🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (خُلاَصَةُ حُكْمِ مَاءِ السِّبَاعِ رِوَايَةُ ابْنِ مَاجَه)
درندوں کے پینے کے بعد بچے ہوئے پانی کا خلاصہ، بروایت ابن ماجہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 488
488 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ سُئِلَ عَنِ الْحِيَاضِ الَّتِي بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ تَرِدُهَا السِّبَاعُ وَالْكِلَابُ وَالْحُمُرُ عَنِ الطُّهْرِ مِنْهَا فَقَالَ:"لَهَا مَا حَمَلَتْ فِي بُطُونِهَا، وَلَنَا مَا غَبَرَ طَهُورٌ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ان تالابوں سے طہارت حاصل کرنے کے متعلق مسئلہ دریافت کیا گیا جہاں سے درندے، کتے اور گدھے پانی پیتے ہیں، تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے جو پی لیا وہ ان کا ہے اور جو بچ گیا وہ ہمارے لیے پاک ہے۔“ (ضعیف)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 488]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه ابن ماجه (519)
٭ فيه عبد الرحمٰن بن زيد بن أسلم وھو ضعيف جدًا، روي عن أبيه أحاديث موضوعة .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (النَّهْيُ عَنِ الاغْتِسَالِ بِالمَاءِ المُسَخَّنِ بِالشَّمْسِ)
دھوپ کے گرم پانی سے غسل منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 489
489 - وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَا تَغْتَسِلُوا بِالْمَاءِ الْمُشَمَّسِ، فَإِنَّهُ يُورِثُ الْبَرَصَ. رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”دھوپ سے گرم کیے گئے پانی سے غسل نہ کرو کیونکہ وہ برص (پھل بہری) کا مرض پیدا کرتا ہے۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 489]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الدارقطني (1/ 39 ح 85) [والبيھقي 6/1]
٭ حسان بن أزھر: وثقه ابن حبان وحده فھو مجھول الحال .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيفٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (إِذَا وَلَغَ الكَلْبُ فِي الإِنَاءِ فَمَاذَا؟)
کتا برتن میں منہ ڈال لے تو؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 490
(8) بَابُ تَطْهِيرِ النَّجَاسَاتِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 490 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكِمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِى رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: (طَهُورُ إِنَاءِ أَحَدِكُمْ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ أَنْ يَغْسِلَهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ، أُولَاهُنَّ بِالتُّرَابِ) .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب کتا تمہارے کسی شخص کے برتن میں سے پی لے تو اسے سات مرتبہ دھوؤ۔“ (بخاری، مسلم) متفق علیہ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے: ”جب کتا تمہارے کسی شخص کے برتن میں منہ ڈال دے تو اس برتن کی پاکیزگی اس طرح حاصل ہوگی کہ اسے سات مرتبہ دھویا جائے، ان میں سے پہلی مرتبہ مٹی سے صاف کیا جائے۔“ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 490]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (172) و مسلم (90/ 279) [والرواية الثانية في مصابيح السنة: 339] »
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَوْلُ الأَعْرَابِيِّ فِي المَسْجِدِ)
دیہاتی کا مسجد میں پیشاب کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 491
491 - وَعَنْهُ قَالَ: قَامَ أَعْرَابِيٌّ، فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَتَنَاوَلَهُ النَّاسُ. فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (دَعُوهُ وَهَرِيقُوا عَلَى بَوْلِهِ سَجْلًا مِنْ مَاءٍ - أَوْ ذَنُوبًا مِنْ مَاءٍ - فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ، وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی کھڑا ہوا تو اس نے مسجد میں پیشاب کر دیا، لوگ اسے ڈانٹنے لگے تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اسے کچھ نہ کہو، اور اس کے پیشاب پر ایک ڈول پانی بہا دو، کیونکہ تمہیں تو آسانی کے لیے بھیجا گیا ہے، تنگی پیدا کرنے کے لیے نہیں۔“ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 491]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (220)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (المَسَاجِدُ لِلْعِبَادَةِ)
مساجد عبادت کے لئے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 492
492 - وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَامَ يَبُولُ فِي الْمَسْجِدِ. فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَهْ مَهْ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا تَزْرِمُوهُ، دَعُوهُ". فَتَرَكُوهُ حَتَّى بَالَ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَاهُ، فَقَالَ لَهُ:"إِنَّ هَذِهِ الْمَسَاجِدَ لَا تَصْلُحُ لِشَيْءٍ مِنْ هَذَا الْبَوْلِ وَالْقَذَرِ، إِنَّمَا لِذِكْرِ اللَّهِ، وَالصَّلَاةِ، وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ) . أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: وَأَمَرَ رَجُلًا مِنَ الْقَوْمِ فَجَاءَ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ، فَسَنَّهُ عَلَيْهِ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اس اثنا میں ایک اعرابی آیا اور وہ کھڑا ہو کر مسجد میں پیشاب کرنے لگا، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: رک جا، رک جا، جبکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اس کا پیشاب نہ روکو، اسے کچھ نہ کہو چھوڑ دو۔“ چنانچہ انہوں نے اسے چھوڑ دیا حتیٰ کہ اس نے پیشاب کر لیا، پھر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے بلا کر فرمایا: ”یہ جو مساجد ہیں یہ پیشاب اور گندگی وغیرہ کے لیے موزوں نہیں، یہ تو اللہ کے ذکر، نماز اور قراءتِ قرآن کے لیے ہیں۔“ یا پھر جیسے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا، راوی بیان کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان لوگوں میں سے کسی شخص کو حکم فرمایا تو وہ پانی کا ڈول لے آیا تو آپ نے وہ اس (پیشاب) پر بہا دیا۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 492]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (لم أجده) و مسلم (100 / 285)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (إِذَا أُصِيبَ الثَّوْبُ بِدَمٍ نَجِسٍ فَمَاذَا؟)
کپڑے پر ناپاک خون لگ جائے تو؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 493
493 - وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِحْدَانَا إِذَا أَصَابَ ثَوْبَهَا الدَّمُ مِنَ الْحَيْضَةِ، كَيْفَ تَصَنُّعُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (إِذَا أَصَابَ ثَوْبَ إِحْدَاكُنَّ الدَّمُ مِنَ الْحَيْضَةِ فَلْتَقْرُصْهُ، ثُمَّ لِتَنْضَحْهُ بِمَاءٍ، ثُمَّ لِتُصَلِّي فِيهِ") . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں، ایک عورت نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مسئلہ دریافت کرتے ہوئے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے بتائیں کہ اگر ہم میں سے کسی کے کپڑے کو حیض کا خون لگ جائے تو وہ کیا کرے؟ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کے کپڑے کو حیض کا خون لگ جائے تو وہ اسے ناخنوں سے کھرچ لے پھر اسے پانی کے ساتھ دھوئے اور پھر اس (کپڑے) میں نماز پڑھے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 493]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (307) و مسلم (110 / 291)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (إِذَا أُصِيبَ الثَّوْبُ بِالمَنِيِّ فَمَاذَا؟)
کپڑے پر منی لگ جائے تو؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 494
494 - وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ الْمَنِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ فَقَالَتْ: كُنْتُ أَغْسِلُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ وَأَثَرُ الْغَسْلِ فِي ثَوْبِهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے کپڑے کو لگ جانے والی منی کے بارے میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: میں اسے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کپڑے سے دھو دیا کرتی تھی، پس آپ نماز کے لیے تشریف لے جاتے، جبکہ دھونے کا نشان آپ کے کپڑے میں ہوتا۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 494]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (230) و مسلم (108 / 289)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (حَكُّ المَنِيِّ اليَابِسِ مِنَ الثَّوْبِ)
کپڑے پر سے خشک منی کو کھرچ کر صاف کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 495
495 - وَعَنِ الْأَسْوَدِ وَهَمَّامٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كُنْتُ أَفْرُكُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
اسود اور ہمام رحمہما اللہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کپڑے سے منی رگڑ دیا کرتی تھی۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 495]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (106 / 288)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (حَكُّ المَنِيِّ اليَابِسِ مِنَ الثَّوْبِ ثُمَّ الصَّلَاةُ فِيهِ)
کپڑے پر سے خشک منی کو کھرچ کر صاف کرنا پھر نماز پڑھنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 496
496 - وَبِرِوَايَةِ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ نَحْوَهُ، وَفِيهِ ثُمَّ يُصَلِّي فِيهِ.
علقمہ بن اسود رحمہ اللہ کی سند سے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح مروی ہے، نیز اس روایت میں یہ بھی ہے: پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس (کپڑے) میں نماز پڑھتے۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 496]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (105 / 288)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَوْلُ الطِّفْلِ فِي حِجْرِ النَّبِيِّ ﷺ)
شیرخوار بچے کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں پیشاب کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 497
497 - وَعَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا أَتَتْ بِابْنٍ لَهَا صَغِيرٍ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجْلَسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ، فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ، فَنَضَحَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ اپنے چھوٹے شیر خوار بیٹے کو لے کر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا، اس نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا، تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پانی منگا کر اس پر چھڑک دیا اور اسے دھویا نہیں۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 497]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (223) و مسلم (103 / 287)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں