مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 1238
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ ابْنَتِهِ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَجِدُ الْمَذْيَ، فَقَالَ:" ذَلِكَ مَاءُ الْفَحْلِ، وَلِكُلِّ فَحْلٍ مَاءٌ، فَلْيَغْسِلْ ذَكَرَهُ وَأُنْثَيَيْهِ، وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے جسم سے خروج مذی بکثرت ہوتا تھا، مجھے خود سے یہ مسئلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہوئے شرم آتی تھی کہ ان کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں، چنانچہ میں نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا، تو انہوں نے فرمایا کہ ”یہ تو مرد کا پانی ہے اور ہر طاقتور مرد کا پانی ہوتا ہے، اس لئے جب مذی دیکھو تو اپنی شرمگاہ کو دھو لیا کرو اور نماز جیسا وضو کر لیا کرو۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1238]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره ، شريك النخعي قد توبع
حدیث نمبر: 1239
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ ، عَنْ ابْنِ أَشْوَعَ ، عَنْ حَنَشِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعَثَ صَاحِبَ شُرْطَهِ، فَقَالَ: أَبْعَثُكَ لِمَا بَعَثَنِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَدَعْ قَبْرًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ، وَلَا تِمْثَالًا إِلَّا وَضَعْتَهُ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے رفیق حیان کو مخاطب کر کے فرمایا: میں تمہیں اس کام لئے بھیج رہا ہوں، جس کام کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا، کوئی قبر برابر کئے بغیر نہ چھوڑنا، اور کوئی تصویر مٹائے بغیر نہ چھوڑنا۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1239]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره ، وهذا اسناد ضعيف لضعف أشعث بن سوار و حنش
حدیث نمبر: 1240
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِيمَا سَقَتْ السَّمَاءُ فَفِيهِ الْعُشْرُ، وَمَا سُقِيَ بِالْغَرْبِ وَالدَّالِيَةِ فَفِيهِ نِصْفُ الْعُشْرِ"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: فَحَدَّثْتُ أَبِي بِحَدِيثِ عُثْمَانَ، عَنْ جَرِيرٍ، فَأَنْكَرَهُ جَدّاً، وَكَانَ أَبِي لَا يُحَدِّثُنَا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ لِضَعْفِهِ عِنْدَهُ، وَإِنْكَارِهِ لِحَدِيثِهِ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو زمین بارش کے پانی سے سیراب ہوتی ہو اس میں عشر واجب ہے، اور جو زمین ڈول یا رہٹ سے سیراب ہوتی ہو اس میں نصف عشر واجب ہے۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1240]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وإسناد هذا مرفوعاً ضعيف لضعف محمد بن سالم الهمداني
حدیث نمبر: 1241
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ يَعْنِي الرَّازِيَّ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً سِوَى الْمَكْتُوبَةِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرائض کے علاوہ رات کو سولہ رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1241]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي ، غير أن قوله فيه : «من الليل» خطأ، وانظر مابعده
حدیث نمبر: 1242
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ الرَّازِيُّ ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، وَالْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، قَالَ: أَتَيْنَا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقُلْنَا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَلَا تُحَدِّثُنَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَطَوُّعَهُ؟ فَقَالَ: وَأَيُّكُمْ يُطِيقُهُ؟ قَالُوا: نَأْخُذُ مِنْهُ مَا أَطَقْنَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي مِنَ النَّهَارِ سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً سِوَى الْمَكْتُوبَةِ".
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت کس طرح نوافل پڑھتے تھے؟ فرمایا: تم اس طرح پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتے، ہم نے عرض کیا: آپ بتا دیجئے، ہم اپنی طاقت اور استطاعت کے بقدر اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے، فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرائض کے علاوہ دن کو سولہ رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1242]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي كسابقه
حدیث نمبر: 1243
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، وَشَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" عَفَوْتُ لَكُمْ عَنْ صَدَقَةِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ، فَأَدُّوا رُبُعَ الْعُشُورِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے تم سے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ چھوڑ دی ہے، اس لئے چاندی کی زکوٰۃ بہرحال تمہیں ادا کرنا ہوگی، جس کا نصاب یہ ہے کہ ہر چالیس پر ایک درہم واجب ہوگا۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1243]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لضعف الحارث الأعور
حدیث نمبر: 1244
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَلِيُّ، إِنِّي أُحِبُّ لَكَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِي، وَأَكْرَهُ لَكَ مَا أَكْرَهُ لِنَفْسِي، لَا تَقْرَأْ وَأَنْتَ رَاكِعٌ، وَلَا وَأَنْتَ سَاجِدٌ، وَلَا تُصَلِّ وَأَنْتَ عَاقِصٌ شَعْرَكَ، فَإِنَّهُ كِفْلُ الشَّيْطَانِ، وَلَا تُقْعِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ، وَلَا تَعْبَثْ بِالْحَصَى، وَلَا تَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْكَ، وَلَا تَفْتَحْ عَلَى الْإِمَامِ، وَلَا تَتَخَتَّمْ بِالذَّهَبِ، وَلَا تَلْبَسْ الْقَسِّيَّ، وَلَا تَرْكَبْ عَلَى الْمَيَاثِرِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: ”علی! میں تمہارے لئے وہی پسند کرتا ہوں جو اپنے لئے پسند کرتا ہوں، اور تمہارے لئے وہی چیز ناپسند کرتا ہوں جو اپنے لئے ناپسند کرتا ہوں، رکوع یا سجدے کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت نہ کیا کرو، بالوں کی مینڈھیاں بنا کر نماز نہ پڑھو کیونکہ یہ شیطان کا طریقہ ہے، دو سجدوں کے درمیان اپنی سرین پر مت بیٹھو، کنکریوں کے ساتھ دوران نماز مت کھیلو، سجدے میں اپنے بازو زمین پر مت بچھاؤ، امام کو لقمہ مت دو، سونے کی انگوٹھی مت پہنو، ریشمی لباس مت پہنو، اور سرخ زین پوش پر مت سوار ہوا کرو۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1244]
الحكم على الحديث:
هذا اسناد ضعيف لضعف الحارث الأعور، ثم هو منقطع، أبو اسحاق لم يسمعه من الحارث
حدیث نمبر: 1245
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَسْأَلُهَا عَنِ الْخُفَّيْنِ، فَقَالَتْ: عَلَيْكَ بِابْنِ أَبِي طَالِبٍ فَاسْأَلْهُ، فَإِنَّهُ كَانَ يُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُهُ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ لِلْمُسَافِرِ، وَيَوْمًا وَلَيْلَةً لِلْمُقِيمِ".
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے موزوں پر مسح کے حوالے سے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سوال تم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھو، انہیں اس مسئلے کا زیادہ علم ہوگا کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں بھی رہتے تھے، چنانچہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا، تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مسافر کے لئے تین دن اور تین رات موزوں پر مسح کرنے کی اجازت ہے، اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1245]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، م : 276
حدیث نمبر: 1246
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ الْعَبْسِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحْزَابِ، صَلَّيْنَا الْعَصْرَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى صَلَاةِ الْعَصْرِ، مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَأَجْوَافَهُمْ نَارًا".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن ہم نے عصر کی نماز مغرب اور عشاء کے درمیان پڑھی، جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1246]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، م : 627
حدیث نمبر: 1247
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَلَمْ يَدْخُلْ عَلَيَّ"، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ؟ قَالَ: إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا بَوْلٌ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جبرئیل میرے پاس آئے لیکن گھر میں داخل نہیں ہوئے“، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ”اندر کیوں نہیں آئے؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کوئی تصویر ہو یا پیشاب ہو۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1247]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جداً، الحسن بن ذكوان ليس بالقوي، وعمرو بن خالد القرشي متروك