مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 3126
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ جَنَازَةً مَرَّتْ بِالْحَسَنِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَامَ الْحَسَنُ وَلَمْ يَقُمْ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ الْحَسَنُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : أَقَامَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: قَامَ، وَقَعَدَ.
محمد بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے سے ایک جنازہ گزرا، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیٹھے رہے، سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے تھے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہنے لگے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3126]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، فإن محمد بن سيرين لم يسمع من ابن عباس ولا من الحسن بن علي
حدیث نمبر: 3127
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَأْذَنُ لِأَهْلِ بَدْرٍ، وَيَأْذَنُ لِي مَعَهُمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: يَأْذَنُ لِهَذَا الْفَتَى مَعَنَا، وَمِنْ أَبْنَائِنَا مَنْ هُوَ مِثْلُهُ؟! فَقَالَ: عُمَرُ إِنَّهُ ممَنْ قَدْ عَلِمْتُمْ، قَالَ: فَأَذِنَ لَهُمْ ذَاتَ يَوْمٍ، وَأَذِنَ لِي مَعَهُمْ، فَسَأَلَهُمْ عَنْ هَذِهِ السُّورَةِ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ فَقَالُوا:" أَمَرَ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فُتِحَ عَلَيْهِ أَنْ يَسْتَغْفِرَهُ وَيَتُوبَ إِلَيْهِ". فَقَالَ لِي: مَا تَقُولُ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَيْسَتْ كَذَلِكَ، وَلَكِنَّهُ أَخْبَرَ نَبِيَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ بِحُضُورِ أَجَلِهِ، فَقَالَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ سورة النصر آية 1 فَتْحُ مَكَّةَ، وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا سورة النصر آية 2 فَذَلِكَ عَلَامَةُ مَوْتِكَ، فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا سورة النصر آية 3 فَقَالَ: لَهُمْ كَيْفَ تَلُومُونِي عَلَى مَا تَرَوْنَ؟.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ جب اہل بدر کو اپنے پاس آنے کی اجازت دیتے تو ان کی موجودگی میں مجھے بھی شریک ہونے کی اجازت دے دیتے، بعض اصحاب بدر کہنے لگے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس نوجوان کو تو ہمارے ساتھ شریک ہونے کی اجازت دے دیتے ہیں جبکہ اس جیسے تو ہمارے بیٹے بھی ہیں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو فرمایا: یہ سمجھدار ہے۔ ایک دن سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اصحاب بدر کو اپنے پاس آنے کی اجازت دی اور مجھے بھی ان کے ساتھ اجازت مرحمت فرمائی، اور ان سے سورہ نصر کے متعلق دریافت کیا، وہ کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے کہ جب انہیں فتح یابی ہو تو وہ استغفار اور توبہ کریں، پھر انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ اے ابن عباس! تم کیا کہتے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میرے رائے یہ نہیں ہے، دراصل اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی موت کا وقت قریب آ جانے کی خبر دی ہے اور فرمایا ہے کہ جب اللہ کی طرف سے مدد آجائے اور مکہ مکرمہ فتح ہو جائے، اور آپ لوگوں کو دین الٰہی میں فوج در فوج شامل ہوتے ہوئے دیکھ لیں تو یہ آپ کے وصال کی علامت ہے، اس لئے آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کیجئے اور اس سے استغفار کیجئے، بیشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے، یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اب تم نے دیکھ لیا، پھر تم مجھے کس طرح ملامت کر سکتے ہو؟ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3127]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4294
حدیث نمبر: 3128
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ:" أَهَلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ، فَلَمَّا قَدِمَ طَافَ بِالْبَيْتِ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَلَمْ يُقَصِّرْ، وَلَمْ يَحِلَّ مِنْ أَجْلِ الْهَدْيِ، وَأَمَرَ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ أَنْ يَطُوفَ، وَأَنْ يَسْعَى، وَأَنْ يُقَصِّرَ أَوْ يَحْلِقَ، ثُمَّ يَحِلَّ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کی نیت سے احرام باندھا، مکہ مکرمہ پہنچ کر خانہ کعبہ کا طواف کیا، صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی، لیکن ہدی کی وجہ سے بال کٹوا کر حلال نہیں ہوئے، اور ہدی اپنے ساتھ نہ لانے والوں کو حکم دیا کہ ”وہ طواف اور سعی کر کے قصر یا حلق کرنے کے بعد حلال ہو جائیں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3128]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 1239، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد
حدیث نمبر: 3129
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الشَّرَابِ أَطْيَبُ؟ قَالَ:" الْحُلْوُ الْبَارِدُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا مشروب سب سے عمدہ ہے؟ فرمایا: ”جو میٹھا اور ٹھنڈا ہو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3129]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام راويه عن ابن عباس
حدیث نمبر: 3130
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعت نماز پڑھتے تھے، (آٹھ تہجد، تین وتر اور دو فجر کی سنتیں)۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3130]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1138، م: 764
حدیث نمبر: 3131
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، فَاخْتَبَأْتُ مِنْهُ خَلْفَ بَابٍ، فَدَعَانِي، فَحَطَأَنِي حَطْأَةً، ثُمَّ بَعَثَنِي إِلَى مُعَاوِيَةَ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: هُوَ يَأْكُلُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مرتبہ میرے قریب سے گزر ہوا، میں اس وقت بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، میں ایک دروازے کے پیچھے جا کر چھپ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور پیار سے زمین پر پچھاڑ دیا، پھر مجھے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا، میں نے واپس آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتادیا کہ وہ کھانا کھا رہے ہیں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3131]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن، م: 2604
حدیث نمبر: 3132
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَهْزٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، قَالَ: بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: أَهْدَى الصَّعْبُ، وَقَالَ: ابْنُ جَعْفَرٍ ابْنُ جَثَّامَةَ" إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِقَّةَ حِمَارٍ، وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَرَدَّهُ". قَالَ بَهْزٌ: عَجُزَ حِمَارٍ، أَوْ قَالَ: رِجْلَ حِمَارٍ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک حمار کی ٹانگ پیش کی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کرتے ہوئے فرمایا کہ ”ہم محرم ہیں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3132]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م:1194
حدیث نمبر: 3133
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، قَالَ: مَرَرْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ، فَإِذَا فِتْيَةٌ قَدْ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا، لَهُمْ كُلُّ خَاطِئَةٍ، قَالَ: فَغَضِبَ، وَقَالَ: مَنْ فَعَلَ هَذَا؟، قَالَ: فَتَفَرَّقُوا، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُمَثِّلُ بِالْحَيَوَانِ".
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ کے کسی راستے میں میرا سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم کے ساتھ گزر ہوا، دیکھا کہ کچھ نوجوانوں نے ایک مرغی کو باندھ رکھا ہے اور اس پر اپنا نشانہ درست کر رہے ہیں، اس پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما غصے میں آ گئے اور فرمانے لگے: یہ کون کر رہا ہے؟ اسی وقت سارے نوجوان دائیں بائیں ہو گئے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو جانور کا مثلہ کرے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3133]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3134
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، قَالَ:" أَخْبَرَنِي مَنْ مَرَّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ، فَأَمَّهُمْ، وَصَفُّوا خَلْفَهُ". فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَمْرٍو، مَنْ حَدَّثَكَ؟ قَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ .
امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک الگ تھلگ قبر پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزرنے والے صحابی رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ بڑھائی اور لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بستہ کھڑے ہو گئے۔ میں نے امام شعبی رحمہ اللہ سے اس صحابی کا نام پوچھا تو انہوں نے بتایا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3134]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 857، م:954
حدیث نمبر: 3135
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّمَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ، أَنْ يَمْنَحَهَا أَخَاهُ، خَيْرٌ لَهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد منقول ہے کہ ”کسی شخص کا اپنی زمین اپنے بھائی کو بطور ہدیہ پیش کر دینا زیادہ بہتر ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3135]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2330، م: 1550