🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (كَلِمَةُ «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ» كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ)
لا حول ولا قوۃ جنت کے خزانوں سے خزانہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2303
2303 - وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَجَعَلَ النَّاسُ يَجْهَرُونَ بِالتَّكْبِيرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"يَا أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ  ، إِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا، إِنَّكُمْ تَدْعُونَ سَمِيعًا بَصِيرًا، وَهُوَ مَعَكُمْ، وَالَّذِي تَدْعُونَهُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ عُنُقِ رَاحِلَتِهِ"قَالَ أَبُو مُوسَى: وَأَنَا خَلْفَهُ أَقُولُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ فِي نَفْسِي، فَقَالَ:"يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟، فَقُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:"لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) .
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے کہ لوگ بلند آواز سے «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» پڑھنے لگے، جس پر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”لوگو! اپنے آپ پر آسانی کرو، کیونکہ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے بلکہ تم تو سننے دیکھنے والی ذات کو پکار رہے ہو اور وہ تمہارے ساتھ ہے، اور جس ذات کو تم پکارتے ہو وہ تو تمہاری سواری کی گردن سے بھی تمہارے زیادہ قریب ہے۔“ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں آپ کے پیچھے اپنے دل میں «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ» پڑھ رہا تھا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں جنت کے خزانے کے متعلق بتاؤں؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! ضرور بتائیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ” «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ» ”گناہ سے بچنا اور نیکی کرنا محض اللہ کی توفیق سے ہے۔“ متفق علیہ، رواہ البخاری (6384) و مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2303]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6384) و مسلم (2704/44)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مِنْ قَوْلِ «سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ» يُغْرَسُ نَخْلَةٌ فِي الْجَنَّةِ)
سبحان اللہ العظیم وبحمدہ کہنے سے جنت میں کھجور کے درخت کا لگنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2304
الْفَصْلُ الثَّانِي 2304 - عَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"مَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ  غُرِسَتْ لَهُ نَخْلَةٌ فِي الْجَنَّةِ" (رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ) .
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو شخص «سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ» پڑھتا ہے تو اس کے لیے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگا دیا جاتا ہے۔“ سندہ ضعیف، رواہ الترمذی (3464)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2304]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الترمذي (3464 و قال: حسن صحيح غريب)
٭ أبو الزبير مدلس و عنعن .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (اذْكُرُوا اللّٰهَ بِتَنْزِيهِهِ)
اللہ تعالیٰ کو اس کی پاکی کے ساتھ یاد کرو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2305
2305 - وَعَنِ الزُّبَيْرِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"مَا مِنْ صَبَاحٍ يُصْبِحُ الْعِبَادُ فِيهِ إِلَّا مُنَادٍ يُنَادِي: سَبِّحُوا الْمَلِكَ الْقُدُّوسَ" (رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ) .
زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ہر صبح ایک اعلان کرنے والا (فرشتہ) اعلان کرتا ہے: «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» ”منزہ و مقدس بادشاہ کی تسبیح بیان کرو۔““ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی (3569)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2305]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3569 وقال: غريب)
٭ فيه موسي بن عبيدة و محمد بن ثابت: ضعيفان .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ أَفْضَلِ الذِّكْرِ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» )
سب سے افضل ذکر لا الہ الا للہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2306
2306 - وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"أَفْضَلُ الذِّكْرِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ  ، وَأَفْضَلُ الدُّعَاءِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ"رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”سب سے افضل ذکر «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ اور افضل دعا «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ ہے۔“ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی (3383) و ابن ماجہ (3800) و صححہ ابن حبان (326، الاحسان: 843) و الحاکم (1 / 498)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2306]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (3383 وقال: حسن غريب) و ابن ماجه (3800) [و صححه ابن حبان (326، الإحسان: 843) و الحاکم (498/1) ووافقه الذهبي] »
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (احْمَدُوا اللّٰهَ عَلَى نِعَمِهِ)
اللہ تعالیٰ کا شکر اس کی حمد کے ساتھ کرو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2307
2307 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"الْحَمْدُ رَأْسُ الشُّكْرِ  ، مَا شَكَرَ اللَّهَ عَبْدٌ لَا يَحْمَدُهُ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ” «اَلْحَمْدُ» ”اللہ کی تعریف کرنا“ شکر کی چوٹی ہے، جو بندہ اللہ کی حمد بیان نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ البیہقی فی شعب الایمان (4395)، المصنف عبدالرزاق (19574)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2307]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البيھقي في شعب الإيمان (4395 من طريق عبد الرزاق و ھذا في مصنفه [19574] )
٭ فيه قتادة أن عبد الله بن عمرو قال إلخ و ھذا منقطع .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (اشْكُرُوا اللّٰهَ فِي كُلِّ حَالٍ)
ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر کرو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2308
2308 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"أَوَّلُ مَنْ يُدْعَى إِلَى الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يَحْمَدُونَ اللَّهَ  فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ" (رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ) .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”روزِ قیامت سب سے پہلے ان لوگوں کو جنت کی طرف بلایا جائے گا جو خوش حالی اور تنگ حالی میں اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں۔“ امام بیہقی رحمہ اللہ نے دونوں روایتیں شعب الایمان میں بیان کی ہیں۔ ضعیف، رواہ البیہقی فی شعب الایمان (۴۳۷۳، ۴۴۸۳، ۴۴۸۴) و البغوی فی شرح السنۃ (۵/ ۵۰ ح ۱۲۷۰) و الحاکم (۱ / ۵۰۲ ح ۱۸۵۱)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2308]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «ضعيف، رواه البيھقي في شعب الإيمان (4373، 4483. 4484) و البغوي في شرح السنة (50/5 ح 1270، و اللفظ له)
٭ فيه نصر بن حماد ضعيف جدًا و للحديث طرق عند الحاکم (502/1ح 1851) وغيره و کلھا ضعيفة .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (ثَوَابُ قِرَاءَةِ كَلِمَةِ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» )
کلمہ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہ پڑھنے کا ثواب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2309
2309 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"قَالَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ: يَا رَبِّ عَلِّمْنِي شَيْئًا أَذْكُرُكَ بِهِ، وَأَدْعُوكَ بِهِ. فَقَالَ: يَا مُوسَى قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. فَقَالَ، يَا رَبِّ كُلُّ عِبَادِكَ يَقُولُ هَذَا، إِنَّمَا أُرِيدُ شَيْئًا تَخُصُّنِي بِهِ، قَالَ: يَا مُوسَى لَوْ أَنَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ وَعَامِرَهُنَّ غَيْرِي، وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ وُضِعْنَ فِي كِفَّةٍ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فِي كِفَّةٍ لَمَالَتْ بِهِنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ". رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: پروردگار! مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دے جس کے ساتھ میں تیرا ذکر کیا کروں اور میں اس کے ساتھ تجھ سے دعا کیا کروں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے موسیٰ! «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ پڑھا کرو، انہوں نے عرض کیا: پروردگار! تیرے سارے بندے اسے پڑھتے ہیں، میں تو ایسی چیز چاہتا ہوں جو میرے ساتھ خاص ہو، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے موسیٰ! اگر ساتوں آسمان اور میرے سوا ان میں بسنے والے اور ساتوں زمینیں ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تو «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ» ان سب پر بھاری ہو گا۔“ یہ حدیث حسن ہے، اسے شرح السنہ (5 / 54، 55 ح 1273)، ابن حبان (2324) اور الحاکم (1 / 528، 1362) نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2309]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه البغوي في شرح السنة (54/5. 55 ح 1273) [و ابن حبان (2324) والحاکم (528/1، 1362) ]
٭ ابن لھيعة تابعه عمرو بن الحارث عند ابن حبان والحاکم و سندھما حسن لذاته فالحديث حسن .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ بَعْضِ الْكَلِمَاتِ ذَاتِ الْفَضِيلَةِ)
فضیلت والے چند کلمات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2310
2310 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، صَدَّقَهُ رَبُّهُ  ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا وَأَنَا أَكْبَرُ، وَإِذَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، يَقُولُ اللَّهُ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا وَحْدِي، لَا شَرِيكَ لِي، وَإِذَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا الْمَلِكُ وَلَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا، لِيَ الْمُلْكُ وَلِيَ الْحَمْدُ، وَإِذَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِي"وَكَانَ يَقُولُ:"مَنْ قَالَهَا فِي مَرَضِهِ ثُمَّ مَاتَ لَمْ تَطْعَمْهُ النَّارُ" (رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ) .
ابو سعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو شخص «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» کہتا ہے تو اس کا رب اس کی تصدیق فرماتا ہے اور فرماتا ہے: میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں سب سے بڑا ہوں۔ اور جب (بندہ) کہتا ہے: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، تو اللہ فرماتا ہے: میرے اکیلے کے سوا کوئی معبود نہیں، میرا کوئی شریک نہیں، اور جب وہ کہتا ہے: اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے ہر قسم کی حمد و تعریف ہے، تو اللہ فرماتا ہے: میرے سوا کوئی معبود نہیں، بادشاہت اور حمد میرے ہی لیے ہے اور جب وہ کہتا ہے: اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، گناہ سے بچنا اور نیکی کرنا محض اللہ کی توفیق سے ہے، تو اللہ فرماتا ہے: میرے سوا کوئی معبود نہیں، گناہ سے بچنا اور نیکی کرنا محض میری ہی توفیق سے ہے۔“ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا کرتے تھے: ”جو شخص اپنی بیماری میں یہ کلمات پڑھے اور پھر وہ فوت ہو جائے تو اسے آگ نہیں چھوئے گی۔“ سندہ ضعیف، رواہ الترمذی (3430) و ابن ماجہ (2794) و النسائی فی الکبری (986)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2310]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الترمذي (3430) و ابن ماجه (2794)
٭ أبو إسحاق عنعن و رواه النسائي في الکبري (986) من حديث شعبة عن أبي إسحاق به مختصرًا موقوفًا و سنده حسن وله حکم الرفع .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَسْبِيحَةٌ يَسِيرَةٌ)
ایک آسان تسبیح
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2311
2311 - وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى امْرَأَةٍ وَبَيْنَ يَدَيْهَا نَوًى أَوْ حَصًى، تُسَبِّحُ بِهِ فَقَالَ:"أَلَا أُخْبِرُكَ بِمَا هُوَ أَيْسَرُ عَلَيْكُمْ مِنْ هَذَا أَوْ أَفْضَلُ؟ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي السَّمَاءِ  ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي الْأَرْضِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا بَيْنَ ذَلِكَ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا هُوَ خَالِقٌ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ مِثْلَ ذَلِكَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِثْلَ ذَلِكَ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِثْلَ ذَلِكَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ مِثْلَ ذَلِكَ" (رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ) .
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک عورت کے پاس آئے، اس کے سامنے کھجور کی گٹھلیاں یا کنکریاں پڑی ہوئی تھیں اور وہ ان پر تسبیح پڑھ رہی تھی، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو تمہارے لیے اس سے آسان تر یا افضل ہے؟“ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ کلمات کہے: «سُبْحَانَ اللّٰهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي السَّمَاءِ، وَسُبْحَانَ اللّٰهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي الْأَرْضِ، وَسُبْحَانَ اللّٰهِ عَدَدَ مَا بَيْنَ ذٰلِكَ، وَسُبْحَانَ اللّٰهِ عَدَدَ مَا هُوَ خَالِقٌ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ مِثْلَ ذٰلِكَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ مِثْلَ ذٰلِكَ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مِثْلَ ذٰلِكَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ مِثْلَ ذٰلِكَ» ”اللہ کے لیے تسبیح ہے ان چیزوں کی گنتی کے برابر جو اس نے آسمان میں تخلیق فرمائیں، اللہ کے لیے تسبیح ہے ان چیزوں کی گنتی کے برابر جو اس نے زمین میں پیدا فرمائیں، اس کے لیے تسبیح ہے ان چیزوں کی گنتی کے برابر جو ان کے درمیان ہیں، اور اللہ کے لیے تسبیح ہے ان چیزوں کی گنتی کے برابر جو وہ پیدا کرنے والا ہے، اور اللہ کے لیے بڑائی ہے اسی مثل، اللہ کے لیے حمد ہے اسی مثل، «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» اسی مثل اور «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ» اسی مثل۔“ ترمذی، ابوداؤد۔ اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔ [سنن الترمذی: 3568، وسنن ابی داؤد: 1500، اسنادہ حسن] [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2311]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (3568) و أبو داود (1500) و أخطأ من ضعفه .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَسْبِيحَةٌ تُقْرَأُ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ وَآخِرِهِ)
دن کے شروع اور آخر میں پڑھنے والی تسبیح
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2312
2312 - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"مَنْ سَبَّحَ اللَّهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ ; كَانَ كَمَنْ حَجَّ مِائَةَ حَجَّةٍ  ، وَمَنْ حَمِدَ اللَّهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ ; كَانَ كَمَنْ حَمَلَ عَلَى مِائَةِ فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَمَنْ هَلَّلَ اللَّهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ ; كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ مِائَةَ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، وَمَنْ كَبَّرَ اللَّهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ ; لَمْ يَأْتِ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ أَحَدٌ بِأَكْثَرِ مِمَّا أَتَى بِهِ إِلَّا مَنْ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، أَوْ زَادَ عَلَى مَا قَالَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صبح و شام سو سو مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہتا ہے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے سو حج کیے ہوں، جو شخص سو مرتبہ صبح اور سو مرتبہ شام «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے“ کہتا ہے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے اللہ کی راہ میں سو گھوڑے فراہم کیے ہوں، جو شخص صبح و شام سو سو مرتبہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ پڑھتا ہے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے سو غلام آزاد کیے ہوں اور جو شخص صبح و شام سو سو مرتبہ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتا ہے تو روزِ قیامت اس سے بڑھ کر کوئی افضل عمل لے کر حاضر نہیں ہو گا مگر وہ شخص جس نے اس کے مثل یا اس سے زیادہ (یہ وظیفہ) کیا ہو گا۔“ ترمذی، اور فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی (3471)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2312]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3471)
٭ ضحاک بن حمزة:ضعيف، وله متن آخر عند النسائي في عمل اليوم و الليلة (821) وسنده حسن و ليس فيه:’’مائة حجة‘‘»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں