صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ إِذَا عَرَّضَ الذِّمِّيُّ وَغَيْرُهُ بِسَبِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُصَرِّحْ نَحْوَ قَوْلِهِ السَّامُ عَلَيْكَ:
باب: اگر ذمی کافر یا کوئی اور اشارے کنائے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو برا کہے جیسے یہود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں (السلام علیکم کے بدلے) السام علیک کہا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 6926
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ:" مَرَّ يَهُودِيٌّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: السَّامُ عَلَيْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَعَلَيْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَدْرُونَ مَا يَقُولُ؟ قَالَ: السَّامُ عَلَيْكَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَقْتُلُهُ؟، قَالَ: لَا، إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ، فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ".
ہم سے محمد بن مقاتل ابوالحسن مروزی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو شعبہ بن حجاج نے، انہوں نے ہشام بن زید بن انس سے، وہ کہتے تھے میں نے اپنے دادا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ ایک یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا کہنے لگا «السام عليك.» یعنی تم مرو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں صرف «وعليك".» کہا (تو بھی مرے گا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ تم کو معلوم ہوا، اس نے کیا کہا؟ اس نے «السام عليك.» کہا۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! (حکم ہو تو) اس کو مار ڈالیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، نہیں۔ جب کتاب والے یہود اور نصاریٰ تم کو سلام کیا کریں تو تم بھی یہی کہا کرو «وعليكم» ۔ [صحيح البخاري/كتاب استتابة المرتدين/حدیث: 6926]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا: ”تم پر ہلاکت ہو۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کے جواب میں) فرمایا: ”تجھ پر بھی۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے) پوچھا: ”تمہیں معلوم ہے کہ اس نے کیا کہا تھا؟ اس نے «السَّامُ عَلَيْكَ» ”تم پر ہلاکت ہو“ کہا تھا۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ”اللہ کے رسول! اسے ہم قتل نہ کر دیں؟“ آپ نے فرمایا: ”نہیں، جب تمہیں اہل کتاب سلام کہیں تو تم جواب میں یہ کہہ دیا کرو: «وَعَلَيْكُمْ» ”تم پر بھی۔““ [صحيح البخاري/كتاب استتابة المرتدين/حدیث: 6926]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6927
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" اسْتَأْذَنَ رَهْطٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ، فَقُلْتُ: بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ، فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ، إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ، قُلْتُ: أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا؟، قَالَ: قُلْتُ: وَعَلَيْكُمْ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے سفیان بن عیینہ سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے کہا کہ یہود میں سے چند لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت چاہی جب آئے تو کہنے لگے «السام عليك.» میں نے جواب میں یوں کہا «عليكم السام واللعنة.» ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ! اللہ تعالیٰ نرمی کرتا ہے اور ہر کام میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے ان کا کہنا نہیں سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے بھی تو جواب دے دیا «وعليكم» ۔ [صحيح البخاري/كتاب استتابة المرتدين/حدیث: 6927]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: چند یہودیوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی۔ (جب وہ آئے) تو انہوں نے کہا: «السَّامُ عَلَيْكَ» ”تم پر موت ہو“ میں نے جواب میں کہا: ”بلکہ تم پر موت اور لعنت ہو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! اللہ تعالیٰ نرمی کرتا ہے اور ہر کام میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔“ میں نے کہا: ”اللہ کے رسول! آپ نے وہ نہیں سنا جو انہوں نے کہا تھا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے کہہ تو دیا تھا کہ ”تم پر بھی ہو۔“” [صحيح البخاري/كتاب استتابة المرتدين/حدیث: 6927]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6928
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمُوا عَلَى أَحَدِكُمْ إِنَّمَا يَقُولُونَ: سَامٌ عَلَيْكَ، فَقُلْ عَلَيْكَ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے، انہوں نے سفیان بن عیینہ، اور امام مالک سے، ان دونوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، کہا میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہودی لوگ جب تم مسلمانوں میں سے کسی کو سلام کرتے ہیں تو «سام عليك.» کہتے ہیں تم بھی جواب میں «عليك» کہا کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب استتابة المرتدين/حدیث: 6928]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہودی لوگ جب تم میں سے کسی کو سلام کرتے ہیں تو «السَّامُ عَلَيْكَ» ”تم پر موت ہو“ کہتے ہیں، تم جواب میں یہی کہہ دیا کرو: «وَعَلَيْكَ» ”تم پر بھی یہی کچھ ہو۔““ [صحيح البخاري/كتاب استتابة المرتدين/حدیث: 6928]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
5. بَابٌ:
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 6929
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي شَقِيقٌ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" يَحْكِي نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، ضَرَبَهُ قَوْمُهُ، فَأَدْمَوْهُ، فَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ، وَيَقُولُ: رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ".
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے، کہا ہم سے اعمش نے، کہا مجھ سے شقیق ابن سلمہ نے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا جیسے میں (اس وقت) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں آپ ایک پیغمبر (نوح علیہ السلام) کی حکایت بیان کر رہے تھے ان کی قوم والوں نے ان کو اتنا مارا کہ لہولہان کر دیا وہ اپنے منہ سے خون پونچھتے تھے اور یوں دعا کرتے جاتے «رب اغفر لقومي، فإنهم لا يعلمون.» ”پروردگار میری قوم والوں کو بخش دے وہ نادان ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب استتابة المرتدين/حدیث: 6929]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”گویا میں اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں، آپ ایک پیغمبر کی حکایت بیان کر رہے تھے جسے اس کی قوم نے مار مار کر لہولہان کر دیا تھا۔ وہ اپنے چہرے سے خون صاف کرتے اور اللہ کے حضور دعا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ» ”اے اللہ! میری قوم کو معاف کر دے کیونکہ وہ نادان ہیں۔““ [صحيح البخاري/كتاب استتابة المرتدين/حدیث: 6929]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
6. بَابُ قَتْلِ الْخَوَارِجِ وَالْمُلْحِدِينَ بَعْدَ إِقَامَةِ الْحُجَّةِ عَلَيْهِمْ:
باب: خارجیوں اور بے دینوں سے ان پر دلیل قائم کر کے لڑنا۔
حدیث نمبر: Q6930
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِلَّ قَوْمًا بَعْدَ إِذْ هَدَاهُمْ حَتَّى يُبَيِّنَ لَهُمْ مَا يَتَّقُونَ سورة التوبة آية 115 وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَرَاهُمْ شِرَارَ خَلْقِ اللَّهِ، وَقَالَ إِنَّهُمُ انْطَلَقُوا إِلَى آيَاتٍ نَزَلَتْ فِي الْكُفَّارِ فَجَعَلُوهَا عَلَى الْمُؤْمِنِينَ.
اللہ تعالیٰ نے فرمایا «وما كان الله ليضل قوما بعد إذ هداهم حتى يبين لهم ما يتقون» ”اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرتا کہ کسی قوم کو ہدایت کرنے کے بعد (یعنی ایمان کی توفیق دینے کے بعد) ان سے مواخذہ کرے جب تک ان سے بیان نہ کرے کہ فلاں فلاں کاموں سے بچے رہو۔“ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما (اس کو طبری نے وصل کیا) خارجی لوگوں کو بدترین خلق اللہ سمجھتے تھے، کہتے تھے انہوں نے کیا کیا جو آیتیں کافروں کے باب میں اتری تھیں ان کو مسلمانوں پر چسپاں کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب استتابة المرتدين/حدیث: Q6930]
حدیث نمبر: 6930
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا خَيْثَمَةُ، حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ غَفَلَةَ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا، فَوَاللَّهِ لَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَكْذِبَ عَلَيْهِ، وَإِذَا حَدَّثْتُكُمْ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ، فَإِنَّ الْحَرْبَ خِدْعَةٌ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" سَيَخْرُجُ قَوْمٌ فِي آخِرِ الزَّمَانِ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ، يَقُولُونَ: مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ، لَا يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ، فَإِنَّ فِي قَتْلِهِمْ أَجْرًا لِمَنْ قَتَلَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم ہمارے سے والد نے، کہا ہم سے اعمش نے، کہا ہم سے خیثمہ بن عبدالرحمٰن نے، کہا ہم سے سوید بن غفلہ نے کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا جب میں تم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کروں تو قسم اللہ کی اگر میں آسمان سے نیچے گر پڑوں یہ مجھ کو اس سے اچھا لگتا ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھوں ہاں جب مجھ میں تم میں آپس میں گفتگو ہو تو اس میں بنا کر بات کہنے میں کوئی قباحت نہیں کیونکہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے) لڑائی تدبیر اور مکر کا نام ہے۔ دیکھو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اخیر زمانہ قریب ہے جب ایسے لوگ مسلمانوں میں نکلیں گے جو نوعمر بیوقوف ہوں گے (ان کی عقل میں فتور ہو گا) ظاہر میں تو ساری خلق کے کلاموں میں جو بہتر ہے (یعنی حدیث شریف) وہ پڑھیں گے مگر درحقیقت ایمان کا نور ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح باہر ہو جائیں گے جیسے تیر شکار کے جانور سے پار نکل جاتا ہے۔ (اس میں کچھ لگا نہیں رہتا) تم ان لوگوں کو جہاں پانا بے تامل قتل کرنا، ان کو جہاں پاؤ قتل کرنے میں قیامت کے دن ثواب ملے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب استتابة المرتدين/حدیث: 6930]
حضرت سوید بن غفلہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کروں تو اللہ کی قسم! میرا آسمان سے گرنا مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھوں۔ اور جب میں تم سے وہ بات کروں جو میرے اور تمہارے درمیان ہے تو بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”عنقریب آخری زمانے میں ایک ایسی قوم ظاہر ہو گی جو نو خیز اور کم عقل لوگوں پر مشتمل ہو گی۔ وہ ظاہر میں تو تمام مخلوق میں سے بہترین کلام (قرآن مجید) پڑھیں گے لیکن ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے آر پار ہو جاتا ہے، تم جہاں بھی ان سے ملو ان کو قتل کر دو کیونکہ ان کے قتل کرنے والے کو قیامت کے دن بہت ثواب ملے گا۔““ [صحيح البخاري/كتاب استتابة المرتدين/حدیث: 6930]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6931
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَعَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أنهما أتيا أبا سعيد الخدري، فسألاه عَنِ الْحَرُورِيَّةِ؟ أَسَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا أَدْرِي مَا الْحَرُورِيَّةُ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يَخْرُجُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ، وَلَمْ يَقُلْ مِنْهَا، قَوْمٌ تَحْقِرُونَ صَلَاتَكُمْ مَعَ صَلَاتِهِمْ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حُلُوقَهُمْ، أَوْ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، فَيَنْظُرُ الرَّامِي إِلَى سَهْمِهِ، إِلَى نَصْلِهِ، إِلَى رِصَافِهِ، فَيَتَمَارَى فِي الْفُوقَةِ هَلْ عَلِقَ بِهَا مِنَ الدَّمِ شَيْءٌ".
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا میں نے یحییٰ بن سعید انصاری سے سنا، کہا مجھ کو محمد بن ابراہیم تیمی نے خبر دی، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور عطاء بن یسار سے، وہ دونوں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے پوچھا کیا تم نے حروریہ کے بارے میں کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا حروریہ (دروریہ) تو میں جانتا نہیں مگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اس امت میں اور یوں نہیں فرمایا اس امت میں سے کچھ لوگ ایسے پیدا ہوں گے کہ تم اپنی نماز کو ان کی نماز کے سامنے حقیر جانو گے اور قرآن کی تلاوت بھی کریں گے مگر قرآن ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر جانور میں سے پار نکل جاتا ہے اور پھر تیر پھینکنے والا اپنے تیر کو دیکھتا ہے اس کے بعد جڑ میں (جو کمان سے لگی رہتی ہے) اس کو شک ہوتا ہے شاید اس میں خون لگا ہو مگر وہ بھی صاف۔ [صحيح البخاري/كتاب استتابة المرتدين/حدیث: 6931]
حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن اور عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ وہ دونوں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے حروریہ (خوارج) کے متعلق سوال کیا کہ ”کیا آپ نے ان سے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”حروریہ کے متعلق تو میں کچھ نہیں جانتا کہ وہ کون ہیں، البتہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اس امت میں ایک قوم ظاہر ہوگی—آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ اس امت سے ظاہر ہوگی—تم اپنی نماز کو ان کی نماز کے مقابلے میں بہت حقیر خیال کرو گے۔ وہ قرآن کی تلاوت بھی خوب کریں گے لیکن قرآن ان کے حلق یا گلے سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے پار نکل جاتا ہے۔ تیر انداز اپنے تیر کو دیکھتا ہے، اس کے پھل کو دیکھتا ہے، اس کے پروں کو دیکھتا ہے، اس کی جڑ کو دیکھتا ہے، اسے شک ہوتا ہے کہ شاید اس پر کچھ خون لگا ہو؟ (مگر وہ بھی صاف ہوتا ہے)۔““ [صحيح البخاري/كتاب استتابة المرتدين/حدیث: 6931]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6932
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَذَكَرَ الْحَرُورِيَّةَ، فقال: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ".
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابن وہب نے، کہا کہ مجھ سے عمر بن محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر نے، کہا ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اور انہوں نے حروریہ کا ذکر کیا اور کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ وہ اسلام سے اس طرح باہر ہو جائیں گے جس طرح تیر کمان سے باہر ہو جاتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب استتابة المرتدين/حدیث: 6932]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے ایک مرتبہ حروریہ کا ذکر کیا اور کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق فرمایا تھا: ”وہ اسلام سے اس طرح باہر ہو جائیں گے جس طرح تیر کمان سے باہر ہو جاتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب استتابة المرتدين/حدیث: 6932]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
7. بَابُ مَنْ تَرَكَ قِتَالَ الْخَوَارِجِ لِلتَّأَلُّفِ، وَأَنْ لاَ يَنْفِرَ النَّاسُ عَنْهُ:
باب: دل ملانے کے لیے کسی مصلحت سے کہ لوگوں میں نفرت نہ پیدا ہو خارجیوں کو نہ قتل کرنا۔
حدیث نمبر: 6933
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ، جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ذِي الْخُوَيْصِرَةِ التَّمِيمِيُّ، فَقَالَ:" اعْدِلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: وَيْلَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَهُ، قَالَ: دَعْهُ فَإِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِ، وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يُنْظَرُ فِي قُذَذِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، ثُمَّ يُنْظَرُ فِي نَصْلِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، ثُمَّ يُنْظَرُ فِي رِصَافِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، ثُمَّ يُنْظَرُ فِي نَضِيِّهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، قَدْ سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ، آيَتُهُمْ رَجُلٌ إِحْدَى يَدَيْهِ، أَوْ قَالَ ثَدْيَيْهِ، مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ، أَوْ قَالَ مِثْلُ الْبَضْعَةِ، تَدَرْدَرُ، يَخْرُجُونَ عَلَى حِينِ فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ"، قَالَ أَبُو سَعِيد: أَشْهَدُ سَمِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَشْهَدُ أَنَّ عَلِيًّا قَتَلَهُمْ وَأَنَا مَعَهُ، جِيءَ بِالرَّجُلِ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَنَزَلَتْ فِيهِ: وَمِنْهُمْ مَنْ يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَاتِ سورة التوبة آية 58.
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے اور ان سے ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تقسیم فرما رہے تھے کہ عبداللہ بن ذی الخویصرہ تمیمی آیا اور کہا: یا رسول اللہ! انصاف کیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افسوس اگر میں انصاف نہیں کروں گا تو اور کون کرے گا۔ اس پر عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے اجازت دیجئیے کہ میں اس کی گردن مار دوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں اس کے کچھ ایسے ساتھی ہوں گے کہ ان کی نماز اور روزے کے سامنے تم اپنی نماز اور روزے کو حقیر سمجھو گے لیکن وہ دین سے اس طرح باہر ہو جائیں گے جس طرح تیر جانور میں سے باہر نکل جاتا ہے۔ تیر کے پر کو دیکھا جائے لیکن اس پر کوئی نشان نہیں پھر اس پیکان کو دیکھا جائے اور وہاں بھی کوئی نشان نہیں پھر اس کے باڑ کو دیکھا جائے اور یہاں بھی کوئی نشان نہیں پھر اس کی لکڑی کو دیکھا جائے اور وہاں بھی کوئی نشان نہیں کیونکہ وہ (جانور کے جسم سے تیر چلایا گیا تھا) لید گوبر اور خون سب سے آگے (بےداغ) نکل گیا (اسی طرح وہ لوگ اسلام سے صاف نکل جائیں گے) ان کی نشانی ایک مرد ہو گا جس کا ایک ہاتھ عورت کی چھاتی کی طرح یا یوں فرمایا کہ گوشت کے تھل تھل کرتے لوتھڑے کی طرح ہو گا۔ یہ لوگ مسلمانوں میں پھوٹ کے زمانہ میں پیدا ہوں گے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ علی رضی اللہ عنہ نے نہروان میں ان سے جنگ کی تھی اور میں اس جنگ میں ان کے ساتھ تھا اور ان کے پاس ان لوگوں کے ایک شخص کو قیدی بنا کر لایا گیا تو اس میں وہی تمام چیزیں تھیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی تھیں۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی «ومنهم من يلمزك في الصدقات» کہ ”ان میں سے بعض وہ ہیں جو آپ کے صدقات کی تقسیم میں عیب پکڑتے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب استتابة المرتدين/حدیث: 6933]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ مال تقسیم کر رہے تھے کہ عبداللہ بن ذی خویصرہ تمیمی آیا اور کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! آپ انصاف کریں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری ہلاکت ہو! اگر میں نے انصاف نہ کیا تو اور کون کرے گا؟“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”آپ مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن اڑا دوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، اسے چھوڑ دو۔ اس کے کچھ ایسے ساتھی ہوں گے کہ تم ان کی نماز، روزے کے مقابلے میں اپنی نماز اور روزے کو حقیر خیال کرو گے لیکن وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کو دیکھا جائے تو اس پر کوئی نشان نہیں ہوتا۔ اس کے پھل کو دیکھا جائے تو وہاں بھی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ اس کے پیکان کو دیکھا جائے تو وہاں کوئی دھبہ نہیں ہوتا۔ اس کی لکڑی کو دیکھا جائے تو وہاں بھی کوئی نشان نہیں ہوتا، حالانکہ وہ شکار کی غلاظت اور خون سے گزر کر گیا ہے۔ ان کی نشانی ایک آدمی ہوگا جس کا ایک ہاتھ یا چھاتی عورت کی چھاتی کی طرح یا گوشت کے ٹکڑے کی طرح حرکت کرتا ہوگا۔ یہ لوگ مسلمانوں میں پھوٹ کے وقت پیدا ہوں گے۔“ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے (علاقہ نہروان میں) ان سے جنگ کی تھی اور میں اس جنگ میں آپ کے ہمراہ تھا جبکہ ان لوگوں کے ایک آدمی کو لایا گیا تو اس میں وہ تمام چیزیں تھیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی تھیں۔ (راوی نے بیان کیا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اس نے اعتراض کیا تو) اس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَمِنْهُمْ مَنْ يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَاتِ﴾ [سورة التوبة: 58] ”ان میں سے وہ شخص بھی ہے جو آپ پر تقسیم صدقات کے متعلق حرف گیری کرتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب استتابة المرتدين/حدیث: 6933]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6934
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، حَدَّثَنَا يُسَيْرُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ، قُلْتُ لِسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ: هَلْ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ فِي الْخَوَارِجِ شَيْئًا؟، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ وَأَهْوَى بِيَدِهِ قِبَلَ الْعِرَاقِ:" يَخْرُجُ مِنْهُ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیادہ نے، کہا ہم سے سلمان شیبانی نے، کہا ہم سے یسیر بن عمرو نے بیان کیا کہ میں نے سہل بن حنیف (بدری صحابی) رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوارج کے سلسلے میں کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے اور آپ نے عراق کی طرف ہاتھ سے اشارہ فرمایا تھا کہ ادھر سے ایک جماعت نکلے گی یہ لوگ قرآن مجید پڑھیں گے لیکن قرآن مجید ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ اسلام سے اس طرح باہر ہو جائیں گے جیسے تیر شکار کے جانور سے باہر نکل جاتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب استتابة المرتدين/حدیث: 6934]
حضرت بسیر بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوارج کے متعلق کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے؟“ انہوں نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا، آپ نے اپنے ہاتھ مبارک سے عراق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”وہاں سے ایک قوم نکلے گی۔ یہ لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ اسلام سے اس طرح باہر ہو جائیں گے جس طرح تیر شکار کو زخمی کر کے نکل جاتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب استتابة المرتدين/حدیث: 6934]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة