🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (سُؤَالُ اللّٰهِ بِاسْمِهِ)
اللہ تعالیٰ سے اس کے نام کے ساتھ سوال کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2293
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 2293 - عَنْ بُرَيْدَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَسْجِدَ عِشَاءً، فَإِذَا رَجُلٌ يَقْرَأُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَقُولُ: هَذَا مُرَاءٍ؟ قَالَ:"بَلْ مُؤْمِنٌ مُنِيبٌ"قَالَ: وَأَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ يَقْرَأُ، وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَمِعُ لِقِرَاءَتِهِ، ثُمَّ جَلَسَ أَبُو مُوسَى يَدْعُو، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَحَدًا، صَمَدًا  ، لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى، وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ"قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُخْبِرُهُ بِمَا سَمِعْتُ مِنْكَ؟ قَالَ"نَعَمْ"فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِي: أَنْتَ الْيَوْمَ لِي أَخٌ صَدِيقٌ، حَدَّثْتَنِي بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَوَاهُ رَزِينٌ.
بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں عشا کے وقت رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا تو ایک آدمی بلند آواز سے قراءت کر رہا تھا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم! کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ (آدمی) ریا کار ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ وہ تو (غفلت سے ذکر کی طرف) رجوع کرنے والا مومن شخص ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں، اس وقت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بلند آواز سے قراءت کر رہے تھے تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غور سے ان کی قراءت سننے لگے۔ پھر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیٹھ کر دعا کرنے لگے تو انہوں نے کہا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي ﴿لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ * وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 3 - 4] » ”اے اللہ! میں تجھے گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ تو اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، یکتا بے نیاز ہے، جس نے کسی کو جنم دیا نہ اسے جنم دیا گیا، اور نہ ہی کوئی اس کا ہمسر ہے۔“ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اس نے اللہ کے اس اسم اعظم کے ساتھ سوال کیا ہے کہ جب اس سے اس (اسم) کے ساتھ سوال کیا جاتا ہے تو وہ عطا کرتا ہے، اور جب اس کے ساتھ اس سے دعا کی جاتی ہے تو وہ قبول فرماتا ہے۔“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے آپ سے جو سنا ہے اس کے متعلق اسے بتا دوں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات اسے بتا دی تو انہوں نے (ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) مجھے فرمایا: آج سے تم میرے بھائی اور دوست ہو، تم نے مجھے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات بتائی۔ صحیح، رواہ رزین (لم اجدہ) و احمد (5/349 ح 23340) و ابوداؤد (1493، 1494) و ابن ماجہ (3857) و الترمذی (3475)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2293]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه رزين (لم أجده) [و أحمد (349/5 ح 23340، 359/5 ح 23421) و أبو داود (1493، 1494) و ابن ماجه (3857) و الترمذي (3475 وسنده صحيح) ] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (ثَوَابُ قِرَاءَةِ التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ وَالتَّهْلِيلِ وَالتَّكْبِيرِ)
تسبیح اور تحمید اور تہلیل اور تکبیر کے پڑھنے کا ثواب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2294
(3) ثَوَابُ التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ وَالتَّهْلِيلِ وَالتَّكْبِيرِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 2294 - عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَفْضَلُ الْكَلَامِ أَرْبَعٌ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ"وَفِي رِوَايَةٍ:"أَحَبُّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ أَرْبَعٌ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ" (رَوَاهُ مُسْلِمٌ) .
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”چار کلمے «سُبْحَانَ اللّٰهِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ”سبحان اللہ، الحمدللہ، لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر“، بہترین کلام ہیں۔“ رواہ مسلم۔ اور ایک دوسری روایت میں: ”اللہ کو چار کلمے انتہائی پسند ہیں: «سُبْحَانَ اللّٰهِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ”سبحان اللہ، الحمدللہ، لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر“، ان میں سے جسے بھی پہلے پڑھو وہ تمہارے لیے مضر نہیں۔“ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2294]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2137/12)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ فَضِيلَةِ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» وَ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» وَ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» )
سبحان اللہ، الحمد للہ اور لا الٰہ الا اللہ کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2295
2295 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"لَأَنْ أَقُولَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ  أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ (رَوَاهُ مُسْلِمٌ) .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ” «سُبْحَانَ اللّٰهِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ پاک ہے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھ لینا مجھے پوری کائنات (کے مل جانے) سے زیادہ پسند ہے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2295]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2695/32)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (ثَوَابُ قِرَاءَةِ «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ» مِائَةَ مَرَّةٍ فِي الْيَوْمِ)
دن میں سو مرتبہ «سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ» پڑھنے کا ثواب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2296
2296 - وَعَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ  حُطَّتْ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو شخص دن میں سو مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ» ”پاک ہے اللہ اپنی تعریف کے ساتھ“ پڑھتا ہے تو اس کے گناہ، خواہ سمندر کی جھاگ جتنے ہوں، معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ متفق علیہ، رواہ البخاری (6405) و مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2296]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6405) و مسلم (2691/28)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (ثَوَابُ قِرَاءَةِ «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ» مِائَةَ مَرَّةٍ صَبَاحًا وَمَسَاءً)
صبح و شام سو مرتبہ «سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ» پڑھنے کا ثواب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2297
2297 - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ  لَمْ يَأْتِ أَحَدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ إِلَّا أَحَدٌ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ أَوْ زَادَ عَلَيْهِ" (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صبح و شام سو مرتبہ «سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ» ”اللہ اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے“ پڑھتا ہے تو قیامت کے دن اس سے کوئی شخص بہتر نہیں ہو گا بجز اس کے جس نے اس جتنا یا اس سے زیادہ مرتبہ پڑھا ہو گا۔“ متفق علیہ، رواہ البخاری (لم اجدہ) و مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2297]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (لم أجده) و مسلم (2692/29)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ الْكَلِمَتَيْنِ «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيمِ» )
دو کلمے «سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ» کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2298
2298 - وَعَنْهُ: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ  ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ، حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ" (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”دو کلمے «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيمِ» ”پاک ہے اللہ اپنی تعریف کے ساتھ، پاک ہے اللہ عظمت والا“ زبان پر ہلکے، میزان میں بھاری اور رحمن کو محبوب ہیں۔“ متفق علیہ، رواہ البخاری (6682) و مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2298]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6682) و مسلم (2694/31)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مِنْ قَوْلِ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» مِائَةَ مَرَّةٍ تُكْتَبُ أَلْفُ حَسَنَةٍ)
سو بار سبحان اللہ کہنے سے ہزار نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2299
2299 - وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:"أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكْسِبَ كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ حَسَنَةٍ؟ فَسَأَلَهُ سَائِلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ: كَيْفَ يَكْسِبُ أَحَدُنَا أَلْفَ حَسَنَةٍ؟ قَالَ: يُسَبِّحُ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ، فَيُكْتَبُ لَهُ أَلْفُ حَسَنَةٍ  ، أَوْ يُحَطُّ عَنْهُ أَلْفُ خَطِيئَةٍ" (رَوَاهُ مُسْلِمٌ) .
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر تھے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی روزانہ ہزار نیکی کمانے سے عاجز ہے؟“ تو آپ کی مجلس میں شریک کسی نے عرض کیا، ہم میں سے کوئی ہزار نیکی کیسے کما سکتا ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”سو مرتبہ «سُبْحَانَ اللهِ» کہنے سے اس کے لیے ہزار نیکی لکھی جاتی ہے یا اس کے ہزار گناہ مٹا دیے جاتے ہیں۔“ مسلم۔ اور انہی کی کتاب میں موسیٰ الجہنی کی تمام روایات میں «أَوْ يُحَطُّ» ”یا مٹا دیے جاتے ہیں“ کے الفاظ ہیں، ابوبکر برقانی نے فرمایا: اور اس حدیث کو شعبہ، ابوعوانہ اور یحییٰ بن سعید قطان نے موسیٰ سے روایت کیا تو انہوں نے «وَيُحَطُّ» کے الفاظ روایت کیے ہیں یعنی الف کے بغیر ”اور مٹا دیے جاتے ہیں۔“ کتاب الحمیدی میں بھی اسی طرح ہے۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2299]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2698/37)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (كَلِمَةُ «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ» الَّتِي اخْتَارَهَا اللّٰهُ تَعَالَى)
اللہ تعالیٰ کا چُنا ہوا کلمہ «سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ»
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2300
2300 - وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَيُّ الْكَلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:"مَا اصْطَفَى اللَّهُ لِمَلَائِكَتِهِ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ" (رَوَاهُ مُسْلِمٌ) .
ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا گیا: کون سا کلام افضل ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ نے اپنے فرشتوں کے لیے منتخب کیا «سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ» ”اللہ اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے“۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2300]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2731/84)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ بَعْضِ أَفْضَلِ الْكَلِمَاتِ وَفَضَائِلِهَا)
چند بہترین کلمے اور ان کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2301
2301 - وَعَنْ جُوَيْرِيَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّ النَّبِيَّ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا بُكْرَةً حِينَ صَلَّى الصُّبْحَ، وَهِيَ فِي مَسْجِدِهَا، ثُمَّ رَجَعَ بَعْدَ أَنْ أَضْحَى وَهِيَ جَالِسَةٌ، قَالَ: مَا زِلْتِ عَلَى الْحَالِ الَّتِي فَارَقْتُكِ عَلَيْهَا؟"قَالَتْ: نَعَمْ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"لَقَدْ قُلْتُ بَعْدَكِ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، لَوْ وُزِنَتْ بِمَا قُلْتِ مُنْذُ الْيَوْمِ لَوَزَنَتْهُنَّ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ، وَرِضَاءَ نَفْسِهِ، وَزِنَةَ عَرْشِهِ، وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ" (رَوَاهُ مُسْلِمٌ) .
جویریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِ فجر پڑھنے کے لیے صبح کے وقت ان کے پاس سے تشریف لے گئے جبکہ وہ اپنی جائے نماز پر تھیں، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چاشت کے وقت ان کے پاس تشریف لائے تو وہ وہیں بیٹھی ہوئی تھیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کیا آپ اسی حالت میں رہیں جس پر میں نے آپ کو چھوڑا تھا؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میں نے آپ کے (پاس سے جانے کے) بعد چار کلمات تین مرتبہ پڑھے ہیں، اگر ان کا آپ کے دن بھر کے کہے ہوئے کلمات کے ساتھ وزن کیا جائے تو وہ ان پر بھاری ہوں گے: «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ، عَدَدَ خَلْقِهِ، وَرِضَا نَفْسِهِ، وَزِنَةَ عَرْشِهِ، وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ» ”پاک ہے اللہ اپنی حمد کے ساتھ، اپنی مخلوق کی تعداد، اپنے نفس کی رضا، اپنے عرش کے وزن اور اپنے کلمات کی روشنائی کے برابر۔““ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2301]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2726/79)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (دُعَاءٌ عَظِيمُ الشَّأْنِ ذُكِرَ فَضْلُهُ الْكَثِيرُ)
عظیم الشان دعا کہ جس کی فضیلت بہت زیادہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2302
2302 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ  ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ كَانَتْ لَهُ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ، وَكُتِبَتْ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ، وَمُحِيَتْ عَنْهُ مِائَةُ سَيِّئَةٍ، وَكَانَتْ لَهُ حِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ يَوْمَهُ ذَلِكَ حَتَّى يُمْسِيَ وَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ إِلَّا رَجُلٌ عَمِلَ أَكْثَرَ مِنْهُ". (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو شخص دن میں سو مرتبہ یہ دعا: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اسی کے لیے ہر قسم کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے“ پڑھتا ہے، تو اسے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملتا ہے، اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں، اس کے سو گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، وہ پورا دن شام ہونے تک شیطان سے محفوظ رہے گا اور اس سے بہتر کوئی شخص نہیں آئے گا مگر وہ جس نے اس سے زیادہ مرتبہ پڑھا ہو گا۔“ متفق علیہ، [رواہ البخاری: 6403، ومسلم: 2691] [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2302]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6403) و مسلم (2691/28)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں