🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب عشرة النساء
عورتوں (بیویوں) کے ساتھ رہن سہن و میل جول کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 874
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لو أن أحدكم إذا أراد أن يأتي أهله قال: بسم الله،‏‏‏‏ اللهم جنبنا الشيطان،‏‏‏‏ وجنب الشيطان ما رزقتنا،‏‏‏‏ فإنه إن يقدر بينهما ولد في ذلك،‏‏‏‏ لم يضره الشيطان أبدا» .‏‏‏‏ متفق عليه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس جاتے وقت یہ دعا پڑھے «بسم الله، ‏‏‏‏ ‏‏‏‏اللهم جنبنا الشيطان، ‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وجنب الشيطان ما رزقتنا» اللہ کے نام کے ساتھ، الٰہی ہمیں شیطان سے کنارہ کش رکھ اور شیطان کو بھی اس سے دور رکھ جو تو ہمیں اولاد عطا فرمائے۔ تحقیق شان یہ ہے کہ اگر اس مجامعت سے ان کے مقدر و قسمت میں اولاد ہو گی تو شیطان اسے کبھی ضرر نہ پہنچا سکے گا۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 874]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَوْ أَنَّ» اگر – «أَحَدَكُمْ» تم میں سے کوئی – «إِذَا» جب – «أَرَادَ» ارادہ کرے – «أَنْ يَأْتِيَ» کہ آئے – «أَهْلَهُ» اپنی بیوی کے پاس – «قَالَ» (اور یہ) کہے: – «بِسْمِ اللَّهِ» اللہ کے نام سے – «اللَّهُمَّ» اے اللہ! – «جَنِّبْنَا» ہمیں دور رکھ – «الشَّيْطَانَ» شیطان سے – «وَجَنِّبِ» اور دور رکھ – «الشَّيْطَانَ» شیطان کو – «مَا رَزَقْتَنَا» اس سے جو تو ہمیں عطا کرے – «فَإِنَّهُ» تو بے شک – «إِنْ يُقَدَّرْ» اگر مقدر کیا گیا – «بَيْنَهُمَا» ان دونوں کے درمیان – «وَلَدٌ» کوئی بچہ – «فِي ذَلِكَ» اس (ملاپ) میں – «لَمْ يَضُرَّهُ» اسے نقصان نہیں پہنچائے گا – «الشَّيْطَانُ» شیطان – «أَبَدًا» کبھی بھی۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم میں سے کوئی جب اپنی بیوی کے پاس آنے کا ارادہ کرے تو یہ کہے: بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا (اللہ کے نام سے، اے اللہ! ہمیں شیطان سے دور رکھ اور جو (اولاد) تو ہمیں عطا کرے اسے بھی شیطان سے دور رکھ)، تو اگر اس ملاپ میں ان کے ہاں بچہ مقدر ہوا تو شیطان اسے کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 874]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، النكاح، باب مايقول الرجل إذا أتي أهله، حديث:5165، 7396، ومسلم، النكاح، باب ما يستحب أن يقوله عند الجماع، حديث:1434.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 875
وعن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه،‏‏‏‏ فأبت أن تجيء،‏‏‏‏ فبات غضبان،‏‏‏‏ لعنتها الملائكة حتى تصبح» .‏‏‏‏ متفق عليه واللفظ للبخاري. ولمسلم: «‏‏‏‏كان الذي في السماء ساخطا عليها،‏‏‏‏ حتى يرضى عنها» .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب مرد اپنی بیوی کو جنسی خواہش کے لئے اپنے بستر پر بلائے اور وہ آنے سے انکار کر دے اور خاوند ناراض ہو کر رات گزارے تو فرشتے صبح تک اس عورت پر لعنت و پھٹکار بھیجتے رہتے ہیں۔“ (بخاری و مسلم) یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔ اور مسلم میں ہے کہ ”جو آسمان میں ہے وہ اس پر ناراض رہتا ہے جب تک کہ خاوند بیوی سے خوش و راضی نہ ہو جائے۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 875]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «عَنِ النَّبِيِّ» نبی سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» (آپ نے) فرمایا: – «إِذَا» جب – «دَعَا» بلائے – «الرَّجُلُ» آدمی – «امْرَأَتَهُ» اپنی بیوی کو – «إِلَى فِرَاشِهِ» اپنے بستر کی طرف – «فَأَبَتْ» پس وہ انکار کرے – «أَنْ تَجِيءَ» آنے سے – «فَبَاتَ» اور وہ رات گزارے – «غَضْبَانَ» ناراض ہو کر – «لَعَنَتْهَا» اس پر لعنت کرتے ہیں – «الْمَلَائِكَةُ» فرشتے – «حَتَّى تُصْبِحَ» یہاں تک کہ وہ صبح کرے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر اتفاق ہے – «وَاللَّفْظُ» اور الفاظ – «لِلْبُخَارِيِّ» بخاری کے ہیں۔ – «وَلِمُسْلِمٍ» اور مسلم کی روایت میں ہے: – «كَانَ» ہوتا ہے – «الَّذِي فِي السَّمَاءِ» وہ جو آسمان میں ہے – «سَاخِطًا» ناراض – «عَلَيْهَا» اس پر – «حَتَّى» یہاں تک کہ – «يَرْضَى» وہ (شوہر) راضی ہو جائے – «عَنْهَا» اس سے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جب آدمی اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ آنے سے انکار کر دے، پھر وہ (شوہر) ناراضگی کی حالت میں رات گزارے تو فرشتے صبح تک اس (عورت) پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ بخاری کے ہیں۔ اور مسلم کی روایت میں ہے: ”تو وہ (اللہ) جو آسمان میں ہے اس سے ناراض رہتا ہے یہاں تک کہ وہ (شوہر) اس سے راضی ہو جائے۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 875]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، النكاح، باب إذا باتت المرأة مهاجرة فراش زوجها، حديث:5193، 3237، ومسلم، النكاح، باب تحريم امتناعها من فراش زوجها، حديث:1436.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 876
وعن ابن عمر رضي الله عنهما: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم لعن الواصلة،‏‏‏‏ والمستوصلة،‏‏‏‏ والواشمة،‏‏‏‏ والمستوشمة. متفق عليه.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر میں بال جوڑنے اور جڑوانے والی اور جسم پر گود کر نشان بنانے والی اور بنوانے والی پر لعنت فرمائی ہے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 876]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَعَنَ» لعنت فرمائی – «الْوَاصِلَةَ» (بالوں میں) جوڑ لگانے والی پر – «وَالْمُسْتَوْصِلَةَ» اور جوڑ لگوانے والی پر – «وَالْوَاشِمَةَ» اور گودنے والی پر – «وَالْمُسْتَوْشِمَةَ» اور گدوانے والی پر۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (بالوں میں مصنوعی) بال جوڑنے والی، جڑوانے والی، گودنے والی اور گدوانے والی (عورتوں) پر لعنت فرمائی۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 876]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، اللباس، باب الموصولة، حديث:5940، ومسلم، اللباس والزينة، باب تحريم فعل الواصلة والمستوصلة، حديث:2124.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 877
وعن جذامة بنت وهب رضي الله عنها قالت: حضرت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في أناس،‏‏‏‏ وهو يقول: «‏‏‏‏لقد هممت أن أنهى عن الغيلة،‏‏‏‏ فنظرت في الروم وفارس،‏‏‏‏ فإذا هم يغيلون أولادهم،‏‏‏‏ فلا يضر ذلك أولادهم شيئا» ‏‏‏‏ ثم سألوه عن العزل،‏‏‏‏ فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏ذلك الوأد الخفي» . رواه مسلم.
سیدہ جدامہ بنت وھب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئی۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے اور فرما رہے تھے کہ ”میں نے غیلہ سے منع کرنے کا ارادہ کیا۔ فوراً میری نظر روم و فارس پر پڑی جو اپنی اولاد سے غیلہ کرتے ہیں اور یہ غیلہ ان کی اولاد کو کچھ بھی ضرر نہیں دیتا۔“ پھر ان لوگوں نے عزل کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ زندہ درگور کرنے کا خفیہ طریقہ ہے۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 877]
«وَعَنْ» اور سے – «جُذَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ» جذامہ بنت وہب – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «حَضَرْتُ» میں حاضر ہوئی – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے پاس – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فِي أُنَاسٍ» کچھ لوگوں میں – «وَهُوَ يَقُولُ» اور آپ فرما رہے تھے: – «لَقَدْ هَمَمْتُ» یقیناً میں نے ارادہ کیا – «أَنْ أَنْهَى» کہ میں منع کر دوں – «عَنِ الْغِيلَةِ» غیلہ سے (دودھ پلانے کی مدت میں ہم بستری) – «فَنَظَرْتُ» پھر میں نے دیکھا – «فِي الرُّومِ» روم – «وَفَارِسَ» اور فارس (کے لوگوں) میں – «فَإِذَا هُمْ» تو اچانک وہ – «يُغِيلُونَ» غیلہ کرتے ہیں – «أَوْلَادَهُمْ» اپنی اولاد کے ساتھ – «فَلَا يَضُرُّ» تو نقصان نہیں دیتا – «ذَلِكَ» یہ – «أَوْلَادَهُمْ» ان کی اولاد کو – «شَيْئًا» کچھ بھی – «ثُمَّ» پھر – «سَأَلُوهُ» انہوں نے آپ سے پوچھا – «عَنِ الْعَزْلِ» عزل کے بارے میں – «فَقَالَ» تو فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «ذَلِكَ» یہ – «الْوَأْدُ» زندہ درگور کرنا ہے – «الْخَفِيُّ» پوشیدہ۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدہ جذامہ بنت وہب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں کچھ لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ فرما رہے تھے: ”میں نے ارادہ کیا تھا کہ غیلہ (دودھ پلانے والی بیوی سے ہم بستری) سے منع کر دوں، پھر میں نے روم اور فارس کے لوگوں کو دیکھا کہ وہ غیلہ کرتے ہیں اور اس سے ان کی اولاد کو کچھ نقصان نہیں ہوتا۔“ پھر لوگوں نے آپ سے عزل کے بارے میں پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ پوشیدہ طور پر زندہ درگور کرنا ہے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 877]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، النكاح، باب جواز الغيلة، وهي وطيء المرضع، وكراهة العزل، حديث:1442.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 878
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه أن رجلا قال: يا رسول الله إن لي جارية وأنا أعزل عنها،‏‏‏‏ وأكره أن تحمل،‏‏‏‏ وأنا أريد ما يريد الرجال،‏‏‏‏ وإن اليهود تحدث أن العزل الموءودة الصغرى؟ قال: «‏‏‏‏كذبت اليهود،‏‏‏‏ لو أراد الله أن يخلقه ما استطعت أن تصرفه» .‏‏‏‏ رواه أحمد وأبو داود واللفظ له،‏‏‏‏ والنسائي والطحاوي،‏‏‏‏ ورجاله ثقات.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا، اے اللہ کے رسول! میری ایک لونڈی ہے۔ میں اس سے عزل کرتا ہوں اور اس کا حاملہ ہونا مجھے پسند نہیں اور میں وہی چاہتا ہوں جو مرد چاہتے ہیں۔ یہودی کہتے ہیں کہ عزل تو چھوٹا زندہ درگور کرنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہود نے جھوٹ بولا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اسے پیدا کرنا چاہے تو اسے تو پھیر نہیں سکتا۔“ اسے احمد، ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور یہ الفاظ ابوداؤد کے ہیں نسائی اور طحاوی نے بھی اسے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 878]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ» ابو سعید خدری – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَجُلًا» ایک آدمی نے – «قَالَ» کہا: – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول! – «إِنَّ لِي» بے شک میری – «جَارِيَةً» ایک لونڈی ہے – «وَأَنَا» اور میں – «أَعْزِلُ عَنْهَا» اس سے عزل کرتا ہوں – «وَأَكْرَهُ» اور میں ناپسند کرتا ہوں – «أَنْ تَحْمِلَ» کہ وہ حاملہ ہو – «وَأَنَا» اور میں – «أُرِيدُ» چاہتا ہوں – «مَا يُرِيدُ» جو چاہتے ہیں – «الرِّجَالُ» مرد – «وَإِنَّ الْيَهُودَ» اور بے شک یہودی – «تُحَدِّثُ» بیان کرتے ہیں – «أَنَّ الْعَزْلَ» کہ عزل – «الْمَوْءُودَةُ» زندہ درگور کرنا ہے – «الصُّغْرَى» چھوٹا؟ – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «كَذَبَتِ الْيَهُودُ» یہودیوں نے جھوٹ کہا – «لَوْ أَرَادَ اللَّهُ» اگر اللہ ارادہ کرے – «أَنْ يَخْلُقَهُ» کہ اسے پیدا کرے – «مَا اسْتَطَعْتَ» تو تم طاقت نہیں رکھو گے – «أَنْ تَصْرِفَهُ» کہ اسے پھیر دو۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود نے – «وَاللَّفْظُ لَهُ» اور الفاظ اسی کے ہیں – «وَالنَّسَائِيُّ» اور نسائی – «وَالطَّحَاوِيُّ» اور طحاوی نے – «وَرِجَالُهُ» اور اس کے راوی – «ثِقَاتٌ» ثقہ ہیں۔
اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری ایک لونڈی ہے، میں اس سے عزل کرتا ہوں اور ناپسند کرتا ہوں کہ وہ حاملہ ہو، اور میں وہی چاہتا ہوں جو مرد چاہتے ہیں، اور یہودی کہتے ہیں کہ عزل چھوٹا زندہ درگور کرنا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”یہودیوں نے جھوٹ کہا، اگر اللہ اسے پیدا کرنا چاہے تو تم اسے پھیر نہیں سکتے۔“ اسے احمد اور ابو داود نے روایت کیا ہے اور الفاظ ابو داود کے ہیں، اور نسائی اور طحاوی نے (بھی روایت کیا ہے) اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 878]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، النكاح، باب ما جاء في العزل، حديث:2171، والنسائي، النكاح، حديث:3329، وأحمد:3 /33، والطحاوي في مشكل الآثار:2 /372، وحديث البيهقي(7 /230)يغني عنه.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 879
وعن جابر قال: كنا نعزل على عهد رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم والقرآن ينزل،‏‏‏‏ ولو كان شيئا ينهى عنه،‏‏‏‏ لنهانا عنه القرآن. متفق عليه. ولمسلم: فبلغ ذلك نبي الله صلى الله عليه وآله وسلم فلم ينهنا عنه.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں عزل کرتے تھے اور قرآن اس وقت نازل ہو رہا تھا اگر کوئی چیز قابل ممانعت ہوتی تو قرآن ہمیں اس سے لازما منع کر دیتا (بخاری و مسلم) اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے۔ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گئی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع نہیں فرمایا۔ [بلوغ المرام/حدیث: 879]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرٍ» جابر – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «كُنَّا نَعْزِلُ» ہم عزل کیا کرتے تھے – «عَلَى عَهْدِ» زمانے میں – «رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «وَالْقُرْآنُ» اور قرآن – «يَنْزِلُ» نازل ہو رہا تھا – «وَلَوْ كَانَ» اور اگر یہ ہوتا – «شَيْئًا» کوئی ایسی چیز – «يُنْهَى عَنْهُ» جس سے منع کیا جاتا – «لَنَهَانَا عَنْهُ» تو ہمیں اس سے ضرور منع کر دیتا – «الْقُرْآنُ» قرآن۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَلِمُسْلِمٍ» اور مسلم کی روایت میں ہے: – «فَبَلَغَ» پس پہنچی – «ذَلِكَ» یہ (بات) – «نَبِيَّ اللَّهِ» اللہ کے نبی کو – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَلَمْ يَنْهَنَا» تو آپ نے ہمیں منع نہیں کیا – «عَنْهُ» اس سے۔
اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں عزل کیا کرتے تھے جبکہ قرآن نازل ہو رہا تھا، اگر یہ کوئی ممنوع چیز ہوتی تو قرآن ہمیں اس سے ضرور منع کر دیتا۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے: یہ بات اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے ہمیں اس سے منع نہیں فرمایا۔ [بلوغ المرام/حدیث: 879]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، النكاح، باب العزل، حديث:5207، ومسلم، النكاح، باب حكم العزل، حديث:1440.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 880
وعن أنس بن مالك رضي الله عنه: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان يطوف على نسائه بغسل واحد.أخرجاه،‏‏‏‏ واللفظ لمسلم.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی غسل سے ساری بیویوں کے پاس چلے جایا کرتے تھے۔ (بخاری و مسلم) یہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 880]
«وَعَنْ» اور سے – «أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ» انس بن مالک – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «كَانَ يَطُوفُ» چکر لگایا کرتے تھے (ملا کرتے تھے) – «عَلَى نِسَائِهِ» اپنی بیویوں کے پاس – «بِغُسْلٍ وَاحِدٍ» ایک غسل کے ساتھ۔ – «أَخْرَجَاهُ» اسے ان دونوں (بخاری و مسلم) نے روایت کیا – «وَاللَّفْظُ» اور الفاظ – «لِمُسْلِمٍ» مسلم کے ہیں۔
اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (بعض اوقات) ایک ہی غسل سے اپنی تمام بیویوں کے پاس ہو آتے تھے۔ اسے بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے اور الفاظ مسلم کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 880]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الغسل، باب الجنب يخرج ويمشي في السوق وغيره، حديث:284، ومسلم، الحيض، باب جواز نوم الجنب......،حديث:309.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. باب الصداق
حق مہر کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 881
عن أنس رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم: أنه أعتق صفية وجعل عتقها صداقها. متفق عليه.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 881]
«عَنْ» سے – «أَنَسٍ» انس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «عَنِ النَّبِيِّ» نبی سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَنَّهُ» کہ آپ نے – «أَعْتَقَ» آزاد کیا – «صَفِيَّةَ» صفیہ کو – «وَجَعَلَ» اور بنا دیا – «عِتْقَهَا» ان کی آزادی کو – «صَدَاقَهَا» ان کا مہر۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر مقرر فرمایا۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 881]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، النكاح، باب من جعل عتق الأمة صداقها، حديث:5086، ومسلم، النكاح، باب فضيلة إعتاقه أمته ثم يتزوجها، حديث:(84)-1365 بعد الحديث:1427.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 882
وعن أبي سلمة بن عبد الرحمن رضي الله عنه أنه قال: سألت عائشة رضي الله عنها: كم كان صداق رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم؟ قالت: كان صداقه لأزواجه اثنتي عشرة أوقية،‏‏‏‏ ونشا،‏‏‏‏ قالت: أتدري ما النش؟ قال: قلت: لا قالت: نصف أوقية،‏‏‏‏ فتلك خمسمائة درهم،‏‏‏‏ فهذا صداق رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم لأزواجه. رواه مسلم.
سیدنا ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی بیویوں) کا مہر کتنا تھا؟ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کا مہر بارہ اوقیہ اور ایک نش، پھر انہوں نے فرمایا، کیا تو جانتا ہے کہ نش کتنا ہوتا ہے؟ میں نے کہا نہیں، انہوں نے فرمایا آدھا اوقیہ۔ اس طرح یہ پانچ سو درہم ہوئے۔ بس یہ تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کا حق مہر۔ (صحیح مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 882]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ» ابو سلمہ بن عبدالرحمن – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّهُ قَالَ» کہ انہوں نے کہا: – «سَأَلْتُ» میں نے پوچھا – «عَائِشَةَ» عائشہ سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «كَمْ كَانَ» کتنا تھا – «صَدَاقُ» مہر – «رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کا – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَتْ» انہوں نے کہا: – «كَانَ» تھا – «صَدَاقُهُ» آپ کا مہر – «لِأَزْوَاجِهِ» اپنی بیویوں کے لیے – «اثْنَتَيْ عَشْرَةَ» بارہ – «أُوقِيَّةً» اوقیہ – «وَنَشًّا» اور ایک نش – «قَالَتْ» انہوں نے کہا: – «أَتَدْرِي» کیا تم جانتے ہو – «مَا النَّشُّ» نش کیا ہے؟ – «قَالَ» (ابو سلمہ نے) کہا: – «قُلْتُ» میں نے کہا: – «لَا» نہیں – «قَالَتْ» انہوں نے کہا: – «نِصْفُ أُوقِيَّةٍ» آدھا اوقیہ – «فَتِلْكَ» تو یہ – «خَمْسُمِائَةِ دِرْهَمٍ» پانچ سو درہم ہوئے – «فَهَذَا» پس یہ – «صَدَاقُ» مہر تھا – «رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کا – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لِأَزْوَاجِهِ» اپنی بیویوں کے لیے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مہر کتنا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ کا اپنی بیویوں کے لیے مہر بارہ اوقیہ اور ایک نش تھا۔ انہوں نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو نش کیا ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: آدھا اوقیہ، تو یہ کل پانچ سو درہم ہوئے، یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنی بیویوں کے لیے مہر تھا۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 882]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، النكاح، باب الصداق وجواز كونه تعليم قراٰن وخاتم حديد.....، حديث:1426.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 883
وعن ابن عباس قال: لما تزوج علي فاطمة،‏‏‏‏ قال له رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏أعطها شيئا» ‏‏‏‏ قال: ما عندي شيء قال: «‏‏‏‏فأين درعك الحطمية؟» . رواه أبو داود والنسائي وصححه الحاكم.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اسے کچھ دو۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، میرے پاس کچھ بھی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”وہ تمہاری حطمی زرہ کہاں ہے؟“ اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 883]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «لَمَّا» جب – «تَزَوَّجَ» نکاح کیا – «عَلِيٌّ» علی نے – «فَاطِمَةَ» فاطمہ سے – «قَالَ لَهُ» ان سے فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَعْطِهَا» اسے دو – «شَيْئًا» کوئی چیز – «قَالَ» انہوں نے کہا: – «مَا عِنْدِي» میرے پاس نہیں ہے – «شَيْءٌ» کوئی چیز – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «فَأَيْنَ» تو کہاں ہے – «دِرْعُكَ» تمہاری زرہ – «الْحُطَمِيَّةُ» حطمی؟ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود – «وَالنَّسَائِيُّ» اور نسائی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «الْحَاكِمُ» حاکم نے۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اسے کچھ دو۔“ انہوں نے کہا: میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: ”تمہاری حطمی زرہ کہاں ہے؟“ اسے ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے اور حاکم نے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 883]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، باب في الرجل يدخل بامرأته قبل أن ينقدها شيئًا، حديث:2125، والنسائي، النكاح، حديث:3377، والحاكم: لم أجده، وابن حبان (الإحسان):9 /50.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں