مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (عَدَمُ لَعْنِ المُدْمِنِ على شُرْبِ الخَمْرِ)
عادی شراب نوش پر بھی لعنت نہ کی جائے
حدیث نمبر: 3625
بَابُ مَا لَا يُدْعَى عَلَى الْمَحْدُودِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 3625 - عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ رَجُلًا اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ يُلَقَّبُ حِمَارًا كَانَ يُضْحِكُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَلَدَهُ فِي الشَّرَابِ فَأُتِيَ بِهِ يَوْمًا فَأَمَرَ بِهِ فَجُلِدَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: اللَّهُمَّ الْعَنْهُ مَا أَكْثَرَ مَا يُؤْتَى بِهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَلْعَنُوهُ فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ أَنَّهُ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جس کا نام عبداللہ اور لقب حمار تھا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہنسایا کرتا تھا، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شراب نوشی کے جرم میں اس پر حد نافذ کی تھی، ایک روز اسے پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کوڑے مارنے کا حکم فرمایا تو اسے کوڑے مارے گئے، لوگوں میں سے کسی نے کہہ دیا: اے اللہ! اس پر لعنت فرما، کتنی ہی بار اسے (شراب نوشی کے جرم میں) لایا جا چکا ہے! تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر لعنت نہ بھیجو، اللہ کی قسم! میں جو جانتا ہوں وہ یہ ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرتا ہے۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3625]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (6780)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (اَلدُّعَاءُ عَلَى بَعْدَ العُقُوبَةِ مَعْنَاهُ مُعَاوَنَةُ الشَّيْطَانِ)
سزا دینے کے بعد بددعا کرنا یعنی شیطان کی مدد کرنا
حدیث نمبر: 3626
3626 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ فَقَالَ: اضْرِبُوهُ فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِهِ وَالضَّارِبُ بِنَعْلِهِ وَالضَّارِبُ بِثَوْبِهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: أَخْزَاكَ اللَّهُ قَالَ: لَا تَقُولُوا هَكَذَا لَا تُعِينُوا عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی لایا گیا جس نے پی رکھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو۔“ ہم میں سے کوئی اپنے ہاتھ سے مارنے والا تھا، کوئی جوتوں کے ساتھ اور کوئی اپنے کپڑے کے ساتھ مارنے والا تھا، جب وہ واپس ہوا تو کسی نے کہہ دیا: اللہ تمہیں رسوا کرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے نہ کہو، اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3626]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (6777)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (اِنتِهَاكُ عِرْضِ أَخِيكَ أَشَدُّ مِنْ أَكْلِ لَحْمِ حِمَارٍ مَيِّتٍ)
اپنے بھائی کی آبروریزی مرے ہوئے گدھے کے گوشت سے زیادہ برا
حدیث نمبر: 3627
الْفَصْلُ الثَّانِي 3627 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ الْأَسْلَمِيُّ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَنَّهُ أَصَابَ امْرَأَةً حَرَامًا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ كُلَّ ذَلِكَ يُعْرِضُ عَنْهُ فَأَقْبَلَ فِي الْخَامِسَةِ فَقَالَ: أَنِكْتَهَا؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: حَتَّى غَابَ ذَلِكَ مِنْكَ فِي ذَلِكَ مِنْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: كَمَا يَغِيبُ الْمِرْوَدُ فِي الْمُكْحُلَةِ وَالرِّشَاءُ فِي الْبِئْرِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: هَلْ تَدْرِي مَا الزِّنَا؟ قَالَ: نَعَمْ، أَتَيْتُ مِنْهَا حَرَامًا مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ حَلَالًا، قَالَ: فَمَا تُرِيدُ بِهَذَا الْقَوْلِ؟ قَالَ: أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي، فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ، فَسَمِعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِهِ يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: انْظُرْ إِلَى هَذَا الَّذِي سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَلَمْ تَدَعْهُ نَفْسُهُ حَتَّى رُجِمَ رَجْمَ الْكَلْبِ، فَسَكَتَ عَنْهُمَا، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً حَتَّى مَرَّ بِجِيفَةِ حِمَارٍ شَائِلٍ بِرِجْلِهِ، فَقَالَ: أَيْنَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ؟ قَالَا: نَحْنُ ذَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: انْزِلَا فَكُلَا مِنْ جِيفَةِ الْحِمَارِ، فَقَالَا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَنْ يَأْكُلُ مِنْ هَذَا؟ قَالَ: فَمَا نِلْتُمَا مِنْ عِرْضِ أَخِيكُمَا آنِفًا أَشَدُّ مِنْ أَكْلٍ مِنْهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ الْآنَ لَفِي أَنْهَارِ الْجَنَّةِ يَنْغَمِسُ بِهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اسلمی (ماعز رضی اللہ عنہ) نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی ذات کے خلاف چار مرتبہ گواہی دی کہ انہوں نے ایک عورت کے ساتھ حرام کام (زنا) کا ارتکاب کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر مرتبہ ان سے اعراض فرماتے رہے، پانچویں مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے توجہ فرمائی تو پوچھا: ”کیا تم نے اس سے جماع کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”حتیٰ کہ تمہاری یہ چیز (شرم گاہ) اس عورت کی اس چیز (شرم گاہ) میں غائب ہو گئی؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس طرح سلائی سرمے دانی میں اور رسی کنویں میں داخل ہو (کر غائب ہو) جاتی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو زنا کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، میں نے اس کے ساتھ حرام طور پر وہ کام کیا ہے جو آدمی حلال طور پر اپنی اہلیہ کے ساتھ کرتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے اس قول و اقرار سے کیا چاہتے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے پاک فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے متعلق حکم فرمایا تو انہیں رجم کر دیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ میں سے دو آدمیوں کو سنا کہ ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا: اس آدمی کو دیکھو جس کی اللہ نے ستر پوشی کی تھی، اس کے نفس نے اسے نہ چھوڑا حتیٰ کہ وہ کتے کی طرح سنگسار کر دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے متعلق خاموشی اختیار فرمائی، پھر کچھ دیر چلے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مردار گدھے کے پاس سے گزرے جس نے اپنی ٹانگ اٹھا رکھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”فلاں فلاں شخص کہاں ہیں؟“ ان دونوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم حاضر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں نیچے اترو اور اس مردار گدھے کا گوشت کھاؤ۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اسے کون کھائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ابھی جو اپنے بھائی کی عزت پامال کی ہے وہ اسے کھانے سے بھی زیادہ سنگین ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ تو اب جنت کی نہروں میں غوطہ زنی کر رہا ہے۔“ (إِسْنَادُهُ حَسَنٌ، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3627]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (4428)»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (إِذَا أُقِيمَتِ العُقُوبَةُ سُقِطَ الذَّنْبُ)
سزا ملنے سے گناہ معاف ہو جاتا ہے
حدیث نمبر: 3628
3628 - وَعَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَصَابَ ذَنْبًا أُقِيمَ عَلَيْهِ حَدُّ ذَلِكَ الذَّنْبِ فَهُوَ كَفَّارَتُهُ. رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ.
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے کوئی گناہ کیا اور اس گناہ کی حد قائم کر دی گئی تو وہ (حد) اس کا کفارہ بن جاتی ہے۔“ حسن، رواہ فی شرح السنہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3628]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه البغوي في شرح السنة (311/10 ح 2594) [و أحمد (214/5. 215) ]
٭ و له شاھد في الصحيح: ’’فمن أصاب من ذلک شيئًا فعوقب في الدنيا فھو کفارة له‘‘ فالحديث حسن .»
٭ و له شاھد في الصحيح: ’’فمن أصاب من ذلک شيئًا فعوقب في الدنيا فھو کفارة له‘‘ فالحديث حسن .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (بَيَانُ مَنْ سَتَرَ اللَّهُ ذَنْبَهُ)
جس کے گناہ کی اللہ تعالیٰ پردہ پوشی کرے اس کا بیان
حدیث نمبر: 3629
3629 - وَعَنْ عَلِيٍّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَصَابَ حَدًّا فَعُجِّلَ عُقُوبَتَهُ فِي الدُّنْيَا فَاللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ أَنْ يُثَنِّيَ عَلَى عَبْدِهِ الْعُقُوبَةَ فِي الْآخِرَةِ، وَمَنْ أَصَابَ حَدًّا فَسَتَرَهُ اللَّهُ وَعَفَا عَنْهُ فَاللَّهُ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ فِي شَيْءٍ قَدْ عَفَا عَنْهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
علی رضی اللہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے موجبِ حد کسی گناہ کا ارتکاب کیا اور اسے دنیا میں اس کی سزا مل گئی تو اللہ اس سے زیادہ عادل ہے کہ وہ اپنے بندے کو آخرت میں دوبارہ سزا دے، اور جو شخص کسی موجبِ حد گناہ کا ارتکاب کرے اور اللہ اس کی پردہ پوشی فرمائے اور اس سے درگزر فرمائے تو اللہ اس سے زیادہ کریم ہے کہ وہ کسی چیز پر مؤاخذہ فرمائے جس سے اس نے درگزر فرمایا ہو۔“ ترمذی، ابن ماجہ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3629]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (2626) و ابن ماجه (2604)
٭ أبو إسحاق السبيعي مدلس و عنعن .»
٭ أبو إسحاق السبيعي مدلس و عنعن .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (كَمْ يُمْكِنُ أَنْ تُزَادَ عُقُوبَةُ الجَلْدِ)
کوڑوں کی سزا کتنی بڑھائی جا سکتی ہے
حدیث نمبر: 3630
بَابُ التَّعْزِيرِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 3630 - عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ دِينَارٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يُجْلَدُ فَوْقَ عَشْرِ جَلَدَاتٍ إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوبُردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے سوا دس کوڑوں سے زیادہ نہ مارے جائیں۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3630]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6848) و مسلم (1708/40)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (يُجْتَنَبُ الضَّرْبُ عَلَى الْوَجْهِ)
چہرے پر مارنے سے بچا جائے
حدیث نمبر: 3631
الْفَصْلُ الثَّانِي 3631 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَّقِ الْوَجْهَ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مارے تو وہ چہرے (پر مارنے) سے اجتناب کرے۔“ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3631]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (4493)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (عُقُوبَةُ السَّبِّ)
گالی دینے کی سزا
حدیث نمبر: 3632
3632 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: يَا يَهُودِيُّ فَاضْرِبُوهُ عِشْرِينَ، وَإِذَا قَالَ: يَا مُخَنَّثُ فَاضْرِبُوهُ عِشْرِينَ، وَمَنْ وَقَعَ عَلَى ذَاتِ مَحْرَمٍ فَاقْتُلُوهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی کسی (مسلمان) آدمی سے کہے: اے یہودی! تو اسے بیس کوڑے مارو، اور جب کہے: اے ہجڑے! تو اسے بیس کوڑے مارو اور جو شخص کسی محرم خاتون سے جماع کرے تو اسے قتل کر دو۔“ ترمذی رحمہ اللہ، اور انہوں نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے، «إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ جِدًّا» ”اس کی سند بہت ضعیف ہے“، «رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ» ”اسے ترمذی نے روایت کیا ہے“۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3632]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه الترمذي (1462)
٭ إبراهيم بن إسماعيل بن أبي حبيبة: ضعيف و داود بن حصين عن عکرمة: منکر .»
٭ إبراهيم بن إسماعيل بن أبي حبيبة: ضعيف و داود بن حصين عن عکرمة: منکر .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا
--. (عُقُوبَةُ الخِيَانَةِ)
خیانت کی سزا
حدیث نمبر: 3633
3633 - وَعَنْ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا وَجَدْتُمُ الرَّجُلَ قَدْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَاحْرُقُوا مَتَاعَهُ وَاضْرِبُوهُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ایسا آدمی پاؤ جس نے اللہ کی راہ (مال غنیمت) میں خیانت کی ہو تو اس کا سامان جلا دو اور اسے مارو۔“ ترمذی، ابوداؤد۔ اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔ «إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ» ”اس کی سند ضعیف ہے، اسے ترمذی اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے“۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3633]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (1461) و أبو داود (2713)
٭ صالح بن محمد بن زائدة: ضعيف، والحديث ضعفه البيھقي (103/9) وغيره .»
٭ صالح بن محمد بن زائدة: ضعيف، والحديث ضعفه البيھقي (103/9) وغيره .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (إِنَّ الخَمْرَ تُصْنَعُ عَادَةً مِنَ التَّمْرِ وَالعِنَبِ)
شراب عموماً کھجور اور انگور سے بنتی ہے
حدیث نمبر: 3634
بَابُ بَيَانِ الْخَمْرِ وَوَعِيدِ شَارِبِهَا الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 3634 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ النَّخْلَةِ وَالْعِنَبَةِ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”شراب ان درختوں کھجور اور انگور سے تیار ہوتی ہے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3634]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1985/13)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح