مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (إِصْلَاحُ الزَّوْجَاتِ)
بیویوں کی اصلاح
حدیث نمبر: 3260
3260 - وَعَنْ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي امْرَأَةً فِي لِسَانِهَا شَيْءٌ يَعْنِي الْبَذَاءَ، قَالَ: طَلِّقْهَا، قُلْتُ: إِنَّ لِي مِنْهَا وَلَدًا وَلَهَا صُحْبَةٌ، قَالَ: فَمُرْهَا، يَقُولُ: عِظْهَا فَإِنْ يَكُ فِيهَا خَيْرٌ فَسَتَقْبَلُ، وَلَا تَضْرِبَنَّ ظَعِينَتَكَ ضَرْبَكَ أُمَيَّتَكَ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ایک بیوی ہے، اس کی زبان میں کچھ (نقص) ہے یعنی وہ فحش گو ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اسے طلاق دے دو۔“ میں نے عرض کیا: میری اس سے اولاد ہے اور اس کے ساتھ ایک تعلق ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اسے وعظ و نصیحت کرو، اگر اس میں کوئی خیر و بھلائی ہوئی تو وہ نصیحت قبول کر لے گی، اور اپنی اہلیہ کو لونڈی کی طرح نہ مارو۔“ اسنادہ صحیح، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3260]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أبو داود (142. 143)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
--. (الصَّبْرُ عَلَى سُوءِ السُّلُوكِ بَدَلًا مِنَ الضَّرْبِ)
بدتمیزی پر صبر کرے پٹائی نہیں
حدیث نمبر: 3261
3261 - وَعَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: لَا تَضْرِبُوا إِمَاءِ اللَّهِ ، فَجَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: ذَئِرْنَ النِّسَاءُ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ فَرَخَّصَ فِي ضَرْبِهِنَّ فَأَطَافَ بِآلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْكُونَ أَزْوَاجَهُنَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَقَدْ طَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْكُونَ أَزْوَاجَهُنَّ لَيْسَ أُولَئِكَ بِخِيَارِكُمْ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.
ایاس بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی لونڈیوں (اپنی بیویوں) کو نہ مارو۔“ عمر رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: عورتیں اپنے خاوندوں پر جرات کرنے لگی ہیں، تب آپ نے انہیں مارنے کے متعلق رخصت عطا فرمائی تو بہت سی عورتیں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواجِ مطہرات کے پاس اپنے خاوندوں کی شکایت لے کر آئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بہت سی عورتیں اپنے خاوندوں کی شکایت لے کر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج کے پاس آئی ہیں، ایسے لوگ (جو اپنی ازواج کو مارتے ہیں) تم میں سے بہتر نہیں ہیں۔“ صحیح، رواہ ابوداؤد وابن ماجہ والدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3261]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (2146) و ابن ماجه (1985) و الدارمي (147/2 ح 2225)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (تَحْرِيمُ تَحْرِيضِ الزَّوْجَةِ عَلَى زَوْجِهَا)
بیوی کو شوہر کے خلاف بھڑکانا حرام ہے
حدیث نمبر: 3262
3262 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْسَ مِنَّا مِنْ خَبَّبَ امْرَأَةً عَلَى زَوْجِهَا أَوْ عَبْدًا عَلَى سَيِّدِهِ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی عورت کو اس کے خاوند کے خلاف یا غلام کو اس کے آقا کے خلاف بھڑکائے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3262]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أبو داود (5170)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (صِفَاتُ الْمُؤْمِنِ الْكَامِلِ)
کامل مومن کے اوصاف
حدیث نمبر: 3263
3263 - وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِنَّ مِنْ أَكْمَلِ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا وَأَلْطَفُهُمْ بِأَهْلِهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مومنوں میں سے کامل ایمان والا شخص وہ ہے جو ان میں سے اچھے اخلاق والا اور اپنے گھر والوں کے ساتھ زیادہ مہربان ہے۔“ سندہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3263]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الترمذي (2612 وقال: حسن)
٭ أبو قلابة لم يسمع من عائشة رضي الله عنھا و للحديث شواھد کثيرة دون قوله: ’’و الطفھم ...‘‘ وانظر الحديث الآتي: 3264»
٭ أبو قلابة لم يسمع من عائشة رضي الله عنھا و للحديث شواھد کثيرة دون قوله: ’’و الطفھم ...‘‘ وانظر الحديث الآتي: 3264»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
--. (الأَفْضَلُ مَنْ يُحْسِنُ مُعَامَلَةَ زَوْجَتِهِ)
بیوی سے اچھا سلوک کرنے والا افضل
حدیث نمبر: 3264
3264 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا وَخِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسَائِهِمْ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ إِلَى قَوْلِهِ خُلُقًا.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مومنوں میں سے کامل ایمان والا وہ شخص ہے جو ان میں سے اچھے اخلاق والا ہے، اور تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنی عورتوں کے لیے بہتر ہے۔“ (ترمذی)، اور انہوں نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور امام ابوداؤد نے اسے «خُلُقًا» تک روایت کیا ہے، اس کی سند حسن ہے، اسے ترمذی اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3264]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (1162) و أبو داود (4682)»
قال الشيخ الألباني:
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (ضَحِكُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَوْتٍ عَالٍ)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کھلکھلا کے ہنسنا
حدیث نمبر: 3265
3265 - وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ أَوْ خَيْبَرَ وَفِي سَهْوَتِهَا سِتْرٌ فَهَبَّتْ رِيحٌ فَكَشَفَتْ نَاحِيَةَ السِّتْرِ عَنْ بَنَاتٍ لِعَائِشَةَ لُعَبٍ، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ؟ قَالَتْ: بَنَاتِي ، وَرَأَى بَيْنَهُنَّ فَرَسًا لَهُ جَنَاحَانِ مِنْ رِقَاعٍ، فَقَالَ: مَا هَذَا الَّذِي أَرَى وَسْطَهُنَّ قَالَتْ: فَرَسٌ قَالَ وَمَا هَذَا الَّذِي عَلَيْهِ؟ قَالَتْ: قُلْتُ: جَنَاحَانِ، قَالَ فَرَسٌ لَهُ جَنَاحَانِ، قَالَتْ أَمَا سَمِعْتَ أَنَّ لِسُلَيْمَانَ خَيْلًا لَهَا أَجْنِحَةٌ؟ قَالَتْ: فَضَحِكَ حَتَّى رَأَيْتُ نَوَاجِذَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ تبوک یا غزوہ حنین سے واپس تشریف لائے، اور ان (عائشہ رضی اللہ عنہا) کی الماری پر پردہ تھا، ہوا چلی تو اس نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی گڑیوں اور کھلونوں سے پردہ ہٹا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! یہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: میری گڑیاں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں ایک گھوڑا دیکھا جس کے کپڑے سے بنے ہوئے دو پَر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں ان کے درمیان میں یہ کیا دیکھ رہا ہوں؟“ انہوں نے عرض کیا: گھوڑا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اور جو اس کے اوپر ہے، وہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: دو پَر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑا اور اس کے دو پَر!“ انہوں نے عرض کیا: کیا آپ نے نہیں سنا کہ سلیمان علیہ السلام کا ایک گھوڑا تھا جس کے پَر تھے؟ وہ بیان کرتی ہیں، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا دیے حتی کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھیں دیکھیں۔ (صحیح، رواہ ابوداؤد) [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3265]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (4932)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (السُّجُودُ حَقٌّ لِلَّهِ تَعَالَى فَقَطْ)
سجدہ صرف اللہ تعالیٰ کا حق
حدیث نمبر: 3266
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 3266 - عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: أَتَيْتُ الْحِيرَةَ فَرَأَيْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِمَرْزُبَانٍ لَهُمْ فَقُلْتُ: لَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحَقُّ أَنْ يُسْجَدَ لَهُ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: إِنِّي أَتَيْتُ الْحِيرَةَ فَرَأَيْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِمَرْزُبَانٍ لَهُمْ فَأَنْتَ أَحَقُّ بِأَنْ يُسْجَدَ لَكَ، فَقَالَ لِي: أَرَأَيْتَ لَوْ مَرَرْتَ بِقَبْرِى أَكُنْتَ تَسْجُدُ لَهُ؟"فَقُلْتُ لَا فَقَالَ:"لَا تَفْعَلُوا لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ النِّسَاءَ أَنْ يَسْجُدْنَ لِأَزْوَاجِهِنَّ لِمَا جَعَلَ اللَّهُ لَهُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ حَقٍّ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں حیرہ پہنچا تو میں نے وہاں کے باشندوں کو اپنے سپہ سالار کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تو میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زیادہ حق ہے کہ انہیں سجدہ کیا جائے۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو عرض کیا: میں حیرہ گیا تھا میں نے وہاں کے باشندوں کو اپنے سپہ سالار کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا، آپ زیادہ حق دار ہیں کہ آپ کو سجدہ کیا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے بتاؤ اگر تم میری قبر کے پاس سے گزرو تو کیا تم اسے سجدہ کرو گے؟“ میں نے عرض کیا، نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مت کرو، اگر میں کسی کو حکم دیتا کہ وہ کسی کو سجدہ کرے تو میں عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوندوں کو سجدہ کریں اس لیے کہ اللہ نے انہیں ان پر حق عطا کیا ہے۔“ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3266]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (2140) [و صححه الحاکم (187/2) ووافقه الذهبي]
٭ شريک القاضي صرح بالسماع عند البيھقي (291/7) و للحديث شواھد .»
٭ شريک القاضي صرح بالسماع عند البيھقي (291/7) و للحديث شواھد .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (السُّجُودُ حَقٌّ لِلَّهِ تَعَالَى فَقَطْ، بِرِوَايَةِ أَحْمَدَ)
سجدہ صرف اللہ تعالیٰ کا حق، بروایت احمد
حدیث نمبر: 3267
3267 - وَرَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ.
امام احمد رحمہ اللہ نے اسے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ یہ حسن ہے، «رَوَاهُ أَحْمَدُ» ”اسے امام احمد نے روایت کیا ہے“۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3267]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أحمد (227/5. 228 ح 22335)
٭ السند منقطع و له شواھد منھا الحديث السابق (3266)»
٭ السند منقطع و له شواھد منھا الحديث السابق (3266)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (لَا مَسْؤُولِيَّةَ عَلَى مَنْ يَضْرِبُ عَلَى عِصْيَانٍ)
نافرمانی کرنے پر مارے تو جوابدہ نہیں
حدیث نمبر: 3268
3268 - وَعَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"لَا يُسْأَلُ الرَّجُلُ فِيمَا ضَرَبَ امْرَأَتَهُ عَلَيْهِ"رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.
عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”خاوند سے دریافت نہ کیا جائے کہ اس نے اپنی بیوی کو کیوں مارا ہے؟“ حسن، اسے ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3268]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أبو داود (2147) و ابن ماجه (1986)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (شَكَاوَى امْرَأَةٍ فِي بَارِغَةِ النُّبُوَّةِ)
بارگاہ نبوت میں ایک عورت کی شکایات
حدیث نمبر: 3269
3269 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ عِنْدَهُ قَالَتْ: زَوْجِي صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ وَيُفَطِّرُنِي إِذَا صُمْتُ، وَلَا يُصَلِّي الْفَجْرَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، قَالَ: وَصَفْوَانُ عِنْدَهُ، قَالَ: فَسَأَلَهُ عَمَّا قَالَتْ: قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَّا قَوْلُهَا يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ فَإِنَّهَا تَقْرَأُ بِسُورَتَيْنِ وَقَدْ نَهَيْتُهَا، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: لَوْ كَانَتْ سُورَةً وَاحِدَةً لَكَفَتِ النَّاسَ. قَالَ: وَأَمَّا قَوْلُهَا يُفَطِّرُنِي إِذَا صُمْتُ فَإِنَّهَا تَنْطَلِقُ تَصُومُ وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ فَلَا أَصْبِرُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا تَصُومُ امْرَأَةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا ، وَأَمَّا قَوْلُهَا إِنِّي لَا أُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ قَدْ عُرِفَ لَنَا ذَلِكَ لَا نَكَادُ نَسْتَيْقِظُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، قَالَ: فَإِذَا اسْتَيْقَظْتَ يَا صَفْوَانُ فَصَلِّ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.
ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک عورت آپ کے پاس آئی تو اس نے عرض کیا: میرا خاوند صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ، جب میں نماز پڑھتی ہوں تو وہ مجھے مارتا ہے، جب میں (نفلی) روزہ رکھتی ہوں تو وہ مجھے افطار کرنے کا حکم دیتا ہے، اور وہ سورج طلوع ہونے پر نماز فجر پڑھتا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں، صفوان رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہی تھے، راوی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز کے متعلق جو اس (عورت) نے کہی تھی صفوان رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! رہا اس کا یہ کہنا کہ جب میں نماز پڑھتی ہوں تو وہ مجھے مارتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دو سورتیں پڑھتی ہے حالانکہ میں نے اسے منع کیا ہے، راوی بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفوان رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اگر ایک ہی سورت ہوتی تو وہ لوگوں کے لیے کافی ہوتی۔“ صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: رہا اس کا یہ کہنا کہ جب میں روزہ رکھتی ہوں تو وہ مجھے افطار کرا دیتا ہے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ روزے رکھتی چلی جاتی ہے جبکہ میں نوجوان آدمی ہوں، میں (جماع سے) رُک نہیں سکتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزے نہ رکھے۔“ اور اس کا یہ کہنا کہ میں سورج طلوع ہونے پر نماز پڑھتا ہوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے گھرانے کے متعلق مشہور ہے کہ ہم سورج طلوع ہونے پر ہی بیدار ہوتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”صفوان! جب تم بیدار ہو تب نماز پڑھ لیا کرو۔“ سندہ ضعیف، رواہ ابو داود و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3269]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أبو داود (2459) و ابن ماجه (1762) ٭ الأعمش عنعن .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف