🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (الاخْتِيَارُ فِي سِلْسِلَةِ النَّوْبَةِ)
باری کے سلسلے میں آپ کو اختیار
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3250
3250 - وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَغَارُ عَلَى اللَّائِي وَهَبْنَ أَنْفُسَهُنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: أَتَهَبُ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا  فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى (تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ) قُلْتُ مَا أَرَى رَبَّكَ إِلَّا يُسَارِعُ فِي هَوَاكَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَحَدِيثُ جَابِرٍ اتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَاءِ ذُكِرَ فِي قِصَّةِ حَجَّةِ الْوَدَاعِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں ان عورتوں کی مذمت کیا کرتی تھی جنہوں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے ہبہ کیا تھا، میں نے کہا: ”کیا عورت اپنے آپ کو ہبہ کر سکتی ہے؟“ جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ ۖ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ﴾ [سورة الأحزاب: 51] ”آپ ان میں سے جسے چاہیں دُور کریں اور جسے چاہیں اپنی طرف ٹھکانا دیں اور جن کو الگ کیا ان میں سے جسے چاہیں طلب فرمائیں تو آپ پر کوئی گناہ نہیں“، تو میں نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا: ”میں آپ کے رب کو دیکھتی ہوں کہ وہ آپ کی خواہش کو جلد پورا کرتا ہے“۔ متفق علیہ۔ اور جابر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث: «اتَّقُوا اللهَ فِي النِّسَاءِ» ”عورتوں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو“، حجۃ الوداع کے قصہ میں ذکر کی گئی ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3250]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4788) و مسلم (1464/49)
حديث جابر تقدم (2555) في حديث طويل .»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مُنَافَسَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ السَّيِّدَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي السِّبَاقِ)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دوڑنے میں مقابلہ کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3251
الْفَصْلُ الثَّانِي 3251 - عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ قَالَتْ فَسَابَقْتُهُ فَسَبَقْتُهُ عَلَى رِجْلَيَّ فَلَمَّا حَمَلْتُ اللَّحْمَ سَابَقْتُهُ فَسَبَقَنِي قَالَ هَذِهِ بِتِلْكَ السَّبْقَةِ  . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھیں، وہ بیان کرتی ہیں: میں نے آپ سے مقابلہ کیا تو میں دوڑ میں آپ سے آگے بڑھ گئی، جب میں فربہ ہو گئی تو میں نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مقابلہ کیا تو آپ مجھ سے آگے نکل گئے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”یہ اس سبقت کا بدلہ ہو گیا۔“ اسنادہ صحیح، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3251]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أبو داود (2578)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (حُسْنُ مُعَامَلَةِ أَهْلِ الْبَيْتِ)
اہل خانہ سے حسن سلوک
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3252
3252 - وَعَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ  وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي وَإِذَا مَاتَ صَاحِبُكُمْ فَدَعُوهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہے، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے بہتر ہوں، اور جب تمہارا کوئی ساتھی فوت ہو جائے تو اسے چھوڑ دو (اس کی برائیاں بیان نہ کرو)۔“ صحیح، رواہ الترمذی والدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3252]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (3895 وقال: حسن صحيح) و الدارمي (159/2 ح 2265)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (حُسْنُ مُعَامَلَةِ أَهْلِ الْعِيَالِ، بِرِوَايَةِ ابْنِ مَاجَةَ)
اپنے اہل و عیال سے حسن سلوک، بروایت ابن ماجہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3253
3253 - وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى قَوْلِهِ لِأَهْلِي.
ابن ماجہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «لِأَهْلِي» ”اپنے اہل کے لیے“ تک روایت کیا ہے۔ حسن، رواہ ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3253]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه ابن ماجه (1977)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بُشْرَى مَشْرُوطَةٌ بِالْجَنَّةِ لِلنِّسَاءِ)
عورتوں کے لیے جنت کی مشروط خوش خبری
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3254
3254 - وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: الْمَرْأَةُ إِذَا صَلَّتْ خَمْسَهَا وَصَامَتْ شَهْرَهَا وَأَحْصَنَتْ فَرْجَهَا وَأَطَاعَتْ بَعْلَهَا  فَلْتَدْخُلْ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَتْ. رَوَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ فِي الْحِلْيَةِ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب عورت پانچوں نمازیں پڑھے، ماہ رمضان کے روزے رکھے، اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرے اور اپنے خاوند کی اطاعت کرے تو پھر وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہو جائے۔“ (سندہ ضعیف، رواہ ابونعیم فی الحلیہ)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3254]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أبو نعيم في حلية الأولياء (308/6)
٭ فيه يزيد الرقاشي: ضعيف و سفيان الثوري مدلس و عنعن و للحديث شواھد ضعيفة عند ابن حبان (الموارد: 1296، الإحسان: 4163/4151) و أحمد (1/ 191 ح 1661) وغيرهما .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ السُّجُودِ لِلزَّوْجِ)
شوہر کو سجدہ کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3255
3255 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا  . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اگر میں کسی کو حکم دیتا کہ وہ کسی شخص کو (بطور تعظیم) سجدہ کرے تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔“ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3255]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (1159 وقال: حسن غريب)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (طَاعَةُ الزَّوْجِ)
شوہر کی اطاعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3256
3256 - وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ مَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَنْهَا رَاضٍ  دَخَلَتِ الْجَنَّةَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو عورت اس حال میں فوت ہو کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گی۔“ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3256]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (1161 وقال: حسن غريب)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (وُجُوبُ تَلْبِيَةِ رَغْبَةِ الزَّوْجِ عَلَى الْمَرْأَةِ)
شوہر کی خواہش پوری کرنا عورت کے لیے ضروری
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3257
3257 - وَعَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِذَا الرَّجُلُ دَعَا زَوْجَتَهُ لِحَاجَتِهِ فَلْتَأْتِهِ وَإِنْ كَانَتْ عَلَى التَّنُّورِ  . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
طلق بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی اپنی اہلیہ کو اپنی حاجت کے لیے بلائے تو اسے اس کے پاس جانا چاہیے خواہ وہ تنور پر ہو۔“ اسنادہ صحیح، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3257]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه الترمذي (1160 و قال: حسن غريب)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (دُعَاءُ سُوءِ الْحُورِ)
حور کی بددعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3258
3258 - وَعَنْ مُعَاذٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: لَا تُؤْذِي امْرَأَةٌ زَوْجَهَا فِي الدُّنْيَا إِلَّا قَالَتْ زَوْجُهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ: لَا تُؤْذِيهِ قَاتَلَكِ اللَّهُ  فَإِنَّمَا هُوَ عِنْدَكِ دَخِيلٌ يُوشِكُ أَنْ يُفَارِقَكِ إِلَيْنَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
معاذ رضی اللہ عنہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کوئی عورت اپنے شوہر کو دنیا میں تکلیف پہنچاتی ہے تو اس کی بڑی بڑی آنکھوں والی جنتی بیوی کہتی ہے: «قَاتَلَكِ اللّٰهُ» ”اللہ تجھے ہلاک کرے“، «لَا تُؤْذِيْهِ» ”اسے تکلیف نہ پہنچا“، وہ تو تیرے پاس بس مہمان ہے، وہ عنقریب تجھے چھوڑ کر ہماری طرف چلا آئے گا۔“ ترمذی، ابن ماجہ۔ اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔ اسنادُہ حسن، رواہ الترمذی وابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3258]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (1174) و ابن ماجه (2014)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَعْضُ حُقُوقِ الزَّوْجَةِ)
بیوی کے چند حقوق
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3259
3259 - وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْقُشَيْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا حَقُّ زَوْجَةِ أَحَدِنَا عَلَيْهِ؟  قَالَ: أَنْ تُطْعِمَهَا إِذَا طَعِمْتَ وَتَكْسُوَهَا إِذَا اكْتَسَيْتَ وَلَا تَضْرِبِ الْوَجْهَ وَلَا تُقَبِّحْ وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.
حکیم بن معاویہ قشیری اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بیوی کا خاوند پر کیا حق ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، جب تم پہنو تو اسے بھی پہناؤ، اس کے چہرے پر نہ مارو، نہ اسے برا بھلا کہو اور (ناراضی پر) صرف گھر میں اس سے علیحدگی اختیار کرو۔“ اسنادہ صحیح، رواہ احمد و ابوداؤد و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3259]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أحمد (446/4. 447 ح 20257، 20262) و أبو داود (2142) و ابن ماجه (1850)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں