🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. باب في النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ:
غنیمت کے مال کو تقسیم سے پہلے بیچنے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2512
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حُمْيَدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، وَمَكْحُولٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَنَّهُ نَهَى أَنْ تُبَاعَ السِّهَامُ حَتَّى تُقْسَم".
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حصوں کو تقسیم سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2512]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح نعم مكحول رأى أبا أمامة ولم يسمع منه ولكنه متابع عليه كما ترى، [مكتبه الشامله نمبر: 2519] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [طبراني 7594، 7774] ، [ابن منصور 7759] ، [مجمع الزوائد 6569]
وضاحت: (تشریح حدیث 2511)
حصے تقسیم ہونے سے پہلے بیچنے سے غالباً اس لئے منع فرمایا کہ بیع مجہول ہے، نہ تعداد کا پتہ، نہ جنس و سامان کا علم، پھر بیع و شراء کیسے درست ہو سکتی ہے؟

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
37. باب في اسْتِبْرَاءِ الأَمَةِ:
لونڈی کے استبراء رحم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2513
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ مَوْلًى لِتُجِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَنَشٌ الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ: غَزَوْنَا الْمَغْرِبَ وَعَلَيْنَا رُوَيْفِعُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ فَافْتَتَحْنَا قَرْيَةً يُقَالُ لَهَا: جَرْبَةَ، فَقَامَ فِينَا رُوَيْفِعُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ خَطِيبًا، فَقَالَ: إِنِّي لَا أَقُومُ فِيكُمْ إِلَّا بما سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَامَ فِينَا يَوْمَ خَيْبَرَ حِينَ افْتَتَحْنَاهَا، فَقَالَ: "مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلَا يَأْتِيَنَّ شَيْئًا مِنَ السَّبْيِ حَتَّى يَسْتَبْرِئَهَا".
حنش الصنعانی نے بیان کیا: ہم نے مغرب کا جہاد کیا اور ہمارے امیرِ لشکر سیدنا رويفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ تھے۔ ہم نے ایک گاؤں فتح کیا جس کو جربہ کہا جا تا تھا، پس سیدنا رويفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ ہمارے درمیان خطيب بن کر کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ میں تمہارے درمیان اس واسطے کھڑا ہوا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، جب ہم نے خیبر فتح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے در میان کھڑے ہوئے اور فرمایا: جو شخص الله تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ قیدی عورتوں سے صحبت نہ کرے جب تک کہ استبراء نہ کر لے۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2513]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف ولكن الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2520] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے، لیکن دوسری سند سے حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1441] ، [أبوداؤد 2156] ، [ابن حبان 4850] ، [الموارد 1675]
وضاحت: (تشریح حدیث 2512)
استبراء سے مراد رحم کی صفائی ہے۔
مطلب یہ کہ شادی شدہ عورت سے اس وقت تک جماع کرنا درست نہیں جب تک کہ اسے ایک حیض نہ آ جائے، اس کے بعد جماع کر سکتا ہے۔
مبادا وہ قیدی عورت حاملہ نہ ہو، کیونکہ حاملہ سے وطی و صحبت جائز نہیں۔
ابوداؤد میں ہے: «لَا يَحِلُّ لِامْرِىءٍ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْقٰى مَاءَهُ زَرْعَ غَيْرِهِ (يعني إتيان الحبلى). [أبوداؤد فى النكاح، باب وطى السبايا] »
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جنگ میں جو عورتیں گرفتار ہوں، ان کی گرفتاری سے پہلا نکاح ٹوٹ جاتا ہے، حمل سے ہوں تو وضع حمل کے بعد، اور حاملہ نہ ہوں تو ایک ماہواری کے بعد لطفِ صحبت اٹھایا جا سکتا ہے، یہ کوئی ضروری نہیں کہ وہ مسلمان بھی ہوں، با قاعدہ سرکاری تقسیم کے بعد جو لونڈی جس کے حصہ میں آئے وہ اس سے بعینہ اسی طرح لطف اٹھا سکتا ہے جس طرح اپنی منکوحہ بیوی سے لطف اندوز ہو سکتا ہے۔
(مبارکپوری رحمہ اللہ)۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
38. باب في النَّهْيِ عَنْ وَطْءِ الْحَبَالَى:
حاملہ قیدی عورتوں سے وطی کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2514
أَخْبَرَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ أَبِي عُمَرَ الشَّامِيِّ الْهَمْدَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى امْرَأَةً مُجِحَّةً يَعْنِي: حُبْلَى عَلَى بَابِ فُسْطَاطٍ، فَقَالَ:"لَعَلَّهُ قَدْ أَلَمَّ بِهَا؟". قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: "لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنَةً تَدْخُلُ مَعَهُ قَبْرَهُ، كَيْفَ يُوَرِّثُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ، وَكَيْفَ يَسْتَخْدِمُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ".
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حاملہ عورت کو خیمے کے دروازے پر پڑے دیکھا تو فرمایا: شاید اس کے مالک نے اس سے جماع کیا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے چاہا اس پر ایسی لعنت کروں جو قبر تک اس کے ساتھ جائے، بھلا اس کا لڑکا کیوں کر اس کا وارث ہوگا جب کہ وہ اس کے لئے حلال ہی نہیں اور کس طرح وہ اس سے خدمت لے گا اور وہ اس کے لئے حلال ہی نہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2514]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2521] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1414] ، [أبوداؤد 2156] ، [الطيالسي 1172]
وضاحت: (تشریح حدیث 2513)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حاملہ سے وطی کرنے والے پر لعنت کا ارادہ کرنا شدید کراہت پر دلالت کرتا ہے، اور اس سے حاملہ سے صحبت و جماع کرنے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے، اسی طرح غزوۂ اوطاس کی لونڈیوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔
دیکھئے: [مسلم، كتاب النكاح، باب وطي الحامل و كتاب النكاح، باب وطي السبايا 2154] ۔
«كَيْفَ يُوَرِّثُهُ» کا مطلب یہ ہے کہ جب اس کا وہ بچہ ہے ہی نہیں تو وارث کیسے بنے گا، اور احتمال ہے کہ وہ لڑکا پہلے وطی کرنے والے کا ہو تو اس کو غلام بنانا حرام ہوگا۔
تفصیل مسلم شریف میں دیکھئے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
39. باب النَّهْيِ عَنِ التَّفْرِيقِ بَيْنَ الْوَالِدَةِ وَوَلَدِهَا:
قیدی عورتوں میں ماں بیٹے میں جدائی کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2515
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، قِرَاءَةً، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُنَادَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ: أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ كَانَ فِي جَيْشٍ فَفُرِّقَ بَيْنَ الصِّبْيَانِ وَبَيْنَ أُمَّهَاتِهِمْ، فَرَآهُمْ يَبْكُونَ، فَجَعَلَ يَرُدُّ الصَّبِيَّ إِلَى أُمِّهِ. وَيَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الْوَالِدَةِ وَوَلَدِهَا، فَرَّقَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْأَحِبَّاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ابوعبدالرحمٰن حبلی سے روایت ہے کہ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ ایک لشکر میں تھے کہ بچوں اور ان کی ماؤں کو جدا کر دیا گیا، انہوں نے بچوں کو دیکھا تو وہ رو رہے تھے، لہٰذا ہر بچے کو اس کی ماں کے پاس واپس لوٹا دیا اور وہ کہتے تھے: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جدا کر دیا ماں کو اس کی اولاد سے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو اس کے دوستوں سے الگ کردے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2515]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 2522] »
اس روایت کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 1283، 1566] ، [أحمد 412/5] ، [الحاكم 55/2]
وضاحت: (تشریح حدیث 2514)
اس حدیث سے ماں بیٹوں کے درمیان جدائی کی ممانعت ثابت ہوئی، خواہ وہ غلام ہوں یا قیدی، نہ قید میں انہیں ایک دوسرے سے الگ کرنا چاہیے اور نہ بیع و شراء میں، حدیث کا منطوق اسی پر دلالت کرتا ہے۔
والله اعلم۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
40. باب في الْحَرْبِيِّ إِذَا قَدِمَ مُسْلِماً:
حربی اگر مسلمان ہو کر آئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2516
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ صَخْرِ بْنِ الْعَيْلَةِ، قَالَ أَبُو مُحَمَّد: وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: الْغِيلَةِ. قَالَ: أَخَذْتُ عَمَّةَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، فَقَدِمْتُ بِهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّتَهُ، فَقَالَ:"يَا صَخْرُ، إِنَّ الْقَوْمَ إِذَا أَسْلَمُوا، أَحْرَزُوا أَمْوَالَهُمْ وَدِمَاءَهُمْ، فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ". وَكَانَ مَاءٌ لِبَنِي سُلَيْمٍ، فَأَسْلَمُوا فَأَتَوْهُ فَسَأَلُوهُ ذَلِكَ، فَدَعَانِي، فَقَالَ:"يَا صَخْرُ، إِنَّ الْقَوْمَ إِذَا أَسْلَمُوا، أَحْرَزُوا أَمْوَالَهُمْ وَدِمَاءَهُمْ، فَادْفَعْهُ إِلَيْهِمْ" فَدَفَعْتُهُ.
سیدنا صخر بن عیلہ (اور بعض نے غیلہ کہا) رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی پھوپھی کو گرفتار کر لیا اور انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی پھوپھی کا مطالبہ کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے صخر! جب لوگ مسلمان ہو جائیں تو ان کے مال ان کا خون محفوظ ہو جا تا ہے، ان کو مغیرہ کے حوالے کر دو۔
اور بنی سلیم کا پانی کا چشمہ تھا۔ جب وہ اسلام لے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اس کی واپسی کا مطالبہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا: اے صخر! جب لوگ اسلام قبول کر لیتے ہیں تو اپنے مال اور خون کو محفوظ کر لیتے ہیں، اس (چشمے) کو انہیں لوٹا دو، چنانچہ میں نے اسے واپس کر دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2516]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 2523] »
اس حدیث کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [معجم الصحابة لابن قانع 462]
وضاحت: (تشریح حدیث 2515)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب کوئی غیر مسلم مسلمان ہو جائے تو اس کا خون بہانا اور مال و متاع لوٹنا حرام ہے، گویا حربی اپنی آزادانہ مرضی سے اور بغیر کسی بیرونی دباؤ کے اسلام میں داخل ہو جائے تو پھر اس کا مال، منقول یا غیرمنقول کسی بھی صورت میں لینا حرام ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
41. باب في أَنَّ النَّفْلَ إِلَى الإِمَامِ:
امام یا سربراہ کی طرف سے حصے سے زیادہ دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2517
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابِنِ عُمَرَ، قَالَ: "بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فِيهَا ابْنُ عُمَر، فَغَنِمُوا إِبِلًا كَثِيرَةً، فَكَانَتْ سِهَامُهُمْ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا أَوْ أَحَدَ عَشَرَ بَعِيرًا وَنُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ بھیجا جس میں خود سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، ان کو مالِ غنیمت میں بہت سارے اونٹ ہاتھ آئے اس لئے اس لشکر کے ہر سپاہی کو بارہ بارہ یا گیارہ گیارہ اونٹ ملے تھے، پھر ایک ایک اونٹ اور انعام میں ملا۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2517]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده قوي، [مكتبه الشامله نمبر: 2524] »
اس روایت کی سند قوی اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3134] ، [مسلم 1749] ، [الموطأ فى الجهاد 15] ، [أبويعلی 5826] ، [ابن حبان 4832]
وضاحت: (تشریح حدیث 2516)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غازی کو مالِ غنیمت میں سے مقرر حصے کے علاوہ زائد مال بھی دیا جا سکتا ہے، مذکورہ بالا حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ سردارِ لشکر نے یہ انعام خمس میں سے دیا ہوگا، اور یہ تقسیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر سکوت فرمایا اس لئے حجت ہے، لہٰذا غازی کو حصے سے کچھ زیادہ بھی دیا جا سکتا ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
42. باب في أَنْ يُنَفَّلَ في الْبَدْأَةِ الرُّبُعُ وَفِي الرَّجْعَةِ الثُّلُثُ:
لشکر کشی کی ابتداء میں ربع اور دوبارہ پھر حملہ کرنے پر ثلث کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2518
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"إِذَا أَغَارَ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ، نَفَّلَ الرُّبُعَ، وَإِذَا أَقْبَلَ رَاجِعًا، وَكُلُّ النَّاسِ، نَفَّلَ الثُّلُثَ".
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب دشمن کی سرزمین پر حملہ آور ہوتے تو ربع یعنی چوتھائی مالِ غنیمت کا انعام دیتے، اور جب تمام لوگ لوٹتے (اور دوبارہ جنگ کی ضرورت واقع ہوتی) تو ایک تہائی مالِ غنیمت کا انعام دیتے۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2518]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 2525] »
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 1561] ، [ابن ماجه 2852] ، [ابن حبان 4855] ، [موارد الظمآن 1693]
وضاحت: (تشریح حدیث 2517)
جب مالِ غنیمت ہاتھ آوے تو اس میں پانچواں حصہ الله اور رسول کا ہے، وہ امام و سربراہ نکا لے اور باقی چار حصے مجاہدین میں تقسیم کئے جائیں، اور امام کو اختیار ہے کہ ان باقی چار حصوں میں سے جتنا چاہے انعام کسی خاص شخص یا خاص جماعت کے لئے تجویز کرے۔
امام احمد و اسحاق رحمہما اللہ کا یہی قول ہے۔
بعض فقہاء نے کہا کہ امام انعام کا وعدہ کرے تو خمس میں سے کرے جو اللہ اور رسول کا حصہ ہے۔
علامہ وحیدالزماں رحمہ اللہ لکھتے ہیں: بعد خمس نکالنے جب لڑائی شروع ہونے لگے اس وقت چوتھائی مالِ غنیمت ایک خاص فرقے کو جو کوئی بہادری کا کام کرتا انعام مقرر کرے، اور جنگ سے لوٹنے کے بعد پھر اگر کوئی دشمن سے لڑتا تو اس کو تہائی نفل دیتے، اس واسطے کہ اس نے دو بار محنت و مشقت برداشت کی۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
43. باب في النَّفْلِ بَعْدَ الْخُمُسِ:
خمس نکالنے کے بعد انعام دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2519
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جَارِيَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "نَفَّلَ الثُّلُثَ بَعْدَ الْخُمُسِ".
سیدنا حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تہائی کا اضافی انعام خمس کے بعد دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2519]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 2526] »
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 2748] ، [ابن ماجه 2851] ، [ابن حبان 4835] ، [موارد الظمآن 1672، وغيرهم]
وضاحت: (تشریح حدیث 2518)
یہاں دو مسائل قابلِ غور ہیں، ایک یہ کہ اضافی و زائد حصہ یا انعام مالِ غنیمت میں سے دیا جائے گا یا خمس میں سے؟ حدیث میں اس کی صراحت نہیں، نیز یہ انعام یا اضافی حصہ اس حدیث کے مطابق خمس نکالنے کے بعد دیا جائے گا۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
44. باب مَنْ قَتَلَ قَتِيلاً فَلَهُ سَلَبُهُ:
جو شخص کسی کو قتل کرے تو مقتول کا سامان اسی کو دیا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2520
أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ قَتَلَ كَافِرًا، فَلَهُ سَلَبُهُ". فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَئِذٍ عِشْرِينَ، وَأَخَذَ أَسْلَابَهُمْ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی کافر کو مارے گا تو اس مقتول کا سامان (قاتل) مارنے والے کو ملے گا۔ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اس دن (جنگِ حنین میں) بیس آدمیوں (کافروں) کو مارا اور ان کا سامان و اسباب بھی لے لیا۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2520]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2527] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 2718] ، [ابن حبان 4836] ، [موارد الظمآن 1671، 1705]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2521
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ هُوَ: عُمَرُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ:"بَارَزْتُ رَجُلًا فَقَتَلْتُهُ، فَنَفَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ".
سیدنا ابوقتاده رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے ایک کافر مرد سے مقابلہ کیا اور اسے قتل کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا سامان مجھے عطا فرما دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2521]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2528] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3142] ، [مسلم 1751] ، [أبوداؤد 2717] ، [ترمذي 1562] ، [ابن ماجه 2836] ، [ابن حبان 4805] ، [الحميدي 427]
وضاحت: (تشریح احادیث 2519 سے 2521)
مقتول کے سامان سے مراد اس کے کپڑے، ہتھیار، سواری وغیرہ ہیں۔
امام کو اختیار ہے کہ حالتِ جنگ میں رغبت دلانے کے لئے ایسا انعام مقرر کرے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی بھی کسی کافر کا کام تمام کرے گا اس کا سامان بھی اسی کو ملے گا، اور یہ مالِ غنیمت کے علاوہ ہے۔
بعض فقہاء نے کہا: یہ حکم دائمی ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے کہا: یہ حکم دائمی نہیں ہے۔
(واللہ اعلم)۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں