🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. (أحاديث في النكاح)
(نکاح کے متعلق احادیث)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 844
وعن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏لا يجمع بين المرأة وعمتها،‏‏‏‏ ولا بين المرأة وخالتها» .‏‏‏‏متفق عليه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”(ایک مرد کے نکاح) میں پھوپھی اور بھتیجی، خالہ اور بھانجی کو جمع نہ کیا جائے۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 844]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» فرمایا: – «لَا يُجْمَعُ» جمع نہ کیا جائے – «بَيْنَ الْمَرْأَةِ» عورت کے درمیان – «وَعَمَّتِهَا» اور اس کی پھوپھی کے – «وَلَا بَيْنَ الْمَرْأَةِ» اور نہ عورت کے درمیان – «وَخَالَتِهَا» اور اس کی خالہ کے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”عورت اور اس کی پھوپھی کو (ایک نکاح میں) جمع نہ کیا جائے اور نہ عورت اور اس کی خالہ کو۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 844]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، النكاح، باب لا تنكح المرأة علي عمتها،حديث:5109، ومسلم، النكاح، باب تحريم الجمع بين المرأة وعمتها....، حديث:1408.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 845
وعن عثمان رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا ينكح المحرم ولا ينكح» . رواه مسلم. وفي رواية له: «‏‏‏‏ولا يخطب» ‏‏‏‏ وزاد ابن حبان: «‏‏‏‏ولا يخطب عليه» .
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”احرام والا آدمی نہ خود اپنا نکاح کرے اور نہ کسی دوسرے کا نکاح کرے۔“ (مسلم) اور مسلم کی ایک روایت میں ہے ”اور نہ وہ پیغام نکاح دے۔“ اور ابن حبان نے اتنا اضافہ نقل کیا ہے ”اور نہ ہی اس کے پیغام نکاح پر پیغام دیا جائے۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 845]
«وَعَنْ» اور سے – «عُثْمَانَ» عثمان – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَا يَنْكِحُ» نکاح نہ کرے – «الْمُحْرِمُ» احرام والا – «وَلَا يُنْكِحُ» اور نہ نکاح کرائے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔ – «وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ» اور اسی کی ایک روایت میں ہے: – «وَلَا يَخْطُبُ» اور نہ نکاح کا پیغام دے۔ – «وَزَادَ» اور اضافہ کیا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے: – «وَلَا يُخْطَبُ عَلَيْهِ» اور نہ اسے نکاح کا پیغام دیا جائے۔
اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”احرام والا نہ خود نکاح کرے اور نہ (کسی کا) نکاح کرائے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور مسلم ہی کی ایک روایت میں ہے: ”اور نہ نکاح کا پیغام دے۔“ اور ابن حبان نے یہ اضافہ کیا ہے: ”اور نہ اسے نکاح کا پیغام دیا جائے۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 845]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، النكاح، باب تحريم نكاح المحرم.... حديث:1409، وابن حبان (الإحسان):6 /169، حديث:4112.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 846
وعن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما قال: تزوج النبي صلى الله عليه وآله وسلم ميمونة وهو محرم. متفق عليه. ولمسلم عن ميمونة نفسها رضي الله عنها: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم تزوجها وهو حلال.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں تھے۔ (بخاری و مسلم) اور مسلم میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کا اپنا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم حلال تھے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 846]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا» اللہ تعالیٰ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «تَزَوَّجَ» نکاح کیا – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مَيْمُونَةَ» میمونہ سے – «وَهُوَ مُحْرِمٌ» اس حال میں کہ آپ احرام میں تھے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَلِمُسْلِمٍ» اور مسلم کی روایت میں ہے – «عَنْ مَيْمُونَةَ نَفْسِهَا» خود میمونہ سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «تَزَوَّجَهَا» ان سے نکاح کیا – «وَهُوَ حَلَالٌ» اس حال میں کہ آپ احرام کے بغیر تھے۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا جبکہ آپ احرام کی حالت میں تھے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور مسلم میں خود سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے نکاح کیا جبکہ آپ احرام کے بغیر (حلال) تھے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 846]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، النكاح، باب نكاح المحرم، حديث:1837، ومسلم، النكاح، باب تحريم نكاح المحرم.....، حديث:1410، حديث ميمونة أخرجه مسلم، النكاح، حديث:1411.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 847
وعن عقبة بن عامر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إن أحق الشروط أن يوفى به،‏‏‏‏ ما استحللتم به الفروج» .‏‏‏‏ متفق عليه.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”وہ شرط پورا کئے جانے کا زیادہ حق رکھتی ہے جس کے ذریعہ تم نے عورتوں کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 847]
«وَعَنْ» اور سے – «عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ» عقبہ بن عامر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِنَّ» بے شک – «أَحَقَّ الشُّرُوطِ» شرطوں میں سب سے زیادہ حقدار – «أَنْ يُوفَى بِهِ» اس کی کہ اسے پورا کیا جائے – «مَا» وہ ہے جس کے ذریعے – «اسْتَحْلَلْتُمْ» تم نے حلال کیا – «بِهِ» اس کے ساتھ – «الْفُرُوجَ» شرمگاہوں کو۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تمام شرطوں میں سب سے زیادہ پورا کیے جانے کے لائق وہ شرطیں ہیں جن کے ذریعے تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا ہے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 847]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، النكاح، باب الشروط في النكاح، حديث:5151، ومسلم، النكاح، باب الوفاء بالشروط في النكاح، حديث:1418.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 848
وعن سلمة بن الأكوع قال: رخص رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عام أوطاس في المتعة ثلاثة أيام،‏‏‏‏ ثم نهى عنها. رواه مسلم.
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ اوطاس کے موقع پر تین روز کے لئے نکاح متعہ کی اجازت دی۔ پھر اسے منع فرما دیا۔ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 848]
«وَعَنْ» اور سے – «سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ» سلمہ بن اکوع – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «رَخَّصَ» رخصت دی – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «عَامَ أَوْطَاسٍ» اوطاس کے سال – «فِي الْمُتْعَةِ» متعہ میں – «ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ» تین دن – «ثُمَّ» پھر – «نَهَى عَنْهَا» اس سے منع فرما دیا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اوطاس کے سال تین دن کے لیے متعہ کی رخصت دی، پھر اس سے منع فرما دیا۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 848]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، النكاح، باب نكاح المتعة....، حديث:1405.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 849
وعن علي رضي الله تعالى عنه قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن المتعة عام خيبر. متفق عليه.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے سال متعہ سے منع فرما دیا تھا۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 849]
«وَعَنْ» اور سے – «عَلِيٍّ» علی – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «نَهَى» منع فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «عَنِ الْمُتْعَةِ» متعہ سے – «عَامَ خَيْبَرَ» خیبر کے سال۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کے سال متعہ سے منع فرمایا۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 849]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، النكاح، باب نهي النبي صلي الله عليه وسلم عن نكاح المتعة أخيرًا، حديث:5115، ومسلم، النكاح، باب نكاح المتعة.....، حديث:1407.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 850
وعنه رضي الله عنه: أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم نهى عن متعة النساء،‏‏‏‏ وعن أكل الحمر الأهلية يوم خيبر.أخرجه السبعة إلا أبا داود.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے متعہ کرنے اور پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے خیبر کے روز منع فرمایا۔ ابوداؤد کے علاوہ ساتوں نے اس روایت کو نقل کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 850]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «نَهَى» منع فرمایا – «عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ» عورتوں سے متعہ کرنے سے – «وَعَنْ أَكْلِ» اور کھانے سے – «الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ» گھریلو گدھوں کے – «يَوْمَ خَيْبَرَ» خیبر کے دن۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «السَّبْعَةُ» ساتوں نے – «إِلَّا أَبَا دَاوُدَ» سوائے ابو داود کے۔
اور انہی (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کے دن عورتوں سے متعہ کرنے اور گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ اسے ابو داود کے سوا ساتوں (محدثین) نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 850]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، النكاح، باب نهي النبي صلي الله عليه وسلم عن نكاح المتعة أخيرًا، حديث:5115، ومسلم، النكاح، باب نكاح المتعة....، حديث:1407 وانظر الحديث السابق، والترمذي، النكاح، حديث:1121، والنسائي، النكاح، حديث:3368، وابن ماجه، النكاح، حديث:1961.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 851
وعن ربيع بن سبرة عن أبيه رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏إني كنت أذنت لكم في الاستمتاع من النساء،‏‏‏‏ وإن الله قد حرم ذلك إلى يوم القيامة،‏‏‏‏ فمن كان عنده منهن شيء فليخل سبيلها،‏‏‏‏ ولا تأخذوا مما آتيتموهن شيئا» .‏‏‏‏ أخرجه مسلم وأبو داود والنسائي وابن ماجه وأحمد وابن حبان.
سیدنا ربیع بن سبرہ نے اپنے باپ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”میں نے تمہیں عورتوں سے متعہ کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ اب اللہ تعالیٰ نے اسے تا روز قیامت حرام قرار دے دیا ہے۔ لہذا جس کسی کے پاس ان میں سے کوئی متعہ والی عورت ہو تو وہ اس کو چھوڑ دے اور جو کچھ تم انہیں دے چکے ہو اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لو۔“ اس روایت کو مسلم، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، احمد اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 851]
«وَعَنْ» اور سے – «رَبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ» ربیع بن سبرہ – «عَنْ أَبِيهِ» اپنے والد سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» فرمایا: – «إِنِّي» بے شک میں نے – «كُنْتُ أَذِنْتُ لَكُمْ» تمہیں اجازت دی تھی – «فِي الِاسْتِمْتَاعِ» متعہ کرنے میں – «مِنَ النِّسَاءِ» عورتوں سے – «وَإِنَّ اللَّهَ» اور بے شک اللہ نے – «قَدْ حَرَّمَ» حرام کر دیا ہے – «ذَلِكَ» اسے – «إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» قیامت کے دن تک – «فَمَنْ كَانَ» پس جس کے – «عِنْدَهُ» پاس ہو – «مِنْهُنَّ» ان میں سے – «شَيْءٌ» کوئی – «فَلْيُخَلِّ» تو وہ چھوڑ دے – «سَبِيلَهَا» اس کا راستہ – «وَلَا تَأْخُذُوا» اور نہ لو – «مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ» اس میں سے جو تم نے انہیں دیا ہے – «شَيْئًا» کچھ بھی۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود – «وَالنَّسَائِيُّ» اور نسائی – «وَابْنُ مَاجَهْ» اور ابن ماجہ – «وَأَحْمَدُ» اور احمد – «وَابْنُ حِبَّانَ» اور ابن حبان نے۔
اور ربیع بن سبرہ اپنے والد (سیدنا سبرہ جہنی) رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں عورتوں سے متعہ کرنے کی اجازت دی تھی، اور اب اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت کے دن تک کے لیے حرام کر دیا ہے، لہٰذا جس کے پاس ان میں سے کوئی (عورت) ہو وہ اس کا راستہ چھوڑ دے، اور جو کچھ تم نے انہیں دیا ہے اس میں سے کچھ واپس نہ لو۔“ اسے مسلم، ابو داود، نسائی، ابن ماجہ، احمد اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 851]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، النكاح، باب النكاح المتعة....، حديث:1406، وأبوداود، النكاح، حديث:2072، 2073، والنسائي، النكاح، حديث:3370، وابن ماجه، النكاح، حديث:1962، وأحمد:3 /405، وابن حبان (الإحسان):6 /177، حديث:4135.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 852
وعن ابن مسعود رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم المحلل والمحلل له. رواه أحمد والنسائي والترمذي،‏‏‏‏ وصححه،‏‏‏‏ وفي الباب عن علي،‏‏‏‏ أخرجه الأربعة إلا النسائي.
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔ اسے احمد، نسائی اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے اور پھر اس باب میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے جسے نسائی کے علاوہ چاروں نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 852]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ مَسْعُودٍ» ابن مسعود – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «لَعَنَ» لعنت فرمائی – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «الْمُحَلِّلَ» حلالہ کرنے والے پر – «وَالْمُحَلَّلَ لَهُ» اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے اس پر۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَالنَّسَائِيُّ» اور نسائی – «وَالتِّرْمِذِيُّ» اور ترمذی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور (ترمذی نے) اسے صحیح کہا – «وَفِي الْبَابِ» اور اس باب میں (روایت) ہے – «عَنْ عَلِيٍّ» علی سے – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «الْأَرْبَعَةُ» چاروں نے – «إِلَّا النَّسَائِيَّ» سوائے نسائی کے۔
اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے دونوں پر لعنت فرمائی۔ اسے احمد، نسائی اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے صحیح کہا ہے۔ اور اس باب میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے جسے نسائی کے سوا چاروں نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 852]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، النكاح، باب ما جاء في المحلل والمحلل له، حديث:1120، والنسائي، الطلاق، حديث:3445، وأحمد:1 /448 وسنده ضعيف، الثوري عنعن، وحديث علي أخرجه أبوداود، النكاح، حديث:2076، والترمذي، النكاح، حديث:1119، وابن ماجه، النكاح، حديث:1935 وسنده ضعيف.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 853
وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا ينكح الزاني المجلود إلا مثله» .‏‏‏‏ رواه أحمد وأبو داود،‏‏‏‏ ورجاله ثقات.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”زانی جس پر حد زنا کے کوڑے برس چکے ہوں اپنے جیسی حد لگی ہوئی عورت کے سوا کسی دوسری سے نکاح نہ کرے۔“ اسے احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 853]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَا يَنْكِحُ» نکاح نہ کرے – «الزَّانِي» زانی – «الْمَجْلُودُ» کوڑے لگایا ہوا – «إِلَّا مِثْلَهُ» مگر اپنے جیسی سے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود نے – «وَرِجَالُهُ» اور اس کے راوی – «ثِقَاتٌ» ثقہ ہیں۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کوڑے لگایا ہوا زانی اپنے جیسی (زانیہ) ہی سے نکاح کرے۔“ اسے احمد اور ابو داود نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 853]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، النكاح، باب في قوله تعالي: (الزاني لا ينكح إلا زانية)، حديث:2052، وأحمد:2 /324.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں