مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (مَتَى لَا تُقْبَلُ التَّوْبَةُ)
توبہ کب تک قبول نہیں ہوتی ہے
حدیث نمبر: 2343
2343 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَابْنُ مَاجَهْ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک بندے کی روح حلقوم تک نہ پہنچے، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔“ حسن، رواہ الترمذی (3537) و ابن ماجہ (4253) و صححہ ابن حبان (2449) و الحاکم (4 / 257)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2343]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه الترمذي (3537 وقال: حسن غريب) و ابن ماجه (4253) [و صححه ابن حبان (2449) والحاکم (257/4) ووافقه الذهبي] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (وَعْدُ اللَّهِ بِمَغْفِرَةِ عَبْدِهِ)
اللہ تعالیٰ کا بندے کو بخشنے کا وعدہ
حدیث نمبر: 2344
2344 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِنَّ الشَّيْطَانَ قَالَ: وَعِزَّتِكَ يَا رَبِّ لَا أَبْرَحُ أُغْوِي عِبَادَكَ مَا دَامَتْ أَرْوَاحُهُمْ فِي أَجْسَادِهِمْ، فَقَالَ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ: وَعِزَّتِي وَجَلَالِي وَارْتِفَاعِ مَكَانِي لَا أَزَالُ أَغْفِرُ لَهُمْ مَا اسْتَغْفَرُونِي". رَوَاهُ أَحْمَدُ.
ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان نے کہا: رب! تیری عزت کی قسم! جب تک تیرے بندوں کی روحیں ان کے جسم میں ہیں میں انہیں گمراہ کرتا رہوں گا، تو رب عز وجل نے فرمایا: مجھے اپنی عزت و جلال اور اپنی بلند مکانی کی قسم! جب تک وہ مجھ سے مغفرت طلب کرتے رہیں گے، میں انہیں معاف کرتا رہوں گا۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ احمد (3 / 29 ح 11257، 41 ح 11387) و فی شرح السنہ (5 / 76، 77 ح 1293) و الحاکم (4 / 261 ح 7672)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2344]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (29/3 ح 11257، 41ح 11387) [والبغوي في شرح السنة 76/5. 77ح 1293) واللفظ له]
٭ ابن لھيعة مدلس و لم يصرح بالسماع فيما حدث قبل اختلاطه فالسند ضعيف و للحديث شاھد حسن عند الحاکم (261/4ح7672) دون قوله: ’’و ارتفاع مقامي‘‘ و سنده حسن .و أخرج أحمد (19/3، 41) من حديث عمرو بن أبي عمرو عن أبي سعيد به وھو منقطع فيما أري .»
٭ ابن لھيعة مدلس و لم يصرح بالسماع فيما حدث قبل اختلاطه فالسند ضعيف و للحديث شاھد حسن عند الحاکم (261/4ح7672) دون قوله: ’’و ارتفاع مقامي‘‘ و سنده حسن .و أخرج أحمد (19/3، 41) من حديث عمرو بن أبي عمرو عن أبي سعيد به وھو منقطع فيما أري .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (بَقَاءُ بَابِ التَّوْبَةِ مَفْتُوحًا حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنَ الْمَغْرِبِ)
توبہ کا دروازہ سورج کے مغرب سے نکلنے تک کھلا رہے گا
حدیث نمبر: 2345
2345 - وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى جَعَلَ بِالْمَغْرِبِ بَابًا، عَرْضُهُ مَسِيرَةُ سَبْعِينَ عَامًا لِلتَّوْبَةِ، لَا يُغْلَقُ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ مِنْ قِبَلِهِ، وَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ.
صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مغرب کی طرف توبہ کے لیے ایک دروازہ بنایا جس کا عرض ستر سال کی مسافت کے برابر ہے، اور جب تک سورج اس کی طرف سے طلوع نہیں ہوتا وہ (باب التوبہ) کھلا ہوا ہے، اور یہی وہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ﴾ [سورة الأنعام: 158] ”جس روز تیرے رب کی بعض نشانیاں آ جائیں گی تو کسی نفس کا اس وقت ایمان لانا فائدہ مند نہیں ہو گا جو پہلے ایمان نہیں لایا تھا۔““ حسن، اسے ترمذی (3536) اور ابن ماجہ (4070) نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2345]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه الترمذي (3536 وقال: حسن صحيح) و ابن ماجه (4070)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (لَا يُمْنَعُ التَّوْبَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنَ الْمَغْرِبِ)
سورج کے مغرب سے نکلنے تک توبہ روکی نہیں جائے گی
حدیث نمبر: 2346
2346 - وَعَنْ مُعَاوِيَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ حَتَّى تَنْقَطِعَ التَّوْبَةُ، وَلَا تَنْقَطِعُ التَّوْبَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالدَّارِمِيُّ.
معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہجرت منقطع نہیں ہو گی حتیٰ کہ توبہ منقطع ہو جائے اور توبہ منقطع نہیں ہو گی حتیٰ کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جائے۔“ صحیح، رواہ احمد (4 / 99 ح 17030) و ابوداؤد (3479) و الدارمی (2 / 240 ح 2516)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2346]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أحمد (99/4 ح 17030) و أبو داود (3479) والدارمي (240/2 ح 2516)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (القَوْلُ لِشَخْصٍ: إِنَّ اللَّهَ لَنْ يَغْفِرَ لَكَ، وَوَعِيدُ هَذَا الكَلَامِ)
کسی کو کہنا کہ اللہ تجھے معاف نہیں کرے گا اس کلمہ کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 2347
2347 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِنَّ رَجُلَيْنِ كَانَا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ مُتَحَابَّيْنِ، أَحَدُهُمَا مُجْتَهِدٌ فِي الْعِبَادَةِ، وَالْآخَرُ يَقُولُ: مُذْنِبٌ ، فَجَعَلَ يَقُولُ: أَقْصِرْ عَمَّا أَنْتَ فِيهِ، فَيَقُولُ: خَلِّنِي وَرَبِّي. حَتَّى وَجَدَهُ يَوْمًا عَلَى ذَنْبٍ اسْتَعْظَمَهُ. فَقَالَ: أَقْصِرْ، فَقَالَ: خَلِّنِي وَرَبِّيَ، أَبُعِثْتَ عَلَيَّ رَقِيبًا؟ فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ أَبَدًا، وَلَا يُدْخِلُكَ الْجَنَّةَ، فَبَعَثَ اللَّهُ إِلَيْهِمَا مَلَكًا، فَقَبَضَ أَرْوَاحَهُمَا، فَاجْتَمَعَا عِنْدَهُ، فَقَالَ لِلْمُذْنِبِ: ادْخُلِ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِي، وَقَالَ لِلْآخَرِ: أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَحْظِرَ عَلَى عَبْدِي رَحْمَتِي؟ فَقَالَ: لَا يَا رَبِّ. قَالَ: اذْهَبُوا بِهِ إِلَى النَّارِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بنی اسرائیل کے دو آدمی ایک دوسرے کے دوست تھے، ان میں سے ایک انتہائی عبادت گزار تھا جبکہ دوسرا کہتا تھا: میں گناہ گار ہوں، یہ اسے کہتا: اپنی روش سے باز آ جاؤ، تو وہ کہتا: میرا معاملہ میرے رب پر چھوڑ دو، حتیٰ کہ اس نے ایک روز اسے گناہ کرتے ہوئے پایا تو اس نے اسے بہت برا سمجھتے ہوئے کہا: باز آ جاؤ، اس نے کہا: مجھے میرے رب پر چھوڑ دو، کیا تم مجھ پر نگران بنا کر بھیجے گئے ہو؟ تو اس (عبادت گزار) نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ تمہیں کبھی معاف کرے گا نہ کبھی تمہیں جنت میں داخل کرے گا، پس اللہ نے ان دونوں کی طرف فرشتہ بھیجا تو اس نے ان دونوں کی روحیں قبض کر لیں، اور وہ دونوں اس کے پاس اکٹھے ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے گناہ گار شخص سے فرمایا: میری رحمت کے ساتھ جنت میں داخل ہو جا، اور دوسرے سے فرمایا: کیا تم طاقت رکھتے ہو کہ تم میری رحمت کو میرے بندے سے روک دو؟ وہ عرض کرتا ہے، نہیں، میرے رب! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اسے جہنم میں لے جاؤ۔“ اسنادہ حسن، رواہ احمد (2 / 323 ح 8275، 2 / 362 ح 8734) و ابوداؤد (4901) و تفسیر ابن کثیر (2 / 265)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2347]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أحمد (323/2 ح 8275، 362/2 ح 8734) [و أبو داود (4901) ]
٭ انظر نيل المقصود (مخطوط 1033/3) و تفسير ابن کثير (265/2)»
٭ انظر نيل المقصود (مخطوط 1033/3) و تفسير ابن کثير (265/2)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَقْرَأُ هَذِهِ الآيَةَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آیت پڑھتے تھے
حدیث نمبر: 2348
2348 - وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ: يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا"وَلَا يُبَالِي". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ. وَفِي:"شَرْحِ السُّنَّةِ""يَقُولُ"بَدَلَ:"يَقْرَأُ".
سیدتنا اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ آیت ﴿قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا﴾ [سورة الزمر: 53] پڑھتے ہوئے سنا: ”میرے وہ بندے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں کیونکہ اللہ تمام گناہ معاف کر دیتا ہے اور وہ پرواہ نہیں کرتا۔“ احمد، ترمذی، اور انہوں نے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے، اور شرح السنہ میں «يَقْرَأُ» ”پڑھتے ہیں“ کے بدلے «يَقُولُ» ”فرماتے ہیں“ کے الفاظ ہیں۔ اسنادہ حسن، رواہ احمد (6 / 459 ح 28148) و الترمذی (3237) و فی شرح السنہ (14 / 384 ح 4186)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2348]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أحمد (459/6 ح 28148) والترمذي (3237) و البغوي في شرح السنة (384/14 ح 4186)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (بَيَانُ تَفْسِيرِ «إِلَّا اللَّهُمَّ» )
الا اللّھم کی تفسیر کا بیان
حدیث نمبر: 2349
2349 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فِي قَوْلِ اللَّهِ: إِلَّا اللَّمَمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِنْ تَغْفِرِ اللَّهُمَّ تَغْفِرْ جَمَّا وَأَيُّ عَبْدٍ لَكَ لَا أَلَمَّا"رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿إِلَّا اللَّمَمَ﴾ [سورة النجم: 32] کے بارے میں بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ إِنْ تَغْفِرْ تَغْفِرْ جَمًّا، وَأَيُّ عَبْدٍ لَكَ مَا أَلَمَّا» ”اے اللہ! اگر تو معاف کر دے تو سبھی گناہ معاف کر دے، اور تیرا کون سا بندہ ہے جو صغیرہ گناہ نہیں کرتا۔“ امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ اس کی سند صحیح ہے، اسے ترمذی (3284) نے روایت کیا اور حاکم (2 / 469، 470) نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2349]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه الترمذي (3284) [و صححه الحاکم (469/2. 470) علي شرط الشيخين ووافقه الذهبي] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
--. (بَيَانُ سَعَةِ رَحْمَةِ اللَّهِ)
رحمت الٰہی کی وسعت کا بیان
حدیث نمبر: 2350
2350 - وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُ ; فَاسْأَلُونِي الْهُدَى أَهْدِكُمْ . وَكُلُّكُمْ فُقَرَاءُ إِلَّا مَنْ أَغْنَيْتُ ; فَاسْأَلُونِي أُرْزَقْكُمْ، وَكُلُّكُمْ مُذْنِبٌ إِلَّا مَنْ عَافَيْتُ ; فَمَنْ عَلِمَ مِنْكُمْ أَنِّي ذُو قُدْرَةٍ عَلَى الْمَغْفِرَةِ فَاسْتَغْفَرَنِي غَفَرْتُ لَهُ وَلَا أُبَالِي، وَلَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ، وَحَيَّكُمْ، وَمَيِّتَكُمْ، وَرَطْبَكُمْ، وَيَابِسَكُمُ اجْتَمَعُوا عَلَى أَتْقَى قَلْبِ عَبْدٍ مِنْ عِبَادِي، مَا زَادَ ذَلِكَ فِي مُلْكِي جَنَاحَ بَعُوضَةٍ. وَلَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ، وَآخِرَكُمْ، وَحَيَّكُمْ، وَمَيِّتَكُمْ، وَرَطْبَكُمْ، وَيَابِسَكُمُ اجْتَمَعُوا عَلَى أَشْقَى قَلْبِ عَبْدٍ مِنْ عِبَادِي ; مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِنْ مُلْكِي جَنَاحَ بَعُوضَةٍ وَلَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ، وَآخِرَكُمْ، وَحَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمْ، وَرَطْبَكُمْ، وَيَابِسَكُمُ اجْتَمَعُوا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، فَسَأَلَ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْكُمْ مَا بَلَغَتْ أُمْنِيَّتُهُ، فَأَعْطَيْتُ كُلَّ سَائِلٍ مِنْكُمْ ; مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِنْ مُلْكِي إِلَّا كَمَا لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ مَرَّ بِالْبَحْرِ فَغَمَسَ فِيهِ إِبْرَةً، ثُمَّ رَفَعَهَا ; ذَلِكَ بِأَنِّي جَوَادٌ مَاجِدٌ أَفْعَلُ مَا أُرِيدُ، عَطَائِي كَلَامٌ، وَعَذَابِي كَلَامٌ، إِنَّمَا أَمْرِي لِشَيْءٍ إِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ لَهُ كُنْ، فَيَكُونُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ.
ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندو! تم سب گمراہ ہو مگر جسے میں ہدایت عطا فرما دوں، تم مجھ سے ہدایت طلب کرو، تم سب فقراء ہو مگر جسے میں غنی کر دوں، تم مجھ سے اپنا رزق طلب کرو، اور تم سب گناہ گار ہو مگر جسے میں بچا لوں، تم میں سے جسے علم ہو کہ میں مغفرت کرنے پر قادر ہوں اور وہ مجھ سے مغفرت طلب کرے تو میں اسے بخش دیتا ہوں اور میں پرواہ نہیں کرتا، اور اگر تمہارا اول و آخر، تمہارے زندہ اور مردہ، تمہارے جوان اور تمہارے بوڑھے، سارے میرے بندوں میں سے اس شخص جیسے ہو جائیں جو سب سے زیادہ متقی ہے تو اس سے میری بادشاہت میں مچھر کے پر جتنا بھی اضافہ نہیں ہو گا، اور اگر تمہارا اول و آخر، تمہارے زندہ و مردہ اور تمہارے جوان و بوڑھے سب، میرے بندوں میں سے اس شخص جیسے ہو جائیں جو کہ سب سے زیادہ بدنصیب و گمراہ ہے تو اس سے میری بادشاہت میں مچھر کے پر کے برابر بھی کمی نہیں آئے گی، اور اگر تمہارا اول و آخر، تمہارے زندہ و مردہ اور تمہارے جوان و بوڑھے سب ایک میدان میں اکٹھے ہو جائیں، پھر تم میں سے ہر انسان جی بھر کر مانگ لے اور میں تم میں سے ہر سائل کو دے دوں تو اس سے میری بادشاہت میں اتنا ہی فرق آئے گا جیسے تم میں سے کوئی سمندر کے پاس سے گزرے اور وہ اس میں ایک سوئی ڈبو کر باہر نکال لے، اس لئے کہ میں سخی داتا ہوں، جو چاہتا ہوں کر گزرتا ہوں، میرا عطا کرنا کلام ہے اور میرا عذاب کرنا بھی کلام ہے، کسی چیز کے بارے میں میرا امر تو بس اتنا ہی ہے کہ جب میں ارادہ کرتا ہوں تو میں اس کے بارے میں یہی کہتا ہوں کہ ﴿كُنْ فَيَكُونُ﴾ [سورة يس: 82] ”ہو جا، تو وہ ہو جاتا ہے۔““ حسن، رواہ احمد (5 / 154 ح 21695) و الترمذی (2495) و ابن ماجہ (4257)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2350]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أحمد (154/5ح 21695) والترمذي (2495 وقال: حسن) و ابن ماجه (4257)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (اجْتِنَابُ الشِّرْكِ هُوَ أَيْضًا اسْتِغْفَارٌ)
شرک سے بچے رہنا بھی استغفار ہے
حدیث نمبر: 2351
2351 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَرَأَ: (هُوَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ) قَالَ: قَالَ رَبُّكُمْ: أَنَا أَهْلٌ أَنْ أُتَّقَى، فَمَنِ اتَّقَانِي فَأَنَا أَهْلٌ أَنْ أَغْفِرَ لَهُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ، وَالدَّارِمِيُّ.
انس رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے یہ آیت ﴿هُوَ أَهْلُ التَّقْوَىٰ وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ﴾ [سورة المدثر: 56] پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا رب فرماتا ہے: میں اس لائق ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے، جو شخص مجھ سے ڈرتا ہے تو پھر میں اس کا اہل ہوں کہ میں اسے بخش دوں۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2351]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3328 وقال: حسن غريب) و ابن ماجه (4299) والدارمي (303/2 ح 2727)
٭ سھيل بن عبد الله القطيعي: ضعيف .»
٭ سھيل بن عبد الله القطيعي: ضعيف .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (اسْتِغْفَارُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مِائَةَ مَرَّةٍ فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مجلس میں سو بار استغفار کرنا
حدیث نمبر: 2352
2352 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: إِنْ كُنَّا لَنَعُدُّ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَجْلِسِ يَقُولُ:"رَبِّ اغْفِرْ لِي، وَتُبْ عَلَيَّ، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُورُ"مِائَةَ مَرَّةٍ، رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک مجلس میں سو مرتبہ یہ فرماتے ہوئے: «رَبِّ اغْفِرْ لِي، وَتُبْ عَلَيَّ، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُورُ» ”میرے رب! مجھے بخش دے، مجھ پر رجوع فرما، بے شک تو توبہ قبول کرنے والا بخشنے والا ہے“ شمار کیا کرتے تھے۔ (صحیح، رواہ احمد والترمذی وابوداؤد وابن ماجہ) [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2352]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أحمد (21/2 ح 4726) و الترمذي (3434 وقال: حسن صحيح غريب) و أبو داود (1516) و ابن ماجه (3814)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح