مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 2929
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي الْمَرْأَةَ وَالْمَمْلُوكَ مِنَ الْغَنَائِمِ مَا يُصِيبُ الْجَيْشَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورت اور غلام کو بھی لشکر کو حاصل ہونے والے مال غنیمت میں سے حصہ دیتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2929]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، القاسم بن عباس لم يدرك ابن عباس وهو يروي عن أصحابه
حدیث نمبر: 2930
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَاه حُسَيْنٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْطِي الْعَبْدَ وَالْمَرْأَةَ مِنَ الْغَنَائِمِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورت اور غلام کو بھی لشکر کو حاصل ہونے والے مال غنیمت میں سے حصہ دیتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2930]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الرجل الراوي عن ابن عباس
حدیث نمبر: 2931
اس روایت کے مطابق مال غنیمت کے علاوہ دوسرے مال سے انہیں حصہ دیتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2931]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف كسايقه
حدیث نمبر: 2932
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ شُعْبَةَ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ دَخَلَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَعُودُهُ مِنْ وَجَعٍ، وَعَلَيْهِ بُرْدٌ إِسْتَبْرَقٌ، فقال: يَا أَبَا عَبَّاسٍ، مَا هَذَا الثَّوْبُ؟ قَالَ:" وَمَا هُوَ؟" قَالَ: هَذَا الْإِسْتَبْرَقُ! قَالَ:" وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ بِهِ، وَمَا أَظُنُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنه هَذَا، حِينَ نَهَى عَنْهُ، إِلَّا لِلتَّجَبُّرِ وَالتَّكَبُّرِ، وَلَسْنَا بِحَمْدِ اللَّهِ كَذَلِكَ". قَالَ: فَمَا هَذِهِ التَّصَاوِيرُ فِي الْكَانُونِ؟ قَالَ: أَلَا تَرَى قَدْ أَحْرَقْنَاهَا بِالنَّارِ؟ فَلَمَّا خَرَجَ الْمِسْوَرُ، قَالَ: انْزَعُوا هَذَا الثَّوْبَ عَنِّي، وَاقْطَعُوا رُءُوسَ هَذِهِ التَّمَاثِيلِ. قَالُوا: يَا أَبَا عَبَّاسٍ، لَوْ ذَهَبْتَ بِهَا إِلَى السُّوقِ، كَانَ أَنْفَقَ لَهَا مَعَ الرَّأْسِ؟ قَالَ: لَا. فَأَمَرَ بِقَطْعِ رُءُوسِهَا.
شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی عیادت کے لئے تشریف لائے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس وقت استبرق کی ریشمی چادر اوڑھ رکھی تھی، سیدنا مسور رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے ابوالعباس! یہ کیا کپڑا ہے؟ انہوں نے پوچھا: کیا مطلب؟ فرمایا: یہ تو استبرق (ریشم) ہے، انہوں نے کہا: واللہ! مجھے اس کے بارے پتہ نہیں چل سکا اور میرا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہننے سے تکبر اور ظلم کی وجہ سے منع فرمایا تھا اور الحمدللہ! ہم ایسے نہیں ہیں۔ پھر سیدنا مسور رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یہ انگیٹھی میں تصویریں کیسی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ آپ دیکھ ہی رہے ہیں کہ ہم نے انہیں آگ میں جلا دیا ہے، بہرحال! سیدنا مسور رضی اللہ عنہ جب چلے گئے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس چادر کو میرے اوپر سے اتارو اور ان مورتیوں کے سر کا حصہ کاٹ دو، لوگوں نے کہا: اے ابوالعباس! اگر آپ انہیں بازار لے جائیں تو سر کے ساتھ ان کی اچھی قیمت لگ جائے گی، انہوں نے انکار کر دیا اور حکم دیا کہ ان کے سر کا حصہ کاٹ دیا جائے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2932]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، شعبة بن دينار مولى ابن عباس سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 2933
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: وَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: إِنَّ مَوْلَاكَ إِذَا سَجَدَ، وَضَعَ جَبْهَتَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَصَدْرَهُ بِالْأَرْضِ. فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ : مَا يَحْمِلُكَ عَلَى مَا تَصْنَعُ؟ قَالَ: التَّوَاضُعُ. قَالَ: هَكَذَا رِبْضَةُ الْكَلْبِ،" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ رُئِيَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ".
شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں ایک آدمی حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ آپ کا آزاد کردہ غلام سجدہ کرتے ہوئے پیشانی، بازو اور سینہ زمین پر رکھ دیتا ہے، انہوں نے اس سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے تواضع کو سبب بتایا، انہوں نے فرمایا: اس طرح تو کتا بیٹھتا ہے، میں نے دیکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی (یعنی ہاتھ اتنے جدا ہوتے تھے)۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2933]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 2934
وحَدَّثَنَاه حُسَيْنٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2934]
الحكم على الحديث:
هو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 2935
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْعَثُهُ مَعَ أَهْلِهِ إِلَى مِنًى يَوْمَ النَّحْرِ، لِيَرْمُوا الْجَمْرَةَ مَعَ الْفَجْرِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ کو منیٰ کی طرف دس ذی الحجہ کو بھیج دیا تھا تاکہ فجر ہونے کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کر لیں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2935]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، لضعف شعبة مولي ابن عباس
حدیث نمبر: 2936
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَاه حُسَيْنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِهِ مَعَ أَهْلِهِ إِلَى مِنًى يَوْمَ النَّحْرِ، فَرَمَوْا الْجَمْرَةَ مَعَ الْفَجْرِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ کو منیٰ کی طرف دس ذی الحجہ کو بھیج دیا تھا تاکہ فجر ہونے کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کر لیں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2936]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 2937
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ حُسَيْنٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ وَطِئَ أَمَتَهُ، فَوَلَدَتْ لَهُ، فَهِيَ مُعْتَقَةٌ عَنْ دُبُرٍ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو باندی ام ولدہ (اپنے آقا کے بچے کی ماں) بن جائے، وہ آقا کے مرنے کے بعد آزاد ہو جاتی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2937]
الحكم على الحديث:
حسن، وهذا إسناد ضعيف ، شريك بن عبدالله النخعي، وحسين بن عبدالله بن عبيدالله بن عباس كلاهما ضعيفان
حدیث نمبر: 2938
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ حُسَيْنٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ، يَتَّقِي بِفُضُولِهِ حَرَّ الْأَرْضِ وَبَرْدَهَا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں - اسے اچھی طرح لپیٹ کر - نماز پڑھی اور اس کے زائد حصے کے ذریعے زمین کی گرمی سردی سے اپنے آپ کو بچانے لگے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2938]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف