مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 1268
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ أَبُو عُمَرَ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَاذَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَاسْتَظْهَرَهُ، شُفِّعَ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ قَدْ وَجَبَتْ لَهُمْ النَّارُ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے قرآن پڑھا اور وہ اس پر غالب آگیا تو قیامت کے دن اس کے اہل خانہ میں سے دس ایسے افراد کے حق میں اس کی سفارش قبول کی جائے گی جن کے لئے جہنم واجب ہو چکی ہو گی۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1268]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جداً لضعف عمرو بن عثمان الرقي و حفص ابي عمر القاري، ولجهالة كثير بن زاذان
حدیث نمبر: 1269
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِشْكَابٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَال َرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَفَوْتُ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ فِي الصَّدَقَةِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے تم سے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ چھوڑ دی ہے۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1269]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي
حدیث نمبر: 1270
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلْمٍ خَلِيلُ بْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ أَوْ كَلْبٌ"، وَكَانَ كَلْبُ لِلْحَسَنِ فِي الْبَيْتِ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کوئی تصویر یا کتا ہو۔ اس وقت گھر میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا ایک چھوٹا سا کتا تھا۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1270]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جداً، عمرو بن خالد متهم بالكذب، و حسن بن ذكوان ضعيف
حدیث نمبر: 1271
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيٍّ :" أَرَأَيْتَ مَسِيرَكَ هَذَا، عَهْدٌ عَهِدَهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمْ رَأْيٌ رَأَيْتَهُ؟ قَالَ: مَا تُرِيدُ إِلَى هَذَا؟ قُلْتُ: دِينَنَا دِينَنَا، قَالَ: مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا، وَلَكِنْ رَأْيٌ رَأَيْتُهُ".
قیس بن عباد کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک سفر کے دوران پوچھا کہ یہ تو بتایئے، کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اس سفر کی وصیت کی تھی یا یہ آپ کی رائے پر مبنی ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اس سوال سے تمہارا کیا مقصد ہے؟ میں نے عرض کیا کہ صرف دین، فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی کوئی وصیت نہیں کی تھی، یہ تو ایک رائے ہے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1271]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1272
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَانَ لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رُمْحٌ، فَكُنَّا إِذَا خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ خَرَجَ بِهِ مَعَهُ، فَيَرْكُزُهُ فَيَمُرُّ النَّاسُ عَلَيْهِ فَيَحْمِلُونَهُ، فَقُلْتُ: لَئِنْ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأُخْبِرَنَّهُ، فَقَالَ: إِنَّكَ إِنْ فَعَلْتَ لَمْ تَرْفَعْ ضَالَّةً".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک نیزہ تھا، ہم جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوے کے لئے نکلتے تو وہ اس نیزے کو بھی اپنے ساتھ لے کر جاتے تھے، وہ اسے گاڑ دیتے، لوگ وہاں سے گذرتے تو انہیں اٹھا کر پکڑا دیتے، میں نے یہ دیکھ کر اپنے دل میں سوچا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ساری صورت حال ضرور بتاؤں گا، (چنانچہ جب میں نے ذکر کیا تو) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم ایسا کرنے لگے تو کوئی گمشدہ چیز اس کے مالک تک پہنچانے کے لئے نہیں اٹھائی جائے گی۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1272]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 1273
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ:" تَوَضَّأَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ شَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِهِ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ".
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا اور وضو سے بچا ہوا پانی پی لیا، پھر فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1273]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 1274
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ ، قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُلَيْلٍ، فَغَدَوْتُ إِلَيْهِ، فَوَجَدْتُهُمْ فِي جَنَازَةٍ، فَحَدَّثَنِي رَجُلٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُلَيْلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" أُعْطِيَ كُلُّ نَبِيٍّ سَبْعَةَ نُجَبَاءَ، وَأُعْطِيَ نَبِيُّكُمْ أَرْبَعَةَ عَشَرَ نَجِيبًا، مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھ سے پہلے ہر نبی کو سات رفقاء، نجباء اور وزراء دیئے گئے ہیں جبکہ مجھے چودہ دیئے گئے ہیں، جن میں ابوبکر صدیق، عمر فاروق، عبداللہ بن مسعود اور عمار رضوان اللہ علیہم اجمعین شامل ہیں۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1274]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لعلل
حدیث نمبر: 1275
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ ، قَالَ: وَكَانَ رَجُلَ صِدْقٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ، وَأَنْ لَا نُضَحِّيَ بِعَوْرَاءَ، وَلَا مُقَابَلَةٍ، وَلَا مُدَابَرَةٍ، وَلَا شَرْقَاءَ، وَلَا خَرْقَاءَ"، قَالَ زُهَيْرٌ: فَقُلْتُ لِأَبِي إِسْحَاقَ: أَذَكَرَ عَضْبَاءَ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: مَا الْمُقَابَلَةُ؟ قَالَ: هِيَ الَّتِي يُقْطَعُ طَرَفُ أُذُنِهَا، قُلْتُ: فَالْمُدَابَرَةُ؟ قَالَ: الَّتِي يُقْطَعُ مُؤَخَّرُ الْأُذُنِ، قُلْتُ: مَا الشَّرْقَاءُ؟ قَالَ: الَّتِي يُشَقُّ أُذُنُهَا، قُلْتُ: فَمَا الْخَرْقَاءُ؟ قَالَ: الَّتِي تَخْرِقُ أُذُنَهَا السِّمَةُ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا کہ ”قربانی کے جانور کے کان اور آنکھ اچھی طرح دیکھ لیں، کانے جانور کی قربانی نہ کریں، مقابلہ، مدابرہ، شرقاء یا خرقاء کی قربانی نہ کریں۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابواسحاق سے پوچھا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عضباء کا ذکر بھی کیا تھا یا نہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ پھر میں نے پوچھا کہ مقابلہ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: وہ جانور جس کے کان کا ایک کنارہ کٹا ہوا ہو، پھر میں نے پوچھا کہ مدابرہ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: وہ جانور جس کا کان پیچھے سے کٹا ہوا ہو، میں نے شرقاء کا معنی پوچھا تو فرمایا: جس کا کان چیرا ہوا ہو، میں نے خرقاء کا معنی پوچھا تو انہوں بتایا: وہ جانور جس کا کان پھٹ گیا ہو۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1275]
الحكم على الحديث:
حسن، وهذا إسناد ضعيف، زهير سمع من أبي أسحاق بعد تغيره
حدیث نمبر: 1276
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ تَحْبِسُوا لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت اپنے پاس رکھنے سے منع فرمایا تھا۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1276]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، سفيان بن حسين ثقة فى غير الزهري باتفاقهم
حدیث نمبر: 1277
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَتْ: سَلْ عَلِيًّا فَهُوَ أَعْلَمُ بِهَذَا مِنِّي، هُوَ كَانَ يُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، وَلِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ".
شریح بن ہانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے موزوں پر مسح کے حوالے سے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک سوال پوچھا، تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سوال تم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھو، انہیں اس مسئلے کا زیادہ علم ہوگا کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں بھی رہتے تھے، چنانچہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا، تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مسافر کے لئے تین دن اور تین رات موزوں پر مسح کرنے کی اجازت ہے، اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1277]
الحكم على الحديث:
صحيح، م : 276، الحجاج مدلس، وقد توبع