🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3108
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَرٍو ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ " أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ عُضْوًا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو نہیں کیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3108]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3109
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ . وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ وَيَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَهُوَ مُحْرِمٌ. قَالَ: وَفِي حَدِيثِ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ بَنَى بِهَا بِمَاءٍ يُقَالُ لَهُ: سَرِفُ، فَلَمَّا قَضَى نُسُكَهُ أَعْرَسَ بِهَا بِذَلِكَ الْمَاءِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سرف نامی جگہ میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا ہے، اور حج سے فراغت کے بعد جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس روانہ ہوئے تو اسی مقام پر پہنچ کر ان کے ساتھ شب باشی فرمائی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3109]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3110
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَا جَمِيعًا، وَعَنِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَا جَمِيعًا، قَالَ: وَكَتَبَ إِلَى أَهْلِ جُرَشٍ أَنْ لَا يَخْلِطُوا الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ وہ کچی اور پکی کھجور، یا کشمش اور کھجور کو خلط ملط کر کے اس کی نبیذ بنا کر استعمال کریں، اور اس نوعیت کا ایک خط اہل جرش کی طرف بھی لکھا تھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3110]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1990
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3111
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا حُضِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ وَفِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلُمَّ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا". فَقَالَ عُمَرُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غَلَبَ عَلَيْهِ الْوَجَعُ، وَعِنْدَنَا الْقُرْآنُ، حَسْبُنَا كِتَابُ اللَّهِ، فَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ، فَاخْتَصَمُوا، فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: قَرِّبُوا يَكْتُبُ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ، وَفِيهِمْ مَنْ يَقُولُ مَا قَالَ عُمَرُ، فَلَمَّا أَكْثَرُوا اللَّغْوَ وَالِاخْتِلَافَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُومُوا". قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: إِنَّ الرَّزِيَّةَ، كُلَّ الرَّزِيَّةِ، مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَيْنَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ ذَلِكَ الْكِتَابَ، مِنَ اخْتِلَافِهِمْ وَلَغَطِهِمْ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کا وقت قریب آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس لکھنے کا سامان لاؤ، میں تمہارے لئے ایک ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو سکوگے“، اس وقت گھر میں کافی سارے لوگ تھے، جن میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی تھے، وہ کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر شدت تکلیف کا غلبہ ہے، اور تمہارے پاس قرآن کریم تو موجود ہے ہی، اور کتاب اللہ ہمارے لئے کافی ہے، اس پر لوگوں میں اختلاف رائے پیدا ہو گیا، بعض لوگوں کی رائے یہ تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لکھنے کا سامان پیش کر دو تاکہ وہ تمہیں کچھ لکھوا دیں، اور بعض کی رائے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ والی تھی، جب شور و شغب اور اختلاف زیادہ ہونے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس سے اٹھ جاؤ۔“ اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ ہائے افسوس! لوگوں کے اختلاف اور شور و شغب کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تحریر میں رکاوٹ پیدا ہو گئی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3111]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4432، م: 1637
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3112
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، فَوَجَدَ يَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ:" مَا هَذَا؟" فَقَالُوا: هَذَا يَوْمٌ عَظِيمٌ، يَوْمَ نَجَّى اللَّهُ مُوسَى، وَأَغْرَقَ آلَ فِرْعَوْنَ، فَصَامَهُ مُوسَى شُكْرًا. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِنِّي أَوْلَى بِمُوسَى، وَأَحَقُّ بِصِيَامِهِ" فَصَامَهُ، وَأَمَر بِصِيَامِهِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں کو دس محرم کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ ”اس دن جو تم روزہ رکھتے ہو، اس کی کوئی خاص وجہ ہے؟“ انہوں نے جواب دیا کہ یہ بڑا عظیم دن ہے، اس دن اللہ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات عطا فرمائی تھی، جس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے روزہ رکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری نسبت موسیٰ کا مجھ پر زیادہ حق بنتا ہے“، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3112]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2004، م: 1130
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3113
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّهُ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ كُلَّ عُضْوٍ مِنْهُ غَسْلَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک دفعہ وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو ایک ایک مرتبہ دھویا اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسے ہی کیا تھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3113]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 157
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3113M
(حديث مرفوع) حدثنا رَوْحٌ ، قال: أخبرني عمرُ بنُ عطاء وغيرهُ، عن عِكرمة مولى ابن عباس، أَن رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قال:" لا صَرُورَةَ في الحَجِّ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی مکرم، سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”حج میں گوشہ نشینی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3113M]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف عمر بن عطاء
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3114
(حديث مرفوع) حدثنا محمدُ بن بكر ، أخبرنا ابنُ جريج ، قال: أَخبرني عمرُ بنُ عطاءٍ ، عن عِكْرمة ، عن ابنِ عباسٍ ، عنِ النبيِّ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسلَّمَ، أَنَّه كان يقولُ:" لا صَرُوَرةَ في الإسْلامِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی مکرم، سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”اسلام میں گوشہ نشینی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3114]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف كسابقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3114M
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَدَاوُدُ بْنُ عَلِيٍّ أن رجلا نادى ابن عباس، والناس حوله، فقال: سنة تبتغون بهذا النبيذ، أو هو أهون عليكم من العسل واللبن؟ فقال ابن عباس جاء النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبَّاسًا، فَقَالَ:" اسْقُونَا" فَقَالَ: إِنَّ هَذَا النَّبِيذَ شَرَابٌ قَدْ مُغِثَ وَمُرِثَ، أَفَلَا نَسْقِيكَ لَبَنًا وَعَسَلًا؟ فَقَالَ:" اسْقُونِي مِمَّا تَسْقُونَ مِنْهُ النَّاسَ"، قَالَ: فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، بِعِسَاسٍ فِيهَا النَّبِيذُ، فَلَمَّا شَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَجِلَ قَبْلَ أَنْ يَرْوَى، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ:" أَحْسَنْتُمْ، هَكَذَا فَاصْنَعُوا". قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَرِضَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ أَعْجَبُ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَسِيلَ شِعَابُهَا عَلَيْنَا لَبَنًا وَعَسَلًا.
مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آس پاس کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی آ کر انہیں پکارتے ہوئے کہنے لگا کہ اس نبیذ کے ذریعے آپ کسی سنت کی پیروی کر رہے ہیں یا آپ کی نگاہوں میں یہ شہد اور دودھ سے بھی زیادہ ہلکی چیز ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور فرمایا: ”پانی پلاؤ“، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ یہ نبیذ تو گدلی اور غبار آلود ہو گئی ہے، ہم آپ کو دودھ یا شہد نہ پلائیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو جو پلا رہے ہو، ہمیں بھی وہی پلا دو“، چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نبیذ کے دو برتن لے کر آئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مہاجرین و انصار دونوں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نوش فرما لیا تو سیراب ہونے سے پہلے ہی اسے ہٹا لیا اور اپنا سر اٹھا کر فرمایا: ”تم نے خوب کیا، اسی طرح کیا کرو۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہ کہہ کر فرمانے لگے کہ میرے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی اس بات سے زیادہ اہم ہے کہ ان کے کونوں سے دودھ اور شہد بہنے لگے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3114M]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3115
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . وَرَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ أخْبَرَهُ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، يَقُولُ:" مَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا، وَوَجَدَ سَرَاوِيلَ، فَلْيَلْبَسْهَا، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ، وَوَجَدَ خُفَّيْنِ، فَلْيَلْبَسْهُمَا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”جب محرم کو نیچے باندھنے کے لئے تہبند نہ ملے تو اسے شلوار پہن لینی چاہئے، اور اگر جوتی نہ ملے تو موزے پہن لینے چاہئیں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3115]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1843، م: 1178
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں