🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (جَمَالُ الإِسْلَامِ وَكَمَالُهُ)
اسلام کا حسن و خوبی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2373
2373 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"إِذَا أَسْلَمَ الْعَبْدُ فَحَسُنَ إِسْلَامُهُ ; يُكَفِّرُ اللَّهُ عَنْهُ كُلَّ سَيِّئَةٍ كَانَ زَلَفَهَا، وَكَانَ بَعْدَ الْقِصَاصِ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِائَةِ  ضِعْفٍ إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ، وَالسَّيِّئَةُ بِمِثْلِهَا إِلَّا أَنْ يَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْهَا". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب بندہ مسلمان ہو جاتا ہے اور اپنے اسلام کو بہتر بناتا ہے تو اللہ اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کر دیتا ہے، اور اس (اسلام قبول کرنے) کے بعد پھر بدلہ شروع ہو جاتا ہے، نیکی کا بدلہ دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے، جبکہ برائی کا بدلہ اس کے مثل ہوتا ہے الا یہ کہ اللہ اس سے درگزر فرمائے۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2373]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (41)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (طَرِيقَةُ كِتَابَةِ الحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ)
نیکی اور بدی کے لکھنے کا طریقہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2374
2374 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"إِنِ اللَّهَ كَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ، فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا  كَتَبَهَا اللَّهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً، فَإِنْ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ عِنْدَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا  كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً، فَإِنْ هُوَ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ سَيِّئَةً وَاحِدَةً"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ نے نیکیاں اور برائیاں لکھی ہیں، جس شخص نے کسی نیکی کا ارادہ کیا لیکن اسے کیا نہیں تو اللہ اسے اپنے پاس اس کے حق میں ایک مکمل نیکی لکھ لیتا ہے، اگر وہ اس کا ارادہ کرے اور اسے کر بھی لے تو اللہ اسے اپنے پاس اس کے حق میں دس گنا سے سات سو گنا اور اس سے بھی بڑھا کر لکھ لیتا ہے، اور جو شخص برائی کرنے کا ارادہ کرے لیکن اسے کرے نہیں تو اللہ اسے اپنے پاس اس کے حق میں ایک کامل نیکی لکھ لیتا ہے، لیکن اگر وہ اس (برائی) کا ارادہ کرے اور اسے کر گزرے تو اللہ اسے اس کے حق میں ایک ہی برائی لکھتا ہے۔“ (متفق علیہ)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2374]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6491) و مسلم (131/207)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَثَلُ الإِنْسَانِ عِنْدَمَا يَشْرَعُ فِي العَمَلِ الصَّالِحِ)
جب انسان نیکیاں کرنے لگے تو اس کی مثال
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2375
(الْفَصْلُ الثَّانِي) 2375 - عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"إِنَّ مَثَلَ الَّذِي يَعْمَلُ السَّيِّئَاتِ ثُمَّ يَعْمَلُ الْحَسَنَاتِ  كَمَثَلِ رَجُلٍ كَانَتْ عَلَيْهِ دِرْعٌ ضَيِّقَةٌ قَدْ خَنَقَتْهُ ثُمَّ عَمِلَ حَسَنَةً فَانْفَكَّتْ حَلْقَةٌ ثُمَّ عَمِلَ أُخْرَى فَانْفَكَّتْ أُخْرَى حَتَّى تَخْرُجَ إِلَى الْأَرْضِ"رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو شخص گناہ کرتا ہے اور پھر نیک عمل کرتا ہے اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جس پر تنگ زِرہ ہو جس نے اس کا گلا گھونٹ رکھا ہو، پھر وہ کوئی نیک عمل کرتا ہے تو ایک کڑی کھل گئی، پھر اس نے دوسری نیکی کی تو دوسری کڑی کھل گئی حتیٰ کہ وہ کھل کر زمین پر آ رہی۔“ «إِسْنَادُهُ حَسَنٌ»، رواہ البغوی فی شرح السنہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2375]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه البغوي في شرح السنة (339/1 ح 4149) [و أحمد (145/4) ] »
قال الشيخ الألباني:
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (وَعْدُ جَنَّتَيْنِ لِمَنْ يَخَافُ رَبَّهُ الكَرِيمَ)
رب کریم سے ڈرنے والوں کے لیے دو جنتوں کا وعدہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2376
2376 - وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُصُّ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ:"وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ الثَّانِيَةَ: وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ  ، فَقُلْتُ الثَّانِيَةَ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ فَقُلْتُ الثَّالِثَةَ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: وَإِنْ، رَغِمَ أَنْفُ أَبِي الدَّرْدَاءِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.
ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو منبر پر وعظ و نصیحت کرتے ہوئے سنا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرما رہے تھے: ﴿وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ﴾ [سورة الرحمن: 46] ”جو شخص اپنے رب کے حضور کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگرچہ وہ زنا اور چوری کرے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسری مرتبہ فرمایا: ”جو شخص اپنے رب کے حضور کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔“ میں نے دوسری مرتبہ عرض کیا: اللہ کے رسول! اگرچہ وہ زنا اور چوری کرے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا: ”جو شخص اپنے رب کے حضور کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔“ تو میں نے بھی تیسری مرتبہ عرض کیا: اللہ کے رسول! اگرچہ وہ زنا اور چوری کرے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ ابو درداء کی ناک خاک آلود ہو۔“ اسنادہ صحیح، رواہ احمد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2376]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أحمد (357/2) [و النسائي في الکبري (11560، 11561، التفسير) ] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ رَحْمَةِ اللَّهِ)
اللہ تعالیٰ کی رحمت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2377
2377 - وَعَنْ عَامِرٍ الرَّامِ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ يَعْنِي عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ عَلَيْهِ كِسَاءٌ وَفِي يَدِهِ شَيْءٌ قَدِ الْتَفَّ عَلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَرَرْتُ بَغِيضَةِ شَجَرٍ فَسَمِعْتُ فِيهَا أَصْوَاتَ فِرَاخِ طَائِرٍ، فَأَخَذْتُهُنَّ فَوَضَعْتُهُنَّ فِي كِسَائِي، فَجَاءَتْ أُمُّهُنَّ فَاسْتَدَارَتْ عَلَى رَأْسِي، فَكَشَفْتُ لَهَا عَنْهُنَّ فَوَقَعَتْ عَلَيْهِنَّ فَلَفَفْتُهُنَّ بِكِسَائِي فَهُنَّ أُولَاءِ مَعِي، قَالَ: ضَعْهُنَّ، فَوَضَعْتُهُنَّ، وَأَبَتْ أُمُّهُنَّ إِلَّا لُزُومَهُنَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَتَعْجَبُونَ لِرُحْمِ أُمِّ الْأَفْرَاخِ فِرَاخَهَا، فَوَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ لَلَّهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ أُمِّ الْأَفْرَاخِ بِفِرَاخِهَا  ، ارْجِعْ بِهِنَّ حَتَّى تَضَعَهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُنَّ وَأُمُّهُنَّ مَعَهُنَّ، فَرَجَعَ بِهِنَّ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عامر رام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، اس اثنا میں کہ ہم نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک آدمی آیا، اس پر چادر تھی اور اس کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جسے اس نے لپیٹ رکھا تھا، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں درختوں کے جھنڈ کے پاس سے گزرا تو میں نے اس میں پرندوں کے بچوں کی آوازیں سنیں تو میں نے انہیں پکڑ لیا اور انہیں اپنی چادر میں رکھ لیا، پھر ان کی ماں آئی اور میرے سر پر چکر لگانے لگی، میں نے ان (بچوں) سے پردہ ہٹایا تو وہ بھی ان پر آ گری، میں نے انہیں اپنی چادر میں لپیٹ لیا اور وہ یہ میرے پاس ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”انہیں رکھو۔“ اس نے انہیں رکھا تو ان کی ماں بھی ان کے ساتھ ہی رہی، تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کیا تم بچوں کی ماں کے اپنے بچوں کے ساتھ رحم کرنے پر تعجب کرتے ہو؟ اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! اللہ اپنے بندوں کے ساتھ، بچوں کی ماں کے اپنے بچوں کے ساتھ رحم کرنے سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے، انہیں وہیں جا کر رکھ آؤ جہاں سے تم نے انہیں اٹھایا تھا۔“ اور ان کی ماں بھی ان کے ساتھ تھی، وہ (آدمی) انہیں واپس لے گیا۔ (اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد) [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2377]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (3089)
٭ فيه أبو منظور: مجھول، و عمه: لم أعرفه، والسند مظلم .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (اللَّهُ أَرْحَمُ مِنَ الأُمِّ بِوَلَدِهَا)
اللہ تعالیٰ ایک ماں سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2378
الفصل الثالث 2378 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ غَزَوَاتِهِ فَمَرَّ بِقَوْمٍ فَقَالَ:"مَنِ الْقَوْمُ؟ قَالُوا نَحْنُ الْمُسْلِمُونَ وَامْرَأَةٌ تَحْضِبُ بِقِدْرِهَا وَمَعَهَا ابْنٌ لَهَا، فَإِذَا ارْتَفَعَ وَهَجٌ تَنَحَّتْ بِهِ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَتْ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَلَيْسَ اللَّهُ أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَتْ: أَلَيْسَ اللَّهُ أَرْحَمَ بِعِبَادِهِ مِنَ الْأُمِّ بِوَلَدِهَا  ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَتْ: إِنَّ الْأُمَّ لَا تُلْقِي وَلَدَهَا فِي النَّارِ، فَأَكَبَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْكِي، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهَا فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَا يُعَذِّبُ مِنْ عِبَادِهِ إِلَّا الْمَارِدَ الْمُتَمَرِّدَ الَّذِي يَتَمَرَّدُ عَلَى اللَّهِ وَأَبَى أَنْ يَقُولَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ"رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کسی غزوہ میں شریک تھے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی قوم کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”کون لوگ ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: ہم مسلمان ہیں، وہاں ایک عورت ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہی تھی، اور اس کے ساتھ اس کا بیٹا تھا، جب آگ کی تپش تیز ہوتی تو وہ اس بچے کو دور کر لیتی، وہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: آپ اللہ کے رسول ہیں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے عرض کیا: میرے والدین آپ پر قربان ہوں، کیا اللہ سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا نہیں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں۔“ پھر اس نے عرض کیا: کیا اللہ اپنے بندوں پر، ماں کے اپنے بچے پر رحم کرنے سے زیادہ رحم کرنے والا نہیں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں۔“ اس نے عرض کیا: پھر ماں تو یقیناً اپنے بچے کو آگ میں نہیں ڈال سکتی، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سر جھکا کر رونے لگے، پھر آپ نے اس کی طرف سر اٹھا کر فرمایا: ”اللہ اپنے بندوں میں سے صرف سرکش لوگوں کو عذاب دے گا اور وہ سرکش بھی ایسے جو اللہ کے خلاف سرکشی کرتے ہیں اور «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں“ کہنے سے انکار کر دیتے ہیں۔“ اسنادہ موضوع، رواہ ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2378]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده موضوع، رواه ابن ماجه (4297)
٭ فيه إسماعيل بن يحيي الشيباني: کذاب، و إبراهيم بن أعين: ضعيف .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده موضوع

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تُغَشِّي رَحْمَةُ اللَّهِ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الخَيْرَ)
نیکی کرنے والوں کو اللہ کی رحمت ڈھانپ لیتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2379
2379 - وَعَنْ ثَوْبَانَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"إِنَّ الْعَبْدَ لَيَلْتَمِسُ مَرْضَاةَ اللَّهِ فَلَا يَزَالُ بِذَلِكَ، فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لِجِبْرِيلَ إِنَّ فُلَانًا عَبْدِي يَلْتَمِسُ أَنْ يُرْضِيَنِي أَلَا وَإِنَّ رَحْمَتِي عَلَيْهِ، فَيَقُولُ جِبْرِيلُ: رَحْمَةُ اللَّهِ  عَلَى فُلَانٍ وَيَقُولُهَا حَمَلَةُ الْعَرْشِ، وَيَقُولُهَا مَنْ حَوْلَهُ، حَتَّى يَقُولُهَا أَهْلُ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ، ثُمَّ تَهْبِطُ لَهُ إِلَى الْأَرْضِ رَوَاهُ أَحْمَدُ.
ثوبان رضی اللہ عنہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”بندہ اللہ کی رضا مندی تلاش کرتا ہے، وہ اسی کوشش میں لگا رہتا ہے تو اللہ عزوجل جبرائیل سے فرماتا ہے: میرا فلاں بندہ مجھے راضی کرنے کی کوشش کرتا ہے، سن لو میری رحمت اس پر ہے، تو جبرائیل فرماتے ہیں: اللہ کی رحمت فلاں شخص پر ہے، پھر حاملین عرش یہی کہتے ہیں اور پھر ان کے آس پاس والے یہی کہتے ہیں، حتیٰ کہ ساتوں آسمان والے یہی اعلان کرتے ہیں، پھر اس کی وجہ سے وہ (رحمت) زمین پر اترتی ہے۔“ حسن، رواہ احمد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2379]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أحمد (279/5 ح 22764) [والطبراني في الأوسط (139/2 ح 1262) و عنده ميمون (بن عجلان الثقفي) أبو محمد المزني التميمي: لا يعرف، کما في الميزان و اللسان (165/6) و مع ذلک و ثقه الھيثمي، و ميمون بن عجلان لعله عطاء بن عجلان: أحد المتروکين، وھو تدليس عجيب .]
٭ و في المسند ميمون غير منسوب و لعله ميمون بن موسي المري و صرح بالسماع عند أحمد فالسند حسن . والله أعلم»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (المُؤْمِنُ فِي كُلِّ حَالٍ أَهْلٌ لِلْجَنَّةِ وَإِنْ كَانَ مُذْنِبًا)
مومن ہر حال میں جنتی ہے چاہے وہ گنہگار ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2380
2380 - وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ  قَالَ:"كُلُّهُمْ فِي الْجَنَّةِ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي كِتَابِ الْبَعْثِ وَالنُّشُورِ.
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ﴾ [سورة فاطر: 32] ”ان میں سے کوئی اپنی جان پر ظلم کرنے والا ہے، اور کوئی میانہ رو ہے اور کوئی نیکیوں میں بڑھنے والا ہے“ کے بارے میں روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”وہ سب جنتی ہیں۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ البیہقی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2380]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البيھقي في البعث والنشور (ص 59ح 63) [والخطيب في تاريخه (271/12) و الطبراني في الکبير (410) ]
٭ فيه محمد بن أبي ليلي: ضعيف، ضعفه الجمھور .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الأَدْعِيَةُ المَقْرُوءَةُ صَبَاحًا وَمَسَاءً وَقَبْلَ النَّوْمِ)
صبح اور شام اور سوتے وقت پڑھنے کی دعائیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2381
(بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ الصَّبَاحِ وَالْمَسَاءِ وَالْمَنَامِ) (الْفَصْلُ الْأَوَّلُ) 2381 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَمْسَى قَالَ:"أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرِ مَا فِيهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَسُوءِ الْكِبَرِ وَفِتْنَةِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَإِذَا أَصْبَحَ قَالَ ذَلِكَ أَيْضًا: أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ"وَفِي رِوَايَةٍ:"رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ" (رَوَاهُ مُسْلِمٌ) .
عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب شام کرتے تو فرماتے: «أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، رَبِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَسُوءِ الْكِبَرِ، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ» ”ہم نے شام کی اور اللہ کی تمام بادشاہت نے شام کی، ہر قسم کی حمد اللہ کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اے اللہ! میں تجھ سے اس رات کی بھلائی مانگتا ہوں اور جو اس میں ہے اس کی بھلائی مانگتا ہوں، اور اس کے شر سے اور جو اس میں ہے اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اے اللہ! میں کاہلی، بڑھاپے، بڑھاپے کی خرابی، دنیا کے فتنے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“ اور جب آپ صبح کرتے تو بھی یہی کہتے: «أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ» ”ہم نے اور اللہ کی بادشاہت نے صبح کی۔“ اور ایک دوسری روایت میں ہے: «رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ» ”رب جی! میں تجھ سے آگ کے عذاب اور عذابِ قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“ [رواہ مسلم] [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2381]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (75. 2723/76)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (وَضْعُ اليَدِ تَحْتَ الخَدِّ الأَيْمَنِ عِنْدَ النَّوْمِ وَقِرَاءَةُ الدُّعَاءِ)
سوتے وقت دائیں رخسار کے نیچے ہاتھ رکھ کر دعا پڑھنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2382
2382 - وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ:"كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ  وَضَعَ يَدَهُ تَحْتَ خَدِّهِ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَمُوتُ وَأَحْيَا، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا  بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ"رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کے وقت اپنے بستر پر تشریف لاتے تو آپ اپنا ہاتھ اپنے رخسار کے نیچے رکھتے، پھر یہ دعا پڑھتے: «بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ أَمُوتُ وَأَحْيَا» ”اے اللہ! میں تیرے ہی نام سے مرتا اور زندہ ہوتا ہوں۔“ اور جب آپ بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ» ”ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2382]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (6314)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں