «فَزَوْجُهَا» تو اس کا شوہر – «بِالْخِيَارِ» اختیار میں ہے – «فَإِنْ مَسَّهَا» پس اگر اس نے اسے چھوا – «فَلَهَا» تو اس کے لیے ہے – «الْمَهْرُ» مہر – «بِمَا اسْتَحَلَّ» اس کے بدلے جو اس نے حلال کیا – «مِنْ فَرْجِهَا» اس کی شرمگاہ میں سے۔
اور سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو آدمی کسی عورت سے نکاح کرے، پھر اس سے ہم بستر ہو اور اسے برص والی، یا دیوانی، یا کوڑھ والی پائے تو اس سے ہم بستر ہونے کی وجہ سے عورت کو مہر ملے گا اور شوہر یہ (مہر) اس شخص سے وصول کرے گا جس نے اسے اس عورت کے بارے میں دھوکا دیا۔ اسے سعید بن منصور، مالک اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ اور سعید (بن منصور) نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح روایت کیا ہے اور یہ اضافہ کیا ہے: یا اس (کی شرمگاہ) میں قرن (رکاوٹ) ہو تو اس کے شوہر کو اختیار ہے، اور اگر اس نے اسے چھو لیا ہو تو عورت کو اس کی شرمگاہ حلال کرنے کے بدلے مہر ملے گا۔ [بلوغ المرام/حدیث: 865]
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك في الموطأ:2 /526، وابن أبي شيبة:4 /175، وسعيد بن منصور.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 866
ومن طريق سعيد بن المسيب أيضا قال: قضى عمر في العنين أن يؤجل سنة. ورجاله ثقات.
اور سعید بن مسیب کے ہی واسطہ سے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نامرد آدمی کے لئے ایک سال کی مدت کا فیصلہ کیا۔ اس روایت کے راوی ثقہ ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 866]
«وَمِنْ طَرِيقِ» اور طریق (سند) سے – «سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ» سعید بن مسیب کے – «أَيْضًا» بھی – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَضَى» فیصلہ کیا – «عُمَرُ» عمر نے – «فِي الْعِنِّينِ» نامرد کے بارے میں – «أَنْ يُؤَجَّلَ» کہ اسے مہلت دی جائے – «سَنَةً» ایک سال کی۔ – «وَرِجَالُهُ» اور اس کے راوی – «ثِقَاتٌ» ثقہ ہیں۔
اور سعید بن مسیب ہی کی سند سے یہ بھی مروی ہے، انہوں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نامرد (شوہر) کے بارے میں فیصلہ کیا کہ اسے ایک سال کی مہلت دی جائے۔ اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 866]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن أبي شيبة:4 /206، حديث:16496 فيه سعيد بن أبي عروبة وقتادة مدلسان وعنعنا.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. باب عشرة النساء
عورتوں (بیویوں) کے ساتھ رہن سہن و میل جول کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 867
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏ملعون من أتى امرأة في دبرها» .‏‏‏‏ رواه أبو داود والنسائي،‏‏‏‏ واللفظ له،‏‏‏‏ ورجاله ثقات،‏‏‏‏ لكن أعل بالإرسال.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص عورت سے اس کی دبر میں جماع کرے وہ لعنتی ہے۔“ اس حدیث کو ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور یہ الفاظ نسائی کے ہیں اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ مگر اس حدیث کو مرسل ہونے کی وجہ سے معلول قرار دیا گیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 867]
«عَنْ» سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مَلْعُونٌ» ملعون ہے – «مَنْ» جو – «أَتَى» آیا – «امْرَأَةً» کسی عورت کے پاس – «فِي دُبُرِهَا» اس کی دبر (پچھلی شرمگاہ) میں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود – «وَالنَّسَائِيُّ» اور نسائی نے – «وَاللَّفْظُ لَهُ» اور الفاظ اسی (نسائی) کے ہیں – «وَرِجَالُهُ» اور اس کے راوی – «ثِقَاتٌ» ثقہ ہیں – «لَكِنْ» لیکن – «أُعِلَّ» اسے معلول قرار دیا گیا ہے – «بِالْإِرْسَالِ» مرسل ہونے کی وجہ سے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص ملعون ہے جو کسی عورت کے پاس اس کی دبر میں آئے۔“ اسے ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے، الفاظ نسائی کے ہیں اور اس کے راوی ثقہ ہیں لیکن اسے مرسل ہونے کی علت سے معلول کہا گیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 867]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، النكاح، باب في جامع النكاح، حديث:2162، والنسائي في الكبرٰي:5 /323، حديث:9015، وابن ماجه، النكاح، حديث:1923.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 868
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا ينظر الله إلى رجل أتى رجلا،‏‏‏‏ أو امرأة في دبرها» .‏‏‏‏ رواه الترمذي والنسائي وابن حبان،‏‏‏‏ وأعل بالوقف.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی طرف رحمت کی نظر سے نہیں دیکھے گا جس نے کسی مرد یا عورت سے قوم لوط کا فعل کیا ہو۔“ اسے ترمذی، نسائی اور ابن حبان نے روایت کی ہے اور اسے موقوف ہونے کی وجہ سے معلول قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 868]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَا يَنْظُرُ اللَّهُ» اللہ نہیں دیکھے گا – «إِلَى رَجُلٍ» ایسے آدمی کی طرف – «أَتَى» جو آیا – «رَجُلًا» کسی مرد کے پاس – «أَوِ امْرَأَةً» یا کسی عورت کے پاس – «فِي دُبُرِهَا» اس کی دبر میں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی – «وَالنَّسَائِيُّ» اور نسائی – «وَابْنُ حِبَّانَ» اور ابن حبان نے – «وَأُعِلَّ» اور اسے معلول قرار دیا گیا – «بِالْوَقْفِ» موقوف ہونے کی وجہ سے۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ (قیامت کے دن) اس آدمی کی طرف (رحمت کی نظر سے) نہیں دیکھے گا جو کسی مرد کے پاس آئے یا کسی عورت کے پاس اس کی دبر میں آئے۔“ اسے ترمذی، نسائی اور ابن حبان نے روایت کیا ہے اور اسے موقوف ہونے کی علت سے معلول کہا گیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 868]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، الرضاع، باب ما جاء في كراهية إتيان النساء في أدبارهن، حديث:1165، وقال: "حسن غريب" والنسائي في الكبرٰي:5 /320، 321، حديث:9001، 9002، وابن حبان (الإحسان):6 /202، حديث:4191ب.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 869
وعن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يؤذ جاره،‏‏‏‏ واستوصوا بالنساء خيرا،‏‏‏‏ فإنهن خلقن من ضلع،‏‏‏‏ وإن أعوج شيء في الضلع أعلاه،‏‏‏‏ فإن ذهبت تقيمه كسرته،‏‏‏‏ وإن تركته لم يزل أعوج،‏‏‏‏ فاستوصوا بالنساء خيرا» .‏‏‏‏ متفق عليه،‏‏‏‏ واللفظ للبخاري. ولمسلم: فإن استمتعت بها استمتعت وبها عوج،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وإن ذهبت تقيمها كسرتها،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وكسرها طلاقها.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے ہمسایہ کو اذیت نہ پہنچائے اور عورتوں کے بارے میں بھلائی کی وصیت قبول کرو، بیشک ان کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے اور پسلی کا زیادہ ٹیڑھا حصہ اس کا اوپر والا ہوتا ہے۔ لہذا اگر کوئی اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرے گا تو اسے توڑ بیٹھے گا اور اگر اس کو اس کے حال پر چھوڑ دے گا تو وہ ہمیشہ ٹیڑھی رہے گی۔ پس عورتوں کے حق میں ہمیشہ بھلائی کی وصیت قبول کرو۔“ (بخاری و مسلم) یہ الفاظ بخاری کے ہیں اور مسلم کی روایت میں ہے اگر تو اس سے فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کے ٹیڑھے پن کے باوجود اس سے فائدہ اٹھا سکے گا اور اگر تو نے اسے سیدھا کرنے کی کوشش کی تو اسے توڑ بیٹھے گا اور اس کا توڑنا اسے طلاق دینا ہے۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 869]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «عَنِ النَّبِيِّ» نبی سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» (آپ نے) فرمایا: – «مَنْ كَانَ» جو – «يُؤْمِنُ» ایمان رکھتا ہو – «بِاللَّهِ» اللہ پر – «وَالْيَوْمِ الْآخِرِ» اور آخرت کے دن پر – «فَلَا يُؤْذِ» تو وہ تکلیف نہ دے – «جَارَهُ» اپنے پڑوسی کو – «وَاسْتَوْصُوا» اور وصیت قبول کرو – «بِالنِّسَاءِ» عورتوں کے بارے میں – «خَيْرًا» بھلائی کی – «فَإِنَّهُنَّ» کیونکہ وہ – «خُلِقْنَ» پیدا کی گئی ہیں – «مِنْ ضِلَعٍ» پسلی سے – «وَإِنَّ» اور بے شک – «أَعْوَجَ» سب سے ٹیڑھی – «شَيْءٍ» چیز – «فِي الضِّلَعِ» پسلی میں – «أَعْلَاهُ» اس کا اوپر والا حصہ ہے – «فَإِنْ ذَهَبْتَ» پس اگر تم چلے – «تُقِيمُهُ» اسے سیدھا کرنے – «كَسَرْتَهُ» تو اسے توڑ دو گے – «وَإِنْ تَرَكْتَهُ» اور اگر اسے چھوڑ دو – «لَمْ يَزَلْ» تو وہ ہمیشہ رہے گی – «أَعْوَجَ» ٹیڑھی – «فَاسْتَوْصُوا» پس وصیت قبول کرو – «بِالنِّسَاءِ» عورتوں کے بارے میں – «خَيْرًا» بھلائی کی۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر اتفاق ہے – «وَاللَّفْظُ» اور الفاظ – «لِلْبُخَارِيِّ» بخاری کے ہیں۔ – «وَلِمُسْلِمٍ» اور مسلم کی روایت میں ہے: – «فَإِنِ اسْتَمْتَعْتَ» پس اگر تم فائدہ اٹھاؤ – «بِهَا» اس سے – «اسْتَمْتَعْتَ» تو فائدہ اٹھا لو گے – «وَبِهَا» اس حال میں کہ اس میں – «عِوَجٌ» ٹیڑھ پن ہے – «وَإِنْ ذَهَبْتَ» اور اگر تم چلے – «تُقِيمُهَا» اسے سیدھا کرنے – «كَسَرْتَهَا» تو اسے توڑ دو گے – «وَكَسْرُهَا» اور اس کا توڑنا – «طَلَاقُهَا» اسے طلاق دینا ہے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے، اور عورتوں کے ساتھ بھلائی کرنے کی میری وصیت قبول کرو، کیونکہ وہ پسلی سے پیدا کی گئی ہیں اور پسلی میں سب سے زیادہ ٹیڑھا اس کا اوپر والا حصہ ہوتا ہے، اگر تم اسے سیدھا کرنے لگو گے تو اسے توڑ دو گے اور اگر اسے چھوڑ دو گے تو وہ ہمیشہ ٹیڑھی ہی رہے گی، لہٰذا عورتوں کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت قبول کرو۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ بخاری کے ہیں۔ اور مسلم کی روایت میں ہے: ”اگر تم اس سے فائدہ اٹھانا چاہو تو اس کے ٹیڑھ پن کے ساتھ ہی فائدہ اٹھا لو گے، اور اگر اسے سیدھا کرنے لگو گے تو اسے توڑ دو گے، اور اس کا توڑنا اسے طلاق دینا ہے۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 869]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، النكاح، باب الوصاة بالنساء، حديث:5185، 5186، ومسلم، الرضاع، باب الوصية بالنساء، حديث:1468.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 870
وعن جابر قال: كنا مع النبي صلى الله عليه وآله وسلم في غزوة،‏‏‏‏ فلما قدمنا المدينة ذهبنا لندخل فقال: «‏‏‏‏أمهلوا حتى تدخلوا ليلا،‏‏‏‏ (يعني عشاء) لكي تمتشط الشعثة،‏‏‏‏ وتستحد المغيبة» .‏‏‏‏ متفق عليه. وفي رواية للبخاري: «‏‏‏‏إذا أطال أحدكم الغيبة فلا يطرق أهله ليلا» .‏‏‏‏
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک غزوہ میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ جب ہم مدینہ واپس پہنچ کر اپنے اپنے گھروں میں جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ذرا ٹھہر جاؤ۔ رات کے وقت گھروں میں داخل ہونا، رات سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد عشاء کا وقت تھا، تاکہ پراگندہ بالوں والی اپنے بالوں میں کنگھی وغیرہ کر لے اور جس کا خاوند گھر سے باہر غائب تھا وہ اپنے جسم کے زائد بالوں کی صفائی کر لے۔“ (بخاری و مسلم) اور بخاری کی ایک روایت میں ہے ”تم میں سے کوئی جب لمبی مدت کے بعد واپس آئے تو اچانک رات کے وقت گھر میں داخل نہ ہو۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 870]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرٍ» جابر – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «كُنَّا» ہم تھے – «مَعَ النَّبِيِّ» نبی کے ساتھ – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فِي غَزْوَةٍ» ایک غزوے میں – «فَلَمَّا» پس جب – «قَدِمْنَا» ہم پہنچے – «الْمَدِينَةَ» مدینہ – «ذَهَبْنَا» ہم چلے – «لِنَدْخُلَ» تاکہ (گھروں میں) داخل ہوں – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «أَمْهِلُوا» ٹھہر جاؤ – «حَتَّى» یہاں تک کہ – «تَدْخُلُوا» تم داخل ہو – «لَيْلًا» رات کو – «(يَعْنِي عِشَاءً)» (یعنی عشاء کے وقت) – «لِكَيْ» تاکہ – «تَمْتَشِطَ» کنگھی کر لے – «الشَّعِثَةُ» پراگندہ بالوں والی – «وَتَسْتَحِدَّ» اور استرا استعمال کر لے (زیر ناف صاف کر لے) – «الْمُغِيبَةُ» وہ جس کا شوہر غائب تھا۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ» اور بخاری کی ایک روایت میں ہے: – «إِذَا» جب – «أَطَالَ» لمبی کرے – «أَحَدُكُمُ» تم میں سے کوئی – «الْغَيْبَةَ» غیر حاضری – «فَلَا يَطْرُقْ» تو رات کو اچانک نہ آئے – «أَهْلَهُ» اپنے گھر والوں کے پاس – «لَيْلًا» رات کو۔
اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم ایک غزوے میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، جب ہم مدینہ پہنچے اور (اپنے گھروں میں) داخل ہونے لگے تو آپ نے فرمایا: ”ٹھہر جاؤ یہاں تک کہ رات کو (یعنی عشاء کے وقت) داخل ہو، تاکہ پراگندہ بالوں والی (عورت) کنگھی کر لے اور جس کا شوہر غائب تھا وہ (زیر ناف بال) صاف کر لے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور بخاری کی ایک روایت میں ہے: ”جب تم میں سے کوئی (گھر سے) لمبی مدت غائب رہے تو رات کو اچانک اپنے گھر والوں کے پاس نہ آئے۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 870]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، النكاح، باب تزوج الثيبات، حديث:5079، ومسلم، الرضاع، باب استحباب نكاح البكر، حديث:715، بعد حديث:1466 /57.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 871
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إن شر الناس عند الله منزلة يوم القيامة الرجل يفضي إلى امرأته،‏‏‏‏ وتفضي إليه ثم ينشر سرها» .‏‏‏‏ أخرجه مسلم.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین انسان وہ ہو گا جو اپنی بیوی کے پاس پہنچے اور عورت اس کی طرف پہنچے۔ پھر وہ اس کا بھید ظاہر کرے۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 871]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ» ابو سعید خدری – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِنَّ» بے شک – «شَرَّ النَّاسِ» لوگوں میں سب سے برا – «عِنْدَ اللَّهِ» اللہ کے نزدیک – «مَنْزِلَةً» مرتبے کے لحاظ سے – «يَوْمَ الْقِيَامَةِ» قیامت کے دن – «الرَّجُلُ» وہ آدمی ہے – «يُفْضِي» جو ملتا (خلوت کرتا) ہے – «إِلَى امْرَأَتِهِ» اپنی بیوی سے – «وَتُفْضِي إِلَيْهِ» اور وہ اس سے ملتی ہے – «ثُمَّ» پھر – «يَنْشُرُ» وہ پھیلاتا ہے – «سِرَّهَا» اس کا راز۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن اللہ کے نزدیک مرتبے کے لحاظ سے لوگوں میں سب سے برا وہ آدمی ہو گا جو اپنی بیوی سے خلوت کرے اور وہ اس سے خلوت کرے، پھر وہ اس کا راز پھیلا دے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 871]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، النكاح، باب تحريم إفشاء سر المرأة، حديث:1437.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 872
وعن حكيم بن معاوية عن أبيه رضي الله عنه قال: قلت: يا رسول الله! ما حق زوج أحدنا عليه؟ قال: «‏‏‏‏تطعمها إذا أكلت،‏‏‏‏ وتكسوها إذا اكتسيت،‏‏‏‏ ولا تضرب الوجه،‏‏‏‏ ولا تقبح،‏‏‏‏ ولا تهجر إلا في البيت» .‏‏‏‏ رواه أحمد وأبو داود والنسائي وابن ماجه،‏‏‏‏ وعلق البخاري بعضه،‏‏‏‏ وصححه ابن حبان والحاكم.
سیدنا حکیم بن معاویہ نے اپنے باپ سے بیان کیا وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہماری بیویوں کا ہم پر کیا حق ہے؟ ارشاد ہوا کہ جب تو کھائے تو اسے بھی کھلائے اور جب تو پہنے تو اسے بھی پہنائے اور اس کے منہ پر نہ مارے اور نہ اسے گالی گلوچ دے اور گھر کے علاوہ اس سے الگ نہ رہے۔ اسے احمد، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور بخاری نے اس روایت کا بعض حصہ تعلیقاً بیان کیا ہے۔ ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 872]
«وَعَنْ» اور سے – «حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ» حکیم بن معاویہ – «عَنْ أَبِيهِ» اپنے والد سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قُلْتُ» میں نے کہا: – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول! – «مَا حَقُّ» کیا حق ہے – «زَوْجِ أَحَدِنَا» ہم میں سے کسی کی بیوی کا – «عَلَيْهِ» اس پر؟ – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «تُطْعِمُهَا» تم اسے کھلاؤ – «إِذَا أَكَلْتَ» جب تم کھاؤ – «وَتَكْسُوهَا» اور اسے پہناؤ – «إِذَا اكْتَسَيْتَ» جب تم پہنو – «وَلَا تَضْرِبِ» اور نہ مارو – «الْوَجْهَ» چہرے پر – «وَلَا تُقَبِّحْ» اور نہ برا بھلا کہو – «وَلَا تَهْجُرْ» اور نہ (اس سے) علیحدگی اختیار کرو – «إِلَّا فِي الْبَيْتِ» مگر گھر ہی میں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود – «وَالنَّسَائِيُّ» اور نسائی – «وَابْنُ مَاجَهْ» اور ابن ماجہ نے – «وَعَلَّقَ» اور معلق بیان کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے – «بَعْضَهُ» اس کا کچھ حصہ – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان – «وَالْحَاكِمُ» اور حاکم نے۔
اور حکیم بن معاویہ اپنے والد (سیدنا معاویہ بن حیدہ) رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کسی کی بیوی کا اس پر کیا حق ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، جب تم پہنو تو اسے بھی پہناؤ، چہرے پر نہ مارو، برا بھلا نہ کہو (بدصورتی کی بددعا نہ دو) اور (ناراضگی میں) اس سے علیحدگی گھر ہی میں اختیار کرو۔“ اسے احمد، ابو داود، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے، بخاری نے اس کا کچھ حصہ معلقاً ذکر کیا ہے اور ابن حبان اور حاکم نے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 872]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، النكاح، باب في حق المرأة علي زوجها، حديث:2142، وابن ماجه، النكاح، حديث:1850، والنسائي في الكبرٰي:5 /373، حديث:9171، وابن حبان (الإحسان):6 /188، حديث:4163، والحاكم:2 /188، والبخاري تعليقًا بعضه قبل حديث:5202.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 873
وعن جابر بن عبد الله قال: كانت اليهود تقول: إذا أتى الرجل امرأته من دبرها في قبلها كان الولد أحول فنزلت: «نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم» متفق عليه , واللفظ لمسلم
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہود کہتے تھے کہ مرد جب اپنی بیوی سے پچھلی جانب سے قبل میں مجامعت و مباشرت کرتا ہے تو بچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ «نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم» عورتیں تمہاری کھیتی ہیں لہذا اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ۔ (بخاری و مسلم) اور یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 873]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ» جابر بن عبداللہ – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «كَانَتِ الْيَهُودُ» یہودی – «تَقُولُ» کہا کرتے تھے: – «إِذَا» جب – «أَتَى» آئے – «الرَّجُلُ» آدمی – «امْرَأَتَهُ» اپنی بیوی کے پاس – «مِنْ دُبُرِهَا» اس کے پیچھے سے – «فِي قُبُلِهَا» اس کی اگلی شرمگاہ میں – «كَانَ» ہوتا ہے – «الْوَلَدُ» بچہ – «أَحْوَلَ» بھینگا – «فَنَزَلَتْ» تو (یہ آیت) نازل ہوئی: – «نِسَاؤُكُمْ» تمہاری عورتیں – «حَرْثٌ لَكُمْ» تمہاری کھیتی ہیں – «فَأْتُوا» پس آؤ – «حَرْثَكُمْ» اپنی کھیتی میں – «أَنَّى شِئْتُمْ» جیسے تم چاہو۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر اتفاق ہے – «وَاللَّفْظُ» اور الفاظ – «لِمُسْلِمٍ» مسلم کے ہیں۔
اور سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: یہودی کہا کرتے تھے کہ جب آدمی اپنی بیوی کے پاس پیچھے کی طرف سے اس کی اگلی شرمگاہ میں آئے تو بچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے، تو یہ آیت نازل ہوئی: ”تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں، سو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ۔“ (البقرۃ: 223) (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ مسلم کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 873]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، التفسير، باب نساء كم حرث لكم.......، حديث:4528، ومسلم، النكاح، باب جواز جماعة امرأة في قبلها......،حديث:1435.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں