🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (مِدْرَارُ الِانْتِفَاعِ بِجِلْدِ المَيْتَةِ بَعْدَ الدِّبَاغِ)
مردار کے چمڑے اور پٹھے سے فائدہ اٹھانا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 508
508 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ رَضِيَ اللَّه عَنْهُ، قَالَ: أَتَانَا كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ لَا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ، وَلَا عَصَبٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالْبُخَارِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ.
عبداللہ بن عکیم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خط موصول ہوا کہ: ”مردار کے چمڑے سے فائدہ اٹھاؤ نہ اس کے اعصاب (پٹھوں) سے۔“ حسن، اسے ترمذی، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 508]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه الترمذي (1729 وقال: ھذا حديث حسن ...) و أبو داود (4127، 4128) والنسائي (7/ 175 ح 4255) و ابن ماجه (3613)
٭ و أعل بما لا يقدح .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَطْهِيرُ جِلْدِ المَيْتَةِ بِالمَاءِ وَوَرَقِ السِّدْرِ)
مردار کے چمڑے کو دباغت دینے کے بعد فائدہ اٹھانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 509
509 - وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَنْ يُسْتَمْتَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ. رَوَاهُ مَالِكٌ، وَأَبُو دَاوُدَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم فرمایا کہ ”جب مردار کا چمڑا رنگا جائے تب اس سے فائدہ حاصل کیا جائے۔“ (حسن، رواہ مالک و ابوداؤد)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 509]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه مالک (2/ 498 ح1101) و أبو داود (4124) [و ابن ماجه (3612) و النسائي (176/7 ح4257) ]
٭ أم محمد بن عبد الرحمٰن: وثقھا ابن حبان و ابن عبد البر و يعقوب بن سفيان الفارسي (المعرفة والتاريخ 349/1. 350، 425) فالسند حسن .»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (طَلَبُ النَّبِيِّ ﷺ مَاءً مِنْ قِرْبَةٍ مُدَبَّغَةٍ)
مردار کی کھال کو پانی اور کیکر کے پتے سے پاک کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 510
510 - وَعَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجَالٌ مِنْ قُرَيْشٍ يَجُرُّونَ شَاةً لَهُمْ مِثْلَ الْحِمَارِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا. قَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"يُطَهِّرُهَا الْمَاءُ وَالْقَرَظُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ.
میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ قریش کے کچھ افراد اپنی (مردار) بکری کو گدھے کی مثل گھسیٹتے ہوئے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے گزرے تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں فرمایا: ”تم اس کا چمڑا ہی اتار لیتے۔“ انہوں نے عرض کیا: یہ مردار ہے، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”پانی اور «الْقَرَظُ» (کیکر کے مشابہ درخت اور اس کے پتے) اسے پاک کر دیتے ہیں۔“ اسنادہ حسن، رواہ احمد و ابو داؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 510]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أحمد (6/ 334 ح 27370) و أبو داود (4126) [والنسائي (174/7، 175ح 4253) و حسنه ابن الملقن في تحفة المحتاج (131) ] »
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الفَصْلُ الثَّالِثُ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دباغت سے پاک کی گئی مشک سے پانی مانگنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 511
511 - وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ عَلَى أَهْلِ بَيْتٍ، فَإِذَا قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ، فَسَأَلَ الْمَاءَ. فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا مَيْتَةٌ. فَقَالَ: دِبَاغُهَا طَهُورُهَا". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ.
سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک گھرانے کے پاس تشریف لائے تو وہاں ایک مشکیزہ لٹک رہا تھا، آپ نے پانی طلب کیا، تو انہوں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو مردار ہے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اسے رنگ دینا ہی اس کی طہارت ہے۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 511]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أحمد (3/ 476 ح 16003، 16004) و أبوداود (4125) [والنسائي (173/7، 174 ح 4248) و صححه الحاکم (4/ 141) ووافقه الذهبي .]
٭ الحسن البصري عنعن .»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (المَشْيُ حَافِيًا عَلَى الأَرْضِ لَا يَنْقُضُ الوُضُوءَ)
راستے کی ناپاکی کے باوجود مسجد میں حاضری
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 512
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 512 - عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لَنَا طَرِيقًا إِلَى الْمَسْجِدِ مُنْتِنَةً، فَكَيْفَ نَفْعَلُ إِذَا مُطِرْنَا؟ فَقَالَ:"أَلَيْسَ بَعْدَهَا طَرِيقٌ هِيَ أَطْيَبُ مِنْهَا؟"قُلْتُ: بَلَى. قَالَ:"فَهَذِهِ هَذِهِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالْبُخَارِيُّ.
بنو عبدالأشہل کی ایک خاتون رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مسجد کی طرف ہمارا جو راستہ ہے وہ انتہائی گندہ اور بدبو دار ہے، جب بارش ہو جائے تو پھر ہم کیا کریں؟ وہ بیان کرتی ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کیا اس کے بعد اس سے کوئی زیادہ بہتر اور پاکیزہ راستہ نہیں؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں ہے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اس کی نجاست اس سے دور ہو جاتی ہے۔“ صحیح، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 512]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أبو داود (384) [وابن ماجه: 533] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (دُخُولُ الكِلَابِ المَسْجِدَ لَا يُنَجِّسُهُ)
ننگے پاؤں زمین پر چلنے سے وضو نہیں ٹوٹتا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 513
513 - (وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَتَوَضَّأُ مَنِ الْمُوطَىءِ)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے اور ہم گندگی پر چل کر جانے کی وجہ سے وضو نہیں کیا کرتے تھے۔ (ضعیف) [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 513]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الترمذي (معلقًا بعد ح 143) [وأبو داود (204) و صححه الحاکم (139/1) ]
٭ الأعمش مدلس و عنعن و شک فيمن حدثه فالسند لعلل .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (حُكْمُ بَوْلِ الحَيَوَانَاتِ الحَلَالِ)
مسجد میں کتے داخل ہونے سے مسجد ناپاک نہیں ہوتی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 514
514 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَتِ الْكِلَابُ تُقْبِلُ وَتُدْبِرُ فِي الْمَسْجِدِ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَكُونُوا يَرُشُّونَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں کتے مسجد میں آتے جاتے رہتے تھے اور وہ (صحابہ کرام) اس کی کسی چیز کو دھویا نہیں کرتے تھے۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 514]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (174)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (حُكْمُ بَوْلِ الحَيَوَانَاتِ الحَلَالِ، رِوَايَةُ أَحْمَدَ وَالدَّارَقُطْنِيِّ)
حلال جانوروں کے پیشاب کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 515
515 - وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا بَأْسَ بِبَوْلِ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ".
براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جس جانور کا گوشت کھایا جاتا ہو اس کے پیشاب میں کوئی مضائقہ نہیں۔“ (ضعیف) [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 515]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه الدارقطني (1/ 128)
٭ فيه مصعب بن سوار وھو سوار بن مصعب: ضعيف جدًا متروک .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ المَسْحِ عَلَى الخُفَّيْنِ)
حلال جانوروں کے پیشاب کا حکم، بروایت احمد و دارقطنی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 516
516 - وَفِي رِوَايَةِ جَابِرٍ، قَالَ:"مَا أُكِلَ لَحْمُهُ فَلَا بَأْسَ بِبَوْلِهِ"رَوَاهُ أَحْمَدُ، والدَّارَقُطْنِيُّ.
جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جس کا گوشت کھایا جائے اس کے پیشاب میں کوئی مضائقہ نہیں۔“ «إِسْنَادُهُ مَوْضُوعٌ» ”اس کی سند موضوع ہے۔“ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 516]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده موضوع، رواه أحمد (لم أجده) والدارقطني (1/ 128)
٭ فيه يحيي بن العلاء: متھم و متروک، و عمرو بن حصين: متروک .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده موضوع

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (المَسْحُ عَلَى الخُفَّيْنِ)
مسح کی مدت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 517
(9) بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 517 - عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَأَلْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ: جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ لِلْمُسَافِرِ، وَيَوْمًا وَلَيْلَةً لِلْمُقِيمِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
شریح بن ہانی بیان کرتے ہیں، میں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے موزوں پر مسح کرنے (کی مدت) کے بارے میں مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسافر کے لیے تین دن اور مقیم کے لیے ایک دن مدت مقرر فرمائی ہے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 517]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (85/ 276)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں