مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (ذَرَّةٌ مِنْ مُسْكِرٍ حَرَامٌ)
نشہ لانے والی چیز کا ایک ذرہ بھی حرام ہے
حدیث نمبر: 3645
3645 - وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس چیز کی کثیر مقدار نشہ آور ہو تو اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہے۔“ اس کی سند حسن ہے، اسے ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3645]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (1865 وقال: حسن غريب) و أبو داود (2681) و ابن ماجه (3393)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (قَلِيلٌ مِنَ المُسْكِرِ حَرَامٌ)
نشہ آور چیز کی چُلو بھر مقدار بھی حرام
حدیث نمبر: 3646
3646 - وَعَنْ عَائِشَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا أَسْكَرَ مِنْهُ الْفَرَقُ فَمِلْءُ الْكَفِّ مِنْهُ حَرَامٌ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب «الْفَرَقُ» (سولہ رطل) نشہ آور ہو تو اس کا چلو بھر پینا بھی حرام ہے۔“ حسن، اسے احمد، ترمذی اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3646]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أحمد (131/6 ح 25506) و الترمذي (1866 وقال: حسن) و أبو داود (3687)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (أَنْوَاعُ الخَمْرِ)
شراب کی قسمیں
حدیث نمبر: 3647
3647 - وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنَ الْحِنْطَةِ خَمْرًا وَمِنَ الشَّعِيرِ خَمْرًا وَمِنَ التَّمْرِ خَمْرًا وَمِنَ الزَّبِيبِ خَمْرًا وَمِنَ الْعَسَلِ خَمْرًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”گندم سے شراب ہوتی ہے، جو سے شراب ہوتی ہے، کھجور سے شراب ہوتی ہے، انگور سے بھی اور شہد سے بھی شراب ہوتی ہے۔“ ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ۔ اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔ حسن، اسے ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3647]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه الترمذي (1872) و أبو داود (3676) و ابن ماجه (3379)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (فِي ضَوْءِ آيَةِ تَحْرِيمِ الخَمْرِ)
شراب حرام کی جانے والی آیت کی روشنی میں
حدیث نمبر: 3648
3648 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ عِنْدَنَا خَمْرٌ لِيَتِيمٍ فَلَمَّا نَزَلَتِ الْمَائِدَةُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ وَقُلْتُ: إِنَّهُ لِيَتِيمٍ، فَقَالَ: أَهْرِيقُوهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہمارے پاس ایک یتیم بچے کی شراب تھی، جب سورۂ مائدہ نازل ہوئی تو میں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا اور میں نے عرض کیا: وہ یتیم کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بہا دو۔“ صحیح، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3648]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (1263 وقال: حسن) [و له شواھد] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (لَا يَجُوزُ الِاسْتِعْمَالُ فِي آنِيَةِ الخَمْرِ)
شراب کے برتن بھی استعمال کرنا جائز نہیں
حدیث نمبر: 3649
3649 - وَعَنْ أَنَسِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي اشْتَرَيْتُ خَمْرًا لِأَيْتَامٍ فِي حِجْرِي، قَالَ: أَهْرِقِ الْخَمْرَ وَاكْسِرِ الدِّنَانَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَضَعَّفَهُ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَيْتَامٍ وَرِثُوا خَمْرًا ، قَالَ: أَهْرِقْهَا، قَالَ: أَفَلَا أَجْعَلُهَا خَلًّا؟ قَالَ: لَا.
انس رضی اللہ عنہ، ابوطلحہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں نے اپنے زیرِ پرورش یتیم بچوں کے لیے شراب خریدی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”شراب بہا دو اور (اس کے) برتن توڑ دو۔“ (ترمذی) اور انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا، اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یتیم بچوں کے ورثہ میں آنے والی شراب کے متعلق دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بہا دو۔“ انہوں نے عرض کیا: کیا میں اسے سرکہ نہ بنا لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ صحیح، رواہ الترمذی وابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3649]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (1293) و أبو داود (3675) [و أصله عند مسلم (1983) بالاختصار]
٭ لم يصب من ضعفه، ليث بن أبي سليم: لم ينفرد به، بل تابعه السدي و للحديث شواھد .»
٭ لم يصب من ضعفه، ليث بن أبي سليم: لم ينفرد به، بل تابعه السدي و للحديث شواھد .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (كُلُّ مَا أَسْكَرَ مَمْنُوعٌ)
ہر وہ چیز جس سے نشہ ہو منع ہے
حدیث نمبر: 3650
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 3650 - عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ وَمُفْتِرٍ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ”ہر نشہ آور اور قُویٰ میں سستی پیدا کرنے والی ہر چیز“ سے منع فرمایا ہے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3650]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (3686)
٭ حکم بن عتيبة مدلس و عنعن .»
٭ حکم بن عتيبة مدلس و عنعن .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (شُرْبُ الخَمْرِ حَرَامٌ وَلَوْ فِي شِدَّةِ البَرْدِ)
سخت سردی میں بھی شراب پینا حرام ہے
حدیث نمبر: 3651
3651 - وَعَنْ دَيْلَمٍ الْحِمْيَرِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضٍ بَارِدَةٍ وَنُعَالِجُ فِيهَا عَمَلًا شَدِيدًا، وَإِنَّا نَتَّخِذُ شَرَابًا مِنْ هَذَا الْقَمْحِ نَتَقَوَّى بِهِ عَلَى أَعْمَالِنَا وَعَلَى بَرْدِ بِلَادِنَا ، قَالَ: هَلْ يُسْكِرُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: فَاجْتَنِبُوهُ. قُلْتُ: إِنَّ النَّاسَ غَيْرُ تَارِكِيهِ، قَالَ: إِنْ لَمْ يَتْرُكُوهُ قَاتِلُوهُمْ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
دیلم حمیری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا، اللہ کے رسول! ہم سرد علاقے میں رہتے ہیں اور وہاں مشقت والا کام کرتے ہیں، ہم اس گندم سے شراب تیار کرتے ہیں جس کے ذریعے ہم اپنے کام اور اپنے علاقے کی سردی کے مقابلے میں قوت حاصل کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ نشہ آور ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے اجتناب کرو۔“ میں نے عرض کیا: لوگ اسے ترک کرنے والے نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ اسے نہ چھوڑیں تو ان سے لڑائی کرو۔“ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3651]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أبو داود (3683)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (العَلَامَاتُ الثَّقَافِيَّةُ الشَّيْطَانِيَّةُ)
شیطانی ثقافتی علامات
حدیث نمبر: 3652
3652 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَالْكُوبَةِ وَالْغُبَيْرَاءِ، وَقَالَ: كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شراب، جوئے، نرد / چھوٹے طبلے اور غبیراء (شراب کی ایک قسم) سے منع فرمایا، اور فرمایا: ” «كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ» ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ [حسن، رواہ ابوداؤد] [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3652]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أبو داود (3685)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (شَارِبُ الخَمْرِ لَا يَدْخُلُ الجَنَّةَ)
شرابی جنت میں نہیں جائے گا
حدیث نمبر: 3653
3653 - وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ وَلَا قَمَّارٌ وَلَا مَنَّانٌ وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: وَلَا وَلَدَ زِنْيَةٍ بَدَلَ قَمَّارٍ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”والدین کا نافرمان، قمار، احسان جتلانے والا اور ہمیشہ شراب پینے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا“۔ (دارمی) اور انہی کی ایک روایت میں «قِمَار» کے بجائے «وَلَدُ زِنَا» کا ذکر ہے۔ (حسن، رواہ الدارمی)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3653]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن دون قوله: ’’و لا قمار‘‘، رواه الدارمي (112/2 ح 2099. 2100) [و النسائي (318/8 ح 5675 وھو حديث حسن]
٭ قوله: ’’ولا قمار‘‘ لم أجده و الباقي حسن .»
٭ قوله: ’’ولا قمار‘‘ لم أجده و الباقي حسن .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن دون قوله: ’’و لا قمار‘‘
--. (عُقُوبَةُ شَارِبِ الخَمْرِ فِي الآخِرَةِ شَرَابُ صَدِيدِ أَهْلِ النَّارِ)
شرابی کو آخرت میں دوزخیوں کی پیپ کی سزا
حدیث نمبر: 3654
3654 - وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى بَعَثَنِي رَحْمَةً لِلْعَالِمِينَ وَأَمَرَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ بِمَحْقِ الْمَعَازِفِ وَالْمَزَامِيرِ وَالْأَوْثَانِ وَالصُّلُبِ . وَأَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ وَحَلَفَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ بِعِزَّتِهِ: لَا يَشْرَبُ عَبْدٌ مِنْ عَبِيدِي جَرْعَةً مِنْ خَمْرٍ إِلَّا سَقَيْتُهُ مِنَ الصَّدِيدِ مِثْلَهَا، وَلَا يَتْرُكُهَا مِنْ مَخَافَتِي إِلَّا سَقَيْتُهُ مِنْ حِيَاضِ الْقُدُسِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.
ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے جہان والوں کے لیے باعثِ رحمت اور باعثِ ہدایت بنا کر مبعوث فرمایا، اور میرے رب نے آلاتِ موسیقی، بتوں، صلیبوں اور رسوماتِ جاہلیت ختم کرنے کا مجھے حکم فرمایا، اور میرے رب عزوجل نے اپنی عزت کی قسم اٹھا کر فرمایا: ”میرے جس بندے نے شراب کا ایک گھونٹ پیا تو میں اسی مثل اسے پیپ پلاؤں گا اور جس نے میرے ڈر کی وجہ سے اسے ترک کر دیا تو میں اسے شرابِ طہور پلاؤں گا۔““ «إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ جِدًّا» (اس کی سند بہت ضعیف ہے)، رواہ احمد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3654]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه أحمد (257/5 ح 22571)
٭ فرج بن فضالة الحمصي (ضعيف) عن علي بن يزيد (ضعيف جدًا) عن القاسم عنه .»
٭ فرج بن فضالة الحمصي (ضعيف) عن علي بن يزيد (ضعيف جدًا) عن القاسم عنه .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا