🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (بَيَانُ التَّرْغِيبِ فِي الِاسْتِغْفَارِ)
استغفار کی ترغیب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2323
بَابُ الِاسْتِغْفَارِ وَالتَّوْبَةِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 2323 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"وَاللَّهِ إِنِّي لِأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ مَرَّةً". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں دن میں ستر بار سے زیادہ اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔“ رواہ البخاری (۶۳۰۷)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2323]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (6307)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الِاسْتِغْفَارُ مِنَ اللّٰهِ مِائَةَ مَرَّةٍ فِي الْيَوْمِ)
دن میں سو مرتبہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2324
2324 - وَعَنِ الْأَغَرِّ الْمُزَنِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِنَّهُ لَيُغَانُ عَلَى قَلْبِي، وَإِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
اغر مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میرے دل پر پردہ سا آ جاتا ہے اور میں دن میں سو مرتبہ اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2324]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2702/41)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (التَّوْبَةُ إِلَى اللّٰهِ مِائَةَ مَرَّةٍ فِي الْيَوْمِ)
دن میں سو مرتبہ اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2325
2325 - وَعَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"يَا أَيُّهَا النَّاسُ تُوبُوا إِلَى اللَّهِ، فَإِنِّي أَتُوبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
اغر مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”لوگو! اللہ کے حضور توبہ کرو، کیونکہ میں دن میں سو مرتبہ اللہ کے حضور توبہ کرتا ہوں۔“ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2325]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2702/42)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ بَرَكَةِ الِاسْتِغْفَارِ وَسَعَةِ رَحْمَةِ اللّٰهِ)
استغفار کی برکت اور رحمت الٰہی کی وسعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2326
2326 - وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيمَا يَرْوِي عَنِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَنَّهُ قَالَ:"يَا عِبَادِي إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَى نَفْسِي  ، وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا، فَلَا تَظَالَمُوا. يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُهُ ; فَاسْتَهْدُونِي أَهْدِكُمْ. يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ جَائِعٌ إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُهُ ; فَاسْتَطْعِمُونِي أُطْعِمْكُمْ. يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ عَارٍ إِلَّا مَنْ كَسَوْتُهُ ; فَاسْتَكْسُونِي أَكْسُكُمْ. يَا عِبَادِي إِنَّكُمْ تُخْطِئُونَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَأَنَا أَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا، فَاسْتَغْفِرُونِي أَغْفِرْ لَكُمْ. يَا عِبَادِي إِنَّكُمْ لَنْ تَبْلُغُوا ضَرِّي فَتَضُرُّونِي، وَلَنْ تَبْلُغُوا نَفْعِي فَتَنْفَعُونِي. يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ، وَآخِرَكُمْ، وَإِنْسَكُمْ، وَجِنَّكُمْ كَانُوا عَلَى أَتْقَى قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْكُمْ ; مَا زَادَ ذَلِكَ فِي مُلْكِي شَيْئًا يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ، وَإِنْسَكُمْ، وَجِنَّكُمْ، كَانُوا عَلَى أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْكُمْ مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِنْ مُلْكِي شَيْئًا. يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ، وَإِنْسَكُمْ، وَجِنَّكُمْ قَامُوا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، فَسَأَلُونِي فَأَعْطَيْتُ كُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَهُ ; مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِمَّا عِنْدِي إِلَّا كَمَا يَنْقُصُ الْمِخْيَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ. يَا عِبَادِي إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ أُحْصِيهَا عَلَيْكُمْ، ثُمَّ أُوَفِّيكُمْ إِيَّاهَا. فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ. وَمِنْ وَجَدَ غَيْرَ ذَلِكَ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس حدیث میں، جو وہ اللہ تبارک و تعالیٰ سے روایت کرتے ہیں، فرمایا کہ اس (اللہ تعالیٰ) نے فرمایا: ”میرے بندو! میں نے ظلم کرنا اپنے اوپر حرام قرار دیا ہے، اور اسے تمہارے مابین بھی حرام کیا ہے، تم باہم ظلم نہ کرو، میرے بندو! تم سب گمراہ تھے بجز اس کے جسے میں ہدایت عطا کروں، تم مجھ سے ہدایت طلب کرو میں تمہیں ہدایت عطا کروں گا، میرے بندو! تم سب بھوکے تھے بجز اس کے جسے میں کھلاؤں، تم مجھ سے کھانا طلب کرو، میں تمہیں کھلاؤں گا، میرے بندو! تم سب لباس کے بغیر تھے بجز اس کے جسے میں لباس عطا کروں، تم مجھ سے لباس طلب کرو میں تمہیں لباس عطا کروں گا، میرے بندو! تم دن رات خطائیں کرتے ہو، اور سارے گناہ میں معاف کرتا ہوں، تم مجھ سے مغفرت طلب کرو، میں تمہیں بخش دوں گا، میرے بندو! اگر تم مجھے نقصان پہنچانا چاہو تو تم مجھے نقصان نہیں پہنچا سکتے، اور اگر تم مجھے فائدہ پہنچانا چاہو تو تم مجھے فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔ میرے بندو! اگر تم سب جن و انس اس شخص کی طرح ہو جاؤ جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے تو اس سے میری بادشاہت میں کچھ اضافہ نہیں ہوگا، میرے بندو! اگر تم سب جن و انس اس شخص کی طرح ہو جاؤ جو تم میں سب سے زیادہ فاجر و گناہگار ہے تو اس سے میری بادشاہت میں ذرا کمی نہیں ہوگی، میرے بندو! اگر تم سب جن و انس ایک میدان میں کھڑے ہو کر مجھ سے سوال کرو اور میں ہر انسان کی مراد پوری کر دوں تو اس سے میرے خزانوں میں صرف اتنی سی کمی آئے گی جیسے سمندر میں سوئی ڈال کر نکال لینے سے سمندر میں کمی آتی ہے، میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہی ہیں جنہیں میں نے محفوظ و شمار کر رکھا ہے، پھر میں (روز قیامت) انہی کے مطابق پورا پورا بدلہ دوں گا، جو شخص خیر و بھلائی پائے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرے اور جو شخص اس کے علاوہ کوئی اور چیز پائے تو پھر وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2326]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2577/55)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (قِصَّةُ مَغْفِرَةِ قَاتِلِ تِسْعَةٍ وَتِسْعِينَ نَفْسًا)
ننانوے افراد کے قاتل کی بخشش کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2327
2327 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ رَجُلٌ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ إِنْسَانًا  ، ثُمَّ خَرَجَ يَسْأَلُ، فَأَتَى رَاهِبًا، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: أَلَهَ تَوْبَةٌ؟ قَالَ: لَا ; فَقَتَلَهُ، وَجَعَلَ يَسْأَلُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: ائْتِ قَرْيَةَ كَذَا وَكَذَا، فَأَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَنَاءَ بِصَدْرِهِ نَحْوَهَا، فَاخْتَصَمَتْ فِيهِ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلَائِكَةُ الْعَذَابِ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَى هَذِهِ أَنْ تَقَرَّبِي، وَإِلَى هَذِهِ أَنْ تَبَاعَدِي، فَقَالَ: قِيسُوا مَا بَيْنَهُمَا فَوُجِدَ إِلَى هَذِهِ أَقْرَبَ بِشِبْرٍ فَغُفِرَ لَهُ"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جو ننانوے انسان قتل کر چکا تھا، پھر وہ مسئلہ دریافت کرنے کے لیے نکلا تو وہ کسی راہب کے پاس آیا اور اس سے مسئلہ دریافت کیا تو اسے کہا: کیا اس کے لیے توبہ کی کوئی گنجائش ہے؟ اس نے کہا: نہیں، اس نے اس کو بھی قتل کر ڈالا، اور پھر مسئلہ پوچھنے لگا تو کسی آدمی نے اسے بتایا کہ فلاں فلاں بستی چلے جاؤ، (وہ اس طرف چل دیا) لیکن اسے راستے ہی میں موت آگئی تو اس نے اس وقت اپنا سینہ آگے (بستی) کی طرف بڑھایا، رحمت اور عذاب کے فرشتے اس کے متعلق جھگڑنے لگے تو اللہ نے اس (بستی) کو حکم دیا کہ اس کے قریب ہو جا، اور اس (بستی کو جدھر سے آ رہا تھا) کو حکم دیا کہ دور ہو جا، پھر فرمایا: ان دونوں کا درمیانی فاصلہ ناپو، پس (پیمائش کرنے پر) وہ ایک بالشت برابر اس (بستی) کے قریب پایا گیا (جہاں جا رہا تھا) تو اسے بخش دیا گیا۔“ متفق علیہ، رواہ البخاری (3470) و مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2327]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3470) و مسلم (2766/47)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الْعَفْوُ عَمَلٌ مَحْبُوبٌ عِنْدَ اللّٰهِ)
معاف کرنا اللہ کا محبوب عمل ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2328
2328 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ سَلَّمَ -"وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَذَهَبَ اللَّهُ بِكُمْ، وَلَجَاءَ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ  ، فَيَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ فَيَغْفِرُ لَهُمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ) .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تمہیں (اس دنیا سے) لے جائے اور ایک دوسری قوم لے آئے جو گناہ کریں، پھر اللہ سے مغفرت طلب کریں تو وہ انہیں معاف کر دے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2328]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2749/11)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَتَى يُغْلَقُ بَابُ التَّوْبَةِ؟)
توبہ کا دروازہ کب تک کھلا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2329
2329 - وَعَنْ أَبِي مُوسَى - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِنَّ اللَّهَ يَبْسُطُ يَدَهُ بِاللَّيْلِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ النَّهَارِ  ، وَيَبْسُطُ يَدَهُ بِالنَّهَارِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ اللَّيْلِ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا،. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اللہ رات کے وقت اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کے وقت گناہ کرنے والا توبہ کر لے، اور وہ دن کے وقت اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ رات کے وقت گناہ کرنے والا توبہ کر لے (اور یہ سلسلہ جاری رہتا ہے) حتیٰ کہ سورج مغرب کی طرف سے طلوع ہو جائے (یعنی قیامت تک)۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2329]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2759/31)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (اِعْتِرَافُ الذَّنْبِ تَوْبَةٌ فِي أَوَّلِ سُلَّمِهَا)
اعترافِ گناہ توبہ کی اولین سیڑھی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2330
2330 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -:"إِنَّ الْعَبَدَ إِذَا اعْتَرَفَ ثُمَّ تَابَ ; تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب بندہ اعتراف کر لیتا ہے پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ بھی (رحمت کے ساتھ) اس پر رجوع فرماتا ہے۔“ متفق علیہ، رواہ البخاری (4141) و مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2330]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4141) و مسلم (2770/56)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنَ الْمَغْرِبِ، فَلْيَتُبِ الإِنْسَانُ)
اس سے پہلے کہ سورج مغرب سے نکلے توبہ کر لی جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2331
2331 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا  ، تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے (یعنی قیامت قائم ہونے) سے پہلے پہلے توبہ کر لی تو اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2331]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2703/43)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (فَرَحُ الرَّبِّ بِتَوْبَةِ الْعَبْدِ)
انسان کی توبہ سے پروردگار کا خوش ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2332
2332 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ  حِينَ يَتُوبُ إِلَيْهِ مِنْ أَحَدِكُمْ، كَانَتْ رَاحِلَتُهُ بِأَرْضٍ فَلَاةٍ، فَانْفَلَتَتْ مِنْهُ، وَعَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ، فَأَيِسَ مِنْهَا، فَأَتَى شَجَرَةً، فَاضْطَجَعَ فِي ظِلِّهَا، قَدْ أَيِسَ مِنْ رَاحِلَتِهِ، فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذَا هُوَ بِهَا قَائِمَةً عِنْدَهُ، فَأَخَذَ بِخِطَامِهَا، ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ: اللَّهُمَّ أَنْتَ عَبْدِي وَأَنَا رَبُّكَ ; أَخْطَأَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اللہ اپنے بندے کی توبہ سے، جب وہ اس کے حضور توبہ کرتا ہے، اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے، جس کی سواری کسی جنگل بیاباں میں اس سے دور بھاگ گئی ہو، جب کہ اس کے کھانے پینے کا سامان بھی اس پر تھا، وہ سواری سے مایوس ہو کر ایک درخت کے سائے تلے لیٹ گیا کیونکہ وہ اپنی سواری سے تو مایوس ہو چکا تھا، وہ اسی کرب میں تھا کہ اچانک دیکھتا ہے کہ سواری اس کے پاس کھڑی ہے، اس نے اس کی مہار تھامی، پھر شدتِ فرحت سے کہا: «اللَّهُمَّ أَنْتَ عَبْدِي وَأَنَا رَبُّكَ» ”اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں“، اور شدتِ فرحت کی وجہ سے وہ غلط کہہ بیٹھا۔“ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2332]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2747/7)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں