🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (انْحِنَاءُ جَمَلٍ أَمَامَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
اونٹ کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جھکنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3270
3270 - وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فَجَاءَ بِعِيرٌ فَسَجَدَ لَهُ فَقَالَ أَصْحَابُهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَسْجُدُ لَكَ الْبَهَائِمُ وَالشَّجَرُ  فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَكَ فَقَالَ: اعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَأَكْرِمُوا أَخَاكُمْ وَلَوْ كُنْتُ آمُرُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ  أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا، وَلَوْ أَمَرَهَا أَنْ تَنْقُلَ مِنْ جَبَلٍ أَصْفَرَ إِلَى جَبَلٍ أَسْوَدَ وَمِنْ جَبَلٍ أَسْوَدَ إِلَى جَبَلٍ أَبْيَضَ كَانَ يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تَفْعَلَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مہاجرین و انصار کی جماعت میں تھے کہ اتنے میں ایک اونٹ آیا اور اس نے آپ کو سجدہ کیا۔ آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! چوپائے اور درخت آپ کو سجدہ کرتے ہیں، جبکہ ہم تو زیادہ حق دار ہیں کہ ہم آپ کو سجدہ کریں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اپنے رب کی عبادت کرو اور اپنے بھائی کی عزت کرو، اگر میں کسی کو حکم کرتا کہ وہ کسی کو سجدہ کرے تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے، اور اگر وہ اسے حکم دے کہ وہ جبلِ اصفر (زرد پہاڑ) سے جبلِ اسود (کالے پہاڑ) کی طرف اور جبلِ اسود کو جبلِ ابیض کی طرف پتھر منتقل کر دے تو اسے چاہیے کہ وہ ایسا ہی کرے۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ احمد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3270]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (76/6 ح 24975) [و ابن ماجه (1852) مختصرًا]
٭ فيه علي بن زيد بن جدعان: ضعيف .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (ثَلَاثَةُ أَشْقِيَاءَ لَا تُقْبَلُ لَهُمْ حَسَنَةٌ)
تین کم نصیب جن کی کوئی نیکی قبول نہیں ہو گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3271
3271 - وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: ثَلَاثَةٌ لَا تُقْبَلُ لَهُمْ صَلَاةٌ  وَلَا تَصْعَدُ لَهُمْ حَسَنَةٌ: الْعَبْدُ الْآبِقُ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى مَوَالِيهِ فَيَضَعَ يَدَهُ فِي أَيْدِيهِمْ، وَالْمَرْأَةُ السَّاخِطُ عَلَيْهَا زَوْجُهَا، وَالسَّكْرَانُ حَتَّى يَصْحُوَ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن کی نہ نماز قبول ہوتی ہے اور نہ کوئی نیکی اوپر چڑھتی ہے: مفرور غلام حتی کہ وہ اپنے مالکوں کے پاس واپس آ جائے اور اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے دے، وہ عورت جس پر اس کا خاوند ناراض ہو، اور نشے والا حتی کہ وہ ہوش میں آ جائے۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ البیہقی فی شعب الإیمان۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3271]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البيھقي في شعب الإيمان (8727، نسخة محققة: 8353، و السنن الکبري 389/1)
٭ الوليد بن مسلم مدلس لم يصرح بالسماع المسلسل و ھو شامي روي عن زھير بن محمد و رواية الشاميين عن زھير ضعيفة .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (أَفْضَلُ النِّسَاءِ؟)
سب سے بہتر عورت؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3272
3272 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَيُّ النِّسَاءِ خَيْرٌ؟  قَالَ: الَّتِي تَسُرُّهُ إِذَا نَظَرَ وَتُطِيعُهُ إِذَا أَمَرَ وَلَا تُخَالِفُهُ فِي نَفْسِهَا وَلَا مَالِهَا بِمَا يَكْرَهُ، رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا گیا: کون سی عورت بہتر ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”وہ جو اپنے خاوند کو خوش کر دے جب وہ اسے دیکھے، اور جب اسے حکم دے تو وہ اس کی اطاعت کرے اور اپنے مال و جان میں خاوند کی مرضی کے خلاف ایسا کام نہ کرے جو اسے ناپسند ہو۔“ (اسنادہ حسن، رواہ النسائی والبیہقی فی شعب الایمان) [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3272]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه النسائي (68/6 ح 3233) و البيھقي في شعب الإيمان (8737)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (أَرْبَعُ أَشْيَاءَ فِيهَا خَيْرُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ)
چار چیزوں میں دنیا اور آخرت کی بھلائی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3273
3273 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: أَرْبَعٌ مَنْ أُعْطِيهِنَّ فَقَدْ أُعْطِيَ خَيْرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ  : قَلْبٌ شَاكِرٌ، وَلِسَانٌ ذَاكِرٌ، وَبَدَنٌ عَلَى الْبَلَاءِ صَابِرٌ، وَزَوْجَةٌ لَا تَبْغِيهِ خَوْنًا فِي نَفْسِهَا وَمَالِهِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”چار چیزیں ایسی ہیں جسے مل جائیں تو اسے دنیا و آخرت کی بھلائی مل گئی: شکر گزار دل، ذکر کرنے والی زبان، تکلیفوں میں صبر کرنے والا بدن اور ایسی عورت جو اپنے خاوند سے اپنی ذات کے بارے میں اور اس کے مال کے بارے میں خیانت کی طالب نہ ہو۔“ (اسنادہ ضعیف، رواہ البیہقی فی شعب الایمان)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3273]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البيھقي في شعب الإيمان (4429، نسخة محققة: 4115)
٭ حميد الطويل مدلس و عنعن و أما المؤمل بن إسماعيل فھو صحيح الحديث عن الثوري و حسن الحديث عن غيره، علي الراجح و للحديث شاھد ضعيف في تاريخ أصبھان (167/2) و لون آخر في الأوسط للطبراني (7208) وسنده ضعيف من أجل عنعنة حميد الطويل وجاء عنده موسي بن إسماعيل بدل مؤمل بن إسماعيل (!)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (قَضِيَّةُ خُلْعِ امْرَأَةٍ فِي بَارِغَةِ النُّبُوَّةِ)
ایک عورت کا بارگاہ نبوت میں خلع کا مقدمہ پیش کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3274
بَابُ الْخُلْعِ وَالطَّلَاقِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 3274 - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قِيسٍ أَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ مَا أَعْتِبُ عَلَيْهِ فِي خُلُقٍ وَلَا دِينٍ وَلَكِنِّي أَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الْإِسْلَامِ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: اقْبَلِ الْحَدِيقَةَ وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً  . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے ثابت بن قیس کی عادات اور دینداری پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن میں اسلام میں (خاوند کی) نافرمانی کو ناپسند کرتی ہوں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس کا باغ واپس کر دو گی؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں! رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”باغ قبول کرو اور اسے ایک طلاق دے دو۔“ [رواہ البخاری] [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3274]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (5273)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (طَرِيقَةُ الطَّلَاقِ الصَّحِيحَةُ)
طلاق کا درست طریقہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3275
3275 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَةً لَهُ وَهِيَ حَائِضٌ  فَذَكَرَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَغَيَّظَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ: لِيُرَاجِعْهَا ثُمَّ يُمْسِكْهَا، ثُمَّ تَحِيضُ فَتَطْهُرُ، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطْلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ. وَفِي رِوَايَةٍ: مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لْيُطَلِّقْهَا طَاهِرًا أَوْ حَامِلًا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو ایام حیض میں طلاق دی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کیا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس پر ناراض ہوئے، اور فرمایا: ”اسے چاہیے کہ وہ رجوع کرے، پھر انتظار کرے حتی کہ وہ (ایام حیض گزرنے کے بعد) پاک ہو جائے، پھر حیض آئے، پھر پاک ہو، پھر اگر اسے طلاق دینا چاہے تو اسے حالت طہر میں جماع کرنے سے پہلے طلاق دے، یہی وہ عدت ہے جس کے مطابق اللہ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم فرمایا ہے۔“ ایک دوسری روایت میں ہے: ”اسے حکم دو کہ وہ رجوع کرے، پھر اسے حالت طہر یا حمل میں طلاق دے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3275]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4908) و مسلم (1471/1)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَرْكُ زَوْجَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَفَاهِيَةِ الدُّنْيَا)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیگمات کا دنیا کی آسائیش چھوڑ دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3276
3276 - وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاخْتَرْنَا اللَّهَ وَرَسُولَهُ  فَلَمْ يَعُدَّ ذَلِكَ عَلَيْنَا شَيْئًا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اختیار دیا تو ہم نے اللہ اور اس کے رسول کو منتخب کیا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے ہمارے متعلق کچھ بھی شمار نہ کیا۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3276]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5262) و مسلم (1477/24)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الْكَفَّارَةُ؟)
کفارہ؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3277
3277 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: فِي الْحَرَامِ يُكَفَّرُ  لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کسی چیز کو حرام قرار دینے پر کفارہ ادا کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] ”تمہارے لیے اللہ کے رسول صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (کی زندگی) میں بہترین نمونہ ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3277]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4911) و مسلم (1473/18)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (وَاقِعَةُ عَدَمِ شُرْبِ الْعَسَلِ)
شہد نہ پینے کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3278
3278 - وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ  وَشَرِبَ عِنْدَهَا عَسَلًا فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتَنَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلْتَقُلْ إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ، فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ: لَا بَأْسَ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَلَنْ أَعُودَ لَهُ وَقَدْ حَلَفْتُ لَا تُخْبِرِي بِذَلِكِ أَحَدًا، يَبْتَغِي مَرِضَاتَ أَزْوَاجِهِ فَنَزَلَتْ (يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاةَ أَزْوَاجِكَ) الْآيَةَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ہاں ٹھہرا کرتے تھے اور وہاں شہد پیا کرتے تھے، پس میں اور حفصہ رضی اللہ عنہما نے طے کیا کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جس کے پاس بھی تشریف لائیں تو وہ کہے: مجھے آپ سے «مَغَافِيرُ» (کھانے کا گوند جو عرفط پودے سے نکلتا ہے) کی بُو آ رہی ہے، کیا آپ نے «مَغَافِيرُ» کھایا ہے؟ چنانچہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان دونوں میں سے کسی ایک کے ہاں تشریف لے گئے تو اس نے آپ سے یہی کہا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ایسی کوئی بات نہیں، میں نے تو زینب کے ہاں شہد پیا ہے، میں دوبارہ اسے نہیں پیوں گا، اور میں نے حلف اٹھا لیا، تم کسی کو اس کے متعلق نہ بتانا۔“ آپ اپنی ازواج کی رضامندی چاہتے تھے چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ ۖ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ﴾ [سورة التحريم: 1] ”اے نبی! آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس چیز کو کیوں حرام قرار دیا جسے اللہ نے آپ کے لیے حلال قرار دیا ہے، آپ اپنی ازواج کی رضامندی چاہتے ہیں؟“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3278]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4912) و مسلم (1474/20)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (وَعِيدٌ لِمَنْ تَطْلُبُ الطَّلَاقَ بِلَا سَبَبٍ)
بلاوجہ طلاق کا مطالبہ کرنے والی کے لیے وعید
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3279
الْفَصْلُ الثَّانِي 3279 - عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلَاقًا فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ  فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.
ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو عورت بلا وجہ اپنے خاوند سے طلاق کا مطالبہ کرے تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔“ اسنادہ صحیح، رواہ احمد والترمذی وابن ماجہ والدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3279]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أحمد (277/5 ح 22738) و الترمذي (1187 و قال: حسن) و أبو داود (2226) وابن ماجه (2055) والدارمي (162/2 ح 2275)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں