🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (بَيانُ قَطْعِ يَدِ السّارِقِ وَتَعْليقِها في عُنُقِهِ)
چور کا ہاتھ کاٹ کر گردن میں لٹکانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3605
3605 - وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَارِقٍ فَقَطَعَ يَدَهُ ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَعُلِّقَتْ فِي عُنُقِهِ  . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک چور رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے متعلق حکم فرمایا تو اسے اس کی گردن میں لٹکا دیا گیا۔ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی، وابو داؤد، والنسائی، وابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3605]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (1447 وقال: حسن غريب) و أبو داود (4411) و النسائي (92/8 ح4985، 4986 وقال: الحجاج بن أرطاة ضعيف لا يحتج به) و ابن ماجه (2587)
٭ حجاج بن أرطاة ضعيف مدلس و عنعن .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عُقوبَةُ العَبْدِ السّارِقِ)
چوری کرنے والے غلام کی سزا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3606
3606 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا سَرَقَ مَمْلُوكٌ فَبِعْهُ وَلَوْ بِنَشٍّ  . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب غلام چوری کرے تو اسے بیچ دو خواہ ایک «نَشّ» (بیس درہم) ہی ملے۔“ حسن، رواہ ابوداؤد والنسائی وابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3606]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أبو داود (4412) و النسائي (91/8 ح 4983) و ابن ماجه (2589)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لا رُخْصَةَ في حُدودِ اللهِ)
حدود اللہ میں کوئی رعایت نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3607
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 3607 - عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَارِقٍ فَقَطَعَهُ  ، فَقَالُوا: مَا كُنَّا نَرَاكَ تَبْلُغُ بِهِ هَذَا، قَالَ: لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةُ لَقَطَعْتُهَا. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، ایک چور رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا، تو انہوں (صحابہ) نے عرض کیا: ہمارا آپ کے متعلق یہ گمان نہیں تھا کہ آپ اس کے متعلق یہ کچھ کریں گے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اگر (بفرضِ محال) فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی ہوتیں تو میں (بلا تفریق) ان کا ہاتھ بھی کاٹتا۔“ صحیح، رواہ النسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3607]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه النسائي (72/8 ح 4900) [و أصله في صحيح البخاري (3733) ] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لا تُقْطَعُ يَدُ العَبْدِ)
غلام کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3608
3608 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بِغُلَامٍ لَهُ فَقَالَ: اقْطَعْ يَدَهُ فَإِنَّهُ سَرَقَ مِرْآةً لِامْرَأَتِي، فَقَالَ عُمَرُ: لَا قَطْعَ عَلَيْهِ وَهُوَ خَادِمُكُمْ أَخَذَ مَتَاعَكُمْ  . رَوَاهُ مَالِكٌ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی اپنا غلام لے کر عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اس کا ہاتھ کاٹ ڈالیں کیونکہ اس نے میری اہلیہ کا آئینہ چرا لیا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس پر قطع نہیں ہے اور وہ تمہارا خادم ہے، اس نے تمہارا سامان اٹھا لیا ہے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ مالک۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3608]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه مالک (839/2. 840 ح 1629)
٭ ابن شھاب الزهري: مدلس و عنعن و مع ذلک صححه الحافظ ابن کثير في مسند الفاروق (511/2)!
و له لون آخر عند الدارقطني (188/3 ح 3378)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عُقوبَةُ سارِقِ الكَفَنِ)
کفن چور کی سزا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3609
3609 - وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا ذَرٍّ قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ قَالَ: كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَصَابَ النَّاسَ مَوْتٌ يَكُونُ الْبَيْتُ فِيهِ بِالْوَصِيفِ يَعْنِي الْقَبْرَ؟ قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ: عَلَيْكَ بِالصَّبْرِ. قَالَ حَمَّادُ بْنُ أَبِي سَلْمَانَ: تُقْطَعُ يَدُ النَّبَّاشِ  لِأَنَّهُ دَخَلَ عَلَى الْمَيْتِ بَيْتَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ابوذر!“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، اسی میں میری سعادت ہے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تمہاری اس وقت کیا حالت ہو گی جب لوگ کثرت سے موت کا شکار ہوں گے اور اس وقت قبر غلام کے عوض ملے گی؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تم صبر کرنا۔“ حماد بن ابی سلیمان رحمہ اللہ نے کہا: کفن چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ وہ میت پر اس کے گھر میں داخل ہوا ہے۔ ضعیف، اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3609]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «ضعيف، رواه أبو داود (1497، 4909)
٭ حبيب بن أبي ثابت مدلس و عنعن و للحديث شاھد ضعيف عند أحمد (215/6)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيانٌ مُفَصَّلٌ في الشَّفاعَةِ في العُقوباتِ الشَّرعِيَّةِ)
شرعی سزاؤں میں سفارش کا مفصل بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3610
بَابُ الشَّفَاعَةِ فِي الْحُدُودِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 3610 - عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ، فَقَالُوا: مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ ثُمَّ قَالَ: إِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ  وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَتْ: كَانَتِ امْرَأَةٌ مَخْزُومِيَّةٌ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَطْعِ يَدِهَا فَأَتَى أَهْلُهَا أُسَامَةَ، فَكَلَّمُوهُ فَكَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مخزومیہ عورت، جس نے چوری کی تھی، کے واقعہ نے قریشیوں کو غمزدہ کر دیا تو انہوں نے کہا: اس کے متعلق رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کون سفارش کرے؟ پھر انہوں نے کہا: یہ کام رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہیتے صرف اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما ہی کر سکتے ہیں۔ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سفارش کی تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کرتے ہو؟“ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے، خطبہ ارشاد فرمایا، پھر فرمایا: ”تم سے پہلے لوگ صرف اسی وجہ سے ہلاک کر دیے گئے کہ جب ان میں سے خاندانی شخص چوری کرتا تو وہ اسے چھوڑ دیتے اور جب کمزور شخص چوری کرتا تو وہ اس پر حد قائم کر دیتے، اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد (محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا) بھی چوری کرتیں تو میں ان کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔“ بخاری، مسلم۔ اور مسلم کی روایت میں ہے، عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: ایک مخزومیہ عورت (فاطمہ بنت اسود) تھی جو عاریتًا چیزیں لیا کرتی تھی اور پھر ان کی واپسی کا انکار کر دیا کرتی تھی، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم فرمایا تو اس کے خاندان والے اسامہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہوں نے ان سے بات کی اور اسامہ رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سفارش کی، پھر امام مسلم رحمہ اللہ نے حدیث مذکورہ کے مطابق حدیث بیان کی۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3610]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3475) و مسلم (1688/8)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (أَرْبَعَةُ أَشْخاصٍ يَسْتَحِقُّونَ غَضَبَ اللهِ تَعالى)
اللہ تعالیٰ کے غضب کے مستحق چار افراد
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3611
الْفَصْلُ الثَّانِي 3611 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ فَقَدَ ضَادَّ اللَّهَ  ، وَمَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلٍ وَهُوَ يَعْلَمُهُ لَمْ يَزَلْ فِي سُخْطِ اللَّهِ تَعَالَى حَتَّى يَنْزِعَ، وَمَنْ قَالَ فِي مُؤْمِنٍ مَا لَيْسَ فِيهِ أَسْكَنَهُ اللَّهُ رَدْغَةَ الْخَبَالِ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَفِي رِوَايَةِ الْبَيْهَقِيِّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ: مَنْ أَعَانَ خُصُومَةً لَا يَدْرِي أَحَقٌّ أَمْ بَاطِلٌ فَهُوَ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ  .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص کی سفارش اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے نفاذ کے آگے حائل ہو گئی تو اس نے اللہ کی مخالفت کی، جس نے جانتے ہوئے کسی باطل (ناحق) کے بارے میں جھگڑا کیا تو وہ اس سے دست کش ہونے تک اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں رہتا ہے اور جس نے کسی مومن پر بہتان لگایا تو وہ کچ لہو کے کیچڑ میں رہے گا حتی کہ وہ اس سے نکل آئے جو اس نے کہا ہے۔“ احمد، ابوداود اور بیہقی کی شعب الایمان میں ایک روایت ہے: ”جس نے کسی جھگڑے پر اعانت کی جبکہ وہ نہیں جانتا کہ وہ حق ہے یا باطل تو وہ اللہ کی ناراضی میں رہتا ہے حتی کہ وہ اس سے دست کش ہو جائے۔“ اسنادہ صحیح، رواہ احمد و ابوداود و البیھقی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3611]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أحمد (70/2 ح 5385) و أبو داود (3597) والبيھقي في شعب الإيمان (7673)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيانُ تَوبَةِ السّارِقِ بَعْدَ قَطْعِ يَدِهِ)
ایک چور کے ہاتھ کاٹنے کے بعد توبہ کروانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3612
3612 - وَعَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلِصٍّ قَدِ اعْتَرَفَ اعْتِرَافًا وَلَمْ يُوجَدْ مَعَهُ مَتَاعٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَخَالُكَ سَرَقْتَ  ، قَالَ: بَلَى. فَأَعَادَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا كُلَّ ذَلِكَ يَعْتَرِفُ فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَ وَجِيءَ بِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْتَغْفِرِ اللَّهَ وَتُبْ إِلَيْهِ فَقَالَ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ. ثَلَاثًا. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ هَكَذَا وَجَدْتُ فِي الْأُصُولِ الْأَرْبَعَةِ وَجَامِعِ الْأُصُولِ.
ابوامیہ مخزومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا، اس نے اعترافِ جرم کر لیا لیکن اس سے مال برآمد نہ ہوا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: ”میرا خیال ہے کہ تم نے چوری نہیں کی۔“ اس نے عرض کیا: کیوں نہیں، ضرور کی ہے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو یا تین مرتبہ یہ بات دہرائی لیکن وہ ہر مرتبہ اعتراف کرتا رہا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے متعلق حکم فرمایا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ اور پھر اسے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لایا گیا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: «اسْتَغْفِرِ اللَّهَ وَتُبْ إِلَيْهِ» ”اللہ سے مغفرت طلب کرو اور اس کے حضور توبہ کرو۔“ اس نے عرض کیا: «أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» ”میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔“ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین بار فرمایا: «اللَّهُمَّ اتُبْ عَلَيْهِ» ”اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما۔“ اور میں نے اصولِ اربعہ، جامع الاصول، شعب الایمان اور معالم السنن میں ابوامیہ سے اسی طرح پایا ہے۔ (سندہ ضعیف، رواہ ابوداؤد والنسائی وابن ماجہ والدارقطنی)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3612]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أبو داود (4380) و النسائي (67/8 ح 4881) و ابن ماجه (2597) والدارقطني (173/2 ح 2308)
٭ أبو المنذر لا يعرف و في الباب حديث النسائي (89/8. 90 ح 4980) وسنده صحيح و صححه الحاکم (380/4) وھو يغني عنه .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيانُ تَوبَةِ السّارِقِ بَعْدَ قَطْعِ يَدِهِ، بِرِوايَةِ مَصابيحِ السُّنَّةِ)
ایک چور کے ہاتھ کاٹنے کے بعد توبہ کروانے کا بیان، بروایت مصابیح السنہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3613
3613 - وَشُعَبُ الْإِيمَانِ وَمَعَالِمُ السُّنَنِ عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ، وَفِي نُسَخِ الْمَصَابِيحِ عَنْ أَبِي رِمْثَةَ بِالرَّاءِ وَالثَّاءِ الْمُثَلَّثَةِ بَدَلَ الْهَمْزَةِ وَالْيَاءِ.
اور مصابیح کے نسخوں میں ”ابوامیہ“ کی بجائے ”ابورمثہ“ ہے۔ ضعیف، «رَوَاهُ مَصَابِيحُ السُّنَّةِ» ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3613]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «ضعيف، ذکره في مصابيح السنة (553/2 ح 2721بدون سند) و انظر الحديث السابق (3612)»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عُقوباتٌ مُتَفَرِّقَةٌ في شُرْبِ الخَمْرِ)
شراب نوشی کی متفرق سزائیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3614
بَابُ حَدِّ الْخَمْرِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 3614 - عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ فِي الْخَمْرِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ. وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شراب نوشی پر کھجور کی ٹہنیاں اور جوتے مارے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس کوڑے مارے۔ (متفق علیہ)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3614]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6773) و مسلم (1706/36)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں