مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (عُقوبَةُ شُرْبِ الخَمْرِ أَرْبَعونَ جَلْدَةً)
شراب نوشی کی سزا چالیس جوتے
حدیث نمبر: 3615
3615 - وَفِي رِوَايَةٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَضْرِبُ فِي الْخَمْرِ بِالنِّعَالِ وَالْجَرِيدِ أَرْبَعِينَ .
اور انس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شراب نوشی پر چالیس جوتے اور شاخیں مارا کرتے تھے۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3615]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1706/37)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (زِيادَةُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ في عُقوبَةِ شُرْبِ الخَمْرِ)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ شراب نوشی کی سزا میں اضافہ کیا
حدیث نمبر: 3616
3616 - وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: كَانَ يُؤْتَى بِالشَّارِبِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِمْرَةِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ فَنَقُومُ عَلَيْهِ بِأَيْدِينَا وَنِعَالِنَا وَأَرْدِيَتِنَا حَتَّى كَانَ آخِرُ إِمْرَةِ عُمَرَ فَجَلَدَ أَرْبَعِينَ حَتَّى إِذَا عَتَوْا وَفَسَقُوا جَلَدَ ثَمَانِينَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت اور عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے شروع کے دور میں شراب نوش کو لایا جاتا تو ہم اپنے ہاتھوں، جوتوں اور اپنے کپڑوں کے ساتھ اسے مارتے تھے، یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آخری دور میں چالیس کوڑے مارے جاتے تھے، حتیٰ کہ جب وہ حد سے بڑھ گئے اور سرکشی پر اتر آئے تو انہوں نے اسی کوڑے مارے۔ [رواہ البخاری] [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3616]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (6779)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (عُقوبَةُ جَلْدِ مَنْ أَكْثَرَ مِن شُرْبِ الخَمْرِ وَلَكِنْ لا يُقْتَلُ)
زیادہ شراب نوشی پر کوڑے مارنے کی سزا لیکن موت نہیں
حدیث نمبر: 3617
الْفَصْلُ الثَّانِي 3617 - عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ فَإِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ قَالَ: ثُمَّ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ فِي الرَّابِعَةِ فَضَرَبَهُ وَلَمْ يَقْتُلْهُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
جابر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص شراب پیے تو اسے کوڑے مارو، اگر وہ چوتھی مرتبہ پیے تو اسے قتل کر دو۔“ راوی بیان کرتے ہیں، پھر اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی پیش کیا گیا جس نے چوتھی مرتبہ شراب پی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے قتل نہیں کیا۔ (حسن، رواہ الترمذی) [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3617]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه الترمذي (1444)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (عُقوبَةُ جَلْدِ مَنْ أَكْثَرَ مِن شُرْبِ الخَمْرِ وَلَكِنْ لا يُقْتَلُ، بِرِوايَةِ أَبي دَاوُد)
زیادہ شراب نوشی پر کوڑے مارنے کی سزا لیکن موت نہیں، بروایت ابوداؤد
حدیث نمبر: 3618
3618 - وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ.
امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اسے قبیصہ بن ذؤیب رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے۔ حسن، «رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ» ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3618]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أبو داود (4485)
٭ قبيصة بن ذويب صحابي صغير، له رؤية و مراسيل الصحابة مقبولة، رضي الله عنهم .»
٭ قبيصة بن ذويب صحابي صغير، له رؤية و مراسيل الصحابة مقبولة، رضي الله عنهم .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (رَميُ رَسولِ اللهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التُّرابَ في وَجْهِ شارِبِ الخَمْرِ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک شرابی کے منھ پر مٹی پھینکنا
حدیث نمبر: 3619
3619 - وَفِي أُخْرَى لَهُمَا وَلِلنَّسَائِيِّ وَابْنِ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيِّ عَنْ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمُ ابْنُ عُمَرَ وَمُعَاوِيَةُ وَأَبُو هُرَيْرَةَ وَالشَّرِيدُ إِلَى قَوْلِهِ فَاقْتُلُوهُ.
ابوداؤد اور ترمذی کی دوسری روایت اور نسائی، ابن ماجہ اور دارمی کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کی جماعت، جن میں ابن عمر رضی اللہ عنہما، معاویہ رضی اللہ عنہ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور شرید رضی اللہ عنہ ہیں، سے ”اسے قتل کر دو۔“ تک مروی ہے۔ صحیح، «رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ» ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3619]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه النسائي (في الکبري 255/3 ح 5296 و الصغري 314/8 ح 5665) و أبو داود (4484) وابن ماجه (2572) و أحمد (280/2) عن أبي ھريرة رضي الله عنه و سنده صحيح و رواه ابن ماجه (2573) و أبو داود (4482) و الترمذي (1444) عن معاوية بن أبي سفيان رضي الله عنه و رواه أبو داود (4483) و أحمد (136/2 ح6197) والنسائي (313/8 ح 5664) و الدارمي (175/2. 176 ح 2318) و النسائي في الکبري (5301) و أحمد (388/4. 389) و الحاکم (372/4 عن الشريد رضي الله عنه و صححه الحاکم علي شرط مسلم ووافقه الذهبي (!)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (رَميُ التُّرابِ في وَجْهِ شارِبِ الخَمْرِ)
شرابی کے چہرے پر مٹی پھینکنا
حدیث نمبر: 3620
3620 - وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَزْهَرِ قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَقَالَ لِلنَّاسِ: اضْرِبُوهُ. فَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِالنِّعَالِ وَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِالْعَصَا وَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِالْمِيتَخَةِ. قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: يَعْنِي الْجَرِيدَةَ الرَّطْبَةَ، ثُمَّ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُرَابًا مِنَ الْأَرْضِ فَرَمَى بِهِ فِي وَجْهِهِ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عبدالرحمٰن بن ازہر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں جب ایک شخص کو، جس نے شراب پی رکھی تھی، لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: ”اسے مارو۔“ ان میں سے کسی نے اسے جوتوں کے ساتھ مارا، کسی نے لاٹھی کے ساتھ مارا اور کسی نے اسے کھجور کی سبز شاخ کے ساتھ مارا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمین سے خاک اٹھائی اور اس کے چہرے پر دے ماری۔ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3620]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أبو داود (4489)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (تَأْنيبُ شارِبِ الخَمْرِ)
شرابی کو شرم دلانا
حدیث نمبر: 3621
3621 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ فَقَالَ: اضْرِبُوهُ. فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِهِ وَالضَّارِبُ بِثَوْبِهِ وَالضَّارِبُ بِنَعْلِهِ، ثُمَّ قَالَ: بَكِّتُوهُ. فَأَقْبَلُوا عَلَيْهِ يَقُولُونَ: مَا اتَّقَيْتَ اللَّهَ مَا خَشِيتَ اللَّهَ وَمَا اسْتَحْيَيْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: أَخْزَاكَ اللَّهُ، قَالَ: لَا تَقُولُوا هَكَذَا، لَا تُعِينُوا عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ وَلَكِنْ قُولُوا اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے شراب پی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو۔“ ہم میں سے کوئی اسے ہاتھ سے مار رہا تھا، کوئی اپنے کپڑے سے اور کوئی اپنے جوتے سے مار رہا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ملامت کرو۔“ وہ اس کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے: تو اللہ سے نہ ڈرا، تجھے اللہ کا خوف نہ آیا اور تجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حیا نہ آئی، اور کسی نے کہہ دیا: «أَخْزَاكَ اللَّهُ» ”اللہ تمہیں رسوا کرے“، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس طرح نہ کہو، اور اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو۔ بلکہ تم کہو: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ» ”اے اللہ! اسے بخش دے اور اس پر رحم فرما۔“”صحیح، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3621]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (4477. 4478)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (بَيانُ تَعَلُّقِ شارِبٍ بِالعَبّاسِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ)
ایک شرابی کا حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے چمٹ جانے کا بیان
حدیث نمبر: 3622
3622 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: شَرِبَ رَجُلٌ فَسَكِرَ فَلُقِيَ يَمِيلُ فِي الْفَجِّ فَانْطُلِقَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا حَاذَى دَارَ الْعَبَّاسِ انْفَلَتَ فَدَخَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ فَالْتَزَمَهُ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَحِكَ وَقَالَ: أَفَعَلَهَا، وَلَمْ يَأْمُرْ فِيهَا بِشَيْءٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے شراب پی تو وہ مدہوش ہو گیا، وہ راستے میں جھومتا ہوا ملا تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لے جایا جانے لگا، جب وہ عباس رضی اللہ عنہ کے گھر کے برابر پہنچا تو وہ بھاگ کر عباس رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گیا اور ان سے چمٹ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا دیے اور فرمایا: ”کیا اس نے یہ کیا؟“ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے متعلق کچھ بھی نہ کہا۔ (صحیح، رواہ ابوداؤد) [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3622]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (4476) [و النسائي في الکبري (5290 وابن جريج صرح بالسماع عنده) و صححه الحاکم (373/4) ووافقه الذهبي] »
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (بَيانٌ مِنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ في عُقوبَةِ شارِبِ الخَمْرِ)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا شرابی کی سزا کے بارے میں ایک بیان
حدیث نمبر: 3623
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 3623 - عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ النَّخَعِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَقُولُ: مَا كُنْتُ لِأُقِيمَ عَلَى أَحَدٍ حَدًّا فَيَمُوتَ فَأَجِدَ فِي نَفْسِي مِنْهُ شَيْئًا إِلَّا صَاحِبَ الْخَمْرِ ; فَإِنَّهُ لَوْ مَاتَ وَدَيْتُهُ وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسُنَّهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عمیر بن سعید نخعی بیان کرتے ہیں، میں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: اگر میں کسی شخص پر حد قائم کروں اور وہ فوت ہو جائے تو میں اپنے دل میں کسی قسم کا افسوس نہیں کروں گا، لیکن اگر شرابی پر حد قائم کروں اور وہ فوت ہو جائے تو میں اس کی طرف سے دیت دوں گا، یہ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بارے میں کوئی حد مقرر نہیں فرمائی۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3623]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6778) و مسلم (1707/39)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (عُقوبَةُ الشّارِبِ عِندَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شرابی کے لئے سزا
حدیث نمبر: 3624
3624 - وَعَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدَّيْلِمِيِّ قَالَ: إِنَّ عُمَرَ اسْتَشَارَ فِي حَدِّ الْخَمْرِ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: أَرَى أَنْ تَجْلِدَهُ ثَمَانِينَ جَلْدَةً ; فَإِنَّهُ إِذَا شَرِبَ سَكِرَ وَإِذَا سَكِرَ هَذَى وَإِذَا هَذَى افْتَرَى فَجَلَدَ عُمَرُ فِي حَدِّ الْخَمْرِ ثَمَانِينَ. رَوَاهُ مَالِكٌ.
ثور بن زید دیلمی بیان کرتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے حدِ شراب کے متعلق مشورہ طلب کیا تو علی رضی اللہ عنہ نے انہیں فرمایا: میرا خیال ہے کہ آپ اسے اسی کوڑے ماریں، کیونکہ جب وہ شراب پیتا ہے تو وہ مدہوش ہو جاتا ہے اور جب مدہوش ہو جاتا ہے تو وہ ہذیانی کیفیت میں اول فول باتیں کرتا ہے، اور جب وہ اول فول باتیں کرتا ہے تو پھر افترا پردازی کرتا ہے؛ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے شراب کی حد میں اسی کوڑے مارے۔ (صحیح، رواہ مالک)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3624]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه مالک (842/2 ح 1633)
٭ ھذا منقطع و أسنده الطحاوي کما في الاستذکار (7/8) وسنده حسن، و للحديث شواھد .»
٭ ھذا منقطع و أسنده الطحاوي کما في الاستذکار (7/8) وسنده حسن، و للحديث شواھد .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح