🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (رُخْصَةُ النَّوْمِ فِي حَالَةِ الجَنَابَةِ)
جنابت کی حالت میں سو نے کی رخصت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 468
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 468 - عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُجْنِبُ، ثُمَّ يَنَامُ، ثُمَّ يَنْتَبِهُ، ثُمَّ يَنَامُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جنبی ہو جاتے، پھر سو جاتے، پھر بیدار ہوتے اور پھر سو جاتے۔ (ضعیف) [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 468]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أحمد (298/6 ح 27087)
٭ شريک القاضي: مدلس و عنعن .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (يَجُوزُ لِلْمُعَلِّمِ أَنْ يُنَبِّهَ التِّلْمِيذَ عَلَى غَفْلَتِهِ)
استاد شاگرد کو غفلت پر تنبیہ کر سکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 469
469 - وَعَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ يُفْرِغُ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى سَبْعَ مِرَارٍ، ثُمَّ يَغْسِلُ فَرْجَهُ، فَنَسِيَ مَرَّةً كَمْ أَفْرَغَ، فَسَأَلَنِي. فَقُلْتُ: لَا أَدْرِي. فَقَالَ: لَا أُمَّ لَكَ! وَمَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَدْرِيَ؟ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى جِلْدِهِ الْمَاءُ، ثُمَّ يَقُولُ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَطَهَّرُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
شعبہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جب ابن عباس رضی اللہ عنہما غسل جنابت کرتے تو وہ سات مرتبہ دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے، پھر شرم گاہ دھوتے، پس وہ یہ بھول گئے کہ انہوں نے کتنی مرتبہ پانی ڈالا، انہوں نے مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا: میں نہیں جانتا، انہوں نے کہا: تیری ماں نہ رہے، تمہیں کس نے روکا کہ تم نہ جانو؟ پھر وہ نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر اپنے جسم پر پانی بہاتے، پھر فرماتے: رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسی طرح غسل کیا کرتے تھے۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 469]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (246)
٭ شعبة مولٰي ابن عباس: ضعيف ضعفه الجمھور .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الغُسْلُ بَيْنَ الجِمَاعَيْنِ سَبَبٌ لِلنَّشَاطِ)
دوبارہ جماع کرنے کے درمیان غسل نشاط کا ذریعہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 470
470 - وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى نِسَائِهِ، يَغْتَسِلُ عِنْدَ هَذِهِ، وَعِنْدَ هَذِهِ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَجْعَلُهُ غُسْلًا وَاحِدًا آخِرًا؟ قَالَ:"هَذَا أَزْكَى وَأَطْيَبُ وَأَطْهَرُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ.
ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک روز اپنی ازواج مطہرات کے پاس گئے، اور ہر ایک کے پاس جاتے وقت غسل فرمایا، وہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیوں نہ آپ سب سے آخر پر ایک ہی غسل فرما لیتے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”یہ زیادہ پاکیزہ، زیادہ اچھا اور زیادہ صاف ہے۔“ حسن، رواہ احمد و ابوداؤد و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 470]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أحمد (8/6 ح 24363) و أبو داود (219) [و ابن ماجه: 590] »
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَنْعُ الوُضُوءِ مِنْ مَاءِ غُسْلِ المَرْأَةِ وَوُضُوئِهَا)
عورت کے غسل اور وضو کے بچے ہوئے پانی سے وضو منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 471
471 - وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ، وَالتِّرْمِذِيُّ وَزَادَ: أَوْ قَالَ: بِسُؤْرِهَا، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ”مرد کو عورت کے غسل سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے سے“ منع فرمایا۔ (اس کی سند حسن ہے، اسے ابوداؤد، ابن ماجہ اور ترمذی نے روایت کیا ہے)۔ ابوداؤد، ابن ماجہ اور ترمذی نے کچھ اضافہ نقل کیا، یا فرمایا: ”اس کے جوٹھے سے۔“ اور فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 471]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (82) و ابن ماجه (373) والترمذي (64) [و صححه ابن حبان (الإحسان: 1257) ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (النَّهْيُ عَنِ البَوْلِ فِي حَمَّامِ الغُسْلِ)
غسل خانےمیں پیشاب کرنا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 472
472 - وَعَنْ حُمَيْدٍ الْحِمْيَرِيِّ، قَالَ: لَقِيتُ رَجُلًا صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ سِنِينَ، كَمَا صَحِبَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَغْتَسِلَ الْمَرْأَةُ بِفَضْلِ الرَّجُلِ، أَوْ يَغْتَسِلَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ الْمَرْأَةِ. زَادَ مُسَدَّدٌ: وَلْيَغْتَرِفَا جَمِيعًا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ وَزَادَ أَحْمَدُ فِي أَوَّلِهِ: فِي أَنْ يَمْتَشِطَ أَحَدُنَا كُلَّ يَوْمٍ، أَوْ يَبُولَ فِي مُغْتَسَلٍ.
حمید الحمیری بیان کرتے ہیں، میں ایک آدمی سے ملا جسے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرح نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے چار سالہ صحبت کا شرف حاصل تھا، اس نے کہا: رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ”عورت کو مرد کے غسل سے بچے ہوئے پانی سے اور مرد کو عورت کے غسل سے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنے“ سے منع فرمایا۔ مسدد نے اضافہ نقل کیا: ”چاہیے کہ دونوں اکٹھے چلو بھریں۔“ ابوداؤد، نسائی۔ صحیح۔ اور امام احمد رحمہ اللہ نے اس کے شروع میں یہ اضافہ نقل کیا: آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ”ہر روز کنگھی کرنے یا غسل خانے میں پیشاب کرنے“ سے ہمیں منع فرمایا۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 472]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أبو داود (81) والنسائي (1/ 130 ح 239) و أحمد (4/ 114) [و صححه الحافظ في بلوغ المرام (6) بتحقيقي] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (النَّهْيُ عَنِ البَوْلِ فِي حَمَّامِ الغُسْلِ رِوَايَةُ ابْنِ مَاجَه)
غسل خانےمیں پیشاب کرنے سے منع کیا گیا ہے، بروایت ابن ماجہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 473
473 - وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ.
ابن ماجہ رحمہ اللہ نے اسے عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اور یہ صحیح ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 473]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه ابن ماجه (374) [وانظر الحديث السابق: 472]
٭ و أعل بما لا يقدح و للحديث شواھد .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (النَّهْيُ عَنِ البَوْلِ فِي المَاءِ الرَّاكِدِ)
ٹھہرے پانی میں پیشاب کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 474
(7) بَابُ أَحْكَامِ الْمِيَاهِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 474 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي لَا يَجْرِي، ثُمَّ يَغْتَسِلُ فِيهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِى رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ:"لَا يَغْتَسِلُ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ وَهُوَ جُنُبٌ". قَالُوا: كَيْفَ يَفْعَلُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: يَتَنَاوَلُهُ تَنَاوُلًا.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص کھڑے پانی میں جو کہ بہتا نہ ہو، پیشاب نہ کرے، پھر وہ اس میں غسل کرے۔“ متفق علیہ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے: ”تم میں سے کوئی شخص کھڑے پانی میں غسلِ جنابت نہ کرے۔“ لوگوں نے پوچھا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ! وہ کیسے کرے؟ فرمایا: وہ وہاں سے پانی لے اور (دوسری جگہ پر غسل کرے)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 474]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (239) و مسلم (96/ 282) [الرواية الثانية في مصابيح السنة (325) و صحيح مسلم (97/ 283) ] »
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (النَّهْيُ عَنِ البَوْلِ فِي المَاءِ الرَّاكِدِ رِوَايَةُ مُسْلِمٍ)
ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنا منع ہے، بروایت مسلم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 475
475 - وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ”کھڑے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا“۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 475]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (94 / 281)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَاءُ وُضُوءِ النَّبِيِّ ﷺ البَاقِي)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 476
476 - وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: ذَهَبَتْ بِي خَالَتِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَ أُخْتِي وَجِعٌ، فَمَسَحَ رَأْسِي، وَدَعَا بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، فَشَرِبْتُ مِنْ وَضُوئِهِ ثُمَّ قُمْتُ خَلْفَ ظَهْرِهِ، فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِ النُّبُوَّةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ مِثْلَ زِرِّ الْحَجَلَةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میری خالہ مجھے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے گئیں اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرا بھانجا مریض ہے، چنانچہ آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور برکت کے لیے دعا کی، پھر آپ نے وضو کیا، تو میں نے آپ کے وضو کا پانی پیا، پھر میں آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا تو میں نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کندھوں کے مابین چکور کے انڈے کی مثل مہرِ نبوت دیکھی۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 476]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (190) و مسلم (111/ 2345)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (حُكْمُ مَاءِ البِرْكَةِ)
جوہڑ کے پانی کا حکم؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 477
الْفَصْلُ الثَّانِي 477 - عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَاءِ يَكُونُ فِي الْفَلَاةِ مِنَ الْأَرْضِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ فَقَالَ: (إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلِ الْخَبَثَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَالنَّسَائِيُّ، وَالدَّارْمِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ. وَفِي أُخْرَى لِأَبِي دَاوُدَ:"فَإِنَّهُ لَا يَنْجُسُ".
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس پانی کے متعلق دریافت کیا گیا جو جنگل میں ہو اور وہاں چوپائے اور درندے پانی پینے کے لیے آتے جاتے ہوں، تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب پانی دو مٹکے (تقریباً ساڑھے چھ من) ہو تو وہ نجاست قبول نہیں کرتا۔“ احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، دارمی، ابن ماجہ۔ اور ابوداؤد کی دوسری روایت میں ہے: ”وہ نجس نہیں ہوتا۔“ صحیح۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 477]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أحمد (27/2 ح 4803) و أبو داود (63) والترمذي (67) والنسائي (1/ 46ح 52) والدارمي (1/ 187 ح 738) و ابن ماجه (517)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں