سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب مَا جَاءَ في الْخَمْرِ:
شراب کا بیان
حدیث نمبر: 2125
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: "أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ بِإِيلْيَاءَ بِقَدَحَيْنِ مِنْ خَمْرٍ وَلَبَنٍ، فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا ثُمَّ أَخَذَ اللَّبَنَ، فَقَالَ جِبْرِيلُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَاكَ لِلْفِطْرَةِ، لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ، غَوَتْ أُمَّتُكَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کرائی گئی اس رات (بیت المقدس کے شہر) ایلیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شراب اور دودھ کے دو پیالے پیش کئے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا، دودھ کا پیالہ لے لیا، اس پر جبرئیل علیہ السلام نے کہا: اس اللہ کے لئے تمام تعریفیں ہیں جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی فطرت کی طرف فرمائی، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کا پیالہ لے لیا ہوتا تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2125]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2133] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5576] ، [مسلم 168] ، [نسائي 5673] ، [ابن حبان 51، 52]
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5576] ، [مسلم 168] ، [نسائي 5673] ، [ابن حبان 51، 52]
وضاحت: (تشریح حدیث 2124)
اس حدیث میں فطرت کا لفظ آیا ہے، علمائے کرام نے جس کی کئی معانی بیان کئے ہیں۔
فطرت سے مراد فطرتِ اسلام ہے۔
بعض نے کہا: اصل الخلقہ جس پر انسان پیدا ہوا وہی مراد ہے «﴿فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا﴾ [الروم: 30] » ، بعض نے کہا: اس سے مراد دین پر استقامت ہے وغیرہ۔
مولانا راز رحمہ اللہ لکھتے ہیں: دودھ انسان کی فطری غذا ہے اور شراب تمام برائیوں کی جڑ ہے۔
اس کی ممانعت کی یہی وجہ ہے کہ اسے پی کر عقل زائل ہو جاتی ہے اور پینے والا جرائم و برے کام کر بیٹھتا ہے، اسی لئے اسے قلیل یا کثیر ہر طرح حرام کر دیا گیا۔
اس حدیث سے واقعۂ اسراء و معراج کا ثبوت ملا جو ہجرت سے پہلے وقوع پذیر ہوا، اور جس میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس میں تمام انبیاء کی امامت فرمائی، آسمانوں کی سیر کی اور نماز فرض ہوئی۔
اس حدیث میں فطرت کا لفظ آیا ہے، علمائے کرام نے جس کی کئی معانی بیان کئے ہیں۔
فطرت سے مراد فطرتِ اسلام ہے۔
بعض نے کہا: اصل الخلقہ جس پر انسان پیدا ہوا وہی مراد ہے «﴿فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا﴾ [الروم: 30] » ، بعض نے کہا: اس سے مراد دین پر استقامت ہے وغیرہ۔
مولانا راز رحمہ اللہ لکھتے ہیں: دودھ انسان کی فطری غذا ہے اور شراب تمام برائیوں کی جڑ ہے۔
اس کی ممانعت کی یہی وجہ ہے کہ اسے پی کر عقل زائل ہو جاتی ہے اور پینے والا جرائم و برے کام کر بیٹھتا ہے، اسی لئے اسے قلیل یا کثیر ہر طرح حرام کر دیا گیا۔
اس حدیث سے واقعۂ اسراء و معراج کا ثبوت ملا جو ہجرت سے پہلے وقوع پذیر ہوا، اور جس میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس میں تمام انبیاء کی امامت فرمائی، آسمانوں کی سیر کی اور نماز فرض ہوئی۔
2. باب في تَحْرِيمِ الْخَمْرِ كَيْفَ كَانَ:
شراب کس طرح حرام ہوئی؟
حدیث نمبر: 2126
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ فِي مَنْزِلِ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: فَنَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ، قَالَ: فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: اخْرُجْ فَانْظُرْ مَا هَذَا. قَالَ: فَخَرَجْتُ فَقُلْتُ: هَذَا مُنَادٍ يُنَادِي:"أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ". فَقَالَ لِيَ: اذْهَبْ فَأَهْرِقْهَا، قَالَ: فَجَرَتْ فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ. قَالَ: وَكَانَتْ خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ الْفَضِيخَ. فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: قُتِلَ قَوْمٌ وَهِيَ فِي بُطُونِهِمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا سورة المائدة آية 93.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں لوگوں کو شراب پلا رہا تھا کہ شراب کی حرمت نازل ہوئی اور (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) ایک منادی سے (حرمت کا) اعلان کرایا تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جاؤ دیکھو یہ کیسا اعلان ہے؟ چنانچہ میں باہر گیا (تو دیکھا) کہ منادی ندا لگا رہا ہے کہ شراب حرام ہو گئی ہے، سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: جاؤ اور اسے بہا دو (چنانچہ انہوں نے ساری شراب بہا دی) جو مدینے کی گلیوں میں بہنے لگی، ان دنوں کھجور کی شراب تھی۔ بعض لوگوں نے کہا: بہت سے لوگ اس حالت میں شہید کر دیئے گئے کہ شراب ان کے پیٹ میں موجود تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «لَيْسَ عَلَى الَّذِيْنَ .....» [المائده: 93/5] ، یعنی: وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل صالح کئے ان پر ان چیزوں کا کوئی گناہ نہیں ہے جو وہ پہلے کھا چکے ہیں جبکہ انہوں نے تقوی اختیار کیا اور ایمان لے آئے ... الخ۔ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2126]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2134] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2464] ، [مسلم 1980] ، [أبوداؤد 2986] ، [أبويعلی 3008] ، [ابن حبان 4945] ، [الحميدي 1244]
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2464] ، [مسلم 1980] ، [أبوداؤد 2986] ، [أبويعلی 3008] ، [ابن حبان 4945] ، [الحميدي 1244]
وضاحت: (تشریح حدیث 2125)
اس حدیث سے بہت سے مسائل معلوم ہوئے، شراب کی حرمت بتدریج نازل ہوئی، شراب پینے والوں کے لئے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہربانی و رحمت تھی لیکن جب حرمت نازل ہوئی تو صحابہ کرام نے اس کے عادی ہونے کے باوجود یکسر چھوڑ دی اور یہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ہیں حکم دیتے ہیں کہ ساری شراب پھینک دی جائے، اطاعت و فرماں برداری، اتباع و سپردگی کی یہ اعلیٰ مثال ہے جب حکم سن لیا تو سمعنا و اطعنا کے علاوہ وہ کچھ جانتے ہی نہ تھے، رضی اللہ عنہم وارضاہم۔
گرچہ اس وقت شراب کھجور سے بنتی تھی لیکن یہ حکم ہر نشہ آور شراب کا ہے، چاہے وہ کسی بھی چیز سے بنائی جائے۔
شراب کی حرمت سے پہلے جو لوگ شراب پیتے تھے اور وہ اسی حالت میں انتقال کر گئے تو یہ بعد کا حکم ان کے لیے کسی ضرر کا باعث نہ ہوگا، نیز یہ کہ ایمان و تقویٰ شعاری الله تعالیٰ کی پکڑ اور عذاب سے بچا دیتے ہیں۔
اس حدیث میں شراب کو سڑک اور گلیوں پر بہا دینے کی بات ہے تو شاید صحابہ کرام کا مقصد اس سے یہ رہا ہو کہ تمام لوگوں کو اس کی حرمت کا پتہ چل جائے، کیونکہ راستے اور گلی سڑک پر ایسی چیز ڈالنا جس سے گذرنے اور چلنے والوں کو تکلیف ہو جائز نہیں، ایمان کی ادنیٰ علامت راستے سے ایذا رساں چیز کو ہٹا دینا ہے۔
واللہ اعلم۔
اس حدیث سے بہت سے مسائل معلوم ہوئے، شراب کی حرمت بتدریج نازل ہوئی، شراب پینے والوں کے لئے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہربانی و رحمت تھی لیکن جب حرمت نازل ہوئی تو صحابہ کرام نے اس کے عادی ہونے کے باوجود یکسر چھوڑ دی اور یہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ہیں حکم دیتے ہیں کہ ساری شراب پھینک دی جائے، اطاعت و فرماں برداری، اتباع و سپردگی کی یہ اعلیٰ مثال ہے جب حکم سن لیا تو سمعنا و اطعنا کے علاوہ وہ کچھ جانتے ہی نہ تھے، رضی اللہ عنہم وارضاہم۔
گرچہ اس وقت شراب کھجور سے بنتی تھی لیکن یہ حکم ہر نشہ آور شراب کا ہے، چاہے وہ کسی بھی چیز سے بنائی جائے۔
شراب کی حرمت سے پہلے جو لوگ شراب پیتے تھے اور وہ اسی حالت میں انتقال کر گئے تو یہ بعد کا حکم ان کے لیے کسی ضرر کا باعث نہ ہوگا، نیز یہ کہ ایمان و تقویٰ شعاری الله تعالیٰ کی پکڑ اور عذاب سے بچا دیتے ہیں۔
اس حدیث میں شراب کو سڑک اور گلیوں پر بہا دینے کی بات ہے تو شاید صحابہ کرام کا مقصد اس سے یہ رہا ہو کہ تمام لوگوں کو اس کی حرمت کا پتہ چل جائے، کیونکہ راستے اور گلی سڑک پر ایسی چیز ڈالنا جس سے گذرنے اور چلنے والوں کو تکلیف ہو جائز نہیں، ایمان کی ادنیٰ علامت راستے سے ایذا رساں چیز کو ہٹا دینا ہے۔
واللہ اعلم۔
3. باب في التَّشْدِيدِ عَلَى شَارِبِ الْخَمْرِ:
شرابی پر سختی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2127
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ لَمْ يَتُبْ مِنْهَا، حُرِمَهَا فِي الْآخِرَةِ فَلَمْ يُسْقَهَا".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دنیا میں شراب پی اور پھر اس سے توبہ نہیں کی تو آخرت میں وہ اس سے محروم کر دیا جائے گا، (جنت کی) شراب اسے نہ پلائی جائے گی۔“ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2127]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 2135] »
اس روایت کی سند جید ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5575] ، [مسلم 2003] ، [نسائي 5687] ، [ابن ماجه 3373] ، [ابن حبان 5366]
اس روایت کی سند جید ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5575] ، [مسلم 2003] ، [نسائي 5687] ، [ابن ماجه 3373] ، [ابن حبان 5366]
وضاحت: (تشریح حدیث 2126)
یعنی جنّت میں جانے ہی نہ پائے گا تو وہاں کی شراب اسے کیسے نصیب ہوگی؟ شراب پینا گناہِ کبیرہ ہے، جو شخص شراب پئے اور توبہ نہ کرے تو جنّت کی شراب سے محروم ہوگا، توبہ کرنے سے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اور گناہ کرنے والا پاک و صاف ہوجاتا ہے: «التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ.» (الحدیث)۔
یعنی جنّت میں جانے ہی نہ پائے گا تو وہاں کی شراب اسے کیسے نصیب ہوگی؟ شراب پینا گناہِ کبیرہ ہے، جو شخص شراب پئے اور توبہ نہ کرے تو جنّت کی شراب سے محروم ہوگا، توبہ کرنے سے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اور گناہ کرنے والا پاک و صاف ہوجاتا ہے: «التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ.» (الحدیث)۔
حدیث نمبر: 2128
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فِي حَائِطٍ لَهُ بِالطَّائِفِ، يُقَالُ لَهُ: الْوَهْطُ، فَإِذَا هُوَ مُخَاصِرٌ فَتًى مِنْ قُرَيْشٍ يُزَنُّ ذَلِكَ الْفَتَى بِشُرْبِ الْخَمْرِ، فَقُلْتُ: خِصَالٌ بَلَغَتْنِي عَنْكَ أَنَّكَ تُحَدِّثُ بِهَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ: مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ شَرْبَةً، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، فَلَمَّا أَنْ سَمِعَهُ الْفَتَى بِذِكُرُ الْخَمْرَ، اخْتَلَجَ يَدَهُ مِنْ يَدِ عَبْدِ اللَّهِ، ثُمَّ وَلَّى. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: اللَّهُمَّ إِنِّي لَا أُحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ شَرْبَةً، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، فَإِنْ تَابَ، تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَلَا أَدْرِي فِي الثَّالِثَةِ أَمْ فِي الرَّابِعَةِ: كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ رَدْغَةِ الْخَبَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عبداللہ بن الدیلمی نے کہا: میں سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ان کے طائف کے باغ میں داخل ہوا جس کو «وهط» کہا جاتا تھا، دیکھا تو وہ قریش کے ایک جوان کا ہاتھ پکڑے ٹہل رہے تھے جس پر لوگ شراب پینے کا گمان کرتے تھے۔ میں نے عرض کیا: کچھ باتیں مجھے معلوم ہوئی ہیں کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے شراب کا ایک گھونٹ پی لیا تو چالیس روز تک اس کی نماز قبول نہ ہو گی“، جب اس جوان نے شراب کا ذکر سنا تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑایا اور بھاگ گیا، پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ! میں کسی کو اجازت نہیں دیتا ہوں کہ وہ میری طرف ایسی بات منسوب کرے جو میں نے نہیں کہی ہے۔ بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جو شخص ایک گھونٹ شراب کا پیئے گا چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہ کی جائے گی، پھر اگر وہ (سچی) توبہ کر لے تو الله تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لے گا۔“ مجھے یاد نہیں کہ تیسری بار یا چوتھی بار فرمایا کہ: الله تعالیٰ پر اسے قیامت کے دن «روغة الخبال» پلانا لازم ہوگا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2128]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إذا كان ربيعة بن زيد سمعه من عبد الله بن الدليمي قال المزي: " بينهما أبو إدريس الخولاني "، [مكتبه الشامله نمبر: 2136] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [نسائي 5680] ، [ابن ماجه 3377] ، [ابن حبان 5357] ، [موارد الظمآن 1378]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [نسائي 5680] ، [ابن ماجه 3377] ، [ابن حبان 5357] ، [موارد الظمآن 1378]
وضاحت: (تشریح حدیث 2127)
«رَدْغَةِ الْخَبَالِ» کا مطلب ابن ماجہ کی روایت میں ہے: عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! «ردغة الخبال» کیا ہے؟ فرمایا: جہنمیوں کا پیپ و لہو (اعاذنا الله واياكم منہا)، اس میں یہ بھی اضافہ ہے کہ جو شخص شراب پئے اور توبہ نہ کرے اور اسی حال میں مر جائے تو جہنم میں داخل ہوگا۔
اس حدیث سے شراب کی حرمت ثابت ہوئی کیونکہ اس پر سخت عذاب کی وعید ہے۔
اور یہ بھی معلوم ہوا کہ شراب پئے اور توبہ کر لے تو اس کی تین بار تک توبہ قبول ہوگی، پھر شراب پئے اور توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول نہ ہوگی اور ضرور عذاب میں مبتلا ہوگا۔
بعض علماء نے کہا: یہ حکم صرف شرابی کے لئے تہدید و تخویف ہے کہ چوتھی بار پئے پھر توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول نہ ہوگی، کیونکہ دوسری احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ بندہ ستر بار بھی گناہ کرے پھر توبہ کر لے تو اس کی توبہ قبول ہوگی، شرابی کے لئے یہ تحدید و پابندی اس لئے ہے تاکہ لوگ اس سے پرہیز کریں اور اس گناہِ کبیرہ کے مرتکب نہ ہوں۔
(والله اعلم بالصواب، ملخص من شرح وحیدی)۔
«رَدْغَةِ الْخَبَالِ» کا مطلب ابن ماجہ کی روایت میں ہے: عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! «ردغة الخبال» کیا ہے؟ فرمایا: جہنمیوں کا پیپ و لہو (اعاذنا الله واياكم منہا)، اس میں یہ بھی اضافہ ہے کہ جو شخص شراب پئے اور توبہ نہ کرے اور اسی حال میں مر جائے تو جہنم میں داخل ہوگا۔
اس حدیث سے شراب کی حرمت ثابت ہوئی کیونکہ اس پر سخت عذاب کی وعید ہے۔
اور یہ بھی معلوم ہوا کہ شراب پئے اور توبہ کر لے تو اس کی تین بار تک توبہ قبول ہوگی، پھر شراب پئے اور توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول نہ ہوگی اور ضرور عذاب میں مبتلا ہوگا۔
بعض علماء نے کہا: یہ حکم صرف شرابی کے لئے تہدید و تخویف ہے کہ چوتھی بار پئے پھر توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول نہ ہوگی، کیونکہ دوسری احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ بندہ ستر بار بھی گناہ کرے پھر توبہ کر لے تو اس کی توبہ قبول ہوگی، شرابی کے لئے یہ تحدید و پابندی اس لئے ہے تاکہ لوگ اس سے پرہیز کریں اور اس گناہِ کبیرہ کے مرتکب نہ ہوں۔
(والله اعلم بالصواب، ملخص من شرح وحیدی)۔
4. باب النَّهْيِ عَنِ الْقُعُودِ عَلَى مَائِدَةٍ يُدَارُ عَلَيْهَا الْخَمْرُ:
ایسے دسترخوان پر بیٹھنے کی ممانعت جس پر شراب کا دور چلتا ہو
حدیث نمبر: 2129
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلَا يَقْعُدْ عَلَى مَائِدَةٍ يُشْرَبُ عَلَيْهَا الْخَمْرُ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ پر اور روز قیامت پر ایمان و یقین رکھتا ہے وہ ایسے دسترخوان پر (کھانے کے لئے) نہ بیٹھے جس پر شراب پی جاتی ہو۔“ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2129]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2137] »
اس روایت کی سند ضعیف لیکن دوسری سند سے حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 2801] ، [أبويعلی 1925] ، [طبراني فى الأوسط 692] ، [بزار فى كشف الاستار 320] ، [تلخيص الحبير 196/3]
اس روایت کی سند ضعیف لیکن دوسری سند سے حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 2801] ، [أبويعلی 1925] ، [طبراني فى الأوسط 692] ، [بزار فى كشف الاستار 320] ، [تلخيص الحبير 196/3]
وضاحت: (تشریح حدیث 2128)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو شخص ایسی محفل میں بیٹھے جہاں شراب پی جائے اور کبائر کا ارتکاب ہو اس کے ایمان میں کمی ہے، مؤمنِ صادق ایسے کام اور ایسی محفلوں سے دور رہتا ہے۔
اے قمر شیطان کی محفل میں جانا چھوڑ دے
دین میں رخنہ، کمی آجائے گی ایمان میں
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو شخص ایسی محفل میں بیٹھے جہاں شراب پی جائے اور کبائر کا ارتکاب ہو اس کے ایمان میں کمی ہے، مؤمنِ صادق ایسے کام اور ایسی محفلوں سے دور رہتا ہے۔
اے قمر شیطان کی محفل میں جانا چھوڑ دے
دین میں رخنہ، کمی آجائے گی ایمان میں
5. باب في مُدْمِنِ الْخَمْرِ:
ہمیشہ شراب پینے والے کا بیان
حدیث نمبر: 2130
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،، قَالَ: "لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ وَلَدُ زِنْيَةٍ، وَلَا مَنَّانٌ، وَلَا عَاقٌّ، وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زنا سے پیدا ہونے والا بچہ، احسان کر کے جتانے والا، ماں باپ کا نافرمان اور ہمیشہ شراب پینے والا جنت میں داخل نہ ہو سکے گا۔“ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2130]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 2138] »
اس روایت کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [نسائي 5688] ، [ابن حبان 3383] ، [موارد الظمآن 91382] ۔ لیکن پہلا جملہ اس روایت میں محل نظر ہے کیونکہ «لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى» کے تحت ولد الزنا کا کیا قصور ہے؟
اس روایت کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [نسائي 5688] ، [ابن حبان 3383] ، [موارد الظمآن 91382] ۔ لیکن پہلا جملہ اس روایت میں محل نظر ہے کیونکہ «لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى» کے تحت ولد الزنا کا کیا قصور ہے؟
حدیث نمبر: 2131
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ، عَنْ جَابَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ، وَلَا مَنَّانٌ، وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ".
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: ”جنت میں نہیں جائے گا، ماں باپ کا نافرمان، احسان جتانے والا اور ہمیشہ شراب پینے والا (عادی شرابی)۔“ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2131]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 2139] »
اس حدیث کی تخریج اوپر گذر چکی ہے۔
اس حدیث کی تخریج اوپر گذر چکی ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 2129 سے 2131)
اس حدیث کی تخزیج اوپر گذر چکی ہے، اور ان احادیث سے معلوم ہوا کہ یہ تین قسم کے لوگ جہنم میں جائیں گے اور جنّت میں داخل نہ ہو سکیں گے۔
لہٰذا احسان جتانے، ماں باپ کی نافرمانی اور شراب نوشی سے بچنا ضروری ہے۔
دورِ حاضر میں یہ اخلاقی امراض بہت بڑھ گئے ہیں، ماں باپ کی نافرمانی عام ہے، لوگ تھوڑا سا احسان کر کے بہت احسان جتاتے ہیں، اور آج کل شراب نوشی بھی عام ہوتی جا رہی ہے، ایسے لوگوں کو اللہ سے ڈرنا چاہے اور مذکورہ بالا حدیث پر غور کر کے، ان برے افعال سے توبہ کر کے ان سے دور رہنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ عام مسلمانوں کو اس کی توفیق بخشے۔
آمین۔
اس حدیث کی تخزیج اوپر گذر چکی ہے، اور ان احادیث سے معلوم ہوا کہ یہ تین قسم کے لوگ جہنم میں جائیں گے اور جنّت میں داخل نہ ہو سکیں گے۔
لہٰذا احسان جتانے، ماں باپ کی نافرمانی اور شراب نوشی سے بچنا ضروری ہے۔
دورِ حاضر میں یہ اخلاقی امراض بہت بڑھ گئے ہیں، ماں باپ کی نافرمانی عام ہے، لوگ تھوڑا سا احسان کر کے بہت احسان جتاتے ہیں، اور آج کل شراب نوشی بھی عام ہوتی جا رہی ہے، ایسے لوگوں کو اللہ سے ڈرنا چاہے اور مذکورہ بالا حدیث پر غور کر کے، ان برے افعال سے توبہ کر کے ان سے دور رہنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ عام مسلمانوں کو اس کی توفیق بخشے۔
آمین۔
6. باب لَيْسَ في الْخَمْرِ شِفَاءٌ:
شراب میں کوئی شفاء و علاج نہیں ہے
حدیث نمبر: 2132
أَخْبَرَنَا سُهَلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ وَائِلٍ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ طَارِقٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْخَمْرِ، فَنَهَاهُ عَنْهَا أَنْ يَصْنَعَهَا، فَقَالَ: إِنَّهَا دَوَاءٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّهَا لَيْسَتْ دَوَاءً وَلَكِنَّهَا دَاءٌ".
وائل سے مروی ہے کہ سیدنا سوید بن طارق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب (بنانے) کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں شراب بنانے سے منع فرمایا، سیدنا سوید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ وہ دوا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دوا نہیں بلکہ بیماری ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2132]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده قوي، [مكتبه الشامله نمبر: 2140] »
اس روایت کی سند قوی ہے۔ دیکھئے: [صحيح مسلم 1984] ، [ترمذي 2046] ، [ابن حبان 1389] ، [موارد الظمآن 1377]
اس روایت کی سند قوی ہے۔ دیکھئے: [صحيح مسلم 1984] ، [ترمذي 2046] ، [ابن حبان 1389] ، [موارد الظمآن 1377]
وضاحت: (تشریح حدیث 2131)
شراب اور ہر نشہ آور چیز کا استعمال، بنانا، بیچنا سب حرام ہے کیونکہ یہ اُم الخبائث اور بہت سے امراض و اعراض کی جڑ ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان برحق، سچا و صحیح ہے۔
یہ دوا نہیں بلکہ بیماری اور مرض ہے کیونکہ الله تعالیٰ نے کسی حرام چیز میں شفا رکھی ہی نہیں ہے۔
دوا، علاج اور شفاء الله تعالیٰ نے بہت ساری چیزوں میں ودیعت فرمائی ہے۔
اللہ تعالیٰ سب کو شراب کی لت سے محفوظ رکھے۔
آمین۔
دورِ حاضر میں مادہ حافظہ کے طور پر اکثر ادویہ میں الکحل ہوتا ہے، اس سے بھی پرہیز بہتر ہے، مجبوری کی صورت میں استعمال ممکن ہے۔
علماء کرام نے کہا ہے: کیونکہ الکحل کی دوا میں ماہیت بدل جاتی ہے اس لئے جس دوا سے نشہ نہ آئے وہ استعمال کی جا سکتی ہے۔
واللہ اعلم۔
شراب اور ہر نشہ آور چیز کا استعمال، بنانا، بیچنا سب حرام ہے کیونکہ یہ اُم الخبائث اور بہت سے امراض و اعراض کی جڑ ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان برحق، سچا و صحیح ہے۔
یہ دوا نہیں بلکہ بیماری اور مرض ہے کیونکہ الله تعالیٰ نے کسی حرام چیز میں شفا رکھی ہی نہیں ہے۔
دوا، علاج اور شفاء الله تعالیٰ نے بہت ساری چیزوں میں ودیعت فرمائی ہے۔
اللہ تعالیٰ سب کو شراب کی لت سے محفوظ رکھے۔
آمین۔
دورِ حاضر میں مادہ حافظہ کے طور پر اکثر ادویہ میں الکحل ہوتا ہے، اس سے بھی پرہیز بہتر ہے، مجبوری کی صورت میں استعمال ممکن ہے۔
علماء کرام نے کہا ہے: کیونکہ الکحل کی دوا میں ماہیت بدل جاتی ہے اس لئے جس دوا سے نشہ نہ آئے وہ استعمال کی جا سکتی ہے۔
واللہ اعلم۔
7. باب مِمَّا يَكُونُ الْخَمْرُ:
شراب کس چیز کی ہوتی ہے؟
حدیث نمبر: 2133
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا كَثِيرٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ: النَّخْلَةِ وَالْعِنَبِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”شراب ان دو درختوں سے نکلتی ہے: کھجور اور انگور سے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2133]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2141] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1985] ، [أبوداؤد 3678] ، [ترمذي 1875] ، [نسائي 5588] ، [ابن ماجه 3378] ، [أبويعلی 6002] ، [ابن حبان 5344]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1985] ، [أبوداؤد 3678] ، [ترمذي 1875] ، [نسائي 5588] ، [ابن ماجه 3378] ، [أبويعلی 6002] ، [ابن حبان 5344]
وضاحت: (تشریح حدیث 2132)
شراب ان دو چیزوں میں محصور نہیں، ایک اور حدیث میں ہے: انگور، کھجور، جو، گیہوں اور شہد سب سے شراب بنتی ہے۔
ہر وہ چیز جو عقل کو سلب کرے شراب کے حکم میں داخل ہے، خواہ کسی بھی چیز سے بنائی گئی ہو، یہی صحیح اور راجح ہے۔
علامہ وحیدالزماں رحمہ اللہ لکھتے ہیں: اہلِ حدیث، شافعی اور جمہور علماء کا یہی قول ہے کہ شراب ہر چیز سے بن سکتی ہے اور خمر اسی چیز کا نام ہے جس میں نشہ ہو، انگور کا ہو یا کھجور کا، جو یا جوار کا، گیہوں یا شہد، انجیر یا سیب کا، پھر جس شراب میں نشہ ہو وہ حرام ہے، قلیل ہو یا کثیر، اور بہت احادیثِ صحیحہ اس مذہب کی تائید کرتی ہیں۔
مسلم کی روایت میں ہے: ہر مسکر یعنی نشہ لانے والی خمر ہے اور ہر خمر حرام ہے، اور جس وقت خمر کی حرمت اتری اس وقت وہ پانچ چیزوں سے بنتا تھا: انگور، کھجور، گیہوں، جو اور شہد سے۔
خمر وہی ہے جو عقل کو چھپا لیوے۔
ایک روایت میں ہے کہ جب خمر کی حرمت اتری اس وقت انگور کا شراب تو بالکل کم تھا اور اکثر شراب ہمارا تر کھجور اور خشک کھجور کا تھا۔
حاصل یہ کہ اس زمانے میں کوئی نہیں کہہ سکتا کہ جو شراب انگور کے سوا اور چیزوں سے بنایا جائے اس کا اس قدر پینا درست ہے جس سے نشہ نہ ہو، گرچہ کچھ لوگ جن کو شروع زمانے میں حدیثیں نہیں پہنچی تھیں اس کے قائل تھے، لیکن وہ معذور تھے، اب جب یہ حدیثیں مشہور و معروف ہو گئیں تو کسی کو اس کے خلاف کہنا درست نہیں رہا، اور باطل ہو گیا وہ قول جو ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ شراب خاص طور پر انگور کا اور انگور کے سوا اور شرابوں کا اتنا پینا درست ہے جس سے نشہ نہ ہو، امام محمد رحمہ اللہ نے ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے اس قول کی مخالفت کی جب ان کو حدیثیں پہنچیں، اور فقہائے حنفیہ نے بھی امام محمد رحمہ اللہ کے قول پر فتویٰ دیا ہے۔
[ابن ماجه، شرح حديث: 3379] ۔
شراب ان دو چیزوں میں محصور نہیں، ایک اور حدیث میں ہے: انگور، کھجور، جو، گیہوں اور شہد سب سے شراب بنتی ہے۔
ہر وہ چیز جو عقل کو سلب کرے شراب کے حکم میں داخل ہے، خواہ کسی بھی چیز سے بنائی گئی ہو، یہی صحیح اور راجح ہے۔
علامہ وحیدالزماں رحمہ اللہ لکھتے ہیں: اہلِ حدیث، شافعی اور جمہور علماء کا یہی قول ہے کہ شراب ہر چیز سے بن سکتی ہے اور خمر اسی چیز کا نام ہے جس میں نشہ ہو، انگور کا ہو یا کھجور کا، جو یا جوار کا، گیہوں یا شہد، انجیر یا سیب کا، پھر جس شراب میں نشہ ہو وہ حرام ہے، قلیل ہو یا کثیر، اور بہت احادیثِ صحیحہ اس مذہب کی تائید کرتی ہیں۔
مسلم کی روایت میں ہے: ہر مسکر یعنی نشہ لانے والی خمر ہے اور ہر خمر حرام ہے، اور جس وقت خمر کی حرمت اتری اس وقت وہ پانچ چیزوں سے بنتا تھا: انگور، کھجور، گیہوں، جو اور شہد سے۔
خمر وہی ہے جو عقل کو چھپا لیوے۔
ایک روایت میں ہے کہ جب خمر کی حرمت اتری اس وقت انگور کا شراب تو بالکل کم تھا اور اکثر شراب ہمارا تر کھجور اور خشک کھجور کا تھا۔
حاصل یہ کہ اس زمانے میں کوئی نہیں کہہ سکتا کہ جو شراب انگور کے سوا اور چیزوں سے بنایا جائے اس کا اس قدر پینا درست ہے جس سے نشہ نہ ہو، گرچہ کچھ لوگ جن کو شروع زمانے میں حدیثیں نہیں پہنچی تھیں اس کے قائل تھے، لیکن وہ معذور تھے، اب جب یہ حدیثیں مشہور و معروف ہو گئیں تو کسی کو اس کے خلاف کہنا درست نہیں رہا، اور باطل ہو گیا وہ قول جو ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ شراب خاص طور پر انگور کا اور انگور کے سوا اور شرابوں کا اتنا پینا درست ہے جس سے نشہ نہ ہو، امام محمد رحمہ اللہ نے ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے اس قول کی مخالفت کی جب ان کو حدیثیں پہنچیں، اور فقہائے حنفیہ نے بھی امام محمد رحمہ اللہ کے قول پر فتویٰ دیا ہے۔
[ابن ماجه، شرح حديث: 3379] ۔
8. باب مَا قِيلَ في الْمُسْكِرِ:
نشہ آور چیزوں کا بیان
حدیث نمبر: 2134
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْبِتْعِ، قَالَ: "كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ حَرَامٌ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بتع (شہد سے بنائی جانے والی شراب) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شراب نشہ آور ہو حرام ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2134]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2142] »
اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5585] ، [مسلم 2001] ، [ترمذي 1863] ، [نسائي 5607-5610] ، [أبويعلی 4360] ، [ابن حبان 5345] ، [الحميدي 283] ۔ نیز دیکھئے: [منحة العبود 1729]
اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5585] ، [مسلم 2001] ، [ترمذي 1863] ، [نسائي 5607-5610] ، [أبويعلی 4360] ، [ابن حبان 5345] ، [الحميدي 283] ۔ نیز دیکھئے: [منحة العبود 1729]
وضاحت: (تشریح حدیث 2133)
نسائی کی روایت میں ہے: بتع اور مرز کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کیا چیز ہے؟“ عرض کیا گیا بتع شہد اور مرز جو کی شراب ہے۔
فرمایا: ”جس چیز سے نشہ ہو وہ حرام ہے۔
“ معلوم ہوا کہ نام کچھ بھی ہو اور کسی بھی چیز سے شراب کشید کی جائے، جس چیز سے نشہ ہو جائے وہ حرام ہے۔
ایک حدیث میں ہے: «كل مسكر حرام و كل مسكر خمر» [بخاري 4343] ، [نسائي 5588] ، یعنی ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے اور ہر نشہ آور چیز خمر (شراب) ہے، یعنی جس سے بھی نشہ ہو جائے وہ خمر، نام خواہ کچھ بھی ہو۔
«الخمر ما خامر العقل» خمر وہ ہے جو عقل کو سلب کر لے۔
نسائی کی روایت میں ہے: بتع اور مرز کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کیا چیز ہے؟“ عرض کیا گیا بتع شہد اور مرز جو کی شراب ہے۔
فرمایا: ”جس چیز سے نشہ ہو وہ حرام ہے۔
“ معلوم ہوا کہ نام کچھ بھی ہو اور کسی بھی چیز سے شراب کشید کی جائے، جس چیز سے نشہ ہو جائے وہ حرام ہے۔
ایک حدیث میں ہے: «كل مسكر حرام و كل مسكر خمر» [بخاري 4343] ، [نسائي 5588] ، یعنی ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے اور ہر نشہ آور چیز خمر (شراب) ہے، یعنی جس سے بھی نشہ ہو جائے وہ خمر، نام خواہ کچھ بھی ہو۔
«الخمر ما خامر العقل» خمر وہ ہے جو عقل کو سلب کر لے۔