مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 2909
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كُلُّ حِلْفٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّةً، أَوْ حِدَّةً".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ زمانہ جاہلیت کے ہر عہد و پیمان میں اسلام نے شدت یا حدت کا اضافہ ہی کیا ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2909]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وسماك فى روايته عن عكرمة اضطراب
حدیث نمبر: 2910
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَيُّمَا أَمَةٍ وَلَدَتْ مِنْ سَيِّدِهَا، فَهِيَ مُعْتَقَةٌ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ"، أَوْ قَالَ:" مِنْ بَعْدِهِ" وَرُبَّمَا قَالَهُمَا جَمِيعًا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو باندی ام ولدہ (اپنے آقا کے بچے کی ماں) بن جائے، وہ آقا کے مرنے کے بعد آزاد ہو جاتی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2910]
الحكم على الحديث:
حسن، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ ، لكنه توبع، وحسين بن عبدالله ضعيف
حدیث نمبر: 2911
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ أَمَرَ عَلِيًّا فَوَضَعَ لَهُ غُسْلًا، ثُمَّ أَعْطَاهُ ثَوْبًا، فَقَالَ: اسْتُرْنِي وَوَلِّنِي ظَهْرَكَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے غسل کا پانی رکھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک کپڑا دیا اور فرمایا کہ ”یہ چادر تان کر پردہ کرواؤ اور میری طرف اپنی پشت کر کے کھڑے ہو جاؤ۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2911]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وسماك فى روايته عن عكرمة اضطراب
حدیث نمبر: 2912
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ فَاجْعَلُوهُ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ، وَمَنْ سَأَلَهُ جَارُهُ أَنْ يَدْعَمَ عَلَى حَائِطِهِ، فَلْيَفْعَلْ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب راستے میں تمہارا اختلاف رائے ہو جائے تو اسے سات گز بنا لیا کرو، اور جس شخص سے اس کا پڑوسی اس کی دیوار پر اپنا شہتیر رکھنے کی درخواست کرے تو اسے چاہئے کہ اپنے پڑوسی کی لکڑی کے ساتھ ستون بنا لے (تاکہ اس کی عمارت نہ گر سکے)۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2912]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، قد توبع، وسماك فى روايته عن عكرمة اضطراب
حدیث نمبر: 2913
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَيْهِ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ كَمَّهَ أَعْمَى عَنِ السَّبِيلِ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ ثَلَاثًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص ملعون ہے جو زمین کے بیج بدل دے، وہ شخص ملعون ہے جو غیر اللہ کے نام پر کسی جانور کو ذبح کرے، وہ شخص ملعون ہے جو اپنے والدین کو گالی دے، وہ شخص ملعون ہے جو اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے، وہ شخص ملعون ہے جو کسی نابینا کو غلط راستے پر لگا دے، وہ شخص ملعون ہے جو کسی جانور پر جا پڑے۔“ اور تین مرتبہ فرمایا: ”وہ شخص بھی ملعون ہے جو قوم لوط والا عمل کرے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2913]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 2914
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَلْعُونٌ مَنْ سَبَّ أَبَاهُ، مَلْعُونٌ مَنْ سَبَّ أُمَّهُ، مَلْعُونٌ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، مَلْعُونٌ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ، مَلْعُونٌ مَنْ كَمَّهَ أَعْمَى عَنِ الطَّرِيقِ، مَلْعُونٌ مَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ، مَلْعُونٌ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ". قَالَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِرَارًا ثَلَاثًا فِي اللُّوطِيَّةِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص ملعون ہے جو اپنے باپ کو گالی دے، وہ شخص ملعون ہے جو اپنی ماں کو گالی دے، وہ شخص ملعون ہے جو غیر اللہ کے نام پر کسی جانور کو ذبح کرے، وہ شخص ملعون ہے جو زمین کے بیج بدل دے، وہ شخص ملعون ہے جو کسی نابینا کو غلط راستے پر لگا دے، وہ شخص ملعون ہے جو کسی جانور پر جا پڑے، اور وہ شخص بھی ملعون ہے جو قوم لوط والا عمل کرے۔“ اور یہ آخری جملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ دہرایا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2914]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 2915
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ كَمَّهَ أَعْمَى عَنِ الطَّرِيقِ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَقَّ وَالِدَيْهِ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ". قَالَهَا ثَلَاثًا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص ملعون ہے جو زمین کے بیج بدل دے، وہ شخص ملعون ہے جو اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے، وہ شخص ملعون ہے جو کسی نابینا کو غلط راستے پر لگا دے، وہ شخص ملعون ہے جو غیر اللہ کے نام پر کسی جانور کو ذبح کرے، وہ شخص ملعون ہے جو کسی جانور پر جا پڑے، وہ شخص ملعون ہے جو اپنے والدین کی نافرمانی کرے“، اور تین مرتبہ فرمایا: ”وہ شخص بھی ملعون ہے جو قوم لوط والا عمل کرے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2915]
الحكم على الحديث:
إسناده جيد
حدیث نمبر: 2916
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ بِرَكْعَتَيْ الضُّحَى، وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِهَا، وَأُمِرْتُ بِالْأَضْحَى، وَلَمْ تُكْتَبْ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے چاشت کی دو رکعتوں کا حکم دیا گیا ہے لیکن تمہیں نہیں دیا گیا، نیز مجھ پر قربانی کو صاحب نصاب نہ ہونے کے باوجود فرض کر دیا گیا ہے لیکن تم پر صاحب نصاب نہ ہونے کی صورت میں قربانی فرض نہیں ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2916]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف جابر الجعفي
حدیث نمبر: 2917
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كُتِبَ عَلَيَّ النَّحْرُ، وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ، وَأُمِرْتُ بِرَكْعَتَيْ الضُّحَى، وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِهَا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے چاشت کی دو رکعتوں کا حکم دیا گیا ہے لیکن تمہیں نہیں دیا گیا، نیز مجھ پر قربانی کو صاحب نصاب نہ ہونے کے باوجود فرض کر دیا گیا ہے لیکن تم پر صاحب نصاب نہ ہونے کی صورت میں قربانی فرض نہیں ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2917]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 2918
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى ابْنِ عُقَيْلٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَقَدْ عُلِّمْتُ آيَةً مِنَ الْقُرْآنِ مَا سَأَلَنِي عَنْهَا رَجُلٌ قَطُّ، فَمَا أَدْرِي أَعَلِمَهَا النَّاسُ، فَلَمْ يَسْأَلُوا عَنْهَا، أَمْ لَمْ يَفْطِنُوا لَهَا، فَيَسْأَلُوا عَنْهَا؟! ثُمَّ طَفِقَ يُحَدِّثُنَا، فَلَمَّا قَامَ، تَلَاوَمْنَا أَنْ لَا نَكُونَ سَأَلْنَاهُ عَنْهَا، فَقُلْتُ: أَنَا لَهَا إِذَا رَاحَ غَدًا، فَلَمَّا رَاحَ الْغَدَ، قُلْتُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، ذَكَرْتَ أَمْسِ أَنَّ آيَةً مِنَ الْقُرْآنِ لَمْ يَسْأَلْكَ عَنْهَا رَجُلٌ قَطُّ، فَلَا تَدْرِي أَعَلِمَهَا النَّاسُ، فَلَمْ يَسْأَلُوا عَنْهَا، أَمْ لَمْ يَفْطِنُوا لَهَا، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْهَا، وَعَنِ اللَّاتِي قرأت قبلها. قَالَ: نَعَمْ، إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِقُرَيْشٍ:" يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ فِيهِ خَيْرٌ". وَقَدْ عَلِمَتْ قُرَيْشٌ أَنَّ النَّصَارَي تَعْبُدُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ، وَمَا تَقُولُ فِي مُحَمَّدٍ، فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ، أَلَسْتَ تَزْعُمُ أَنَّ عِيسَى كَانَ نَبِيًّا وَعَبْدًا مِنْ عِبَادِ اللَّهِ صَالِحًا، فَلَئِنْ كُنْتَ صَادِقًا، فَإِنَّ آلِهَتَهُمْ لَكَمَا تَقُولُونَ. قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ سورة الزخرف آية 57. قَالَ: قُلْتُ مَا يَصِدُّونَ؟ قَالَ: يَضِجُّونَ، وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ سورة الزخرف آية 61، قَالَ: هُوَ خُرُوجُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
ابویحییٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں قرآن کریم کی ایک ایسی آیت جانتا ہوں جس کے متعلق آج تک مجھ سے کسی نے نہیں پوچھا، اب مجھے معلوم نہیں ہے کہ لوگوں کو اس کے بارے پہلے سے علم ہے اس لئے نہیں پوچھتے یا ان کا ذہن ہی اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتا؟ یہ کہہ کر پھر وہ ہمارے ساتھ باتیں کرنے لگے، جب وہ اپنی نشست سے کھڑے ہوئے تو ہم ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم ہی نے ان سے کیوں نہ پوچھ لیا؟ میں نے کہا کہ جب وہ کل یہاں آئیں گے تو میں ان سے اس کے متعلق دریافت کروں گا۔ چنانچہ اگلے دن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما جب تشریف لائے تو میں نے عرض کیا کہ حضرت! کل آپ نے ذکر فرمایا تھا کہ آپ قرآن کریم کی ایک ایسی آیت جانتے ہیں جس کے متعلق آج تک آپ سے کسی نے نہیں پوچھا اور آپ نے فرمایا تھا کہ معلوم نہیں، لوگوں کو پہلے سے اس کے بارے علم ہے اس لئے نہیں پوچھتے یا اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے؟ آپ مجھے اس آیت کے متعلق بتائیے اور ان آیات کے متعلق بھی جو آپ نے اس سے پہلے پڑھ رکھی تھیں؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ قریش سے فرمایا: ”اے گروہ قریش! اللہ کے علاوہ جن چیزوں کی پوجا کی جاتی ہے، ان میں سے کسی میں کوئی خیر نہیں ہے“، قریش کے لوگ جانتے تھے کہ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عبادت کرتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے کیا رائے رکھتے ہیں اس لئے وہ کہنے لگے: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا تمہارا یہ خیال نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی اور اس کے نیک بندے تھے، اگر آپ سچے ہیں (کہ معبودان باطلہ میں کوئی خیر نہیں ہے) تو پھر عیسائیوں کا خدا بھی ویسا ہی ہوا جیسے آپ کہتے ہیں (کہ ان میں بھی کوئی خیر نہیں ہے)، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: «وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ» [الزخرف: 57] ”جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مثال بیان کی جاتی ہے تو آپ کی قوم چلانے لگتی ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے «يَصِدُّونَ» کا معنی پوچھا تو انہوں نے اس کا ترجمہ ”چلانا“ کیا اور « ﴿وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ﴾ [الزخرف: 61] » ”اور بلاشبہ وہ یقینا قیامت کی ایک نشانی ہے۔“ کا مطلب پوچھا تو فرمایا کہ قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول و خروج قیامت کی علامات میں سے ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2918]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن