🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3116
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . وَحَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ أخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكَحَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ حَرَامٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3116]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1837 ، م: 1410
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3117
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا وَعِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، يُخْبِرَانِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَتْ ضُبَاعَةُ بِنْتُ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يا رسولَ الله، إِنِّي امْرَأَةٌ ثَقِيلَةٌ، وَإِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ، فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي كَيْفَ أُهِلُّ؟ قَالَ:" أَهِلِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي". قَالَ: فَأَدْرَكَتْ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بھاری بھرکم عورت ہوں اور حج کا ارادہ رکھتی ہوں، آپ مجھے کس طرح احرام باندھنے کا حکم دیتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم احرام باندھتے وقت شرط لگا لو کہ میں وہیں حلال ہو جاؤں گی جہاں اے اللہ! آپ نے مجھے روک دیا۔“ چنانچہ انہوں نے حج پا لیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3117]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1208
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3118
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ، وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ". قَالَ حَجَّاجٌ: قَالَ شُعْبَةُ: أُرَهُ يَعْنِي الْيَهُودَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبرستان جا کر (غیر شرعی کام کرنے والی) عورتوں پر لعنت فرمائی ہے، اور ان لوگوں پر بھی جو قبروں پر مسجدیں بناتے اور ان پر چراغاں کرتے ہیں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3118]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، دون قوله : والسرج وهذا إسناد ضعيف، أبو صالح باذام ضعيف عند الجمهور
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3119
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ :" كَيْفَ أُصَلِّي إِذَا كُنْتُ بِمَكَّةَ، إِذَا لَمْ أُصَلِّ مَعَ الْإِمَامِ؟ فَقَالَ: رَكْعَتَيْنِ، سُنَّةَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ جب میں مکہ مکرمہ میں ہوں اور امام کے ساتھ نماز نہ پڑھ سکوں تو کتنی رکعتیں پڑھوں؟ انہوں نے فرمایا: دو رکعتیں، کیونکہ یہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3119]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 688
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3120
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَجْنَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَيْمُونَةُ، فَاغْتَسَلَتْ مَيْمُونَةُ فِي جَفْنَةٍ، وَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ، فَأَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَغْتَسِلَ مِنْهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ اغْتَسَلْتُ مِنْهُ. فَقَالَ: يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمَاءَ لَيْسَتْ عَلَيْهِ جَنَابَةٌ" أَوْ قَالَ:" إِنَّ الْمَاءَ لَا يَنْجُسُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا پر غسل واجب تھا، سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے ایک ٹب کے پانی سے غسل جنابت فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنا چاہا تو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس سے تو میں نے غسل کیا ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3120]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، واضطراب سماك فى عكرمة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3121
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: أُرَاهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ" تَمَتَّعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". فَقَالَ: عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ نَهَى أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ عَنِ الْمُتْعَةِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا يَقُولُ عُرَيَّةُ؟ قَالَ: يَقُولُ: نَهَى أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ عَنِ الْمُتْعَةِ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أُرَاهُمْ سَيَهْلِكُونَ! أَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَقُولُ: نَهَى أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج تمتع کیا ہے، عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کہنے لگے کہ حضرات شیخین تو اس سے منع کرتے رہے ہیں؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا: عروہ کیا کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ وہ کہہ رہے ہیں: حضرات شیخین نے تو اس سے منع فرمایا ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: لگتا ہے کہ یہ لوگ ہلاک ہو کر رہیں گے، میں کہہ رہا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اور یہ کہہ رہے ہیں کہ سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے منع کیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3121]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، شريك سيئ الحفظ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3122
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ التَّمِيمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيَنْزِلُ بِهِ عَلَيَّ قُرْآنٌ، أَوْ وَحْيٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے مسواک کا حکم اس تاکید کے ساتھ دیا گیا کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں اس بارے میں مجھ پر قرآن کی کوئی آیت نازل نہ ہو جائے (اور میری امت اس حکم کو پورا نہ کر سکے)۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3122]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، التميمي مجهول، وشريك بن عبدالله سيئ الحفظ، ولكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3123
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ:" شَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَنًا، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ، فَمَضْمَضَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ لَهُ دَسَمًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ دودھ پیا اور بعد میں کلی کر کے فرمایا کہ ”اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3123]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 211، م: 385
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3124
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: نَزَلَتْ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ سورة النساء آية 59 فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَدِيٍّ السَّهْمِيِّ،" إِذْ بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّرِيَّةِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: « ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللّٰهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ﴾ [النساء: 59] » ”اے اہل ایمان! اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے اولی الامر کی۔“ سیدنا عبداللہ بن حذافہ قیس بن عدی سہمی رضی اللہ عنہ کے بارے نازل ہوا ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک سرئیے میں روانہ فرمایا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3124]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4584، م : 1834
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3125
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ جَمَعْتُ الْمُحْكَمَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" وَقُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرِ حِجَجٍ". قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: وَمَا الْمُحْكَمُ؟ قَالَ: الْمُفَصَّلُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تم جن سورتوں کو مفصلات کہتے ہو، در حقیقت وہ محکمات ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت میری عمر دس سال تھی اور اس وقت تک میں ساری محکمات پڑھ چکا تھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3125]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5036
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں