بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. (أحاديث في النكاح)
(نکاح کے متعلق احادیث)
حدیث نمبر: 834
وعن عامر بن عبد الله بن الزبير، عن أبيه رضي الله عنهم: أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال:«أعلنوا النكاح» . رواه أحمد وصححه الحاكم.
سیدنا عامر بن عبداللہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے اپنے والد سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نکاح کا اعلان کرو۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 834]
«وَعَنْ» اور سے – «عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ» عامر بن عبداللہ بن زبیر – «عَنْ أَبِيهِ» اپنے والد سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ» اللہ ان سب سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» فرمایا: – «أَعْلِنُوا» اعلان کرو – «النِّكَاحَ» نکاح کا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «الْحَاكِمُ» حاکم نے۔
اور عامر بن عبداللہ بن زبیر اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن زبیر) رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نکاح کا اعلان کرو۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور حاکم نے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 834]
اور عامر بن عبداللہ بن زبیر اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن زبیر) رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نکاح کا اعلان کرو۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور حاکم نے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 834]
تخریج الحدیث: «أخرجه أحمد:4 /5، والحاكم"2 /183 وصححه، ووافقه الذهبي.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 835
وعن أبي بردة بن أبي موسى عن أبيه رضي الله تعالى عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «لا نكاح إلا بولي» رواه أحمد والأربعة وصححه ابن المديني والترمذي وابن حبان وأعله بالإرسال. وروى الإمام أحمد عن الحسن عن عمران بن الحصين مرفوعا: «لا نكاح إلا بولي وشاهدين» .
سیدنا ابوبردہ بن ابی موسیٰ نے اپنے باپ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔“ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے۔ امام ابن مدینی، ترمذی اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور مرسل ہونے کی وجہ سے اسے معلول قرار دیا گیا ہے اور امام احمد رحمہ اللہ نے حسن سے اور انہوں نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے مرفوع روایت بیان کی ہے کہ ”نکاح ولی اور دو گواہوں کے بغیر منعقد نہیں ہوتا۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 835]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى» ابو بردہ بن ابی موسیٰ – «عَنْ أَبِيهِ» اپنے والد سے – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا» اللہ تعالیٰ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَا نِكَاحَ» کوئی نکاح نہیں – «إِلَّا بِوَلِيٍّ» مگر ولی کے ساتھ۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَالْأَرْبَعَةُ» اور چاروں نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ الْمَدِينِيِّ» ابن المدینی – «وَالتِّرْمِذِيُّ» اور ترمذی – «وَابْنُ حِبَّانَ» اور ابن حبان نے – «وَأُعِلَّ» اور اسے معلول قرار دیا گیا – «بِالْإِرْسَالِ» مرسل ہونے کی وجہ سے۔ – «وَرَوَى» اور روایت کیا – «الْإِمَامُ أَحْمَدُ» امام احمد نے – «عَنِ الْحَسَنِ» حسن سے – «عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ» عمران بن حصین سے – «مَرْفُوعًا» مرفوعاً: – «لَا نِكَاحَ» کوئی نکاح نہیں – «إِلَّا بِوَلِيٍّ» مگر ولی – «وَشَاهِدَيْنِ» اور دو گواہوں کے ساتھ۔
اور ابو بردہ بن ابی موسیٰ اپنے والد (سیدنا ابو موسیٰ اشعری) رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ولی کے بغیر کوئی نکاح نہیں۔“ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے، ابن المدینی، ترمذی اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے اور اسے مرسل ہونے کی علت سے معلول بھی کہا گیا ہے۔ اور امام احمد نے حسن (بصری) سے، انہوں نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے: ”ولی اور دو گواہوں کے بغیر کوئی نکاح نہیں۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 835]
اور ابو بردہ بن ابی موسیٰ اپنے والد (سیدنا ابو موسیٰ اشعری) رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ولی کے بغیر کوئی نکاح نہیں۔“ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے، ابن المدینی، ترمذی اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے اور اسے مرسل ہونے کی علت سے معلول بھی کہا گیا ہے۔ اور امام احمد نے حسن (بصری) سے، انہوں نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے: ”ولی اور دو گواہوں کے بغیر کوئی نکاح نہیں۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 835]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، النكاح، باب في الولي، حديث:2085، والترمذي، النكاح، حديث:1101، وابن ماجه، النكاح، حديث:1881، والنسائي: لم أجده، وأحمد:4 /394، وانظر لا بطال التعليل نيل المقصود لراقم الحروف،والحمد لِلهِ، وحديث عمران بن حصين أخرجه أحمد: لم أجده، ومتن الحديث صحيح بالشواهد.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 836
وعن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «أيما امرأة نكحت بغير إذن وليها فنكاحها باطل، فإن دخل بها فلها المهر بما استحل من فرجها، فإن اشتجروا فالسلطان ولي من لا ولي له» . أخرجه الأربعة إلا النسائي، وصححه أبو عوانة وابن حبان والحاكم.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کسی خاتون نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا، اس کا نکاح باطل ہے۔ پھر اگر شوہر نے اس سے دخول (مباشرت) کیا ہے تو اس عورت کیلئے حق مہر ہے، اس کی شرمگاہ کو حلال کرنے کے بدلہ میں۔ پھر اگر اولیاء میں جھگڑا ہو جائے تو پھر جس کا کوئی ولی نہیں اس کا ولی حاکم وقت ہے۔“ نسائی کے علاوہ اسے چاروں نے روایت کیا ہے، ابوعوانہ، ابن حبان اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 836]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَيُّمَا امْرَأَةٍ» جو بھی عورت – «نَكَحَتْ» نکاح کرے – «بِغَيْرِ إِذْنِ» اجازت کے بغیر – «وَلِيِّهَا» اپنے ولی کی – «فَنِكَاحُهَا» تو اس کا نکاح – «بَاطِلٌ» باطل ہے – «فَإِنْ دَخَلَ بِهَا» پس اگر وہ (مرد) اس سے ہم بستر ہو گیا – «فَلَهَا» تو اس کے لیے ہے – «الْمَهْرُ» مہر – «بِمَا اسْتَحَلَّ» اس کے بدلے جو اس نے حلال کیا – «مِنْ فَرْجِهَا» اس کی شرمگاہ میں سے – «فَإِنِ اشْتَجَرُوا» پھر اگر وہ (اولیاء) جھگڑیں – «فَالسُّلْطَانُ» تو حاکم – «وَلِيُّ» ولی ہے – «مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ» اس کا جس کا کوئی ولی نہیں۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «الْأَرْبَعَةُ» چاروں نے – «إِلَّا النَّسَائِيَّ» سوائے نسائی کے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «أَبُو عَوَانَةَ» ابو عوانہ – «وَابْنُ حِبَّانَ» اور ابن حبان – «وَالْحَاكِمُ» اور حاکم نے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے، پھر اگر مرد اس سے ہم بستر ہو گیا تو اس کی شرمگاہ حلال کرنے کے بدلے عورت کو مہر ملے گا، اور اگر اولیاء آپس میں جھگڑیں تو جس کا کوئی ولی نہ ہو حاکم اس کا ولی ہے۔“ اسے نسائی کے سوا چاروں نے روایت کیا ہے اور ابو عوانہ، ابن حبان اور حاکم نے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 836]
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے، پھر اگر مرد اس سے ہم بستر ہو گیا تو اس کی شرمگاہ حلال کرنے کے بدلے عورت کو مہر ملے گا، اور اگر اولیاء آپس میں جھگڑیں تو جس کا کوئی ولی نہ ہو حاکم اس کا ولی ہے۔“ اسے نسائی کے سوا چاروں نے روایت کیا ہے اور ابو عوانہ، ابن حبان اور حاکم نے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 836]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، النكاح، باب في الولي، حديث:2083، والترمذي، النكاح، حديث:1102، وابن ماجه،النكاح، حديث:1879، وأحمد:6 /166، وابن حبان (الإحسان):6 /151، حديث:4063، والحاكم:2 /168.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 837
وعن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه: أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «لا تنكح الأيم حتى تستأمر، ولا تنكح البكر حتى تستأذن» قالوا: يا رسول الله! وكيف إذنها؟ قال: «أن تسكت» . متفق عليه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بیوہ عورت کا نکاح اس سے مشورہ لئے بغیر نہ کیا جائے اور کنواری کا نکاح اس سے اجازت لئے بغیر نہ کیا جائے۔“ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس کی اجازت کیسے ہے؟ فرمایا ”اس کا خاموش رہنا۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 837]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» فرمایا: – «لَا تُنْكَحُ» نکاح نہ کیا جائے – «الْأَيِّمُ» بیوہ (ثیبہ) کا – «حَتَّى تُسْتَأْمَرَ» یہاں تک کہ اس سے مشورہ (صریح حکم) لیا جائے – «وَلَا تُنْكَحُ» اور نکاح نہ کیا جائے – «الْبِكْرُ» کنواری کا – «حَتَّى تُسْتَأْذَنَ» یہاں تک کہ اس سے اجازت لی جائے – «قَالُوا» انہوں نے کہا: – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول! – «وَكَيْفَ» اور کیسے ہے – «إِذْنُهَا» اس کی اجازت؟ – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «أَنْ تَسْكُتَ» یہ کہ وہ خاموش رہے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ (شوہر دیدہ) کا نکاح اس سے مشورہ لیے بغیر نہ کیا جائے اور کنواری کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے۔“ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی اجازت کیسے ہو گی؟ آپ نے فرمایا: ”یہ کہ وہ خاموش رہے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 837]
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ (شوہر دیدہ) کا نکاح اس سے مشورہ لیے بغیر نہ کیا جائے اور کنواری کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے۔“ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی اجازت کیسے ہو گی؟ آپ نے فرمایا: ”یہ کہ وہ خاموش رہے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 837]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، النكاح، باب لا ينكح الأب وغيره البكر والثيب إلا برضاهما، حديث:5136، ومسلم، النكاح، باب استئذان الثيب في النكاح بالنطق.....، حديث:1419.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 838
وعن ابن عباس: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال:«الثيب أحق بنفسها من وليها، والبكر تستأمر، وإذنها سكوتها» . رواه مسلم. وفي لفظ: «ليس للولي مع الثيب أمر واليتيمة تستأمر» . رواه أبو داود والنسائي وصححه ابن حبان.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”شوہر دیدہ عورت اپنے دوبارہ نکاح کے بارے میں اپنے ولی کی بہ نسبت خود زیادہ استحقاق رکھتی ہے اور کنواری سے اجازت لی جائے گی اور اس کا اذن اس کی خاموشی ہے۔“ (مسلم) اور ایک روایت میں ہے کہ شوہر دیدہ عورت کے بارے میں ولی کا کوئی اختیار نہیں اور یتیم بچیوں سے بھی مشورہ لیا جائے۔ اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 838]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» فرمایا: – «الثَّيِّبُ» شوہر دیدہ عورت – «أَحَقُّ» زیادہ حقدار ہے – «بِنَفْسِهَا» اپنے آپ کی – «مِنْ وَلِيِّهَا» اپنے ولی سے – «وَالْبِكْرُ» اور کنواری سے – «تُسْتَأْمَرُ» مشورہ لیا جائے – «وَإِذْنُهَا» اور اس کی اجازت – «سُكُوتُهَا» اس کی خاموشی ہے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔ – «وَفِي لَفْظٍ» اور ایک روایت کے الفاظ میں ہے: – «لَيْسَ» نہیں ہے – «لِلْوَلِيِّ» ولی کے لیے – «مَعَ الثَّيِّبِ» شوہر دیدہ کے ساتھ – «أَمْرٌ» کوئی اختیار – «وَالْيَتِيمَةُ» اور یتیم (بالغ کنواری) لڑکی سے – «تُسْتَأْمَرُ» مشورہ لیا جائے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود – «وَالنَّسَائِيُّ» اور نسائی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”شوہر دیدہ عورت اپنے (نکاح کے) بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حقدار ہے، اور کنواری سے مشورہ لیا جائے اور اس کی اجازت اس کی خاموشی ہے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور ایک روایت کے الفاظ ہیں: ”شوہر دیدہ کے ساتھ ولی کا کوئی اختیار نہیں، اور یتیم لڑکی سے مشورہ لیا جائے۔“ اسے ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 838]
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”شوہر دیدہ عورت اپنے (نکاح کے) بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حقدار ہے، اور کنواری سے مشورہ لیا جائے اور اس کی اجازت اس کی خاموشی ہے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور ایک روایت کے الفاظ ہیں: ”شوہر دیدہ کے ساتھ ولی کا کوئی اختیار نہیں، اور یتیم لڑکی سے مشورہ لیا جائے۔“ اسے ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 838]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، النكاح، باب استئذان الثيب في النكاح بالنطق...، حديث:1421، وأبوداود، النكاح، حديث:2098_2100، والنسائي، النكاح، حديث:3265، وابن حبان (الإحسان):6 /156، حديث:4077.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 839
وعن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول صلى الله عليه وآله وسلم: «لا تزوج المرأة المرأة، ولا تزوج المرأة نفسها» . رواه ابن ماجه والدارقطني، ورجاله ثقات.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہ کوئی عورت دوسری عورت کا (ولی بن کر) نکاح کرے اور نہ خود اپنا نکاح کرے۔“ اسے ابن ماجہ اور دارقطنی نے روایت کیا ہے۔ اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 839]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ» (اللہ کے) رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَا تُزَوِّجُ» نکاح نہ کرائے – «الْمَرْأَةُ» عورت – «الْمَرْأَةَ» عورت کا – «وَلَا تُزَوِّجُ» اور نہ نکاح کرے – «الْمَرْأَةُ» عورت – «نَفْسَهَا» خود اپنا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «ابْنُ مَاجَهْ» ابن ماجہ – «وَالدَّارَقُطْنِيُّ» اور دارقطنی نے – «وَرِجَالُهُ» اور اس کے راوی – «ثِقَاتٌ» ثقہ ہیں۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”عورت کسی عورت کا نکاح نہ کرائے اور نہ عورت خود اپنا نکاح کرے۔“ اسے ابن ماجہ اور دارقطنی نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 839]
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”عورت کسی عورت کا نکاح نہ کرائے اور نہ عورت خود اپنا نکاح کرے۔“ اسے ابن ماجہ اور دارقطنی نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 839]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجه، النكاح، باب لا نكاح إلا بولي، حديث:1882، والدارقطني:3 /227، وللحديث شواهد عند البيهقي:7 /110 وغيره.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 840
وعن نافع عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن الشغار، والشغار أن يزوج الرجل ابنته على أن يزوجه الآخر ابنته، وليس بينهما صداق.متفق عليه، واتفقا من وجه آخر على أن تفسير الشغار من كلام نافع.
سیدنا نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا ہے اور شغار کی تعریف یہ ہے کہ ایک آدمی اپنی بیٹی دوسرے آدمی سے اس شرط پر بیاہ دے کہ وہ اپنی بیٹی اس سے بیاہ دے گا اور دونوں کا کوئی مہر مقرر نہ ہو۔“ (بخاری و مسلم) اور بخاری اور مسلم اس پر متفق ہیں کہ شغار کی یہ تعریف نافع کی بیان کردہ ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 840]
«وَعَنْ» اور سے – «نَافِعٍ» نافع – «عَنِ ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «نَهَى» منع فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «عَنِ الشِّغَارِ» شغار سے – «وَالشِّغَارُ» اور شغار (یہ ہے) – «أَنْ يُزَوِّجَ» کہ نکاح کر دے – «الرَّجُلُ» آدمی – «ابْنَتَهُ» اپنی بیٹی کا – «عَلَى أَنْ» اس شرط پر کہ – «يُزَوِّجَهُ» اس سے نکاح کر دے – «الْآخَرُ» دوسرا – «ابْنَتَهُ» اپنی بیٹی کا – «وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا» اور ان دونوں کے درمیان نہ ہو – «صَدَاقٌ» کوئی مہر۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر اتفاق ہے – «وَاتَّفَقَا» اور دونوں نے اتفاق کیا – «مِنْ وَجْهٍ آخَرَ» ایک دوسری سند سے – «عَلَى أَنَّ» اس پر کہ – «تَفْسِيرَ الشِّغَارِ» شغار کی تفسیر – «مِنْ كَلَامِ نَافِعٍ» نافع کے کلام میں سے ہے۔
اور نافع رحمہ اللہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا۔ اور شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی کا نکاح (کسی سے) اس شرط پر کر دے کہ دوسرا اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کر دے اور ان کے درمیان کوئی مہر نہ ہو۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور دونوں نے ایک دوسری سند سے اس پر اتفاق کیا ہے کہ شغار کی یہ تفسیر نافع کا کلام ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 840]
اور نافع رحمہ اللہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا۔ اور شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی کا نکاح (کسی سے) اس شرط پر کر دے کہ دوسرا اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کر دے اور ان کے درمیان کوئی مہر نہ ہو۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور دونوں نے ایک دوسری سند سے اس پر اتفاق کیا ہے کہ شغار کی یہ تفسیر نافع کا کلام ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 840]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، النكاح، باب الشغار، حديث:5112، ومسلم، النكاح، باب تحريم نكاح الشغار وبطلانه، حديث:1415.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 841
وعن ابن عباس رضي الله عنهما: أن جارية بكرا أتت النبي صلى الله عليه وآله وسلم، فذكرت أن أباها زوجها وهي كارهة، فخيرها رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم. رواه أحمد وأبو داود وابن ماجه، وأعل بالإرسال.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے بتایا کہ اس کے والد نے اس کا نکاح کر دیا ہے جب کہ اسے ناپسند تھا (یہ سن کر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کو اختیار دے دیا۔ اسے احمد، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور اس حدیث کو مرسل ہونے کی بنا پر معلول کہا گیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 841]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «جَارِيَةً» ایک لڑکی – «بِكْرًا» کنواری – «أَتَتِ» آئی – «النَّبِيَّ» نبی کے پاس – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَذَكَرَتْ» تو اس نے بتایا – «أَنَّ أَبَاهَا» کہ اس کے باپ نے – «زَوَّجَهَا» اس کا نکاح کر دیا ہے – «وَهِيَ كَارِهَةٌ» حالانکہ وہ ناپسند کرتی ہے – «فَخَيَّرَهَا» تو اسے اختیار دے دیا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود – «وَابْنُ مَاجَهْ» اور ابن ماجہ نے – «وَأُعِلَّ» اور اسے معلول قرار دیا گیا – «بِالْإِرْسَالِ» مرسل ہونے کی وجہ سے۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور بتایا کہ اس کے باپ نے اس کا نکاح کر دیا ہے حالانکہ وہ اسے ناپسند کرتی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اختیار دے دیا۔ اسے احمد، ابو داود اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور اسے مرسل ہونے کی علت سے معلول کہا گیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 841]
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور بتایا کہ اس کے باپ نے اس کا نکاح کر دیا ہے حالانکہ وہ اسے ناپسند کرتی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اختیار دے دیا۔ اسے احمد، ابو داود اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور اسے مرسل ہونے کی علت سے معلول کہا گیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 841]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، النكاح، باب في البكر يزوجها أبوها ولا يستأمرها، حديث:2096، وابن ماجه، النكاح، حديث:1875، وأحمد:1 /273.»
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 842
وعن الحسن عن سمرة رضي الله تعالى عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «أيما امرأة زوجها وليان فهي للأول منهما» . رواه أحمد والأربعة، وحسنه الترمذي.
سیدنا حسن (بصری) رحمہ اللہ، سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد بیان کرتے ہیں کہ ”جس عورت کا نکاح دو ولی کر دیں تو یہ خاتون پہلے خاوند کی ہے۔“ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے حسن قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 842]
«وَعَنِ» اور سے – «الْحَسَنِ» حسن – «عَنْ سَمُرَةَ» سمرہ سے – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «عَنِ النَّبِيِّ» نبی سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» (آپ نے) فرمایا: – «أَيُّمَا امْرَأَةٍ» جو بھی عورت – «زَوَّجَهَا» اس کا نکاح کر دیں – «وَلِيَّانِ» دو ولی – «فَهِيَ» تو وہ – «لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا» ان دونوں میں سے پہلے کی ہے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَالْأَرْبَعَةُ» اور چاروں نے – «وَحَسَّنَهُ» اور اسے حسن کہا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی نے۔
اور حسن (بصری) سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جس عورت کا نکاح دو ولی (الگ الگ) کر دیں تو وہ ان دونوں میں سے پہلے (نکاح کرانے والے کے شوہر) کی ہے۔“ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے حسن کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 842]
اور حسن (بصری) سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جس عورت کا نکاح دو ولی (الگ الگ) کر دیں تو وہ ان دونوں میں سے پہلے (نکاح کرانے والے کے شوہر) کی ہے۔“ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے حسن کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 842]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، النكاح، باب إذا أنكاح الوليان، حديث:2088، والترمذي، النكاح.حديث:1110، والنسائي، البيوع، حديث:4686، وابن ماجه، التجارات، حديث:2190، وأحمد:5 /8، 18.»
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 843
وعن جابر رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «أيما عبد تزوج بغير إذن مواليه أو أهله فهو عاهر» . رواه أحمد وأبو داود والترمذي، وصححه، وكذلك صححه ابن حبان.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس غلام نے اپنے مالکوں اور اپنے اہل کی اجازت کے بغیر نکاح کیا وہ زانی ہے۔“ اسے احمد، ابوداؤد، نسائی اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے اور اسی طرح ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 843]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرٍ» جابر – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَيُّمَا عَبْدٍ» جو بھی غلام – «تَزَوَّجَ» نکاح کرے – «بِغَيْرِ إِذْنِ» اجازت کے بغیر – «مَوَالِيهِ» اپنے مالکوں کی – «أَوْ أَهْلِهِ» یا اپنے گھر والوں کی – «فَهُوَ» تو وہ – «عَاهِرٌ» زانی ہے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود – «وَالتِّرْمِذِيُّ» اور ترمذی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور (ترمذی نے) اسے صحیح کہا – «وَكَذَلِكَ» اور اسی طرح – «صَحَّحَهُ» اسے صحیح کہا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے۔
اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو غلام اپنے مالکوں یا اپنے گھر والوں کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو وہ زانی ہے۔“ اسے احمد، ابو داود اور ترمذی نے روایت کیا ہے، ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے اور اسی طرح ابن حبان نے بھی صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 843]
اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو غلام اپنے مالکوں یا اپنے گھر والوں کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو وہ زانی ہے۔“ اسے احمد، ابو داود اور ترمذی نے روایت کیا ہے، ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے اور اسی طرح ابن حبان نے بھی صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 843]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، النكاح، باب في نكاح العبد بغير إذن مواليه، حديث:2078، والترمذي، النكاح، حديث:1111، وأحمد:3 /300، 301، 382، وابن حبان:ينظر عنده، والحاكم:2 /194، ابن عقيل ضعيف.»
الحكم على الحديث:
ضعيف