مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ)
ہر نشہ آور چیز حرام ہے
حدیث نمبر: 3635
[ ص: 2382 ] 3635 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ وَهِيَ مِنْ خَمْسَةِ أَشْيَاءَ الْعِنَبِ وَالتَّمْرِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالْعَسَلِ، وَالْخَمْرُ مَا خَمَرَ الْعَقْلَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منبر پر خطبہ دیا تو فرمایا: ”شراب کی حرمت نازل ہو چکی، اور وہ پانچ اشیاء: انگور، کھجور، گندم، جو اور شہد سے تیار ہوتی ہے، اور شراب وہ ہے جو عقل پر پردہ ڈال دے۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3635]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (5588)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (بَيَانُ الخَمْرِ مِنَ الرُّطَبِ وَاليَابِسِ)
کچی اور سوکھی کھجور کی شراب کا بیان
حدیث نمبر: 3636
3636 - وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَقَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ حِينَ حُرِّمَتْ وَمَا نَجِدُ خَمْرَ الْأَعْنَابِ إِلَّا قَلِيلًا وَعَامَّةُ خَمْرِنَا الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب شراب حرام کی گئی تو ہم انگوروں کی شراب کم پاتے تھے اور ہماری زیادہ تر شراب خشک اور تازہ کھجور سے تیار ہوتی تھی۔ (رواہ البخاری) [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3636]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (5580)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (بَيَانُ كُلِّ شَرَابٍ مُسْكِرٍ)
نشہ آور مشروب کا بیان
حدیث نمبر: 3637
3637 - وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِتْعِ وَهُوَ نَبِيذُ الْعَسَلِ فَقَالَ: كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شہد کی نبیذ کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور مشروب حرام ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3637]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5586) و مسلم (2001/67)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (إِنَّ شَارِبَ الخَمْرِ مَحْرُومٌ مِنْ خَمْرِ الجَنَّةِ)
شرابی جنت کی شراب سے محروم
حدیث نمبر: 3638
3638 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَمَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا فَمَاتَ وَهُوَ يُدْمِنُهَا لَمْ يَتُبْ لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ جس شخص نے دنیا میں شراب پی اور وہ اسی پر دوام کرتے ہوئے توبہ کیے بغیر فوت ہو جائے تو وہ اسے آخرت میں نہیں پیے گا۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3638]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2003/73)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (الخَمْرُ خَرَابٌ)
شراب خانہ خراب
حدیث نمبر: 3639
3639 - وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَرَابٍ يَشْرَبُونَهُ بِأَرْضِهِمْ مِنَ الذُّرَةِ يُقَالُ لَهُ: الْمِزْرُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَمُسْكِرٌ هُوَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ إِنَّ عَلَى اللَّهِ عَهْدًا لِمَنْ يَشْرَبُ الْمُسْكِرَ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ. قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ؟ قَالَ: عَرَقُ أَهْلِ النَّارِ أَوْ عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یمن سے ایک آدمی آیا تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے ملک میں جوار سے تیار ہونے والی مزر نامی پی جانے والی شراب کے متعلق دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ نشہ آور ہے؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ بے شک یہ بات اللہ کے ذمہ ہے کہ جو شخص نشہ آور چیز پیے گا تو اللہ اسے «طِينَةَ الْخَبَالِ» ”طینۃ الخبال“ پلائے گا۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! «طِينَةُ الْخَبَالِ» ”طینۃ الخبال“ کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جہنمیوں کا پسینہ یا جہنمیوں کے زخموں سے بہنے والا خون اور پیپ۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3639]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2002/72)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (بَيَانُ النَّبِيذِ السَّاذَجِ وَالمُرَكَّبِ)
نبیذ سادی اور مرکب کا بیان
حدیث نمبر: 3640
3640 - وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ خَلِيطِ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَعَنْ خَلِيطِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ وَعَنْ خَلِيطِ الزَّهْوِ وَالرُّطَبِ ، وَقَالَ: انْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ عَلَى حِدَةٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تازہ کھجور اور خشک کھجور کو ملانے، منقیٰ اور تازہ کھجور کو ملانے اور کچی کھجور اور تازہ کھجور ملانے سے منع فرمایا، اور فرمایا: ”ان میں سے ہر ایک کی الگ الگ نبیذ تیار کرو۔“ (رواہ مسلم)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3640]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1988/26)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (خَلُّ الخَمْرِ أَيْضًا حَرَامٌ)
شراب کا سرکہ بھی حرام ہے
حدیث نمبر: 3641
3641 - وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْخَمْرِ يُتَّخَذُ خَلًّا ، فَقَالَ: لَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شراب سے سرکہ بنانے کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3641]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1983/11)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (لَا يَجُوزُ التَّدَاوِي بِالخَمْرِ)
شراب سے علاج جائز نہیں
حدیث نمبر: 3642
3642 - وَعَنْ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّ طَارِقَ بْنَ سُوَيْدٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَمْرِ فَنَهَاهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَصْنَعُهَا لِلدَّوَاءِ، فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ بِدَوَاءٍ وَلَكِنَّهُ دَاءٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وائل حضرمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ طارق بن سوید رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شراب کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں منع فرما دیا، انہوں نے عرض کیا: میں اسے دوائی کے لیے بناتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «إِنَّهُ لَيْسَ بِدَوَاءٍ وَلَكِنَّهُ دَاءٌ» ”وہ دوائی نہیں، وہ تو بیماری ہے“۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3642]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1984/12)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (تَوْبَةُ شَارِبِ الخَمْرِ)
شرابی کی توبہ
حدیث نمبر: 3643
الْفَصْلُ الثَّانِي 3643 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ لَهُ صَلَاةَ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِنْ عَادَ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ لَهُ صَلَاةً أَرْبَعِينَ صَبَاحًا ; فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِنْ عَادَ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ لَهُ صَلَاةً أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَإِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ لَهُ صَلَاةً أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ لَمْ يَتُبِ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَقَاهُ مِنْ نَهْرِ الْخَبَالِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص شراب پیتا ہے تو اللہ چالیس روز تک اس کی نماز قبول نہیں کرتا، اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے، اگر وہ دوبارہ پی لے تو اللہ چالیس روز تک اس کی نماز قبول نہیں کرتا، اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے، اگر وہ سہ بارہ پی لے تو اللہ اس کی چالیس روز تک نماز قبول نہیں کرتا، اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے، اگر وہ چوتھی مرتبہ پی لے تو اللہ اس کی چالیس روز تک نماز قبول نہیں کرتا، اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول نہیں کرتا، اور وہ اسے جہنمیوں کے پیپ کی نہر سے پلائے گا۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3643]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (1862 وقال: حسن)
٭ عطاء بن السائب: اختلط فالسند ضعيف لاختلاطه و لأصل الحديث شواھد دون قوله: ’’فإن تاب لم يتب الله عليه‘‘ وھو قول منکر، لم يصح عن رسول الله ﷺ .»
٭ عطاء بن السائب: اختلط فالسند ضعيف لاختلاطه و لأصل الحديث شواھد دون قوله: ’’فإن تاب لم يتب الله عليه‘‘ وھو قول منکر، لم يصح عن رسول الله ﷺ .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (تَوْبَةُ شَارِبِ الخَمْرِ رِوَايَةَ النَّسَائِي)
شرابی کی توبہ، بروایت نسائی
حدیث نمبر: 3644
3644 - وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو.
امام نسائی، ابن ماجہ اور امام دارمی نے اسے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، «إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ، رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ» ”اس کی سند صحیح ہے، اسے نسائی، ابن ماجہ اور دارمی نے روایت کیا ہے۔“ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3644]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه النسائي (317/8 ح 5673) و ابن ماجه (3377) و الدارمي (111/2 ح 2096)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح