🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب الصداق
حق مہر کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 884
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏أيما امرأة نكحت على صداق أو حباء أو عدة قبل عصمة النكاح،‏‏‏‏ فهو لها،‏‏‏‏ وما كان بعد عصمة النكاح،‏‏‏‏ فهو لمن أعطيه،‏‏‏‏ وأحق ما أكرم الرجل عليه ابنته أو أخته» .‏‏‏‏ رواه أحمد والأربعة إلا الترمذي.
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ نے اپنے باپ سے، انہوں نے اپنے دادا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس عورت کو مہر عطیہ یا نکاح سے پہلے کسی وعدہ کی بنا پر بیاہ دیا جائے تو یہ اس عورت کا حق ہے اور جو عطیہ نکاح کے بعد دیا جائے تو وہ اسی کا ہے جسے دیا جائے اور وہ چیز جس کی وجہ سے مرد زیادہ تکریم کا مستحق ہے اس کی بیٹی یا اس کی بہن ہے۔“ اسے احمد اور ترمذی کے علاوہ چاروں نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 884]
«وَعَنْ» اور سے – «عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ» عمرو بن شعیب – «عَنْ أَبِيهِ» اپنے والد سے – «عَنْ جَدِّهِ» اپنے دادا سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَيُّمَا امْرَأَةٍ» جو بھی عورت – «نُكِحَتْ» نکاح کی گئی – «عَلَى صَدَاقٍ» مہر پر – «أَوْ حِبَاءٍ» یا عطیہ پر – «أَوْ عِدَةٍ» یا وعدے پر – «قَبْلَ» پہلے – «عِصْمَةِ النِّكَاحِ» نکاح کے بندھن سے – «فَهُوَ لَهَا» تو وہ اسی کا ہے – «وَمَا كَانَ» اور جو ہو – «بَعْدَ» بعد – «عِصْمَةِ النِّكَاحِ» نکاح کے بندھن کے – «فَهُوَ» تو وہ – «لِمَنْ أُعْطِيَهُ» اس کا ہے جسے وہ دیا گیا – «وَأَحَقُّ» اور سب سے زیادہ حقدار – «مَا» وہ چیز جس – «أُكْرِمَ» عزت کی جائے – «الرَّجُلُ» آدمی کی – «عَلَيْهِ» اس پر – «ابْنَتُهُ» اس کی بیٹی – «أَوْ أُخْتُهُ» یا اس کی بہن ہے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَالْأَرْبَعَةُ» اور چاروں نے – «إِلَّا التِّرْمِذِيَّ» سوائے ترمذی کے۔
اور عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ ان کے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو) رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت کا نکاح مہر، یا عطیہ، یا وعدے پر نکاح کا بندھن ہونے سے پہلے کیا گیا تو وہ (سب) اسی (عورت) کا ہے، اور جو نکاح کے بندھن کے بعد ہو تو وہ اسی کا ہے جسے دیا گیا، اور آدمی کی جس چیز کی وجہ سے سب سے زیادہ عزت کی جانی چاہیے وہ اس کی بیٹی یا اس کی بہن ہے۔“ اسے احمد اور ترمذی کے سوا چاروں نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 884]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، النكاح، باب في الرجل يدخل بامرأته قبل أن ينقدها شيئًا، حديث:2129، والنسائي، النكاح، حديث:3355، وابن ماجه، النكاح، حديث:1955، وأحمد:2 /182.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 885
وعن علقمة عن ابن مسعود: أنه سئل عن رجل تزوج امرأة ولم يفرض لها صداقا،‏‏‏‏ ولم يدخل بها،‏‏‏‏ حتى مات؟ فقال ابن مسعود: لها مثل صداق نسائها،‏‏‏‏ لا وكس،‏‏‏‏ ولا شطط،‏‏‏‏ وعليها العدة،‏‏‏‏ ولها الميراث،‏‏‏‏ فقام معقل بن سنان الأشجعي،‏‏‏‏ فقال: قضى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في بروع بنت واشق امرأة منا مثل ما قضيت،‏‏‏‏ ففرح بها ابن مسعود. رواه أحمد والأربعة،‏‏‏‏ وصححه الترمذي،‏‏‏‏ وحسنه جماعة.
سیدنا علقمہ کہتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہا سے ایسے شخص کے متعلق مسئلہ پوچھا گیا جس نے کسی عورت سے نکاح کیا اور اس کے لئے مہر مقرر نہیں کیا تھا اس سے دخول بھی نہیں کیا اور وہ فوت ہو گیا۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ اس عورت کو مہر اس کے خاندان کی عورتوں کے برابر ملے گا۔ اس میں نہ کمی ہو گی اور نہ زیادتی۔ اس پر عدت گزارنا بھی لازمی ہے اور اس کے لئے میراث بھی ہے۔ یہ سن کر معقل بن سنان رضی اللہ عنہ اٹھے اور فرمایا کہ ہماری ایک عورت بروع بنت واشق کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فیصلہ فرمایا تھا جیسا آپ نے کیا ہے۔ اس پر ابن مسعود رضی اللہ عنہما بہت خوش ہوئے۔ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے اور ایک جماعت نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 885]
«وَعَنْ» اور سے – «عَلْقَمَةَ» علقمہ – «عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ» ابن مسعود سے – «أَنَّهُ» کہ ان سے – «سُئِلَ» پوچھا گیا – «عَنْ رَجُلٍ» ایک ایسے آدمی کے بارے میں – «تَزَوَّجَ» جس نے نکاح کیا – «امْرَأَةً» ایک عورت سے – «وَلَمْ يَفْرِضْ» اور مقرر نہ کیا – «لَهَا» اس کے لیے – «صَدَاقًا» مہر – «وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا» اور نہ اس سے ہم بستر ہوا – «حَتَّى مَاتَ» یہاں تک کہ فوت ہو گیا؟ – «فَقَالَ» تو کہا – «ابْنُ مَسْعُودٍ» ابن مسعود نے: – «لَهَا» اس کے لیے ہے – «مِثْلُ صَدَاقِ» مہر کی مثل – «نِسَائِهَا» اس کے خاندان کی عورتوں کے – «لَا وَكْسَ» نہ کمی – «وَلَا شَطَطَ» اور نہ زیادتی – «وَعَلَيْهَا» اور اس پر ہے – «الْعِدَّةُ» عدت – «وَلَهَا» اور اس کے لیے ہے – «الْمِيرَاثُ» وراثت – «فَقَامَ» تو کھڑے ہوئے – «مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الْأَشْجَعِيُّ» معقل بن سنان اشجعی – «فَقَالَ» اور کہا: – «قَضَى» فیصلہ فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ» بروع بنت واشق کے بارے میں – «امْرَأَةٍ مِنَّا» جو ہم میں سے ایک عورت تھی – «مِثْلَ مَا قَضَيْتَ» اسی طرح جیسے آپ نے فیصلہ کیا – «فَفَرِحَ» تو خوش ہوئے – «بِهَا» اس (بات) سے – «ابْنُ مَسْعُودٍ» ابن مسعود۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَالْأَرْبَعَةُ» اور چاروں نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی نے – «وَحَسَّنَهُ» اور اسے حسن کہا – «جَمَاعَةٌ» ایک جماعت نے۔
اور علقمہ رحمہ اللہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے کسی عورت سے نکاح کیا، اس کا مہر مقرر نہیں کیا اور نہ اس سے ہم بستر ہوا یہاں تک کہ فوت ہو گیا؟ تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے اس کے خاندان کی عورتوں جیسا مہر ملے گا، نہ کم نہ زیادہ، اس پر عدت ہے اور اسے وراثت ملے گی۔ تو سیدنا معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری (قوم کی) ایک عورت بروع بنت واشق کے بارے میں ایسا ہی فیصلہ فرمایا تھا جیسا آپ نے کیا ہے، تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس سے بہت خوش ہوئے۔ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے، ترمذی نے صحیح کہا ہے اور ایک جماعت نے حسن کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 885]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، النكاح، باب فيمن تزوج ولم يسم صداقًا حتي مات، حديث:2114، والترمذي، النكاح، حديث:1145، والنسائي، النكاح، حديث:3356، وابن ماجه، النكاح، حديث:1891، وأحمد:1 /447.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 886
وعن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏من أعطى في صداق امرأة سويقا أو تمرا فقد استحل» .‏‏‏‏ أخرجه أبو داود،‏‏‏‏ وأشار إلى ترجيح وقفه.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جس کسی نے مہر میں عورت کو ستو یا کھجوریں دے دیں اس نے حلال کر لیا۔“ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور اس کے موقوف ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے اور ترجیح بھی اسی کو دی ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 886]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ» جابر بن عبداللہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» فرمایا: – «مَنْ أَعْطَى» جس نے دیا – «فِي صَدَاقِ» مہر میں – «امْرَأَةٍ» کسی عورت کے – «سَوِيقًا» ستو – «أَوْ تَمْرًا» یا کھجور – «فَقَدِ اسْتَحَلَّ» تو اس نے یقیناً (اسے) حلال کر لیا۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَأَشَارَ» اور اشارہ کیا – «إِلَى تَرْجِيحِ» ترجیح کی طرف – «وَقْفِهِ» اس کے موقوف ہونے کی۔
اور سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی عورت کے مہر میں ستو یا کھجور دی تو اس نے (اس عورت کو اپنے لیے) حلال کر لیا۔“ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے اور اس کے موقوف ہونے کو راجح قرار دینے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 886]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، النكاح، باب قلة المهر، حديث:2110.* ابن رومان مستور وثقه ابن حبان وحده وفيه علة أخري.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 887
وعن عبد الله بن عامر بن ربيعة،‏‏‏‏ عن أبيه رضي الله عنه: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم أجاز نكاح امرأة على نعلين. أخرجه الترمذي،‏‏‏‏ وصححه،‏‏‏‏ وخولف في ذلك.
سیدنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہ نے اپنے باپ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو جوتیوں کے عوض ایک عورت کے نکاح کو جائز قرار دے دیا۔ اسے ترمذی نے نقل کیا ہے اور صحیح قرار دیا ہے اور اس کے صحیح قرار دیئے جانے میں مخالفت کی گئی ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 887]
«وَعَنْ» اور سے – «عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ» عبداللہ بن عامر بن ربیعہ – «عَنْ أَبِيهِ» اپنے والد سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ النَّبِيَّ» کہ نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَجَازَ» جائز قرار دیا – «نِكَاحَ امْرَأَةٍ» ایک عورت کا نکاح – «عَلَى نَعْلَيْنِ» دو جوتیوں (کے مہر) پر۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «وَخُولِفَ» اور ان سے اختلاف کیا گیا ہے – «فِي ذَلِكَ» اس (تصحیح) میں۔
اور عبداللہ بن عامر بن ربیعہ اپنے والد (سیدنا عامر بن ربیعہ) رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک عورت کا نکاح دو جوتیوں (کے مہر) پر جائز قرار دیا۔ اسے ترمذی نے روایت کیا اور صحیح کہا ہے، لیکن اس (تصحیح) میں ان سے اختلاف کیا گیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 887]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، النكاح، باب ما جاء في مهور النساء، حديث:1113.* فيه عاصم بن عبيدالله وهو ضعيف.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 888
وعن سهل بن سعد رضي الله عنه قال: زوج النبي صلى الله عليه وآله وسلم رجلا امرأة بخاتم من حديد. أخرجه الحاكم،‏‏‏‏ وهو طرف من الحديث الطويل المتقدم في أوائل النكاح.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرد کا نکاح ایک عورت کے ساتھ لوہے کی ایک انگوٹھی مہر میں دے کر کیا۔ اسے حاکم نے روایت کی ہے۔ یہ کتاب انکاح کے آغاز میں مذکور ایک طویل حدیث کا ایک ٹکڑا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 888]
«وَعَنْ» اور سے – «سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ» سہل بن سعد – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «زَوَّجَ» نکاح کر دیا – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «رَجُلًا» ایک آدمی کا – «امْرَأَةً» ایک عورت سے – «بِخَاتَمٍ» انگوٹھی کے بدلے – «مِنْ حَدِيدٍ» لوہے کی۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «الْحَاكِمُ» حاکم نے – «وَهُوَ» اور یہ – «طَرَفٌ» ایک ٹکڑا ہے – «مِنَ الْحَدِيثِ الطَّوِيلِ» اس طویل حدیث کا – «الْمُتَقَدِّمِ» جو گزر چکی ہے – «فِي أَوَائِلِ النِّكَاحِ» کتاب النکاح کے شروع میں۔
اور سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کا نکاح ایک عورت سے لوہے کی انگوٹھی (کے مہر) پر کر دیا۔ اسے حاکم نے روایت کیا ہے، اور یہ اس طویل حدیث کا ایک حصہ ہے جو کتاب النکاح کے شروع میں گزر چکی ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 888]
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم:2 /178 وصححه، ووافقه الذهبي، وانظر حديث:833.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 889
وعن علي رضي الله عنه قال: لا يكون المهر أقل من عشرة دراهم. أخرجه الدارقطني موقوفا،‏‏‏‏ وفي سنده مقال.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مہر دس درہم سے کم نہیں۔ اسے دارقطنی نے موقوف روایت کی ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 889]
«وَعَنْ» اور سے – «عَلِيٍّ» علی – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «لَا يَكُونُ» نہیں ہوتا – «الْمَهْرُ» مہر – «أَقَلَّ» کم – «مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ» دس درہم سے۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «الدَّارَقُطْنِيُّ» دارقطنی نے – «مَوْقُوفًا» موقوفاً (صحابی کے قول کے طور پر) – «وَفِي سَنَدِهِ» اور اس کی سند میں – «مَقَالٌ» کلام ہے۔
اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مہر دس درہم سے کم نہیں ہوتا۔ اسے دارقطنی نے موقوفاً روایت کیا ہے اور اس کی سند میں کلام ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 889]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني:3 /245، داود الأودي ضعيف، والشعبي لم يسمع من علي رضي الله تعالي عنه.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 890
وعن عقبة بن عامر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏خير الصداق أيسره» .‏‏‏‏ أخرجه أبو داود،‏‏‏‏ وصححه الحاكم.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بہترین حق مہر وہ ہے جس کا ادا کرنا نہایت سہل اور آسان ہو۔“ اسے ابوداؤد نے روایت کی ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 890]
«وَعَنْ» اور سے – «عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ» عقبہ بن عامر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «خَيْرُ الصَّدَاقِ» بہترین مہر – «أَيْسَرُهُ» وہ ہے جو سب سے آسان ہو۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «الْحَاكِمُ» حاکم نے۔
اور سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین مہر وہ ہے جو سب سے آسان (ہلکا) ہو۔“ اسے ابو داود نے روایت کیا اور حاکم نے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 890]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، النكاح، باب فيمن تزوج ولم يسم صداقًا حتي مات، حديث:2117، والحاكم:2 /182 وصححه علي شرط الشيخين، ووافقه الذهبي.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 891
وعن عائشة رضي الله عنها: أن عمرة بنت الجون تعوذت من رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم حين أدخلت عليه،‏‏‏‏ (تعني لما تزوجها) فقال: «‏‏‏‏لقد عذت بمعاذ» ‏‏‏‏ فطلقها وأمر أسامة فمتعها بثلاثة أثواب. أخرجه ابن ماجه وفي إسناده راو متروك. وأصل القصة في الصحيح من حديث أبي أسيد الساعدي.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ عمرہ بنت الجون نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کی جب اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (خلوت میں) داخل کیا گیا یعنی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نکاح کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تو نے ٹھیک پناہ دینے والے کی پناہ طلب کی ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے طلاق دیدی اور اسامہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ”اس کو فائدے کے طور پر تین کپڑے دے دو۔“ اسے ابن ماجہ نے روایت کی ہے۔ اس کی سند میں متروک راوی ہے۔ اس کا اصل قصہ صحیح بخاری میں ابواسید ساعدی سے مروی ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 891]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «عَمْرَةَ بِنْتَ الْجَوْنِ» عمرہ بنت جون نے – «تَعَوَّذَتْ» پناہ مانگی – «مِنْ رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «حِينَ» جب – «أُدْخِلَتْ عَلَيْهِ» وہ آپ کے پاس لائی گئی – «تَعْنِي» (سیدہ عائشہ) مراد لیتی ہیں – «لَمَّا تَزَوَّجَهَا» جب آپ نے اس سے نکاح کیا – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «لَقَدْ عُذْتِ» یقیناً تو نے پناہ مانگی – «بِمَعَاذٍ» پناہ دینے والے کی – «فَطَلَّقَهَا» پھر آپ نے اسے طلاق دے دی – «وَأَمَرَ أُسَامَةَ» اور اسامہ کو حکم دیا – «فَمَتَّعَهَا» تو انہوں نے اسے متعہ (طلاق کا تحفہ) دیا – «بِثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ» تین کپڑے۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «ابْنُ مَاجَهْ» ابن ماجہ نے – «وَفِي إِسْنَادِهِ» اور اس کی سند میں – «رَاوٍ مَتْرُوكٌ» ایک متروک راوی ہے۔ – «وَأَصْلُ الْقِصَّةِ» اور اس واقعے کی اصل – «فِي الصَّحِيحِ» صحیح (بخاری) میں ہے – «مِنْ حَدِيثِ» حدیث سے – «أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ» ابو اسید ساعدی کی۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ عمرہ بنت جون جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس (رخصت کر کے) لائی گئی (یعنی جب آپ نے اس سے نکاح کیا) تو اس نے آپ سے پناہ مانگی، آپ نے فرمایا: ”تو نے اس ذات کی پناہ مانگی ہے جس کی پناہ مانگی جاتی ہے۔“ پھر آپ نے اسے طلاق دے دی اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اسے تین کپڑے بطور متعہ (تحفہ) دیے۔ اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں ایک متروک راوی ہے۔ اور اس واقعے کی اصل صحیح (بخاری) میں سیدنا ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہ کی حدیث سے موجود ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 891]
تخریج الحدیث: « [موضوع] أخرجه ابن ماجه، الطلاق، باب متعة الطلاق، حديث:2037.* عبيد بن القاسم متروك، كذبه ابن معين، واتهمه أبوداود بالوضع (تقريب)، وحديث البخاري، الطلاق، حديث:5254 هو الصحيح، وحديث أبي أسيد الساعدي: أخرجه البخاري، الطلاق، حديث:5255 وانظر، حديث:924.»

الحكم على الحديث:
موضوع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. باب الوليمة
ولیمہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 892
عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم رأى على عبد الرحمن بن عوف أثر صفرة،‏‏‏‏ فقال:«‏‏‏‏ما هذا؟» ‏‏‏‏ قال: يا رسول الله! إني تزوجت امرأة على وزن نواة من ذهب. قال: «‏‏‏‏فبارك الله لك،‏‏‏‏ أولم ولو بشاة» .‏‏‏‏ متفق عليه واللفظ لمسلم.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے کپڑوں پر زرد رنگ لگا ہوا دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ کیا ہے؟“ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ میں نے ایک عورت سے ایک گھٹلی کے مساوی سونا دے کر نکاح کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ تجھے برکت دے، ولیمہ ضرور کرو خواہ ایک بکری ہی ہو۔“ (بخاری و مسلم) اور الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 892]
«عَنْ» سے – «أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ» انس بن مالک – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ النَّبِيَّ» کہ نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «رَأَى» نے دیکھا – «عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ» عبدالرحمن بن عوف پر – «أَثَرَ صُفْرَةٍ» زردی کا نشان – «فَقَالَ» تو فرمایا: – «مَا هَذَا» یہ کیا ہے؟ – «قَالَ» انہوں نے کہا: – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول! – «إِنِّي تَزَوَّجْتُ» میں نے نکاح کیا ہے – «امْرَأَةً» ایک عورت سے – «عَلَى وَزْنِ» وزن پر – «نَوَاةٍ» گٹھلی کے – «مِنْ ذَهَبٍ» سونے کی۔ – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «فَبَارَكَ اللَّهُ لَكَ» تو اللہ تمہیں برکت دے – «أَوْلِمْ» ولیمہ کرو – «وَلَوْ بِشَاةٍ» خواہ ایک بکری ہی سے ہو۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ» اور الفاظ مسلم کے ہیں۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ پر زردی (خوشبو) کا نشان دیکھا تو فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے ایک عورت سے گٹھلی کے وزن کے برابر سونے (کے مہر) پر نکاح کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ تمہیں برکت دے، ولیمہ کرو خواہ ایک بکری ہی سے ہو۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ مسلم کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 892]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، النكاح، باب الوليمة ولو بشاة، حديث:5167، ومسلم، النكاح، باب الصداق وجواز كونه تعليم قرآن و خاتم حديد......، حديث:1427 قبل الحديث:1365.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 893
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إذا دعي أحدكم إلى وليمة فليأتها» . متفق عليه. ولمسلم: «‏‏‏‏إذا دعا أحدكم أخاه فليجب،‏‏‏‏ عرسا كان أو نحوه» .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم میں سے کسی کو دعوت ولیمہ پر مدعو کیا جائے تو اسے وہاں پہنچنا چاہیئے۔“ (بخاری و مسلم) اور مسلم کی روایت میں ہے جب تم میں سے کسی کو اس کا بھائی مدعو کرے تو اسے اس کی دعوت کو قبول کرنا چاہیئے خواہ وہ شادی ہو یا اسی طرح کی کوئی اور دعوت۔ [بلوغ المرام/حدیث: 893]
«وَعَنْ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِذَا» جب – «دُعِيَ» بلایا جائے – «أَحَدُكُمْ» تم میں سے کسی کو – «إِلَى وَلِيمَةٍ» ولیمے کی طرف – «فَلْيَأْتِهَا» تو وہ اس میں آئے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَلِمُسْلِمٍ» اور مسلم کی روایت میں ہے: – «إِذَا دَعَا» جب دعوت دے – «أَحَدُكُمْ» تم میں سے کوئی – «أَخَاهُ» اپنے بھائی کو – «فَلْيُجِبْ» تو وہ قبول کرے – «عُرْسًا كَانَ» خواہ شادی (کی دعوت) ہو – «أَوْ نَحْوَهُ» یا اس جیسی کوئی اور۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو ولیمے کی دعوت دی جائے تو وہ اس میں ضرور آئے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے: ”جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو دعوت دے تو وہ قبول کرے، خواہ شادی کی دعوت ہو یا اس جیسی کوئی اور۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 893]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، النكاح، باب حق أجابة الوليمة والدعوة......، حديث:5173، ومسلم، النكاح، باب الأمر بإجابة الداعي إلي دعوة، حديث:1429.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں