مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (عَدَمُ الْبُغْضِ مَعَ النِّسَاءِ الْمُؤْمِنَاتِ)
مومنہ عورتوں کے ساتھ بغض نہ رکھا جائے
حدیث نمبر: 3240
3240 - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی مومن (شوہر) کسی مومنہ (بیوی) سے بغض نہ رکھے، اگر اس کی کوئی ایک عادت اسے ناپسند ہے تو کوئی دوسری عادت پسند بھی ہو گی۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3240]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1469/61)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (بِدَايَةُ تَعَفُّنِ اللَّحْمِ)
گوشت سڑنے کی شروعات
حدیث نمبر: 3241
3241 - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَوْلَا بَنُو إِسْرَائِيلَ لَمْ يَخْنَزِ اللَّحْمُ وَلَوْلَا حَوَّاءُ لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا الدَّهْرَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بنو اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت خراب نہ ہوتا اور اگر حوا نہ ہوتیں تو کوئی عورت کبھی اپنے شوہر کی خیانت نہ کرتی۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3241]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3399) و مسلم (1470/63)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (مَنْعُ ضَرْبِ الزَّوْجَاتِ)
بیویوں کو مارنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 3242
3242 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمَعَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَجْلِدْ أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ ثُمَّ يُجَامِعْهَا فِي آخِرِ الْيَوْمِ. وَفِي رِوَايَةٍ يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ فَيَجْلِدُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ فَلَعَلَّهُ يُضَاجِعُهَا فِي آخِرِ يَوْمِهِ ثُمَّ وَعَظَهُمْ فِي ضَحِكِهِمْ مِنَ الضَّرْطَةِ فَقَالَ: لِمَ يَضْحَكُ أَحَدُكُمْ مِمَّا يَفْعَلُ؟. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو غلام کی طرح نہ مارے اور پھر وہ دن کے آخر پہر اس سے مجامعت کرے۔“ اور دوسری روایت میں ہے: ”تم میں سے کوئی قصد کرتا ہے تو اپنی عورت کو غلام کی طرح مارتا ہے، اور پھر ممکن ہے کہ وہ اسی روز آخری پہر اس سے مجامعت کرے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں گوز مارنے (ریح کی آواز) پر ہنسنے کے متعلق نصیحت کی تو فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایسی چیز پر کیوں ہنستا ہے جو وہ خود کرتا ہے؟“ (متفق علیہ)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3242]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4942) و مسلم (1470/63)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (نَمُوذَجٌ عَالٍ لِحُسْنِ السُّلُوكِ)
خوش اسلوبی کا اعلیٰ نمونہ
حدیث نمبر: 3243
3243 - وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ لِي صَوَاحِبُ يَلْعَبْنَ مَعِي فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا دَخَلَ يَنْقَمِعْنَ مِنْهُ فَيُسَرِّبُهُنَّ إِلَيَّ فَيَلْعَبْنَ مَعِي. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں گڑیوں کے ساتھ کھیلا کرتی تھی، اور میری کچھ سہیلیاں تھیں جو میرے ساتھ کھیلتی تھیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لاتے تو وہ آپ سے چھپ جاتیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں میری طرف بھیجتے تو پھر وہ میرے ساتھ کھیلتیں۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3243]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6130) و مسلم (2440/81)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (مُشَاهَدَةُ السَّيِّدَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا لِلْعَبِ الْحَبَشِيِّ مِنْ خَلْفِ سِتْرٍ)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا آڑ سے حبشیوں کا کھیل دیکھنا
حدیث نمبر: 3244
3244 - وَعَنْهَا قَالَتْ: وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُومُ عَلَى بَابِ حُجْرَتِي وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ بِالْحِرَابِ فِي الْمَسْجِدِ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتُرُنِي بِبُرْدَةٍ لَهُ لِأَنْظُرَ إِلَى لَعِبِهِمْ بَيْنَ أُذُنِهِ وَعَاتِقِهِ ثُمَّ يَقُومُ مِنْ أَجْلِي حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّتِي أَنْصَرِفُ فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ الْحَرِيصَةِ عَلَى اللَّهْوِ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اللہ کی قسم! میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے حجرے کے دروازے پر کھڑے ہوئے دیکھا جبکہ حبشی مسجد میں چھوٹے نیزوں کے ساتھ کھیل رہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی چادر سے مجھے چھپا رہے تھے تاکہ میں آپ کے کان اور گردن کے درمیان سے ان کے کھیل کو دیکھ سکوں، پھر آپ میری خاطر کھڑے رہتے یہاں تک کہ میں ہی وہاں سے ہٹتی تھی، پس تم نو عمر اور کھیل سے شغف رکھنے والی لڑکی کے کھڑے ہونے کا اندازہ کر لو (کہ وہ کتنی دیر کھڑی ہو سکتی ہے)۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3244]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (5236) و مسلم (892/18)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (تَعَرُّفُ فَرَحِ وَغَضَبِ السَّيِّدَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خوشی اور ناراضگی کی پہچان
حدیث نمبر: 3245
3245 - وَعَنْهَا قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنِّي لَأَعْلَمُ إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً وَإِذَا كُنْتِ عَلَيَّ غَضْبَى ، فَقُلْتُ: مِنْ أَيْنَ تَعْرِفُ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً فَإِنَّكَ تَقُولِينَ: لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ، وَإِذَا كُنْتِ عَلَيَّ غَضْبَى قُلْتِ: لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ، قَالَتْ: قُلْتُ: أَجَلْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَهْجُرُ إِلَّا اسْمَكَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو تو مجھے پتہ چل جاتا ہے اور اسی طرح جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو تب بھی مجھے پتہ چل جاتا ہے۔“ میں نے عرض کیا: آپ یہ کیسے پہچانتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو تو تم کہتی ہو: محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رب کی قسم! اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو تم کہتی ہو: ابراہیم علیہ السلام کے رب کی قسم!“ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! بالکل ٹھیک ہے، میں صرف آپ کا نام ہی چھوڑتی ہوں۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3245]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5228) ومسلم (2439/80)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (لَعْنَةُ الْمَلَائِكَةِ عَلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي تُغْضِبُ زَوْجَهَا)
فرشتوں کی لعنت اس عورت پر جو شوہر کو ناراض کرے
حدیث نمبر: 3246
3246 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ فَبَاتَ غَضْبَانَ لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْ رَجُلٍ يَدْعُو امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَتَأْبَى عَلَيْهِ إِلَّا كَانَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ سَاخِطًا عَلَيْهَا حَتَّى يَرْضَى عَنْهَا.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی اپنی اہلیہ کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ انکار کر دے اور وہ (خاوند) ناراضی میں سو جائے تو صبح ہونے تک فرشتے اس (عورت) پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔“ (بخاری، مسلم)۔ اور صحیحین ہی کی روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جب کوئی آدمی اپنی اہلیہ کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ اس پر انکار کر دے تو آسمان والی ذات (اللہ تعالیٰ) اس پر ناراض ہو جاتی ہے حتی کہ وہ (خاوند) اس سے راضی ہو جائے۔“ (متفق علیہ)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3246]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3237) و مسلم (1436/122)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (لِبَاسُ جُثَّتَيْنِ)
دو جھوٹ کا لباس پہننے والا
حدیث نمبر: 3247
3247 - وَعَنْ أَسْمَاءَ أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لِي ضَرَّةً فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ إِنْ تَشَبَّعْتُ مِنْ زَوْجِي غَيْرَ الَّذِي يُعْطِينِي؟ فَقَالَ:"الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ایک سوتن ہے، تو کیا مجھ پر گناہ ہو گا کہ میں اپنے خاوند کی طرف سے کسی ایسی چیز کا اظہار کروں جو اس نے مجھے نہ دی ہو؟ (تاکہ میری سوتن تنگ ہو) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ایسی چیز ظاہر کرنے والا جو اسے نہ دی گئی ہو جھوٹ کا جوڑا زیب تن کرنے والے (یعنی دھوکے باز) کی طرح ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3247]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5219) ومسلم (2130/127)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (عِنْدَمَا غَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجَاتِهِ)
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے ناراض ہوئے!
حدیث نمبر: 3248
3248 - وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: آلَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا وَكَانَتِ انْفَكَّتْ رِجْلُهُ فَأَقَامَ فِي مَشْرُبَةٍ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً ثُمَّ نَزَلَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ آلَيْتَ شَهْرًا فَقَالَ: إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے ایک ماہ ایلاء فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں میں موچ آ گئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انتیس راتیں بالاخانہ میں قیام فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیچے تشریف لے آئے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے ایک ماہ کے لیے قسم اٹھائی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس کا بھی ہوتا ہے۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3248]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (5201)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (مَسْأَلَةُ طَلَبِ زَوْجَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَقَةً أَكْثَرَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیگمات کا خرچ زیادہ مانگنے کا معاملہ
حدیث نمبر: 3249
3249 - وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدَ النَّاسَ جُلُوسًا بِبَابِهِ لَمْ يُؤْذَنْ لِأَحَدٍ مِنْهُمْ، قَالَ: فَأُذِنَ لِأَبِي بَكْرٍ فَدَخَلَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عُمَرُ فَاسْتَأْذَنَ فَأُذِنَ لَهُ، فَوَجَدَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا حَوْلَهُ نِسَاؤُهُ وَاجِمًا سَاكِتًا، قَالَ: فَقُلْتُ: لَأَقُولَنَّ شَيْئًا أُضْحِكُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ رَأَيْتَ بِنْتَ خَارِجَةَ سَأَلَتْنِي النَّفَقَةَ فَقُمْتُ إِلَيْهَا فَوَجَأْتُ عُنُقَهَا، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ: هُنَّ حَوْلِي كَمَا تَرَى يَسْأَلْنَنِي النَّفَقَةَ فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ عَنْ عَائِشَةَ يَجَأُ عُنُقَهَا، وَقَامَ عُمَرُ إِلَى حَفْصَةَ يَجَأُ عُنُقَهَا كِلَاهُمَا يَقُولُ تَسْأَلِينَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا لَيْسَ عِنْدَهُ ثُمَّ اعْتَزَلَهُنَّ شَهْرًا أَوْ تِسْعًا وَعِشْرِينَ ثُمَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ (يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ) حَتَّى بَلَغَ (لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا) قَالَ فَبَدَأَ بِعَائِشَةَ قَالَ: يَا عَائِشَةُ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَعْرِضَ أَمْرًا أُحِبُّ أَنْ لَا تَعَجْلِي فِيهِ حَتَّى تَسْتَشِيرِي أَبَوَيْكِ، قَالَتْ: وَمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَتَلَا عَلَيْهَا الْآيَةَ قَالَتْ: أَفِيكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَسْتَشِيرُ أَبَوَيَّ بَلْ أَخْتَارُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ وَأَسْأَلُكَ أَنْ لَا تُخْبِرَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِكَ بِالَّذِي قُلْتُ، قَالَ: لَا تَسْأَلُنِي امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ إِلَّا أَخْبَرْتُهَا إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَبْعَثْنِي مُعَنِّتًا وَلَا مُتَعَنِّتًا وَلَكِنْ بَعَثَنِي مُعَلِّمًا مُيَسِّرًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے اجازت طلب کرنا چاہی تو انہوں نے لوگوں کو دروازے پر بیٹھے ہوئے پایا جن میں سے کسی کو اجازت نہ ملی تھی، راوی بیان کرتے ہیں: ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اجازت مل گئی تو وہ اندر چلے گئے، پھر عمر رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے اجازت طلب کی تو انہیں بھی اجازت مل گئی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پریشانی کے عالم میں خاموش بیٹھا ہوا پایا جبکہ آپ کی ازواج مطہرات آپ کے ارد گرد تھیں، راوی بیان کرتے ہیں: انہوں نے (یعنی عمر رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں کوئی ایسی بات کہوں گا جس سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہنساؤں گا، چنانچہ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر خارجہ کی بیٹی مجھ سے خرچہ مانگتی تو میں اس کی گردن مروڑ دیتا، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا دیے اور فرمایا: ”انہوں نے میرے گرد گھیرا ڈال رکھا ہے، جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو، اور یہ مجھ سے خرچہ مانگ رہی ہیں۔“ (یہ سن کر) ابوبکر رضی اللہ عنہ، عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف بڑھے اور ان کی سرزنش کی، اور عمر رضی اللہ عنہ، حفصہ رضی اللہ عنہا کی گردن کوٹنے لگے، اور وہ دونوں کہہ رہے تھے: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتی ہو جو ان کے پاس نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کبھی ایسی چیز کا مطالبہ نہیں کریں گی جو آپ کے پاس نہ ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ماہ یا انتیس دن ان سے الگ رہے، اور پھر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿اے نبی! اپنی ازواج سے فرمائیں ...... تم میں سے محسنات کے لیے اجرِ عظیم ہے﴾ [سورة الأحزاب: 28-29] ، راوی بیان کرتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ابتدا فرمائی تو فرمایا: ”عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک بات پیش کرنا چاہتا ہوں، اور میں پسند کرتا ہوں کہ تجھے اس بارے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے جب تک تم اپنے والدین سے مشورہ نہ کر لو۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ کیا بات ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں وہ آیت سنائی تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں آپ کے بارے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں گی؟ نہیں، بلکہ میں اللہ، اس کے رسول اور دارِ آخرت کو اختیار کرتی ہوں، اور میں آپ سے مطالبہ کرتی ہوں کہ میں نے آپ سے جو بات کی ہے وہ آپ اپنی ازواج مطہرات میں سے کسی ایک کو مت بتائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے تو جو بھی پوچھے گی میں اسے ضرور بتاؤں گا، کیونکہ اللہ نے مجھے (لوگوں کو) رنج و مشقت میں مبتلا کرنے کے لیے نہیں بھیجا بلکہ اس نے مجھے آسانی پیدا کرنے والا معلم بنا کر بھیجا ہے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3249]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1478/29)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح