🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (الدُّعَاءُ المَأْثُورُ عِنْدَ الاسْتِيقَاظِ، رِوَايَةُ مُسْلِمٍ)
سو کر اٹھنے کی مسنون دعا، بروایت مسلم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2383
2383 - وَمُسْلِمٌ عَنِ الْبَرَاءِ.
اور امام مسلم رحمہ اللہ نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث بیان کی ہے۔ «رَوَاهُ مُسْلِمٌ» ”اسے مسلم نے روایت کیا ہے“۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2383]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2711/59)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (نَفْضُ الفِرَاشِ قَبْلَ النَّوْمِ)
سونے سے پہلے بستر جھاڑنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2384
2384 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ فَلْيَنْفُضْ فِرَاشَهُ بِدَاخِلَةِ إِزَارِهِ ; فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا خَلَفَهُ عَلَيْهِ، ثُمَّ يَقُولُ بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِكَ أَرْفَعُهُ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ"وَفِي رِوَايَةٍ"ثُمَّ لْيَضْطَجِعْ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ ثُمَّ لْيَقُلْ بِاسْمِكَ"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ فَلْيَنْفُضْهُ بِصَنِفَةِ ثَوْبِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَإِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَاغْفِرْ لَهَا.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر آئے تو وہ (پہلے) اپنے ازار کے کنارے سے اپنے بستر کو جھاڑے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے بعد اس پر کون سی چیز آئی، پھر وہ یہ دعا پڑھے: «بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي، وَبِكَ أَرْفَعُهُ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ» ”میرے پروردگار! تیرے نام کے ساتھ میں نے اپنے پہلو کو رکھا، اور تیرے نام کے ساتھ ہی اٹھاؤں گا، اگر تو میری جان قبض کر لے تو پھر اس پر رحم فرمانا، اور اگر تو اسے چھوڑ دے تو اس کی اس طرح حفاظت فرمانا جیسے تو اپنے صالح بندوں کی حفاظت فرماتا ہے“۔“ اور ایک روایت میں ہے: ”پھر وہ اپنے دائیں پہلو پر لیٹے پھر دعا پڑھے: «بِاسْمِكَ رَبِّي» ”تیرے نام کے ساتھ (اے میرے رب!)“۔“ اور ایک دوسری روایت میں ہے: ”اپنے کپڑے کے کنارے سے تین مرتبہ جھاڑے اور کہے اگر تو میری جان قبض کر لے تو «فَاغْفِرْ لَهَا» ”اسے بخش دینا“۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2384]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (7393) و مسلم (2714/64)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (سُنِّيَّةُ نَفْضِ الفِرَاشِ قَبْلَ النَّوْمِ)
سونے سے پہلے بستر کو جھاڑنا مسنون ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2385
2385 - وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ:"كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ نَامَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ  ثُمَّ قَالَ:"اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفَسِي إِلَيْكَ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"مَنْ قَالَهُنَّ ثُمَّ مَاتَ تَحْتَ لَيْلَتِهِ مَاتَ عَلَى الْفِطْرَةِ"، وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِرَجُلٍ"يَا فُلَانُ إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ قُلِ اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفَسِي إِلَيْكَ ، إِلَى قَوْلِهِ أَرْسَلْتَ، وَقَالَ: فَإِنْ مِتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ مِتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ، وَإِنْ أَصْبَحْتَ أَصَبْتَ خَيْرًا"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے بستر پر آتے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دائیں کروٹ لیٹتے، پھر یہ دعا پڑھتے: «اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ» ”اے اللہ! میں نے اپنی جان تیرے سپرد کر دی، اپنا چہرہ تیری طرف متوجہ کر دیا، اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا اور اپنی پشت تیری طرف جھکائی۔ اور یہ سب کچھ تیرا شوق رکھتے ہوئے اور تجھ سے ڈرتے ہوئے کیا، تیرے سوا کوئی پناہ گاہ ہے نہ مقام نجات، میں تیری کتاب پر ایمان لایا جسے تو نے نازل فرمایا، اور تیرے نبی پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا۔“ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو شخص یہ کلمات پڑھے اور پھر اسی رات فوت ہو جائے تو وہ فطرت (یعنی اسلام) پر فوت ہو گا۔“ اور ایک دوسری روایت میں ہے: راوی بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی آدمی سے فرمایا: ”اے فلاں! جب تم اپنے بستر پر لیٹنا چاہو تو نماز کا سا وضو کرو۔ پھر اپنے دائیں پہلو پر لیٹو، پھر یہ دعا پڑھو: «اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ...» (یعنی مکمل دعا پڑھی)۔“ فرمایا: ”اگر تم اسی رات فوت ہو گئے تو تم فطرت (یعنی اسلام) پر فوت ہو گے اور اگر صبح کی تو تم خیر و بھلائی پاؤ گے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2385]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (7488) و مسلم (2710/58)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الدُّعَاءُ المَقْرُوءُ عِنْدَ الوُصُولِ إِلَى الفِرَاشِ)
بستر پر آ کر پڑھنے والی دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2386
2386 - وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ قَالَ:"الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمْنَا وَسَقَانَا  وَكَفَانَا وَآوَانَا فَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُئْوِيَ"رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے بستر پر آتے تو یہ دعا پڑھتے: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا، وَكَفَانَا وَآوَانَا، فَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ» ”ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں کھانا کھلایا، پلایا، وہ ہمارے لیے کافی ہو گیا اور ہمیں ٹھکانہ عطا فرمایا، کتنے ہی لوگ ہیں جنہیں کوئی کفایت کرنے والا ہے نہ ٹھکانہ دینے والا ہے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2386]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2715/64)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَسْبِيحُ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا)
تسبیح فاطمہ رضی اللہ عنہا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2387
[ ص: 1657 ] 2387 - وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّ فَاطِمَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَشْكُو إِلَيْهِ مَا تَلْقَى فِي يَدِهَا مِنَ الرَّحَى، وَبَلَغَهَا أَنَّهُ جَاءَهُ رَقِيقٌ، فَلَمْ تُصَادِفْهُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ، فَلَمَّا جَاءَ أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ، قَالَ: فَجَاءَنَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا فَذَهَبْنَا نَقُومُ، فَقَالَ:"عَلَى مَكَانِكُمَا"، فَجَاءَ فَقَعَدَ بَيْنِي وَبَيْنَهَا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمِهِ عَلَى بَطْنِي، فَقَالَ:"أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى خَيْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَا ؛ إِذَا أَخَذْتُمَا مَضْجَعَكُمَا فَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَاحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ  فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ". (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) .
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس اس تکلیف کی شکایت لے کر گئیں جو انہیں چکی پیسنے سے ہوئی تھی، اور انہیں پتا چلا تھا کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس کچھ غلام آئے ہیں، لیکن ان کی آپ سے ملاقات نہ ہو سکی تو انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اپنے آنے کا مقصد بیان کیا، جب آپ تشریف لائے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو بتایا، علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: آپ ایسے وقت میں ہمارے پاس تشریف لائے کہ ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے، ہم اٹھنے لگے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اپنی جگہ پر لیٹے رہو۔“ پھر آپ ہمارے درمیان بیٹھ گئے حتی کہ میں نے آپ کے پاؤں کی ٹھنڈک اپنے پیٹ پر محسوس کی، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس چیز سے، جس کا تم نے سوال کیا ہے، بہتر چیز بتاؤں؟ جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو تینتیس مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“، تینتیس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمد للہ“ اور چونتیس مرتبہ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ پڑھ لیا کرو، وہ تمہارے لیے، خادم کے مل جانے سے بہتر ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2387]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5361) و مسلم (2727/80)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَسْبِيحَةٌ خَيْرٌ مِنْ خَادِمٍ)
ایک خادم رکھنے سے بہتر ایک تسبیح
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2388
2388 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَتْ فَاطِمَةُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَسْأَلُهُ خَادِمًا، فَقَالَ: (أَلَا أَدُلُّكِ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ خَادِمٍ، تُسَبِّحِينَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ  ، وَتَحْمَدِينَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتُكَبِّرِينَ اللَّهَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَعِنْدَ مَنَامِكِ) رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایک خادم کا مطالبہ کرنے آپ کے پاس آئیں تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو کہ خادم سے بہتر ہے، کہ تم ہر نماز اور سوتے وقت تینتیس مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“، تینتیس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے“ اور چونتیس مرتبہ «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھ لیا کریں۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2388]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2728/81)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَعْضُ الأَدْعِيَةِ النَّبَوِيَّةِ صَبَاحًا وَمَسَاءً)
صبح و شام کی کچھ نبوی دعائیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2389
(الْفَصْلُ الثَّانِي) 2389 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَصْبَحَ قَالَ: (اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا وَبِكَ أَمْسَيْنَا  ، وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ، وَإِذَا أَمْسَى قَالَ: اللَّهُمَّ بِكَ أَمْسَيْنَا وَبِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ النُّشُورُ) رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صبح کرتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ النُّشُورُ» ”اے اللہ! ہم نے تیری ہی توفیق سے صبح کی، تیری ہی توفیق سے شام کی، تیری ہی توفیق سے زندہ ہیں، تیری ہی توفیق سے مریں گے اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے“ اور جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شام کرتے تو یہ دعا پڑھا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ بِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ» ”اے اللہ! ہم نے تیری ہی توفیق سے شام کی اور تیری ہی توفیق سے صبح کی، تیری ہی توفیق سے زندہ ہیں اور تیرے ہی نام پر مریں گے اور تیری ہی طرف اٹھ کر جانا ہے“۔ صحیح، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2389]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (3391 وقال: حسن) و أبو داود (5068) و ابن ماجه (3868)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الوِرْدُ الَّذِي اقْتَرَحَهُ النَّبِيُّ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لئے تجویز کردہ وظیفہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2390
2390 - وَعَنْهُ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مُرْنِي بِشَيْءٍ أَقُولُهُ إِذَا أَصْبَحْتُ وَإِذَا أَمْسَيْتُ  ، قَالَ: (قُلِ اللَّهُمَّ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ، قُلْهُ إِذَا أَصْبَحْتَ وَإِذَا أَمْسَيْتَ وَإِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ) رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم! مجھے کوئی ایسا وظیفہ بتائیں جسے میں صبح شام پڑھا کروں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کہو: «اللَّهُمَّ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ» ”اے اللہ! غیب و حاضر کو جاننے والے! زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے! ہر چیز کے رب اور مالک! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اور میں اپنے نفس کے شر، شیطان کے شر اور اس کے شرک سے تیری پناہ چاہتا ہوں“، جب تم صبح کرو، جب شام کرو اور جب اپنے بستر پر آؤ تو یہ کلمات کہا کرو۔“ [صحیح، رواہ الترمذی و ابوداؤد و الدارمی] [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2390]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (3392 وقال: حسن صحيح) و أبو داود (5067) والدارمي (292/2 ح 2692) [وصححه ابن حبان (2339) والحاکم (513/1) ووافقه الذهبي] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الدُّعَاءُ الَّذِي يَحْفَظُ مِنَ المَرَضِ)
بیماری سے محفوظ رکھنے والی دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2391
2391 - وَعَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - (مَا مِنْ عَبْدٍ يَقُولُ فِي صَبَاحِ كُلِّ يَوْمٍ وَمَسَاءِ كُلِّ لَيْلَةٍ بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ  فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَيَضُرَّهُ شَيْءٌ) فَكَانَ أَبَانُ قَدْ أَصَابَهُ طَرَفُ فَالَجٍ فَجَعَلَ الرَّجُلَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ أَبَانُ: مَا تَنْظُرُ إِلَيَّ أَمَا إِنَّ الْحَدِيثَ كَمَا حَدَّثْتُكَ، وَلَكِنِّي لَمْ أَقُلْهُ يَوْمَئِذٍ لِيُمْضِيَ اللَّهُ عَلَيَّ قَدَرَهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَأَبُو دَاوُدَ، وَفِي رِوَايَةٍ"لَمْ تُصِبْهُ فُجَاءَةُ بَلَاءٍ". حَتَّى يُصْبِحَ، وَمَنْ قَالَهَا حِينَ يُصْبِحُ لَمْ تُصِبْهُ فُجَاءَةُ بَلَاءٍ حَتَّى يُمْسِيَ) .
ابان بن عثمان بیان کرتے ہیں، میں نے اپنے والد عثمان رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ہر روز صبح و شام تین تین مرتبہ یہ دعا پڑھے تو اسے کوئی چیز تکلیف نہیں پہنچائے گی: «بِسْمِ اللّٰهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» ”اللہ کے نام کے ساتھ جس کے نام کے ساتھ زمین و آسمان کی کوئی چیز تکلیف نہیں پہنچا سکتی اور وہ سننے والا جاننے والا ہے۔““ ابان کو فالج ہو گیا تو وہ آدمی (جس کو انہوں نے حدیث سنائی تھی تعجب کے ساتھ) ان کی طرف دیکھنے لگا تو ابان نے اسے کہا: ”تم میری طرف کیا دیکھتے ہو؟ رہی حدیث تو وہ ویسے ہی ہے جیسے میں نے تمہیں بیان کی ہے، لیکن میں نے آج اسے پڑھا نہیں تاکہ اللہ اپنی تقدیر مجھ پر نافذ کر سکے۔“ اور ایک دوسری روایت میں ہے: ”اسے صبح ہونے تک کوئی ناگہانی آفت نہیں آئے گی اور جو شخص صبح کے وقت اسے پڑھے تو شام ہونے تک اسے کوئی ناگہانی آفت نہیں آئے گی۔“ صحیح، رواہ الترمذی وابن ماجہ وابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2391]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (3388 وقال: حسن غريب صحيح) و ابن ماجه (3869) و أبو داود (5088)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (دُعَاءُ الصَّبَاحِ وَالمَسَاءِ)
صبح و شام کی دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2392
2392 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ إِذَا أَمْسَى (أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ  وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، رَبِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَمِنْ سُوءِ الْكِبَرِ، أَوِ الْكُفْرِ) وَفِي رِوَايَةٍ (مِنْ سُوءِ الْكِبَرِ وَالْكِبْرِ، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ، وَإِذَا أَصْبَحَ قَالَ ذَلِكَ أَيْضًا: أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ) رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ، وَفِي رِوَايَتِهِ لَمْ يَذْكُرْ مِنْ سُوءِ الْكُفْرِ.
عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب شام کرتے تو یہ دعا پڑھا کرتے تھے: «أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، رَبِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ، وَسُوءِ الْكِبَرِ، أَوْ سُوءِ الْكُفْرِ» ”ہم نے اور اللہ کے ملک نے شام کی، ہر قسم کی حمد اللہ کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے لیے بادشاہت ہے، اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، میرے رب! میں اس رات کی بہتری اور اس کے بعد آنے والی راتوں کی بہتری کا سوال کرتا ہوں اور اس رات کے شر سے اور اس کے بعد آنے والی راتوں کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، میرے رب! میں کاہلی، بڑھاپے کی خرابی یا کفر کی خرابی سے تیری پناہ چاہتا ہوں“۔ ایک اور دوسری روایت میں ہے: «مِنْ سُوءِ الْكِبَرِ وَالْكُبْرِ، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ» ”میں بڑھاپے اور تکبر کی خرابی سے، میرے رب! میں آگ کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں“۔ اور جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صبح کرتے تو بھی ایسے ہی دعا کرتے تھے: «أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ» ”ہم نے اور اللہ کے ملک نے صبح کی“۔ ابوداؤد، ترمذی۔ اور ان کی روایت میں: ”کفر کی خرابی سے“ کے الفاظ مذکور نہیں۔ صحیح، رواہ ابوداؤد والترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2392]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (5071) و الترمذي (3390 وقال: حسن صحيح) [و مسلم 2723/74] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں