🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3098
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ بَارِقٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ أَبُو زُمَيْلٍ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ كَانَ لَهُ فَرَطَانِ مِنْ أُمَّتِي، دَخَلَ الْجَنَّةَ". فَقَالَتْ عَائِشَةُ: بِأَبِي، فَمَنْ كَانَ لَهُ فَرَطٌ؟ فَقَالَ:" وَمَنْ كَانَ لَهُ فَرَطٌ يَا مُوَفَّقَةُ"، قَالَتْ: فَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ فَرَطٌ مِنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ:" فَأَنَا فَرَطُ أُمَّتِي، لَمْ يُصَابُوا بِمِثْلِي".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”میری امت میں سے جو شخص اپنے دو کم سن بچے ذخیرے کے طور پر آگے بھیج چکا ہوگا، وہ جنت میں داخل ہوگا۔“ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: میرے والد آپ پر قربان ہوں، یہ بتائیے کہ اگر کسی کا ایک بچہ فوت ہو تو کیا حکم ہے؟ فرمایا: ”اے توفیق دی ہوئی عورت! اس کا بھی یہی حکم ہے“، انہوں نے پھر پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی امت میں سے اگر کسی کا کوئی ذخیرہ ہی نہ ہو تو؟ فرمایا: ”پھر میں اپنی امت کا ذخیرہ ہوں گا اور انہیں مجھ جیسا کوئی نہیں ملے گا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3098]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3099
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَ أَبُو سَلَّامٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عَلَى أَعْوَادِ مِنْبَرِهِ:" لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمْ الْجُمُعَاتِ، أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ، ثُمَّ لَيُكْتَبُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ".
سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے: ”لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آ جائیں، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا اور انہیں غافلوں میں لکھ دے گا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3099]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3100
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3100]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح كسابقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3101
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنِي حَبِيبٌ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَجُلًا يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ يُكَبِّرُ إِذَا سَجَدَ، وَإِذَا رَفَعَ، وَإِذَا خَفَضَ، فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ، فَذَكَرْتُهُ لِابْنِ عَبَّاسٍ ؟ فَقَالَ: لَا أُمَّ لَكَ، تِلْكَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ مسجد میں داخل ہوا اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا، وہ سر اٹھاتے ہوئے، جھکاتے ہوئے اور دو رکعتوں سے اٹھتے ہوئے تکبیر کہتا تھا، میں نے عجیب سمجھ کر یہ واقعہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تیری ماں نہ رہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اسی طرح ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3101]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3102
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ، فَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَتْ لَهُ مَيْمُونَةُ: وَضَعَ لَكَ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ. فَقَالَ:" اللَّهُمَّ فَقِّهُّ فِي الدِّينِ، وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے، میں نے رات کے وقت ان کے لئے وضو کا پانی رکھا، سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ پانی آپ کے لئے عبداللہ بن عباس نے رکھا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! اسے دین کی سمجھ عطا فرما اور کتاب کی تاویل و تفسیر سمجھا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3102]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 143، م: 2477، بدون لفظ : وعلمه التأويل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3103
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ . قَالَ أَبِي: حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلَيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا مَاتَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ قَالَتْ: امْرَأَتُهُ هَنِيئًا لَكَ يَا ابْنَ مَظْعُونٍ بِالْجَنَّةِ، قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظْرَةَ غَضَبٍ، فَقَالَ لَهَا:" مَا يُدْرِيكِ؟! فَوَاللَّهِ إِنِّي لَرَسُولُ اللَّهِ، وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي قَالَ عَفَّانُ: وَلَا بِهِ"، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَارِسُكَ وَصَاحِبُكَ! فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ ذَلِكَ لِعُثْمَانَ، وَكَانَ مِنْ خِيَارِهِمْ، حَتَّى مَاتَتْ رُقَيَّةُ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" الْحَقِي بِسَلَفِنَا الْخَيْرِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ" قَالَ: وَبَكَتْ النِّسَاءُ، فَجَعَلَ عُمَرُ يَضْرِبُهُنَّ بِسَوْطِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ:" دَعْهُنَّ يَبْكِينَ، وَإِيَّاكُنَّ وَنَعِيقَ الشَّيْطَانِ" ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَهْمَا يَكُنْ مِنَ الْقَلْبِ وَالْعَيْنِ، فَمِنْ اللَّهِ وَالرَّحْمَةِ، وَمَهْمَا كَانَ مِنَ الْيَدِ وَاللِّسَانِ، فَمِنْ الشَّيْطَانِ". وَقَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ، وَفَاطِمَةُ إِلَى جَنْبِهِ تَبْكِي، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَيْنَ فَاطِمَةَ بِثَوْبِهِ، رَحْمَةً لَهَا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ایک خاتون کہنے لگی کہ عثمان! تمہیں جنت مبارک ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کی طرف غصے بھری نگاہوں سے دیکھا اور فرمایا: ”تمہیں کیسے پتہ چلا؟“ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ آپ کے شہسوار اور ساتھی تھے (اس لئے مرنے کے بعد جنت ہی میں جائیں گے)، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واللہ! مجھے اللہ کا پیغمبر ہونے کے باوجود معلوم نہیں ہے کہ میرے ساتھ کیا ہوگا“، یہ سن کر لوگ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے بارے ڈر گئے لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے آگے جانے والے بہترین ساتھی عثمان بن مظعون سے جا ملو“ (جس سے ان کا جنتی ہونا ثابت ہوگیا)۔ اس پر عورتیں رونے لگیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ انہیں کوڑوں سے مارنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا: ”عمر! رک جاؤ“، پھر خواتین سے فرمایا کہ ”تمہیں رونے کی اجازت ہے لیکن شیطان کی چیخ و پکار سے اپنے آپ کو بچاؤ“، پھر فرمایا کہ ”جب تک یہ آنکھ اور دل کا معاملہ رہے تو اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور باعث رحمت ہوتا ہے، اور جب ہاتھ اور زبان تک نوبت پہنچ جائے تو یہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے“، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے کنارے پر بیٹھ گئے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ان کے پہلو میں روتی رہیں، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم شفقت سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی آنکھیں اپنے کپڑے سے پونچھنے لگے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3103]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف على بن زيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3104
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عِيسَى أَبُو بِشْرٍ الرَّاسِبِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: كُنْتُ غُلَامًا أَسْعَى مَعَ الْغِلْمَانِ، فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا أَنَا بِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفِي مُقْبِلًا، فَقُلْتُ: مَا جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا إِلَيَّ، قَالَ: فَسَعَيْتُ حَتَّى أَخْتَبِئَ وَرَاءَ بَابِ دَارٍ، قَالَ: فَلَمْ أَشْعُرْ حَتَّى تَنَاوَلَنِي، فَأَخَذَ بِقَفَايَ، فَحَطَأَنِي حَطْأَةً، فَقَالَ:" اذْهَبْ فَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ" قَالَ: وَكَانَ كَاتِبَهُ، فَسَعَيْتُ فَأَتَيْتُ مُعَاوِيَةَ، فَقُلْتُ: أَجِبْ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّهُ عَلَى حَاجَةٍ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مرتبہ میرے قریب سے گزر ہوا، میں اس وقت بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، میں ایک دروازے کے پیچھے جا کر چھپ گیا، مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکڑ لیا اور مجھے گدی سے پکڑ کر پیار سے زمین پر پچھاڑ دیا، پھر مجھے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس انہیں بلانے کے لئے بھیج دیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب تھے، میں دوڑتا ہوا ان کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیے، انہیں آپ سے ایک کام ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3104]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3105
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْفُرَاتِ . وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ يَوْمَ فِطْرٍ رَكْعَتَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ، ثُمَّ خَطَبَ بَعْدَ الصَّلَاةِ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ بِلَالٍ، فَانْطَلَقَ إِلَى النِّسَاءِ، فَخَطَبَهُنَّ، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا بَعْدَ مَا قَفَّا مِنْ عِنْدِهِنَّ أَنْ يَأْتِيَهُنَّ، فَيَأْمُرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن خطبہ سے پہلے بغیر اذان کے نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور عورتوں کے پاس آ کر انہیں وعظ و نصیحت کی اور واپس جاتے ہوئے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ”ان عورتوں کے پاس جا کر انہیں صدقہ کرنے کی ترغیب دو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3105]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح وهو مكرر : 2169
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3106
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاعَنَ بَيْنَ الْعَجْلَانِيِّ وَامْرَأَتِهِ، قَالَ: وَكَانَتْ حُبْلَى، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا قَرَبْتُهَا مُنْذُ عَفَرْنَا. قال: وَالْعَفْرُ: أَنْ يُسْقَى النَّخْلُ بَعْدَ أَنْ يُتْرَكَ مِنَ السَّقْيِ، بَعْدَ الْإِبَارِ بِشَهْرَيْنِ، قَالَ: وَكَانَ زَوْجُهَا حَمْشَ السَّاقَيْنِ وَالذِّرَاعَيْنِ، أَصْهَبَ الشَّعَرَةِ، وَكَانَ الَّذِي رُمِيَتْ بِهِ ابْنَ السَّحْمَاءِ، قَالَ: فَوَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ أَجْلَى جَعْدًا عَبْلَ الذِّرَاعَيْنِ، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ لِابْنِ عَبَّاسٍ أَهِيَ الْمَرْأَةُ الَّتِي قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ لَرَجَمْتُهَا"؟ قَالَ: لَا، تِلْكَ امْرَأَةٌ كانت قَدْ أَعْلَنَتْ فِي الْإِسْلَامِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عجلانی اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کروایا، اس وقت اس کی بیوی امید سے تھی، عجلانی نے کہا کہ واللہ! درختوں کی پیوند کاری کے دو ماہ بعد جب سے ہم نے کھیت کو سیراب کیا ہے اس وقت سے میں اس کے قریب نہیں گیا، اس عورت کا شوہر پنڈلیوں اور بازوؤں والا تھا اور اس کے بال سفید مائل بہ سرخی تھے، اس عورت کو شریک بن سحماء کے ساتھ متہم کیا گیا تھا، اور اس کے یہاں جو بچہ پیدا ہوا وہ انتہائی واضح کالا، گھنگریالے بالوں والا تھا اور اس کے بازو بھرے ہوئے تھے، ابن شداد نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا یہ وہی عورت ہے جس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں گواہوں کے بغیر کسی پر حد رجم جاری کرتا، تو اس عورت پر کرتا؟ فرمایا: نہیں، وہ تو وہ عورت تھی جن نے زمانہ اسلام میں لعان کیا تھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3106]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3107
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ. وَقَالَ: فِيهِ عَبْلَ الذِّرَاعَيْنِ، خَدْلَ السَّاقَيْنِ، وَقَالَ: الْهَاشِمِيُّ خَدْلٌ، وَقَالَ: بَعْدَ الْإِبَارِ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3107]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں