مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 1228
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوَتْرَ، فَأَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے اہل قرآن! وتر پڑھا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق عدد کو پسند کرتا ہے۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1228]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي
حدیث نمبر: 1229
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى وَضَعَ قَدَمَهُ بَيْنِي وَبَيْنَ فَاطِمَةَ، فَعَلَّمَنَا مَا نَقُولُ إِذَا أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا:" ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَسْبِيحَةً، وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَحْمِيدَةً، وَأَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ تَكْبِيرَةً"، قَالَ عَلِيٌّ: فَمَا تَرَكْتُهَا بَعْدُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ؟ قَالَ: وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کو جب ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اور میرے اور فاطمہ کے درمیان قدم مبارک رکھ کر ہمیں بستر پر لیٹنے کے بعد یہ کلمات پڑھنے کے لئے سکھائے: ”تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمدللہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر میں نے ان کلمات کو کبھی ترک نہیں کیا، کسی نے پوچھا: صفین کی رات میں بھی نہیں؟ فرمایا: ہاں!۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1229]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، خ : 3705 ، م : 2727
حدیث نمبر: 1230
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّانَاجِ ، عَنْ حُضَيْنِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ وَعْلَةَ ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ صَلَّى بِالنَّاسِ الصُّبْحَ أَرْبَعًا، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: أَزِيدُكُمْ؟! فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عُثْمَانَ، فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُجْلَدَ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: قُمْ يَا حَسَنُ فَاجْلِدْهُ، قَالَ: وَفِيمَ أَنْتَ وَذَاكَ؟! فَقَالَ عَلِيٌّ: بَلْ عَجَزْتَ وَوَهَنْتَ، قُمْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ فَاجْلِدْهُ، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ فَجَلَدَهُ، وَعَلِيٌّ يَعُدُّ، فَلَمَّا بَلَغَ أَرْبَعِينَ، قَالَ لَهُ: أَمْسِكْ، ثُمَّ قَالَ:" ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ أَرْبَعِينَ، وَضَرَبَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ وَعُمَرُ صَدْرًا مِنْ خِلَافَتِهِ، ثُمَّ أَتَمَّهَا عُمَرُ ثَمَانِينَ، وَكُلٌّ سُنَّةٌ".
حضین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ولید بن عقبہ نے لوگوں کو فجر کی نماز میں دو کی بجائے چار رکعتیں پڑھا دیں، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر کہا کہ شاید میں نے نماز کی رکعتوں میں اضافہ کردیا ہے؟ یہ معاملہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش ہوا تو انہوں نے ولید پر شراب نوشی کی سزا جاری کرنے کا حکم دے دیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ حسن! کھڑے ہو کر اسے کوڑے مارو، انہوں نے کہا کہ آپ یہ کام نہیں کر سکتے، کسی اور کو اس کا حکم دیجئے، فرمایا: اصل میں تم کمزور اور عاجز ہوگئے ہو، اس لئے عبداللہ بن جعفر! تم کھڑے ہو کر اس پر سزا جاری کرو۔ چنانچہ سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کوڑے مارتے جاتے تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ گنتے جاتے تھے، جب چالیس کوڑے ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بس کرو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شرابی کو چالیس کوڑے مارے تھے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی چالیس کوڑے مارے تھے، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسی مارے تھے، اور دونوں ہی سنت ہیں۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1230]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، م : 1707
حدیث نمبر: 1231
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ ، عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ جَارِيَةً لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُفِسَتْ مِنَ الزِّنَا، فَأَرْسَلَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُقِيمَ عَلَيْهَا الْحَدَّ، فَوَجَدْتُهَا فِي الدَّمِ لَمْ يَجِفَّ عَنْهَا، فَرَجَعْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ لِي:" إِذَا جَفَّ الدَّمُ عَنْهَا فَاجْلِدْهَا الْحَدَّ"، ثُمَّ قَالَ:" أَقِيمُوا الْحُدُودَ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خادمہ سے بدکاری کا گناہ سرزد ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس پر حد جاری کرنے کا حکم دیا، میں نے دیکھا کہ اس کا تو خون ہی بند نہیں ہو رہا، میں نے آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ذکر کی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اس کا خون بند ہو جائے تو اس پر حد جاری کر دینا، اور یاد رکھو! اپنے غلاموں اور باندیوں پر بھی حد جاری کیا کرو۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1231]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الأعلي الثعلبي
حدیث نمبر: 1232
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ الْخُرَيْبِيُّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" إِنَّ الْوَتْرَ لَيْسَ بِحَتْمٍ، وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وتر فرض نماز کی طرح قرآن کریم سے حتمی ثبوت نہیں رکھتے، لیکن ان کا وجوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت ہے، اس لئے اہل قرآن! وتر پڑھا کرو۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1232]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي
حدیث نمبر: 1233
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَفَوْتُ لَكُمْ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ، فَأَدُّوا صَدَقَةَ الرِّقَةِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمًا، وَلَيْسَ فِي تِسْعِينَ وَمِائَةٍ شَيْءٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے تم سے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ چھوڑ دی ہے اس لئے چاندی کی زکوٰۃ بہرحال تمہیں ادا کرنا ہوگی، جس کا نصاب یہ ہے کہ ہر چالیس پر ایک درہم واجب ہوگا، ایک سو نوے درہم تک کچھ واجب نہ ہوگا، لیکن جب ان کی تعداد دو سو تک پہنچ جائے تو اس پر پانچ درہم واجب ہوں گے۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1233]
الحكم على الحديث:
صحيح، أبو عوانة وإن روي عن أبي إسحاق بعد تغير، لكن قد تابعه غير واحد
حدیث نمبر: 1234
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، قَالَ: سُئِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ" يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً".
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نوافل پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ پوری رات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نوافل کی سولہ رکعتیں ہوتی تھیں۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1234]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي ، غير أن قوله فيه : «من الليل» خطأ، والصحيح «من النهار» انظر رقم : 650 و 1642
حدیث نمبر: 1235
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ ، عَنْ ثُوَيْرِ بْنِ أَبِي فَاخِتَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" أَهْدَى كِسْرَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَبِلَ مِنْهُ، وَأَهْدَى قَيْصَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَبِلَ مِنْهُ، وَأَهْدَتْ الْمُلُوكُ فَقَبِلَ مِنْهُمْ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسری نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرما لیا، اسی طرح قیصر نے ہدیہ بھیجا تو وہ بھی قبول فرما لیا، اور دیگر بادشاہوں نے بھیجا تو وہ بھی قبول فرما لیا۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1235]
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ثوير بن أبي فاختة، وأخذ الهدية من المشركين لقصد تأنيسهم وتأليفهم على الاسلام ثابت عنه
حدیث نمبر: 1236
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ النَّابِغَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، وَعَنِ الْأَوْعِيَةِ، وَأَنْ تُحْبَسَ لُحُومُ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ، ثُمَّ قَالَ:" إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا، فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمْ الْآخِرَةَ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَوْعِيَةِ فَاشْرَبُوا فِيهَا، وَاجْتَنِبُوا كُلَّ مَا أَسْكَرَ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تَحْبِسُوهَا بَعْدَ ثَلَاثٍ، فَاحْبِسُوا مَا بَدَا لَكُمْ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء قبرستان جانے سے، مخصوص برتنوں کے استعمال سے، اور تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت اپنے پاس رکھنے سے منع فرما دیا تھا، اس کے بعد فرمایا کہ ”میں نے پہلے تمہیں قبرستان جانے سے روکا تھا، اب اجازت دیتا ہوں اس لئے قبرستان جایا کرو کیونکہ اس سے آخرت کی یاد آتی ہے، میں نے تمہیں مخصوص برتن استعمال کرنے سے بھی روکا تھا، اب انہیں پینے کے لئے استعمال کر لیا کرو لیکن نشہ آور چیزوں سے بچتے رہو، اور میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے سے بھی منع کیا تھا، اب تہیں اجازت ہے کہ جب تک چاہو رکھو۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1236]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد ولجهالة ربيعة بن النابغة وأبيه
حدیث نمبر: 1237
حَدَّثَنَاه عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ النَّابِغَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ"، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَإِيَّاكُمْ وَكُلَّ مُسْكِرٍ".
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1237]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره ، وهذا اسناد ضعيف كسابقه