مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (الْمَرْأَةُ يُمْكِنُهَا أَنْ تُعْطِيَ نَوْبَتَهَا لِضَرَّتِهَا)
عورت اپنی باری سوکن کو دے سکتی ہے
حدیث نمبر: 3230
3230 - وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ سَوْدَةَ لَمَّا كَبِرَتْ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ جَعَلْتُ يَوْمِي مِنْكَ لِعَائِشَةَ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْسِمُ لِعَائِشَةَ يَوْمَيْنِ يَوْمَهَا وَيَوْمَ سَوْدَةَ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب سودہ رضی اللہ عنہا عمر ر ہو گئیں تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کی طرف سے جو میری باری کا دن تھا وہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دیا، لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے دو دن تقسیم فرمایا کرتے تھے، ایک ان کا اپنا اور دوسرا سودہ رضی اللہ عنہا کا دن تھا۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3230]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5212) و مسلم (1463/47)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (أَخْذُ إِذْنٍ مِنَ الزَّوْجَاتِ)
بیویوں سے اجازت لینا
حدیث نمبر: 3231
3231 - وَعَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَسْأَلُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَيْنَ أَنَا غَدًا أَيْنَ أَنَا غَدًا يُرِيدُ يَوْمَ عَائِشَةَ فَأَذِنَ لَهُ أَزْوَاجُهُ يَكُونُ حَيْثُ شَاءَ فَكَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ حَتَّى مَاتَ عِنْدَهَا . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے مرضِ وفات میں دریافت کیا کرتے تھے: ”میں کل کہاں ہوں گا؟ میں کل کہاں ہوں گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اس سوال سے) عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کا دن پوچھنا چاہتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواجِ مطہرات نے آپ کو اجازت دے دی کہ آپ جہاں چاہیں رہیں، آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر تھے حتیٰ کہ آپ نے ان کے ہاں ہی وفات پائی۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3231]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (5217) و مسلم (2443/840)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (الْقُرْعَةُ بَيْنَ الزَّوْجَاتِ)
بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرنا
حدیث نمبر: 3232
3232 - وَعَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر کا ارادہ فرمایا کرتے تھے تو آپ اپنی ازواج کے درمیان قرعہ اندازی کیا کرتے تھے، جس کے نام قرعہ نکلتا تو وہ آپ کے ساتھ سفر پر روانہ ہوتی تھیں۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3232]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (2688) و مسلم (2770/56)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (تَقْسِيمُ الأَيَّامِ بَيْنَ الزَّوْجَاتِ)
بیویوں کے درمیان دنوں کی تقسیم
حدیث نمبر: 3233
3233 - وَعَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مِنَ السُّنَّةِ إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْبِكْرَ عَلَى الثَّيِّبِ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا وَقَسَمَ، وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا ثُمَّ قَسَمَ، قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: وَلَوْ شِئْتُ لَقُلْتُ: إِنَّ أَنَسًا رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوقلابہ، انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”مسنون طریقہ یہ ہے کہ جب آدمی مطلقہ / بیوہ کے ہوتے ہوئے کسی کنواری سے شادی کرے تو وہ اس (کنواری) کے ہاں سات راتیں قیام کرے اور پھر باری تقسیم کرے، اور جب بیوہ / مطلقہ سے شادی کرے تو اس کے ہاں تین راتیں قیام کرے اور پھر باری تقسیم کرے۔“ ابوقلابہ نے کہا: اگر میں چاہوں تو میں کہہ سکتا ہوں کہ انس رضی اللہ عنہ نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مرفوع روایت کیا ہے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3233]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5214) و مسلم (1461/44)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (اخْتِيَارُ السَّيِّدَةِ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي نَوْبَةِ ثَلَاثِ لَيَالٍ)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو تین راتوں کی باری میں اختیار
حدیث نمبر: 3234
3234 - وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ وَأَصْبَحَتْ عِنْدَهُ قَالَ لَهَا: لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ، إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ عِنْدَكِ وَسَبَّعْتُ عِنْدَهُنَّ ، وَإِنْ شِئْتِ ثَلَّثْتُ عِنْدَكِ وَدُرْتُ، قَالَتْ: ثَلِّثْ. وَفِي رِوَايَةٍ إِنَّهُ قَالَ: لَهَا لِلْبِكْرِ سَبْعٌ وَلِلثَّيِّبِ ثَلَاثٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوبکر بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی اور وہ آپ کے ہاں اقامت گزیں ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”ایسی بات نہیں ہے کہ تمہاری میرے ہاں عزت نہیں ہے، بلکہ اگر تم چاہو تو میں تمہارے ہاں سات راتیں قیام کرتا ہوں اور پھر میں ان کے ہاں بھی سات راتیں قیام کروں گا، اور اگر تم چاہو تو میں تمہارے ہاں تین راتیں قیام کرتا ہوں اور پھر باقیوں کے پاس جاتا ہوں۔“ انہوں نے (ام سلمہ رضی اللہ عنہا) عرض کیا: آپ تین راتیں قیام کریں۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”کنواری کے لیے سات راتیں ہیں اور بیوہ / مطلقہ کے لیے تین راتیں ہیں۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3234]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (41. 1460/42)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (الْعَدْلُ بَيْنَ الزَّوْجَاتِ)
بیویوں کے درمیان انصاف
حدیث نمبر: 3235
الْفَصْلُ الثَّانِي 3235 - عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقْسِمُ بَيْنَ نِسَائِهِ فَيَعْدِلُ وَيَقُولُ اللَّهُمَّ هَذَا قَسْمِي فِيمَا أَمْلِكُ فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ازواجِ مطہرات کے درمیان باری تقسیم فرمایا کرتے تھے اور آپ عدل کیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے: «اللَّهُمَّ هَذَا قَسْمِي فِيمَا أَمْلِكُ، فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ» ”اے اللہ! میں نے اپنی بساط کے مطابق باری تقسیم کر رکھی ہے، آپ مجھے اس چیز (یعنی دلی محبت) کے بارے میں ملامت نہ کرنا جس کا تجھے اختیار ہے اور مجھے کوئی اختیار نہیں۔“ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی و ابوداؤد والنسائی وابن ماجہ والدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3235]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (1140) و أبو داود (2134) و النسائي (64/7 ح 3395) و ابن ماجه (1971) والدارمي (144/2 ح 2213)»
قال الشيخ الألباني: جيد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (عَذَابُ مَنْ لَا يَعْدِلُ بَيْنَ زَوْجَاتِهِ)
بیویوں کے بیچ انصاف نہ کرنے والے کا عذاب
حدیث نمبر: 3236
3236 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: إِذَا كَانَتْ عِنْدَ الرَّجُلِ امْرَأَتَانِ فَلَمْ يَعْدِلْ بَيْنَهُمَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَشِقُّهُ سَاقِطٌ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان کے مابین عدل نہ کرے تو وہ روز قیامت اس حال میں ہو گا کہ اس کا ایک پہلو (نصف دھڑ) مفلوج ہو گا۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3236]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (1141) و أبو داود (2133) والنسائي (63/7ح 3394) و ابن ماجه (1969) و الدارمي (143/2ح 2212)
٭ قتاده مدلس و عنعن و للحديث شاھد ضعيف عند أبي نعيم في أخبار أصبھان (300/2) فيه محمد بن الحارث الحارثي: ضعيف .»
٭ قتاده مدلس و عنعن و للحديث شاھد ضعيف عند أبي نعيم في أخبار أصبھان (300/2) فيه محمد بن الحارث الحارثي: ضعيف .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (احْتِرَامُ جِنَازَةِ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا)
ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کے جنازے کا احترام
حدیث نمبر: 3237
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 3237 - عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَنَازَةَ مَيْمُونَةَ بِسَرِفَ فَقَالَ: هَذِهِ زَوْجَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَهَا فَلَا تُزَعْزِعُوهَا وَلَا تُزَلْزِلُوهَا وَارْفُقُوا بِهَا فَإِنَّهُ كَانَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تِسْعُ نِسْوَةٍ كَانَ يَقْسِمُ مِنْهُنَّ لِثَمَانٍ وَلَا يَقْسِمُ لِوَاحِدَةٍ . قَالَ عَطَاءٌ: الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَقْسِمُ لَهَا بَلَغَنَا أَنَّهَا صَفِيَّةُ وَكَانَتْ آخِرَهُنَّ مَوْتًا مَاتَتْ بِالْمَدِينَةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَقَالَ رَزِينٌ: قَالَ غَيْرُ عَطَاءٍ هِيَ سَوْدَةُ وَهُوَ أَصَحُّ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِعَائِشَةَ حِينَ أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَلَاقَهَا فَقَالَتْ لَهُ: أَمْسِكْنِي، قَدْ وَهَبْتُ يَوْمِي لِعَائِشَةَ لَعَلِّي أَنْ أَكُونَ مِنْ نِسَائِكَ فِي الْجَنَّةِ.
عطاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، ہم مقام سرف پر ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازے میں شریک تھے، تو انہوں نے فرمایا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں، انہیں جھٹکے سے نہیں اٹھانا اور نہ چلتے وقت جھٹکے دینا، بلکہ انہیں آرام سے لے کر چلنا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نو بیویاں تھیں، آپ ان میں سے آٹھ کے لیے باری مقرر کرتے تھے اور ایک کے لیے باری مقرر نہیں فرماتے تھے، عطاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس زوجہ محترمہ کے لیے باری مقرر نہیں فرمایا کرتے تھے وہ صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں، اور انہوں نے ان میں سے سب سے آخر میں مدینہ میں وفات پائی۔ متفق علیہ۔ رزین رحمہ اللہ نے فرمایا: عطاء کے علاوہ دیگر محدثین نے فرمایا: وہ (جن کی باری مقرر نہیں تھی) سودہ رضی اللہ عنہا تھیں، اور یہی بات زیادہ صحیح ہے، کیونکہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں طلاق دینے کا ارادہ فرمایا تو انہوں نے اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دی تھی، اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: میں نے اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دی، تاکہ میں جنت میں آپ کی ازواج مطہرات میں سے ہوں۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3237]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5067) و مسلم (1465/51) و رزين (لم أجده)
٭ لقوله سودة: انظر صحيح مسلم (47. 48 / 1463) وغيره .»
٭ لقوله سودة: انظر صحيح مسلم (47. 48 / 1463) وغيره .»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (حُسْنُ مُعَامَلَةِ النِّسَاءِ)
عورتوں کے ساتھ حسن سلوک
حدیث نمبر: 3238
بَابُ عِشْرَةِ النِّسَاءِ وَمَا لِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنَ الْحُقُوقِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 3238 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا فَإِنَّهُنَّ خُلِقْنَ مِنْ ضِلَعٍ وَإِنَّ أَعْوَجَ شَيْءٍ فِي الضِّلَعِ أَعْلَاهُ فَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهُ كَسْرَتَهُ، وَإِنْ تَرَكْتَهُ لَمْ يَزَلْ أَعْوَجَ فَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں کے ساتھ خیر و بھلائی سے پیش آؤ، کیونکہ وہ پسلی سے پیدا کی گئی ہیں، اور پسلی کا اوپر والا حصہ سب سے زیادہ ٹیڑھا ہوتا ہے، اگر تم اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو اسے توڑ بیٹھو گے، اور اگر اسے چھوڑ دو گے تو وہ ٹیڑھا رہے گا، تم عورتوں کے ساتھ خیر و بھلائی کا خیال رکھو۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3238]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5186) و مسلم (1468/60)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (الْمَرْأَةُ ضِلْعٌ أَعْوَجُ)
عورت ایک ٹیڑھی پسلی
حدیث نمبر: 3239
3239 - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ لَنْ تَسْتَقِيمَ لَكَ عَلَى طَرِيقَةٍ، فَإِنِ اسْتَمْتَعْتَ بِهَا اسْتَمْتَعْتَ بِهَا وَبِهَا عِوَجٌ وَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهَا كَسَرْتَهَا، وَكَسْرُهَا طَلَاقُهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے، وہ آپ کے ساتھ کبھی ایک انداز پر گزر بسر نہیں کرے گی، اگر تم اس سے فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہو تو تم اس کے ٹیڑھے پن کے ساتھ ہی اس سے فائدہ حاصل کرو، اور اگر تم نے اسے سیدھا کرنے کی کوشش کی تو تم اسے توڑ دو گے، اور اسے توڑنا اسے طلاق دینا ہے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3239]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1468/59)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح