🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (التَّائِبُ مِنَ الذُّنُوبِ)
گناہوں سے توبہ کرنے والا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2363
2363 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ  كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ، وَالْبَيْهَقِيُّ فِي:"شُعَبِ الْإِيمَانِ"وَقَالَ: تَفَرَّدَ بِهِ النَّهْرَانَيُّ، وَهُوَ مَجْهُولٌ. وَفِي"شَرْحِ السُّنَّةِ"رَوَى عَنْهُ مَوْقُوفًا. قَالَ:"النَّدَمُ تَوْبَةٌ، وَالتَّائِبُ كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو۔“ ابن ماجہ، بیہقی فی شعب الایمان، اور فرمایا: اس میں نہرانی کا تفرد ہے، اور وہ مجہول ہے۔ جبکہ شرح السنہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے موقوف روایت ہے، فرمایا: ندامت سے توبہ مراد ہے، اور توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو۔ سندہ ضعیف، رواہ ابن ماجہ و البیہقی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2363]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه ابن ماجه (4250) والبيھقي في شعب الإيمان (7040) و البغوي في شرح السنة (91/5. 92 بعد ح 1307) [و ابن ماجه (4252) و صححه الحاکم (243/4) ووافقه الذهبي بلفظ ’’النوم توبة‘‘ وھو حديث حسن .]
٭ السند منقطع، أبو عبيدة بن عبد الله بن مسعود لم يسمع من أبيه و رواه البغوي في شرح السنة (91/5 ح 1307) مرفوعًا: ’’النوم توبة‘‘ وھو حديث حسن .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (غَلَبَةُ رَحْمَةِ اللَّهِ عَلَى غَضَبِهِ)
اللہ کی رحمت کا اس کے غصے پر غالب آنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2364
[ ص: 1638 ] (5) بَابُ رَحْمَةِ اللَّهِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 2364 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: لَمَّا قَضَى اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ كِتَابًا، فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ عَرْشِهِ: إِنَّ رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي  . وَفِي رِوَايَةٍ:"غَلَبَتْ غَضَبِي". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو اس نے ایک کتاب لکھی جو اس کے پاس عرش پر ہے، کہ میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی۔“ اور ایک دوسری روایت میں ہے: ”میرے غضب پر غالب آ گئی۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2364]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3194) و مسلم (2751/16)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (إِنَّمَا أُنْزِلَ جُزْءٌ وَاحِدٌ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ فِي الدُّنْيَا)
رحمت الٰہی کا صرف ایک حصہ دنیا میں اتارا گیا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2365
2365 - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"أَنَّ لِلَّهِ مِائَةَ رَحْمَةٍ أَنْزَلَ مِنْهَا رَحْمَةً وَاحِدَةً  بَيْنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَالْبَهَائِمِ وَالْهَوَامِّ فَبِهَا يَتَعَاطَفُونَ وَبِهَا يَتَرَاحَمُونَ وَبِهَا تَعْطِفُ الْوَحْشُ عَلَى وَلَدِهَا، وَأَخَّرَ اللَّهُ تِسْعًا وَتِسْعِينَ رَحْمَةً يَرْحَمُ بِهَا عِبَادَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی سو رحمتیں ہیں، ان میں سے ایک رحمت جنوں، انسانوں، حیوانوں اور زہریلے جانوروں میں اتار دی جس کے ذریعے وہ باہم شفقت اور رحم کرتے ہیں، اسی وجہ سے وحشی جانور اپنے بچے پر شفقت کرتا ہے، جبکہ اللہ نے ننانوے رحمتیں اپنے پاس رکھی ہیں جن کے ذریعے وہ روزِ قیامت اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2365]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6000) و مسلم (2752/19)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تِسْعٌ وَتِسْعُونَ رَحْمَةً مَحْفُوظَةٌ لِيَوْمِ القِيَامَةِ)
ننانوے رحمتیں قیامت کے دن کے لئے محفوظ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2366
2366 - وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ عَنْ سَلْمَانَ نَحْوُهُ، وَفِي آخِرِهِ قَالَ: فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أَكْمَلَهَا بِهَذِهِ الرَّحْمَةِ.
صحیح مسلم میں سلمان رضی اللہ عنہ سے مروی روایت اسی طرح ہے، اور اس کے آخر میں ہے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”پس جب روز قیامت ہو گا تو وہ اس رحمت سے ان (ننانوے رحمتوں) کو مکمل (سو) فرمائے گا۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2366]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2753/21)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الأَمَلُ وَالخَوْفُ مَعًا)
اُمید اور خوف ساتھ ساتھ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2367
2367 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْعُقُوبَةِ مَا طَمِعَ بِجَنَّتِهِ أَحَدٌ وَلَوْ يُعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الرَّحْمَةِ  مَا قَنَطَ مِنْ جَنَّتِهِ أَحَدٌ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اگر مومن کو اللہ کے عذاب کا پتہ چل جائے تو کوئی بھی اس کی جنت کی امید نہ رکھے، اور اگر کافر کو اللہ کی رحمت کا پتہ چل جائے تو کوئی اس کی جنت سے ناامید نہ ہو۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2367]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6469) و مسلم (2755/23)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الجَنَّةُ أَوِ النَّارُ قَرِيبَةُ المَنَالِ)
جنت ہو یا جہنم، منزل قریب تر ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2368
2368 - وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"الْجَنَّةُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ، وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِكَ"رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جنت تمہارے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ تم سے قریب ہے اور جہنم بھی اسی طرح۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2368]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (6488)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الخَوْفُ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ وَسَعَةُ رَحْمَتِهِ)
اللہ کے عذاب کا خوف اور اس کی رحمت کی وسعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2369
2369 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"قَالَ رَجُلٌ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ لِأَهْلِهِ، وَفِي رِوَايَةٍ أَسْرَفَ رَجُلٌ عَلَى نَفْسِهِ فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَوْصَى بَنِيهِ إِذَا مَاتَ فَحَرِّقُوهُ  ثُمَّ اذْرُوا نِصْفَهُ فِي الْبَرِّ، وَنِصْفَهُ فِي الْبَحْرِ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ لَيُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا لَا يُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ فَلَمَّا مَاتَ فَعَلُوا مَا أَمَرَهُمْ، فَأَمَرَ اللَّهُ الْبَحْرَ فَجَمَعَ مَا فِيهِ، وَأَمَرَ الْبَرَّ فَجَمَعَ مَا فِيهِ، ثُمَّ قَالَ لَهُ لِمَ فَعَلْتَ هَذَا؟ قَالَ مِنْ خَشْيَتِكَ يَا رَبِّ وَأَنْتَ أَعْلَمُ، فَغَفَرَ لَهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی نے، جس نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی تھی، اپنے اہل خانہ سے کہا، (جبکہ دوسری روایت میں ہے: کسی آدمی نے بہت گناہ کیے تھے) پس جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ جب وہ فوت ہو جائے تو اسے جلا دینا، پھر اس (راکھ) کے نصف حصے کو خشکی میں اور اس کے نصف کو سمندر میں بہا دینا، اللہ کی قسم! اگر اللہ نے اس (مجھ) پر تنگی کی تو وہ اسے ایسا عذاب دے گا کہ اس نے تمام جہان والوں میں سے کسی کو ایسا عذاب نہیں دیا ہو گا، پس جب وہ فوت ہو گیا تو انہوں نے اس کی وصیت کے مطابق عمل کیا، پس اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا تو اس نے اس حصے کو جو اس کے اندر تھا، جمع کر دیا، اور خشکی (زمین) کو حکم دیا تو اس نے بھی اس حصے کو جو اس کے اندر تھا، جمع کر دیا، پھر اس (اللہ تعالیٰ) نے اس (آدمی) سے فرمایا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے عرض کیا: اے میرے رب! تیرے ڈر کی وجہ سے، جبکہ تو جانتا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اسے معاف کر دیا۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2369]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6481) و مسلم (2756/24)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مِثَالٌ جَمِيلٌ لِرَحْمَةِ اللَّهِ)
اللہ تعالیٰ کی رحمت کی ایک خوب صورت مثال
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2370
2370 - وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَبْيٌ ; فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنَ السَّبْيِ قَدْ تَحَلَّبَ ثَدْيُهَا تَسْعَى إِذْ وَجَدَتْ صَبِيًّا فِي السَّبْيِ، أَخَذَتْهُ فَأَلْصَقَتْهُ بِبَطْنِهَا وَأَرْضَعَتْهُ، فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتُرَوْنَ هَذِهِ طَارِحَةً وَلَدَهَا فِي النَّارِ؟ فَقُلْنَا: لَا، وَهِيَ تَقْدِرُ عَلَى أَنْ لَا تَطْرَحَهُ، فَقَالَ: لَلَّهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ هَذِهِ بِوَلَدِهَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے، ان قیدیوں میں ایک عورت تھی جس کی چھاتی سے دودھ نکل رہا تھا، وہ دوڑتی پھرتی تھی، جب وہ قیدیوں میں کوئی بچہ پاتی تو اسے پکڑ کر اپنے پیٹ سے لگاتی اور اسے دودھ پلاتی، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں فرمایا: ”کیا تم گمان کر سکتے ہو یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں پھینک دے گی؟“ ہم نے عرض کیا: نہیں، اگر وہ اسے نہ پھینکنے پر قادر ہو (تو وہ نہیں پھینکے گی)، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اللہ اپنے بندوں پر اس عورت سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنا یہ اپنے بچے پر مہربان ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2370]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5999) و مسلم (2754/22)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (النَّجَاةُ مَبْنِيَّةٌ عَلَى رَحْمَةِ اللَّهِ وَلَكِنْ...)
نجات کا مدار تو رحمت الٰہی پر ہے لیکن۔۔۔۔۔!!
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2371
2371 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"لَنْ يُنْجِيَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ  ، قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَتِهِ فَسَدِّدُوا، وَقَارِبُوا، وَاغْدُوا، وَرُوحُوا بِشَيْءٍ مِنَ الدُّلْجَةِ، وَالْقَصْدَ الْقَصْدَ تَبْلُغُوا"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی شخص کے اعمال اسے نجات نہیں دلائیں گے۔“ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ بھی نہیں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اور میں بھی نہیں، مگر یہ کہ اللہ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے، درستی کے ساتھ عمل کرتے رہو، میانہ روی اختیار کرو، صبح و شام اور رات کے کچھ حصہ میں عبادت کرو، اعتدال کا خیال رکھو، اعتدال کا خیال رکھو، اس طرح تم منزل پا لو گے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2371]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6463) و مسلم (2816/51)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لَا فَائِدَةَ لِأَيِّ عَمَلٍ بِلَا رَحْمَةِ اللَّهِ)
اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بغیر کسی بھی عمل کا فائدہ نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2372
2372 - وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"لَا يُدْخِلُ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ  وَلَا يُجِيرُهُ مِنَ النَّارِ، وَلَا أَنَا إِلَّا بِرَحْمَةِ اللَّهِ"رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کا عمل اسے جنت میں داخل کرا سکتا ہے نہ اسے جہنم سے بچا سکتا ہے اور میں بھی اللہ کی رحمت کے ساتھ (جنت میں جاؤں گا)۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2372]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2817/77)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں