🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب في النَّهْيِ عَنِ الشُّرْبِ مِنْ في السِّقَاءِ:
مشک سے منہ لگا کر پانی پینے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2155
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:"نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُشْرَبَ مِنْ فِي السِّقَاءِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ سے لگ کر پینے سے منع فرمایا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2155]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2164] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5627، 5628] ، [الحميدي 1175، وغيرهم]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2156
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "نَهَى عَنْ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکوں کے اختناث سے منع فرمایا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2156]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2165] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6525] ، [مسلم 2023] ، [أبوداؤد 3720] ، [ترمذي 1890] ، [ابن حبان 5317] ، [الحميدي 996]
وضاحت: (تشریح احادیث 2153 سے 2156)
بخاری شریف میں ہے کہ معمر یا کسی اور نے کہا: اختناث: مشک سے منہ لگا کر پانی پینے کو کہتے ہیں۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ مشک سے منہ لگا کر پانی پینا درست نہیں خواہ حکمت کچھ بھی ہو، ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص نے مشک سے منہ لگا کر پانی پیا تو سانپ کا بچہ پیٹ میں چلا گیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک سے منہ لگا کر پانی پینے سے سختی سے منع کر دیا، نیز یہ کہ اس طرح پانی پینے سے پھندا یا گٹا لگ جانے کا بھی اندیشہ ہے، اسی لئے پانی پینے کے آداب میں سے یہ ہے کہ آدمی بیٹھ کر پیالے یا گلاس سے تین بار سانس لے کر پانی پئے۔
واللہ اعلم۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. باب في الشُّرْبِ بِثَلاَثَةِ أَنْفَاسٍ:
تین سانس میں پانی پینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2157
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ ثُمَامَةَ، قَالَ: كَانَ أَنَسٌ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، وَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ "يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا".
ثمامہ بن عبداللہ سے مروی ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ دو یا تین سانس میں پانی پیتے تھے اور کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی کے برتن پر دو یا تین بار سانس لیتے تھے۔ (یعنی دو یا تین سانس میں پانی پیتے تھے۔) [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2157]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2166] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5631] ، [مسلم 2028] ، [أبوداؤد 31] ، [ترمذي 15] ، [نسائي 24] ، [ابن ماجه 310] ، [ابن حبان 5329]
وضاحت: (تشریح حدیث 2156)
طبرانی کی روایت میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی کا پیالہ آتا تو پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بسم اللہ کہہ کر پینا شروع فرماتے، درمیان میں تین سانس لیتے، آخر میں الحمد للہ کہتے۔
(فتح الباری)۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. باب مَنْ شَرِبَ بِنَفَسٍ وَاحِدٍ:
ایک سانس میں پانی پینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2158
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ عِيسَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ حَبِيبٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ مَرْوَانَ فَجَاءَ أَبُو سَعِيدٍ فَقَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَا أَرْوَى مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ؟ قَالَ: "فَأَبِنْ الْإِنَاءَ عَنْ فِيكَ، ثُمَّ تَنَفَّسْ". قَالَ: إِنِّي أَرَى الْقَذَاةَ؟ قَالَ:"أَهْرِقْهُ".
ابوالمثنی نے کہا: میں مروان کے پاس تھا کہ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور بیان کیا کہ ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں ایک سانس میں سیر نہیں ہوتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب پھر پیالے کو اپنے منہ سے ہٹاؤ اور پھر سانس لے لو، عرض کیا: میں اس میں کوڑا دیکھوں تو؟ فرمایا: اسے بہا دو۔ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2158]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2167] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 1887] ، [ابن حبان 5327] ، [الموارد 1367] ، [أحمد 57/3] ، [بغوي فى شرح السنة 3036]
وضاحت: (تشریح حدیث 2157)
ظاہراً اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک سانس میں پانی پی سکتے ہیں، نیز یہ کہ سانس لیتے وقت برتن منہ سے دور رکھنا چاہیے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2159
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ، فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ، وَلَا يَسْتَنْجِي بِيَمِينِهِ، وَلَا يَتَنَفَّسْ فِي الْإِنَاءِ".
سیدنا ابوقتاده رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب تم میں کوئی شخص پیشاب کرے تو داہنے ہاتھ سے عضو مخصوص کو نہ پکڑے، اور نہ داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے، اور نہ برتن میں سانس لے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2159]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2168] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 153، 154] ، [مسلم 267] ، [أبوداؤد 31] ، [ترمذي 15] ، [نسائي 24] ، [ابن ماجه 310] ، [ابن حبان 1434] ، [الحميدي 432، وغيرهم]
وضاحت: (تشریح حدیث 2158)
اس حدیث سے تین باتیں معلوم ہوئیں: نہ داہنے ہاتھ سے شرمگاہ کو چھونا جائز ہے، اور نہ داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنا درست ہے، اور نہ ہی برتن میں سانس لینا صحیح ہے۔
یہ سارے امور آدابِ طہارت کے خلاف ہیں۔
داہنا ہاتھ اچھی چیزوں اور کھانے پینے کے استعمال کے لئے ہے اور طہارت کے لئے بایاں ہاتھ ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. باب في الذي يَكْرَعُ في النَّهْرِ:
نہر پر منہ لگا کر پانی پینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2160
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يَعُودُهُ، وَجَدْوَلٌ يَجْرِي، فَقَالَ: "إِنْ كَانَ عِنْدَكُمْ مَاءٌ بَاتَ فِي الشَّنِّ، وَإِلَّا كَرَعْنَا".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری صحابی کے پاس ان کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور باغ کی نہر جاری تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے پاس مشک میں رات کا پانی ہو تو لاؤ ورنہ ہم نہر سے منہ لگا کر پانی پی لیں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2160]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 2169] »
اس روایت کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5613، 5621] ، [أبويعلی 2097] ، [ابن حبان 5314، 5389]
وضاحت: (تشریح حدیث 2159)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نہر یا حوض میں منہ لگا کر پانی پینا درست ہے۔
بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ اس انصاری صحابی کے پاس مشک میں پانی موجود تھا لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا پانی پیا کیونکہ وہ ٹھنڈا ہوتا ہے۔
اس حدیث میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے ساتھیوں کی عیادت کے لئے جانا، تواضع اور حسنِ اخلاق کا بہترین نمونہ ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. باب في الشُّرْبِ قَائِماً:
کھڑے ہو کر پانی پینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2161
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ الْبَرَاءِ ابْنِ ابْنَةِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "شَرِبَ مِنْ فَمِ قِرْبَةٍ قَائِمًا".
سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک سے منہ لگا کر کھڑے کھڑے پانی پیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2161]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 2170] »
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [أحمد 376/6، 431] ، [الشمائل للترمذي 215] ، [طبراني 127/25، 307]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2162
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ، عَنْ أَبِي الْبَزَرِيِّ: يَزِيدَ بْنِ عُطَارِدَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:"كُنَّا نَشْرَبُ وَنَحْنُ قِيَامٌ، وَنَأْكُلُ وَنَحْنُ نَسْعَى عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں کھڑے ہو کر پانی پی لیتے تھے اور چلتے ہوئے کھانا بھی کھا لیتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2162]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 2171] »
اس روایت کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [ابن حبان 5243] ، [موارد الظمآن 1369] ، [ابن ابي شيبه 4167]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2163
اس سند سے بھی مثل سابق سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2163]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2172] »
ترجمہ و تخریج اوپر مذکور ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 2160 سے 2163)
ان احادیث سے یہ مسائل معلوم ہوئے: کھڑے ہو کر پانی پینا، چلتے ہوئے کھانا کھانا اور مشک سے منہ لگا کر پانی پینا جائز ہے۔
مشک سے منہ لگا کر پانی پینے کی ممانعت پچھلے صفحات میں گذر چکی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے جواز تو نکلتا ہے لیکن قول فعل پر مقدم ہوتا ہے اس لئے مشک سے منہ لگا کر پانی پینا درست نہیں، کھڑے ہو کر پانی پینا یا چلتے ہوئے کھانا کھانا بھی آدابِ طعام میں سے نہیں ہے، بیٹھ کر ہی کھانا پینا کھانے اور پینے کے آداب میں سے ہے، جیسا کہ آگے حدیث آ رہی ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. باب مَنْ كَرِهَ الشُّرْبَ قَائِماً:
کھڑے ہو کر پانی پینا ناپسندیدہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2164
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "نَهَى عَنْ الشُّرْبِ قَائِمًا". قَالَ: وَسَأَلْتُهُ عَنْ الْأَكْلِ، فَقَالَ:"ذَاكَ أَخْبَثُ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے منع فرمایا، راوی نے کہا: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اور کھڑے ہو کر کھانا کھانا؟ فرمایا: یہ تو اور بھی برا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2164]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2173] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 2024] ، [ترمذي 3424] ، [أبويعلی 2867]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں