🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. وَمِنْ أَخْبَارِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 549
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ:" صَلَّى الزُّبَيْرُ عَلَى عُثْمَانَ، وَدَفَنَهُ، وَكَانَ أَوْصَى إِلَيْهِ".
قتادہ کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے پڑھائی اور انہیں سپردخاک کر دیا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہی کو یہ وصیت کی تھی۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 549]

الحكم على الحديث:
إسناده منقطع، قتاده لم يدرك عثمان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 550
(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، قَالَ:" قُتِلَ عُثْمَانُ سَنَةَ خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، فَكَانَتْ الْفِتْنَةُ خَمْسَ سِنِينَ، مِنْهَا أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ لِلْحَسَنِ".
عبداللہ بن محمد بن عقیل کہتے ہیں کہ ٣٥ ھ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اور پانچ سال آزمائش کے گزرے، جن میں سے چار ماہ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ بھی خلیفہ رہے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 550]

الحكم على الحديث:
إسناده منقطع، عبدالله ابن محمد بن عقيل لم يدرك عثمان. قاله أحمد شاكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 551
(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَلْدَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، قَالَ:" كُنَّا بِبَابِ عُثْمَانَ فِي عَشْرِ الْأَضْحَى".
ابوالعالیہ کہتے ہیں کہ عشرہ ذی الحجہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کے دروازے پر ہم پہرہ داری کر رہے تھے۔
[مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 551]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 552
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَوْسٍ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَادَةَ الزُّرَقِيُّ الْأَنْصَارِيُّ ، مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: شَهِدْتُ عُثْمَانَ يَوْمَ حُوصِرَ فِي مَوْضِعِ الْجَنَائِزِ، وَلَوْ أُلْقِيَ حَجَرٌ لَمْ يَقَعْ إِلَّا عَلَى رَأْسِ رَجُلٍ، فَرَأَيْتُ عُثْمَانَ أَشْرَفَ مِنَ الْخَوْخَةِ الَّتِي تَلِي مَقَامَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، أَفِيكُمْ طَلْحَةُ؟ فَسَكَتُوا، ثُمَّ قَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ: أَفِيكُمْ طَلْحَةُ؟ فَسَكَتُوا، ثُمّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَفِيكُمْ طَلْحَةُ؟ فَقَامَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: أَلَا أَرَاكَ هَاهُنَا؟ مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّكَ تَكُونُ فِي جَمَاعَةٍ تَسْمَعُ نِدَائِي آخِرَ ثَلَاثِ مَرَّاتٍ ثُمَّ لَا تُجِيبُنِي، أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا طَلْحَةُ، تَذْكُرُ يَوْمَ كُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَوْضِعِ كَذَا وَكَذَا، لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ غَيْرِي وَغَيْرُكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا طَلْحَةُ، إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَمَعَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ رَفِيقٌ مِنْ أُمَّتِهِ مَعَهُ فِي الْجَنَّةِ، وَإِنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ هَذَا يَعْنِينِي رَفِيقِي مَعِي فِي الْجَنَّةِ"، قَالَ طَلْحَةُ : اللَّهُمَّ نَعَمْ، ثُمَّ انْصَرَفَ.
اسلم کہتے ہیں کہ جس دن ”موضع الجنائز“ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا گیا، میں اس وقت وہاں موجود تھا، باغی اتنی بڑی تعداد میں تھے کہ اگر کوئی پتھر پھینکا جاتا تو یقیناً وہ کسی نہ کسی آدمی کے سر پر ہی گرتا، میں نے دیکھا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس بالا خانے سے جو مقام جبرئیل کے قریب تھا جھانک کر نیچے دیکھا اور فرمایا کہ تم میں، اے لوگو! طلحہ موجود ہیں؟ لوگ خاموش رہے، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا، بالآخر سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر سامنے آ گئے۔ عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ کر فرمایا: میرا خیال نہ تھا کہ آپ یہاں موجود ہوں گے، میں یہ سمجھتا تھا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ کسی گروہ میں موجود ہوں اور تین مرتبہ میری آواز سنیں پھر اس کا جواب نہ دیں، طلحہ! میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ آپ کو فلاں دن یاد ہے جب آپ اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فلاں جگہ تھے، وہاں میرے اور آپ کے علاوہ کوئی صحابی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہ تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں! مجھے یاد ہے، عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے فرمایا تھا کہ طلحہ ہر نبی کے ساتھ جنت میں اس کی امت میں سے کوئی نہ کوئی رفیق ضرور ہو گا اور یہ عثمان بن عفان جنت میرے رفیق ہوں گے؟ طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں! ایسا ہی ہے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ واپس چلے گئے۔
[مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 552]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف القاسم بن الحكم، وأبو عبادة الزرقي متروك
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 553
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ : أَنَّهُ شَهِدَ عُثْمَانَ تَوَضَّأَ يَوْمًا، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا... وَحَدَّثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدٍ.
حمران کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کی موجودگی میں وضو کے لئے پانی منگوایا، چنانچہ کلی کی، ناک میں پانی ڈالا اور تین مرتبہ چہرہ دھویا، پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔
[مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 553]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، قتادة لم يسمع من مسلم بن يسار
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 554
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ ، أَنْبَأَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ قَبِيصَةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنْتُ قَائِمًا عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، فَقَالَ: أَلَا أُنَبِّئُكُمْ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ؟ قُلْنَا: بَلَى، فَدَعَا بِمَاءٍ،" فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى مِرْفَقَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ".
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنے پاس موجود حضرات سے فرمایا کیا میں آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح وضو کر کے نہ دکھاؤں؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں! چنانچہ انہوں نے پانی منگوایا، تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرے کو دھویا، تین تین مرتبہ دونوں بازوؤں کو کہنیوں سمیت دھویا، سر اور کانوں کا مسح کیا اور تین مرتبہ پاؤں دھوئے پھر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح وضو فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 554]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضيعف لجهالة الرجل من الأنصار وأبيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 555
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ حِقٍّ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيِّ ، قَالَ: شَهِدْتُ الدَّارَ يَوْمَ أُصِيبَ عُثْمَانُ ، فَاطَّلَعَ عَلَيْهِمْ اطِّلَاعَةً، فَقَالَ: ادْعُوا لِي صَاحِبَيْكُمْ اللَّذَيْنِ أَلَّبَاكُمْ عَلَيَّ، فَدُعِيَا لَهُ، فَقَالَ: نَشَدْتُكُمَا اللَّهَ، أَتَعْلَمَانِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ ضَاقَ الْمَسْجِدُ بِأَهْلِهِ، فَقَالَ:" مَنْ يَشْتَرِي هَذِهِ الْبُقْعَةَ مِنْ خَالِصِ مَالِهِ، فَيَكُونَ فِيهَا كَالْمُسْلِمِينَ، وَلَهُ خَيْرٌ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ"، فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ خَالِصِ مَالِي، فَجَعَلْتُهَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، وَأَنْتُمْ تَمْنَعُونِي أَنْ أُصَلِّيَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ. (حديث موقوف) (حديث مرفوع) ثُمَّ قَالَ: أَنْشُدُكُمْ اللَّهَ: أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ لَمْ يَكُنْ فِيهَا بِئْرٌ يُسْتَعْذَبُ مِنْهُ إِلَّا رُومَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَشْتَرِيهَا مِنْ خَالِصِ مَالِهِ، فَيَكُونَ دَلْوُهُ فِيهَا كَدُلِيِّ الْمُسْلِمِينَ، وَلَهُ خَيْرٌ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ"، فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ خَالِصِ مَالِي، فَأَنْتُمْ تَمْنَعُونِي أَنْ أَشْرَبَ مِنْهَا، ثُمَّ قَالَ: هَلْ تَعْلَمُونَ أَنِّي صَاحِبُ جَيْشِ الْعُسْرَةِ؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ.
ثمامہ بن خزن قشیری کہتے ہیں کہ جس دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوئے، میں وہاں موجود تھا، عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنے گھر سے جھانک کر دیکھا اور فرمایا: اپنے ان دو ساتھیوں کو بلا کر لاؤ جو تمہیں مجھ پر چڑھا لائے ہیں انہیں بلایا گیا، عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے اور مسجد نبوی تنگ ہو گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمین کا یہ ٹکڑا اپنے مال سے خرید کر مسلمانوں کے لئے اسے وقف کون کرے گا؟ اس کا عوض اسے جنت میں بہترین شکل میں عطاء کیا جائے گا“، چنانچہ میں خالص اپنے مال سے اسے خریدا اور مسلمانوں کے لئے وقف کر دیا اب تم مجھے اس ہی میں دو رکعتیں پڑھنے سے روکتے ہو؟ پھر فرمایا کہ میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو اس وقت سوائے بیرِ رومہ کے میٹھے پانی کا کوئی اور کنواں نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ہے جو اسے خالص اپنے مال سے خریدے اور اپنا حصہ بھی مسلمانوں کے برابر رکھے؟ اور آخرت میں جنت کے اندر بہترین بدلہ حاصل کر لے؟“ چنانچہ میں نے اسے خالص اپنے مال سے خرید کر وقف کر دیا اب تم مجھے اس ہی کا پانی پینے سے روکتے ہو؟ پھر فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ میں غزوہ تبوک میں سامان جہاد مہیا کرنے والا ہوں لوگوں نے ان کی تصدیق کی۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 555]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وإسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 556
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، وَأَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: لَقِيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ، فَقَالَ لَهُ: ما لِي أَرَاكَ قَدْ جَفَوْتَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ ؟ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: أَبْلِغْهُ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَأَمَّا قَوْلُهُ:" إِنِّي تَخَلَّفْتُ يَوْمَ بَدْرٍ، فَإِنِّي كُنْتُ أُمَرِّضُ رُقَيَّةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَاتَتْ، وَقَدْ ضَرَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمٍ، وَمَنْ ضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمٍ، فَقَدْ شَهِدَ"... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ إِلَى آخِرِهِ.
شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ولید بن عقبہ سے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی ملاقات ہوئی ولید نے کہا: کیا بات ہے آپ امیرالمومنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ انصاف نہیں کر رہے؟ انہوں نے کہا کہ میری طرف سے انہیں یہ پیغام پہنچا دو، پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔ اور غزوہ بدر سے پیچھے رہ جانے کا جو طعنہ انہوں نے مجھے دیا ہے تو اصل بات یہ ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی اور اپنی زوجہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی تیمارداری میں مصروف تھا، یہاں تک کہ وہ اسی دوران فوت ہو گئیں، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شرکاء بدر کے ساتھ مال غنیمت میں میرا حصہ بھی شامل فرمایا: اور یہ سمجھا گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کا حصہ مقرر فرمایا وہ غزوہ بدر میں شریک تھا۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 556]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 557
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنِي قَبِيصَةُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ :" كَيْفَ بَايَعْتُمْ عُثْمَانَ وَتَرَكْتُمْ عَلِيًّا؟ قَالَ: مَا ذَنْبِي؟ قَدْ بَدَأْتُ بِعَلِيٍّ، فَقُلْتُ: أُبَايِعُكَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ، وَسِيرَةِ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، قَالَ: فَقَالَ: فِيمَا اسْتَطَعْتُ، قَالَ: ثُمَّ عَرَضْتُهَا عَلَى عُثْمَانَ، فَقَبِلَهَا".
ابووائل کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت کس طرح کر لی؟ انہوں نے فرمایا: اس میں میرا کیا جرم ہے، میں نے تو پہلے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا تھا کہ میں آپ سے بیعت کرتا ہوں کتاب اللہ، سنت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور سیرۃ حضرات شیخین رضی اللہ عنہ پر، انہوں نے مجھ سے کہا کہ حسب استطاعت ایسا کرنے کی کوشش کروں گا لیکن جب میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اس کی پیشکش کی تو انہوں نے اسے قبول کر لیا۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 557]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف سفيان بن وكيع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 558
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنَا زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ الْقُرَشِيُّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى عُثْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي كَتَمْتُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَرَاهِيَةَ تَفَرُّقِكُمْ عَنِّي، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أُحَدِّثَكُمُوهُ، لِيَخْتَارَ امْرُؤٌ لِنَفْسِهِ مَا بَدَا لَهُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ يَوْمٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَنَازِلِ".
ابوصالح جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو منبر پر دوران خطبہ یہ کہتے ہوئے سنا کہ لوگو! میں نے اب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث تم سے بیان نہیں کی تاکہ تم لوگ مجھ سے جدا نہ ہو جاؤ لیکن اب میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تم سے بیان کر دوں تاکہ ہر آدمی جو مناسب سمجھے اسے اختیار کر لے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کے راستہ میں ایک دن کی پہرہ داری دوسری جگہوں پر ہزار دن کی پہرہ داری سے بھی افضل ہے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 558]

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں